Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
21 - 198
مسئلہ ۳۶ تا  ۳۷ :     ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ 

(۱)میں نے مبلغ سو روپیہ سیونگ بینک میں جمع کر رکھا ہے وُہ پورا سال بھر میرے قبضہ میں نہیں رہا ، اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا جب دو یا تین سال وغیر ہ میں برآمد کرکے قبضہ لیا جائے اس وقت زکوٰۃ دی جائے اور جب قبضہ میں آئے تو ہر سال کی بابت زکوٰۃ دی جائے یا صرف اسی سال قبضہ والے کی بابت؟



(۲) میں نے مبلغ دو سو روپے کے پر امیسری نوٹ ڈاک خانے سے خرید کئے اب اگر مجھ کو روپے کی خواہ کسی قدر سخت ضرورت ہو تو فوراً وصول نہیں ہو سکتا تا وقتیکہ کوئی خریدار غیر ان پرامیسری نوٹ کا پیدا نہ ہو تب تک وہ روپیہ مجھ کو وصول نہیں ہو سکتا خواہ دو روز میں پیدا ہو جائے یا سال بھر میں پیدا ہو تو اس رقم پر زکٰوۃ واجب ہے یا نہیں ؟
الجواب : 

(۱)  وہ جب تک بینک میں ہے اپنے قبضے میں سمجھا جائے گا اور ہر سال اُس پر زکوٰۃ واجب ہوگی خواہ سا ل بسال ادا کرتا رہے یا جب اس میں سے گیارہ روپے سوا تین آنے کی وصول ہو اُس میں سے چالیسواں حصہ دے اور جتنے برس رہا ہے سب برسوں کی زکوٰۃ واجب ہوگی، ہاں ہر سال اگلے برسوں کی زکوٰۃ کی قدر اس پر دین سمجھ کر اتنا زکوٰۃ سے جُدارہے گا، مثلاً دوسو روپیہ جمع ہیں تو پہلے سال دوسوپر پانچ روپیہ تقریباً واجب ہُوئے، دوسرے سال پانچ روپیہ سال گزشتہ کی زکوٰۃ کے اُس پر واجب ہیں لہذا اس سال ایک سو پچانوے پر زکوٰۃ واجب ہوگی تقریباًچار روپے چودہ آنے ۔ تیسرے سال اُس پر دو سال کی زکوٰۃ کے نو روپے چودہ آنے قرض ہیں یہ مستثنٰی ہوکر ایک سو نوّے روپے دو آنے پر زکوٰۃ واجب ہوگی وعلی ھذاالقیاس، وا ﷲرتعالیٰ اعلم۔
 (۲)پر امیسری نوٹوں کا یہ قاعدہ ہے کہ روپیہ گورنمنٹ کو دے دیاجاتا ہے جس پر وُہ یہ نوٹ دیتی ہے اب یہ روپیہ کبھی واپس نہ ملے گا نہ خود اصل مالک لے سکتا ہے نہ اس کا وارث نہ اس کا کوئی قائم مقام، ہاں گورنمنٹ اس روپے چھ آنے فیصدی ماہوار کے حساب سے ہمشہ سوددے گی تو یہ نوٹ نوٹوں کی طرح خود مال نہیں بلکہ سند قرض ہیں لہذا اس پر گورنمنٹ سود دیتی ہے اور عام نوٹ خزانے سے خریدے جائیں تو ایک پیسہ سُود نہ دے گی کہ وہ بیع تھی معاوضہ تمام ہوگیا ہے اوریہاں قرض ہے اور عام نوٹ خزانے سے خرید ے جائیں تو ایک پیسہ قرض رہا اور وہ قرض کسی طرح واپس نہیں مل سکتا تو قرض مردہ ہوا اور قرض مُردہ پر زکوٰۃ نہیں، نہ ان نوٹوں کا بیچنا جائز کہ وہ حقیقۃًغیر مدیون کے ہاتھ دین کی بیع ہے اور وُہ جائز نہیں تو ان کو بیچ کر جو روپیہ لے گا اس کے لیے خبیث ہوگااور اس پر فرض ہوگا کہ جس سے لیا تھا اسے واپس دے اور اس بیع فاسد کو فسخ کرے توزکوٰۃ ان نوٹوں پر ہے کہ یہ مال نہیں، نہ اس روپیہ پر جو انھیں بیچ کر ملے گا یہ تمام و کمال خبیث ہے، نہ اس روپیہ پر جو گورنمنٹ کو قرض دے کر یہ نوٹ لیے تھے کہ وہ قرض مردہ ہے جو کبھی واپس نہ ملے گا۔ درمختار میں ہے:
الاصل فیہ حدیث علی،لازکوٰۃ فی مال الضمار وھو مالا یمکن الانتفاع بہ مع بقاء الملک۔ ۱؎ واﷲتعالیٰ اعلم۔
اس میں اصل علی مرتضی رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی حدیث ہےکہ مالِ ضمار پر زکوٰۃ نہیں، مالِ ضماروہ کہ ملکیت ہونے کے باوجود اس سے انتفاع ممکن نہ ہو۔ واﷲتعالیٰ اعلم (ت)
 (۱؎ درمختار  ، کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ،۱ /۱۲۹)
مسئلہ ۳۸: از مقام درؤ ضلع نینی تال، مسئولہ عبد اﷲدکاندار صاحب ۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ  :کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کے پاس ساٹھ روپے نقد ہیں اور پچاس روپے کا اس کی عورت پر زیور ہروقت پہننے کا اور پچاس روپے کی دکاندار ی کرتا ہے کل یہی اسباب ہے اور اس میں پچانوے روپے مہر عورت کا قرض ہے اور جو دُکان کرتا ہے وہ ایسا سمجھنا چاہئے کہ جیسے کاشتکار کے ہل جوتنے کے بیل اور گھوڑا پچیس ۲۵ روپے کی قیمت کا ہے دکاندار ی کا سوت لادنے کے واسطے، اس حالت میں اوّل مال پر زکوٰۃ ہونی چاہئے یا نہیں ؟ جیسا کہ شرع شریف کا حکم ہو عمل کیا جائے، اور سال بھر کے کھانے کا اناج بھی اس کے گھر میں نہیں ہے۔ بیّنواتوجروا۔
الجوابآج کل عورتوں کا مہر عام طور پر مہر مؤخّر ہوتا ہے جس کا مطالبہ بعد موت یا طلاق ہوگا مرد کو اپنے تمام مصارف میں کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ مجھ پر یہ دین ہے ایسا مہر مانع وجوبِ زکوٰۃ نہیں ہوتا،سال تمام پر اس کے پاس اگر یہ ساٹھ روپے بچے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی ، زکوٰۃ کا نصاب ۵۶ روپے (۵۲-۱/۲تولہ چاندی) ہے،اور وہ زیوراگر شوہر کی ملک ہے تو وہ بھی شامل کیا جائے گا ایک سودس پر زکوٰۃ واجب ہوگی، اور اگر وہ مالِ تجارت بھی بچا تو وُہ بھی شامل ہوگا ایک سو ساٹھ پر ہوگی ، غرض ان تینوں مالوں میں سے سال تمام پر اگر۵۶ روپے کی قدر ہوگا تو زکوٰۃ واجب ہے ورنہ نہیں،اور اگر زیور عورت کی ملک ہے تو اس کی زکوٰۃ اس پر واجب ہوگی جبکہ وُہ خود یا اس کی ملک کا اور سونا چاندی ملا کر ساڑھے باون تولے چاندی ہو ورنہ نہیں۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۳۹ :  از نینی تال کاشی پور  مسئولہ ڈاکٹر اشتیاق علی، ۱۸ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ  :

متعلق زکوٰۃ پار سال میرے پاس ایک سو پچاس روپے رمضان میں جمع تھے اور زکوٰۃ میں نے ایک سو پچاس روپے پر دی تھی، دو ماہ بعد ۲۰۰ہوگئے اور ۶ماہ بعد ۲۵۰ ہوگئے اور اب رمضان میں پورے تین سو ہوگئے، اور میں ہر سال رمضان میں زکوٰۃ نکالا کرتا ہُوں تو اب مجھ کو تین سوروپے پر دینا ہوگی یاصرف ۱۵۰پر کیونکہ ۱۵۰کے بعد جو روپے بڑھے ہیں ان کو پُورا ایک سال نہیں گزراہے۔
الجواب  :

 نصاب جبکہ باقی ہوتو سال کے اندر اندر جس قدر مال بڑھے اسی پہلے نصاب کے سال تمام پر اس کُل کی زکوٰۃ فرض ہوگی، مثلاً یکم رمضان کو سال تمام ہوگا اور اس کے پاس صرف سو روپے تھے تیس شعبان کو دس ہزار اور آئے کہ سال تمام سے چند گھنٹے بعد جب یکم رمضان آئے گی اس پورے دس ہزار ایک سو پر زکوٰۃ فرض ہوگی ، واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۴۰: از شہر بریلی محلہ جسولی     مسئولہ حافظ علی شاہ صاحب ۴ شعبان ۱۳۳۷ھ :

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے تین لڑکیوں کی شادی کے واسطے روپیہ علیحدہ کردیاہے جس میں سے دو۲ لڑکیاں نابالغ ہیں اور ایک قابل ہے شادی کے، اب اس روپیہ کی زید پر زکوٰۃ دینا واجب ہے یا نہیں ؟
الجواب : 

ضرور واجب ہے مگر اُس حالت میں ہر نا بالغہ کا حصّہ جُدا کرکے یہ کہہ دے کہ میں نے اسے اُس کا مالک کِیا، اس کی زکوٰۃ ان کے بلوغ تک کسی پر واجب نہ ہوگی، بعد بلوغ اگر شرائطِ زکوٰۃ پائے گئے تو ان لڑکیوں پر واجب ہوگی اور بالغہ کا حصّہ جُدا کرکے اُسے مالک کردے اور اس کے قبضے میں دے دے اگر  چہ پھر اس سے لے کر اپنے پاس رکھ لے، اس حصّہ کی زکوٰۃ حسبِ شرائط اُس بالغہ پر ہوگی۔ وا ﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۴۱ تا ۴۳: از شہر بریلی مرسلہ شوکت علی فاروقی ۴ رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ :

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں : 

(۱) کیا نوٹ اور روپیہ کا ایک ہی حکم ہے، نوٹ تو چاندی سونے سے علیحدہ کاغذ ہے۔ 

(۲) فی صدی زکوٰۃ کا کیا دینا ہوتا ہے۔ 

(۳)جس روپیہ سے زکوٰۃ پہلے سال میں دے دی اور باقی روپیہ بدستور دوسرے سال تک رکھارہا اب دوسرے سال آنے پر کیا پھر اُسی روپیہ میں سے جس میں پہلے سال زکوٰۃ دے چکا ہے زکوٰۃ دینا ہوگی بینو اتو جروا۔
الجواب  :

 (۱)  نوٹ اور روپیہ کا حکم ایک نہیں ہوسکتا، روپیہ چاندی ہے کہ پیدائشی ثمن ہے اور نوٹ کاغذ کہ اصطلاحی ثمن ہے تو جب تک چلے اس کا حکم پیسوں کے مثل ہے کہ وُہ بھی اصطلاحی ثمن ہے ۔ 

(۲)زکوٰۃ ہر نصاب و خمس پر چالیسواں حصّہ ہے اور مذہب صاحبین پر نہایت آسان حساب اور فقراء کے لیے نافع ہے کہ فیصدی ڈھائی روپے ۔

(۳)دس برس رکھا ، ہر سال زکوٰۃ واجب ہوگی جب تک نصاب سے کم نہ رہ جائے، یہ اس لیے کہ جب پہلے سال کی زکوٰۃ نہ دی دوسرے سال اس قدر کا مدیون ہے تو اتنا کم کرکے باقی پر زکوٰۃ ہوگی ، تیسرے سال اگلے دونوں برسوں کی زکوٰۃ اس پر دین ہے تو مجموع کم کرکے باقی پر ہوگی، یُوں اگلے سب برسوں کی زکوٰۃ منہا کرکے جو بچے اگر خودیا اس کے اور مال زکوٰۃ سے مل کر نصاب ہے تو زکوٰۃ ہوگی ورنہ نہیں۔ واﷲتعالیٰ اعلم ۔
مسئلہ ۴۴: مسئولہ شمس الدین احمداز فرخ آباد ۱۲ شوال ۱۳۳۴ھ : 

وُہ زیور جو کسی نے اپنے بچّوں یعنی لڑکیوں کو بنوادیا اور ان کی مِلک میں کردیا اور وُہ بچّے ابھی نابالغ ہیں زکوٰۃ دینے کے لائق ہی نہیں یعنی اپنی بی بی کے زیور اور نقد دیتے وقت بچّوں کا زیور حساب میں شامل کرے یا نہیں ؟بیّنو اتوجروا۔
الجواب : 

جو زیور بچّوں کو ہبہ کر دیا اس کی زکوٰۃ نہ اس پر نہ بچّوں پر، اُس پر اس لیے نہیں کہ یہ ملک نہیں، اُن پر اس لیے نہیں کہ وُہ بالغ نہیں۔ واﷲتعالیٰ اعلم
Flag Counter