مسئلہ ۴۸: از فریدپور شرقی مرسلہ منشی محمد علی صاحب نائب ناظر تحصیل فرید پور ۵رجب۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ زید کے پاس چار سو روپیہ علاوہ خرچ روز مرہ کے اس تفصیل سے ہیں کہ دوسو روپیہ بابت خرید مکان مسکونہ کے مالکِ مکان کودے چکا ہے اور دوسوروپے نقدرکھے ہیں ،اب زید کو زکوٰۃ ادا کرنا چار سو روپے پر چاہیے یا دوسو پر، جو اس کے پاس نقد رکھے ہیں، کب اور کس حساب سے اُس کو ادا کرنا چاہیے ، مثلاًاگر اسی مہینہ جمادی الثانی سے اُس کے پاس دوسوروپے نقد جمع ہوگئے، تواب زید کو کس مہینہ میں اور کس قدر ادا کرنا چاہئے،اوردر صورت نہ ادا کرنے کے کیا مواخذہ اس کے ذمّے ہوگا، امید کہ ﷲتعالےٰ جواب بالتفصیل مرحمت فرمایا جائے تاکہ عام فہم ہوکر سب کو فائدہ دارین عطا فرمائے۔
الجواب : بیان سائل سے واضح ہُوا کہ ہنوز اُس مکان کی بیع نہیں ہُوئی ، وعدہ خرید و فروخت درمیان آیاہے، اور اِسی بناء پر زید نے مالکِ مکان کو دوسوروپے پیشگی دے دئے اور اُسے اجازت دی کہ خرچ کرلے، یہ صورت فرض کی ہُوئی ثمن کہہ نہیں سکتے کہ ابھی بیع ہی نہیں ہوئی ا مانت نہیں کہہ سکتے کہ خرچ کی اجازت دی لاجرم قرض ہے
لسان الحکام اور عقود الدریہ وغیرہ میں ہے کہ کسی کو دراہم دیئے گئے اور کہا گیا کہ انھیں خرچ کر، اس نے خرچ کردئے تو یہ قرض ہے جیسا کہ اگر کسی نے یہ کہا ہو کہ انھیں اپنی ضروریات پر خرچ کرلے۔ (ت)
( ۱؎ العقودالدریۃ کتاب الھبۃ حاجی عبدالغفار وپسران تاجرانِ کتب ارگ بازار قندھار ۲ /۹۱)
تو دو سو کہ اس کے پاس رکھے ہیں اور دوسوجو مالکِ مکان کودئے ہیں چاروں سو اسی کی ملک میں اور مالِ زکوٰۃ ہیں ، زکوٰۃ کا نصاب ان روپوں سے چھپن روپے ہے، جس تاریخ چھپن ۵۶ روپے یا زائد کا مالک ہُوا اُسی تاریخ سے مالکِ نصاب سمجھا گیا، جب ہی سے سالِ زکوٰۃ کا حساب ہوگا، سال کے اندر جو مال اور ملتا گیا اُسی کے ساتھ ملتا رہے گا، تمام پر دیکھیں گے سب خرچوں سے بچ کر حوائجِ اصلیہ سے فاضل کتنا روپیہ اس کی مِلک میں ہے خواہ اس کے اپنے پاس رکھا ہو یا کسی کے پاس امانت ہویا کسی کو قرض دے دیا ہو اُس قدر پر زکوٰۃ واجب آئے گی،اور جو سال تمام ہونے سے پہلے صَرف ہوگیاہو وُہ حسابِ زکوٰۃ میں محسوب نہ ہوگا مثلاً یکم محرم ۱۵ کو چھپن روپے کامالک ہُوا تھا،ربیع الاوّل میں سَواور ملے، جمادی الآخر میں دوسو اور ملے ، یہ دوسو مالکِ مکان کو قرض دے دے تو اُس پر اُسی یکم محرم سے سال چل رہا ہے اور ابھی کہ سال تمام نہ ہوا کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کس قدر پر زکٰوۃ واجب ہوگی اب اگر یکم محرم ۱۶ کے آنے سے پہلے مکان کی بیع واقع ہوگئی اور وُہ دو سو کے قرض دئے تھے سال تمام سے پہلے قیمتِ مکان میں محسوب ہوگئے تو یہ دوسو حسابِ زکوٰۃ سے خارج ہوگئے کہ ان پر سال نہ گزرا، اسی طرح اگر بیع نہ ٹھہری اور روپیہ واپس لے لیا اور سال تمام سے پہلے کُل یا بعض خرچ ہوگیا تو اُس سے بھی تعلق نہ رہا تمامی سال پر جو باقی رہے اُسے دیکھیں گے کہ ؎ روپیہ ؎ زائد ہے تو اُس پر ایک سال کی زکوٰۃ واجب ہوگی ،اور اگر سال تمام پر ؎ سے بھی کم رہے تو کچھ نہیں کہ اگر چہ ابتداء میں نصاب بلکہ نصاب سے زائد کا مالک تھا مگر سال نہ گزرنے پایا کہ نصاب سے کم ہوگیا تو وجوبِ زکوٰۃ کا محل نہ رہا اور اگر سال تمام تک یعنی جب سے یہ شخص مالکِ نصاب ہُوا سال پُورا ہونے تک نہ بیع ٹھہری نہ روپیہ واپس ہُوا بلکہ مالکِ مکان پر قرض ہی رہا تو اب اس پر کہ خود نصاب بلکہ چند نصاب ہیں اور اس کے سوا اور جو نقد اُس وقت موجود ہو، غرض جس قدر روپیہ سونا یا چاندی حاجاتِ اصلیہ سے فاضل مِلک میں ہے خواہ شروع سال زکوٰۃ سے تھا خواہ بیچ میں ملا اُس سب پر زکوٰۃ واجب ہُوئی، جو نقد ہے اس پر تو واجب کے ساتھ وجوبِ ادا ابھی ہوگا فی الحال دی جائے،اور جوقرض ہے اس پر ہنوز وجوبِ ادا نہیں وصول پانے پر ہوگا خواہ روپیہ ہی وصول ہو، یُوں کہ بیع نہ ٹھہری اور روپیہ واپس ملے خواہ بیع ہوکر قیمت میں مجرا ہوجائے کہ یہ بھی وصول پالیناہے، پھر ازانجا کہ قرض دین قوی ہے ،اور صورتِ مسئولہ میں ابتدائے نصاب مالِ نقد سے ہے کہ اسی پر سالِ زکٰوۃ شروع ہُوا،اس سال تمام پر یا اُس کے بعد جو رقم قرض سے وصول ہوگی اُسے دیکھا جائے گا کہ خمس نصاب یعنی ؎ کے پانچویں حصّے لہ ۳ ۲-۲/۵ پائی سے کم ہے یا نہیں، اگر کم ہے اور کوئی مالِ نقد نہ اس وقت موجود نہ سالِ رواں کے ختم پر آکر ایسا ملا جو اس رقم وصولی سے مل کر خمس نصاب ہوجاتا تو اس کی زکوٰۃ دینی اصلاًواجب نہ ہوگی ،نہ سالِ گزشتہ کے کیے ، نہ رواں کے لیے ، اور اگر ایسا مال نقد پایا جائے تو اسے اُس کے ساتھ ملادیں گے ، پھر اگر عین سال تمام کے وقت وصول ہُوا تو خود روزِ وصول، ورنہ سال تمام رواں پر جو باقی ہوگا اس پر یہ حکم لگائیں گے کہ ہر خمس نصاب پر اُس کا چالیسواں حصّہ واجب الادا، اور خمس سے کم پر کچھ نہیں، اور اگر رقم وصول مذکور خمس نصاب سے کم نہیں تو جس قدر برس اس پر، حالت دین میں گزرے ہوں اُن سب کی زکوٰۃ دینا آئے گی جب تک زکوٰۃ نکالتے نکالتے خمس نصاب سے کم نہ رہ جائے۔ پھر بہر حال جس قدر خمس سےکم رہے گا اُس کا وہی حکم ہے اور مال نقد ہو تو اس کے ساتھ ملا کر تمام رواں پر حکم دیکھا جائے گا، ورنہ کچھ نہیں، سب صورتوں کی مثال لیجئے،مثلاً ۲۵ذی الحجہ ۱۴ کو تین سو درہم شرعی کا مالک ہوااس وقت سے سالِ زکوٰۃ شروع ہوگیا، یہ سب روپے وسط سال میں کسی کو قرض دے دیئے خاص سال تمام کے دن اُن سے اُنتالیس درہم شرعی وصول ہُوئے اور آج کچھ نقد اس کی ملک نہیں تو ان لع درہم پر بھی کچھ دینا نہ آئے گا کہ یہ خمس نصاب یعنی چالیس درہم سے کم ہیں اور اگر سال تمام سے پہلے مثلاً ۲۴ذی الحجہ ۵ ۱ کو یا شروع سال میں مالکیّت دن کے بارہ۱۲ بجے ہوئی تھی اب ۲۵ ذی الحجہ ۵ ۱ کو بارہ بجے سے ایک لحظہ پہلے انتالیس لعؔ درہم کہیں اور سے مل گئے اور اُسی وقت ایک درہم اس قرض میں سے وصول ہوا تو اسے اُن اُنتالیس لعؔ درہم میں ملادیں گے، اب یہ چالیس درہم ہوگئے کہ خمس کامل ہے تو ایک درہم دینا واجب آیا اور اگر اسی صورت میں مثلاًقرض میں سے بھی انتالیس درہم وصول ہوئے کہ نقد موجود سے مل کر اٹھتر ؎مع درہم ہوگئے تو بھی ایک ہی درہم کہ ایک خمس کامل یعنی چالیس درہم کی زکوٰۃ ہے واجب الادا ہوگا، باقی اڑتیس درہم زائد کہ خمس سے کم ہیں سال تمام آئندہ کے ا نتظار میں رہیں گے، اور اگر سرے سے فرض کیجئے کہ شروع سال زکوٰۃ کو پانچ سال کامل گزر گئے اُس وقت تک کُچھ نہ ملا اُس کے بعد چوالیس درہم قرض سے وصول ہُوئے اور اُن کے سوا اور کچھ نقد نہیں تو اس رقم میں صرف ایک خمس نصاب ہے اُوپر کے چاردرہم زیادہ ہیں، یہ خمس پانچ برس تک فرض تھا تو ہر سال کی بابت ایک درہم دینا واجب ہُو اپانچ درہم زکوٰۃدے اور اگر اُسی صورت میں تینتالیس درہم وصول ہوئے تو چاردرہم زکوٰۃ دینا واجب ہوگی جب بابت سالِ اول ایک درہم زکوٰۃ کا ان ؎للعہ پر ڈالا تو سالِ دوم کے لیے ؎ للعہ رہے ان پر ایک درہم اس سال کا ڈالا،سوم کے لیے لہ للع رہے، چہارم کے لیے ؎ ، تو یہ چار درہم واجب الادا ہوئے ، پنجم کے لیے صرف لعہؔ ہی رہ گئے کہ خمس سے کم ہیں ان پر کچھ نہیں، اسی طرح اگر للعہ ؎ وصول ہوتے تو تین ہی درہم دینے آتے اور لہ للعہ تو دو اور للعہ تو ایک ہی اور للعہ للعہ سے زیادہ پانچ ہی دینے ہوں گے جب تک پُورے اسی۸۰تک نہ پہنچیں اسی لہ پر چھ۶ لازم آئیں گے، پہلے سال دوخمس کے دو۲درہم، اب سالِ دوم اٹھتر لعہ؎ رہ گئے کہ ایک ہی خمس کامل ہے، تو باقی چار سال میں ایک ہی ایک لازم آیا، یُوں ہی بیاسی۸۲ وصول ہوں تو سات دے گا کہ دو سال تک دو خمس کامل رہے، چوراسی۸۴ پر آٹھ، چھیاسی۸۶ پر نو، اٹھاسی۸۸ سے زیادہ سب پر دس۱۰، جب تک ایک سو بیس ۱۲۰ کامل نہ ہوں۔ پھر ایک سوبیس۱۲۰ پر گیارہ وعلیٰ ہذاالقیاس۔یہ اس صورت میں ہے کہ کچھ نقد نہ ہو، ورنہ اس کے ساتھ ملا کر حساب لگائیں گے، مثلاًتینتالیس۴۳ وصول ہونے پر چاردرہم لازم آتے تھے ،اگر نقد ایک درہم بھی موجود ہے تو پُورے پانچ آئیں گے کہ اُس کے ساتھ مل کر چوالیس۴۴ ہوگئے اور چوالیس پر پانچ لازم تھے وقس علی ھذا ۔ پھر بہر صورت جو فاضل بچا وہ سال تمام آئندہ کا انتظار کرے گا ، یہ ہے جو کلماتِ علماء سے فہم فقیر میں آیا،
وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲتعالیٰ واﷲتعالیٰ باحکامہ علیم۔
میں امید وار ہوں کہ یہ اِن شاء اﷲتعالےٰ صواب ہے اور اﷲتعالیٰ اپنے احکام کو خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
تنویر الابصار و درمختار وردالمحتار میں ہے:
الدیون تجب زکوٰتھا اذا تم نصابا بنفسہ اوبما عندہ یتم بہ النصاب وحال الحول ولو قیل قبضہ فی القوی والمتوسط لکن لا فوراً بل عند قبض ار بعین درھما من القوی کقرض فکلما قبض اربعین درھماًیلزمہ درھم عند قبض مائتین من متوسط، و فی البدائع قال الکرخی ھذااذا لم یکن لہ مال سوی الدین والا فما قبض منہ فھو بمنزلۃالمستفاد فیضم الی ما عندہ وکذلک فی المحیط اھ ۱؎ ملتقطاً۔
قرضوں پر زکوٰۃ لازم ہے جب خود نصاب ہوں یاا پنے پاس جو کچھ ہے اس سے مل کرنصاب بن جائیں اور اس پر سال گزر جائے اگر چہ قوی اور متوسط میں قبضہ سے قبل گزرے لیکن فی الفور نہیں بلکہ قوی میں چالیس درہم کے قبضہ پر جیسے قرض قوی ہے پس جب بھی چالیس دراہم پر قبضہ ہوگا ایک درہم لازم ہوگا ،اور متوسط میں دوسو درہم کے قبضہ پر ۔ بدائع میں ہے امام کرخی نے فرمایا: یہ تب ہے جب دین کے علاوہ اس کے پاس مال نہ ہو، اور اگر مال ہو تو جتنے حصّے پر قبضہ ہوگا وہ بمنزلہ منافع ہوگااپنے پاس موجود مال سے اسے ضم کیا جائے گا، اور محیط میں بھی اسی طرح ہے اھ ملتقطاً(ت)
( ۱؎ ردالمحتار مع درمختار شرح تنویرالابصار باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر ۲ /۳۸تا۴۰)
نیز ردالمحتار میں ہے:
ذکرفی المنتقی رجل لہ ثلثما ئۃ درھم دین حال علیھا ثلثۃ احول فقبض مائتین فعند ابی حنیفۃ یزکی للسنۃ الاولٰی خمسۃ وللثانیۃ والثالثۃ اربعۃ اربعۃ عن مائۃ وستّین ولا شئی علیہ فی الفضل لانہ دون الاربعین۔ ۲؎
منتقی میں ہے کہ ایک شخص کا تین سودرہم دَین ہے اور اس پر تین سال گزر گئے اُسے دوسودرہم وصول ہوئے تو امام ابو حنیفۃ رحمۃاﷲتعالیٰ علیہ کے نزدیک پہلے سال کے پانچ اور دوسرے و تیسرے سال کے چار چار درہم ایک سوساٹھ دراہم پرہونگے اور چالیس سے کم زائد پر کچھ نہیں۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار مع درمختار شرح تنویرالابصار باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر ۲ /۳۸)
اسی میں محیط سے ہے :
لو کان لہ الف علی معسر فا شتری منہ بھادینا را ثم وھبہ منہ فعلیہ زکوٰۃ الالف لانہ صارقابضا لہا بالدینار اھ۔۳؎
اگر کسی تنگدست پر ہزار درہم قرض ہے تو اس سے ایک دینار خرید کر پھر اسے ہبہ کردیا تو اب زکوٰۃ ہزار ہی کی ہے کیونکہ وُہ دینار کی وجہ سے ہزار ہی کا قابض متصور ہوگا اھ(ت)
(۳؎ ردالمحتار مع درمختار شرح تنویرالابصار باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر ۲ /۴۰)
شرح نقایہ قہستانی میں ہے:
یضم الحادث ولوقبیل اٰخر الحول لانہ قبل وقت الوجوب اھ۔ ۴؎
نئے مال کو شامل کیا جائیگا اگر چہ سال کے آخر سے تھوڑا سا پہلے ملا ہوکیونکہ یہ وقتِ وجوب سے پہلے ہے اھ (ت)
(۴؎ جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ /۳۱۶)
ادا نہ کرنے کی حالت میں جو مواخذہ زکوٰۃ دینے پر ہے اس کا سزا وار ہوگا معاذاﷲمعاذاﷲ، وہ نہ ہلکا ہے نہ قابلِ برداشت، اس کے بارے کچھ آیات و احادیث فقیر کے رسالہ
اعزالا کتنا ۃفی ردصدقۃ مانع الزکوٰۃ (۱۳۰۹ھ)
میں مذکور ہُوئیں، اُن میں بعض کا خلاصہ یہ کہ جس سونے چاندی کی زکوٰۃ نہ دی جائے روزِ قیامت جہنّم کی آگ میں تپا کر اُس سے اُن کی پیشانیا ں، کروٹیں ، پیٹھیں داغی جائیں گی۔ اُن کے سر، پستان پر جہنم کا گرم پتّھر رکھیں گے کہ چھاتی توڑ کر شانے سے نکل جائے گا اور شانے کی ہڈی پر رکھیں گے کہ ہڈیاں توڑتا سینے سے نکل آ ئے گا پیٹھ توڑکر کروٹ سے نکلے گا، گُدّی توڑ کر پیشانی سے اُبھرے گا۔ جس مال کی زکوٰۃ نہ دی جائے گی روزِ قیامت پُرانا خبیث خونخوار اژدہا بن کر اُس کے پیچھے دوڑے گا،یہ ہاتھ سے روگے گا،وہ ہاتھ چبالے گا،پھر گلے میں طوق بن کر پڑے گا، اس کا مُنہ اپنے منہ میں لے کر چبائے گا کہ میں ہُوں تیرا مال، میں ہُوں تیرا خزانہ۔ پھر اس کاسارا بدن چباڈالے گا۔