مسئلہ ۴۵تا۴۷ : ۲۲ شوال ۱۳۱۴ھ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱) جولڑکیاں ناکتخداہیں اور نا بالغ، ان کے زیور کی بھی زکوٰۃہونے چاہئے یا نہیں ؟
(۲) میں نے لڑکی کی شادی کی ضرورت سے اپنا زیور رہن کیا ، شوہراس وقت میں بیکار تھے ، باقی زیور جو میرے پاس تھا اس کی زکوٰۃ تو میں ادا کرتی رہی، جو رہن تھا اس کی زکوٰۃ نہ دی ،سات آٹھ برس رہن رہا، اب میں نے چھڑا یا تو اس سات آٹھ برس کی زکوٰۃ چاہئے یا نہیں؟
(۳) شوہر نے جس وقت قرض لیا تھا تو زیور میرا بطور رہن کے رکھ دیا تھا میری والدہ کے پاس ، تو اور تھوڑا زیور جو اُس وقت میں بھی رہن نہ رکھا تھا جب سے اب تک میرے پاس ہے اور زکوٰۃ جب سے نہیں دی گئی قرضے کا خیال کرکے ۔
الجواب :
(۱) نابالغ لڑکیوں کا جو زیور بنایا گیا اگر ابھی انھیں مالک نہ کیا گیا بلکہ اپنی ہی مِلک پر رکھا اور ان کے پہننے کے صرف میں آتا ہے اگر چہ نیت یہ ہوکہ بیاہ ہُوئے پر ان کے جہیز میں دے دیں گے،جب تو وُہ زیور ماں باپ جس نے بنایا ہے اُسی کی مِلک ہے، اگر تنہایا اُس کے اور مال سے مل کر قدرِ نصاب اُسی مالک پر اس کی زکوٰۃ ہے اور اگر نابالغ لڑکیوں کی مِلک کردیا گیا تو اس کی زکوٰۃ کسی پر نہیں، ماں باپ پر تو یُوں نہیں کہ اُ ن کی مِلک نہیں، اور لڑکیوں پر یُوں نہیں کہ وہ نوبالغہ ہیں، جب جوان ہوں گی اُس وقت سے ان پر احکام زکوٰۃوغیرہ کے جاری ہوں گے۔
(۲)ان برسوں کی زکوٰۃ واجب نہیں کہ جو مال رہن رکھا ہے اس پر اپنا قبضہ نہیں، نہ اپنے نائب کا قبضہ ہے، بحرالرائق میں ہے:
اطلق الملک فانصرف الی الکا مل وھوالمملوک رقبۃ ویدافلا یجب علی المشتری فیما اشتراہ للتجارۃ قبل القبض کذافی غایۃ البیان ولایلزم علیہ ابن السبیل لان ید نائب کیدہ کذافی معراج الدرایۃ ومن موانع الوجوب الرھن اذا کان فی ید المرتھن لعدم ملک الید بخلاف العشر حیث یجب فیہ کذا فی العنایۃ اھ۱؎مختصراً۔
مِلک کا ذکر مطلق کیا ہے لہذا اس سے ملکیتِ کاملہ مراد ہوگی اوروہ رقبۃًاور یداًدونوں طرح مملوک ہونا ہے لہذا مشتری پر قبض سے پہلے اس شئ پر زکوٰۃ نہ ہوگی جو اس نے بطورِتجارت خریدی، غایۃالبیان میں اسی طرح ہے ۔ اس پر مسافر کے ساتھ اعتراض لازم نہیں آتا کیونکہ اس کے نائب کا قبضہ اسکے اپنے قبضے کی طرح ہے، معراج الدرایہ میں ایسے ہی ہے۔ اور موانع وجوب میں رہن بھی ہے جبکہ وہ مرتہن کے قبضہ میں ہوکیونکہ اس صورت میں ملکیت نہیں بخلاف عشر کے،وہاں واجب ہے، العنایہ ا ھ مختصراً(ت)
( ۱؎ بحرالرائق کتاب الزکوٰۃ ایچ ایم سعید کراچی ۲ /۲۰۳)
درمختار میں ہے :
ولافی مرھون بعد قبضہ۲؎
(قبضہ کے بعد مرہونہ شئی میں زکوٰۃ نہیں۔ ت)
(۲؎درمختار کتاب الزکوٰۃ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۹)
طحطاوی میں ہے :
ای علی المرتہن لعدم الملک ولاعلی الراھن لعدم الید واذااستردہ الراھن لایزکی من السنین الماضیۃ وھو معنی قول الشارح بعد قبضہ ویبدل علیہ قول البحر ومن موانع الوجوب الرھن اھ حلبی وظاہرہ ولو کان الرھن ازید من الدین اھ۳؎واﷲتعالیٰ اعلم ۔
یعنی مرتہن پر زکوٰۃ اس لیے نہیں کہ وہاں ملکیت نہیں، نہ ہی راہن پر ہے کیونکہ اس کا قبضہ نہیں جب راہن اس شئی کو واپس لے گا تو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ نہیں دے گا، شارح کے قول''قبضہ کے بعد''کا یہی معنیٰ ہے اور اس پر بحر کی یہ عبارت دال ہے ، موانع وجوب میں سے رہن ہے اھ حلبی ، اس کا ظاہر بتارہا ہے کہ اگر چہ رہن قرض سے زائد ہواھ۔ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الزکوٰۃ دارالمعرفۃبیروت ۹۲-۳۹۱)
(۳)اظہار سائلہ سے واضح ہُوا کہ یہ زیور بغرضِ رہن اس نے خود اپنے شوہر کو دیا اس نے اس کی اجازت سے رہن کیا تھا تو یہ رہن بھی رہن بالحق تھا، تو ظاہر یہاں بھی یہی ہے کہ اُس مدّت کی زکوٰۃ واجب نہ ہو،
لعدم الملک الکامل فانہ لیس مملوکا یدا لان قبض الرھن قبض استیفاء، کما فی الھدایۃ۔ ۱؎
ملکیت کاملہ نہ ہونے کی بنا پر کیونکہ وہ قبضہ کے لحاظ سے مملوک نہیں ہے کیونکہ رہن کا قبضہ وصولی کا قبضہ ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے۔ (ت)
(۱؎ الہدایہ کتاب الرھن مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۵۱۷)
اور بعد تعلق حق مذکورکے کچھ یہ ضرور نہیں کہ وُہ دین خود اسی پر ہُولہذا اگر کوئی شخص کسی کی طرف سے اُس کے دَین کی ضمانت کرلے تو بمقدار دَین اس کا مال مشغول سمجھا جائیگا کہ دائن کو حقِ استیفاء اس سے حاصل ہے اگر چہ دَین اصالتاً اس پر نہیں ۔ درمختارمیں ہے:
فارغ عن دین مطالب من جہۃالعباد سواء کان ﷲتعالیٰ کزکوٰۃ وخراج اوللعبد ولوکفالۃ۔ الخ۲؎
ایسے دَین سے فارغ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے ہو خواہ اﷲتعالیٰ کے لیے ہو مثلاًزکوٰۃ ، خراج یا بندے کا حق ہو اگر چہ بطور کفالت ہو۔ الخ(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۹)
ردالمحتارمیں ہے:
قال فی المحیط لو استقرض الفا فَکَفَل عنہ عشرۃ ولکلٍ الف فی بیتہ وحال الحول فلا زکوٰۃ علی واحد منھم لشغلہ بدین الکفالۃ لان لہ ان یا خذمن ایھم شاء بحر الخ۔ ۳؎
محیط میں ہے اگر کسی نے ہزار روپیہ قرض لیا اور اس کی طرف سے دس آدمی کفیل بنے اور ہر ایک کے پاس ایک ایک ہزار روپیہ ہے جس پر سال گزرا توان میں سے کسی پر زکوٰۃ نہیں کیونکہ وہ قرض کفالت میں مشغول ہے کیونکہ قرضخواہ ان میں سے کسی سے بھی قرض لے سکتا ہے، بحر الخ(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ مصطفی البابی مصر ۲ /۶)
ہدایہ میں ہے:
لو کانت العاریۃ عبدافاعتقہ المعیر جازلقیام ملک الرقبۃ ثم المرتھن بالخیاران شاء رجع بالدین علی الراھن لانہ لم یستوفہ و ان شاء ضمن المعیر قیمتہ لان الحق قد تعلق برقبتہ وقد اتلفہ بالاعتاق الخ۱؎
اگر عاریۃً غلام تھا اسے معیر نے آزاد کردیا تو جائز ہے کیونکہ وہ اس کی گردن کامالک ہے پھر مرتہن کا اختیار ہے اگر وہ چاہے تو راہن سے دین وصول کرے کیونکہ اس نے بدل حاصل نہ کیا اگر وُہ چاہے تومعیر سے اس کی قیمت وصول کر سکتاہے کیونکہ حق کا تعلق گردن سے اس کی رضا مندی سے ہے جو اس نے آزاد کرکے ضائع کیا ہے الخ(ت)
(۱الہدایۃ باب التصرف فی الرہن مطبع یوسفی لکھئنو ۴ /۵۴۵)
ہاں جو زیور رہن نہ تھا اور جب سے پاس ہے اگر وُہ خود دیا اور مالِ زکوٰۃ سے مل کر نصاب تھاتو جب تک نصاب پُورا رہا اُس مدّت کی زکوٰۃ واجب ہے اور قرضے کا خیال باطل خیال ہے کہ قرض شوہر پر تھا اور زیور عورت کا زکوٰۃ عورت پر ہے نہ کہ شوہر پر، البتّہ یہ زکوٰۃ جو چڑھتی گئی ہر سال اس کا حساب لگانے سے جس سال اُسے مجرا کرکے مال بقدرے نصاب نہ رہے اس سال کی زکوٰۃ واجب نہ ہوگی، مثلاًزیور وغیرہ اموال زکوٰۃ ملا کر پہلے سال دو سو دس۲۱۰درہم کا ملا تھا اُس سال پانچ درہم زکوٰۃ کے واجب ہوئے، دوسرے سال یہ پانچ درم کا کہ زکوٰۃ کا قرضہ کے مجرا کرکے گویا دوسو۲۰۰ کا مال تھا اب بھی پانچ واجب ہو ئے، چوتھے سال پندرہ مجرا کر کے پانچ کم دوسو کا ملا رہا، یہ نصاب نہیں اب زکوٰۃ نہیں ، وہی پندرہ ہی واجب الاداء رہے، مگریہ کہ ختمِ سال پر اور کہیں سے پانچ درہم مل گئے ہوں کہ دوسودرہم پُورے ہوکر پھر پانچ درہم لازم آئیں گے اور بیس واجب ہوجائیں گے، یہی حساب ہر سال میں خیال کرلینا لازم ہے، دوسودرہم شریعت میں چھپن روپے کے ہوتے ہیں اور پانچ درہم کا ایک روپیہ سواچھ آنے ایک دھیلا اور پیسے کا دسواں حصّہ۔ واﷲتعالیٰ اعلم