Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
198 - 198
مسئلہ: اس سواد جنت آباد کی اقامت غنیمت جانے، جُہد کرے کہ کوئی نفس بیکار نہ گزرے۔

مسجدا نور سے ضروریات کے سوا باہر نہ جائے۔ باطہارت حاضر رہے مگر حاشا کہ دنیوی باتوں، عبث کاموں میں وقت ضائع نہ کرے۔

مسئلہ: ہمیشہ جلوس مسجد عہ ۲میں نیت اعتکاف رکھے ،
عہ ۲:روایت مفتی  بہا پر اعتکاف کے لیے کوئی مقدارمعین  نہیں ایک لمحہ کا بھی ہوسکتاہے، نہ اس کے لیے روزہ شرط، توآد می کو ہر مسجد میں ہر وقت اس کا لحاظ کرنا چاہئے کہ جب داخل ہو اعتکاف کی نیت کرلے جب تک رہے گا اعتکاف کا بھی ثواب پائے گا،پھر یہ نیت اسے کچھ پابند نہ کرے گی۔ جب چاہے باہر آئے اسی وقت اعتکاف ختم ہوجائے گا
فان الخروج فی النفل المطلق منہٍ لامفسد کما نصوا علیہ
(کیونکہ نفلی طواف میں مسجد سے نکلنا اعتکاف کا اختتام ہے مفسد نہیں جیسا کہ اس پر تصریح کی گئی ہے۔ ت) لوگ اپنی ناواقفی یابے خیالی سے اس ثواب عظیم کو مفت کھوتے ہیں،
 وفقنا اﷲ تعالیٰ للحسنات بجاہ سید الکائنات علی افضل الصلٰوات والتحیات اٰمین ۲ ۱منہ
اور روزہ نصیب ہو خصوصاً ایام گرما میں تو کیا کہنا کہ اس پر وعدہ عہ ۱  شفاعت ہے۔
عہ ۱: حضور پرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میرا جو امتی مدینہ کی شدت وسختی پر صبر کرے گا میں قیامت کے روز اس کا شفیع ہوں گا ۱؎
 (رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ)
اور پر ظاہر کہ روزہ میں شدت ومحنت پر صبر ہوتا ہے خصوصاً بلاد گرم میں خصوصاًجبکہ موسم گرماہو، خود حدیث میں آیا:
ا لصوم نصف الصبر ۲؎
روزہ آدھا صبر ہے۔
 (۱؎ صحیح مسلم        باب الترغیب فی سکنی المدینۃ الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۴۴۴)

 (۲؎ مسند احمد بن حنبل حدیث رجل من بنی سلیم دارالفکر بیروت۴ /۲۶۰)
فائدہ جلیلہ: جن چیزوں پر وعدہ شفاعت فرمایا گیا جیسے یہ حدیث یا حدیث زیارت شریفہ یا حدیث موت فی المدینہ یا حدیث سوال وسیلہ وغیرہا وہ بحمد اللہ حسن خاتمہ کی بشارت جمیلہ ہیں کہ یہاں وعدہ شفاعت ہے اور وعدہ حضور وعدہ رب غفور،
ان اﷲ لا یخلف المیعاد ۳؎
 (بیشک اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ ت)
(۳؎ القرآن       ۱۳ /۳۱)
اور کافر کی شفاعت محال، تو لاجرم بشارت فرماتے ہیں کہ سختی مدینہ پر صابر اور حضور پر نور کا زائر اور مدینہ طیبہ میں مرنے والا اور حضور کے لیے سوال وسیلہ کرنے والا ایمان پر خاتمہ پائے گا والحمد للہ رب لعالمین اللہم ارزقنا آمین ۱۲ منہ
مسئلہ: یہاں ہر عمل صالح پچاس ہزار تک مضاعف ہوتا ہے لہذا عبادات میں جہد لازم، شب بیداری رہے، کھانے پینے کی تقلیل رکھے، قرآن مجید کا کم سے کم ایک ختم تو یہاں اور حطیم عہ ۲ کعبہ معظمہ میں کرلے۔
عہ ۲: کعبہ معظمہ سے جو متصل جانب شمال جو ایک چھوٹی سی دیوار قوسی شکل پر ہے اس کے اندر کی زمین کو حطیم کہتے ہیں ا س کا بڑا ٹکڑا بنائے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام میں  داخل کعبہ تھا قریش نے تنگی خرچ کے سبب بنائے جدید میں خارج کردیا ۱۲منہ
مسئلہ: نظر حجرہ منورہ وقبہ معطرہ کی طرف عبادت ہے جیسے کعبہ کی طرف، تو خشوع وادب کے ساتھ اس کی کثرت کرے۔

مسئلہ: پنچگانہ نماز کے بعد حضور میں حاضر ہو کر صلوٰۃ وسلام عرض کیاکرے۔

مسئلہ: جب محاذات گنبد اقدس میں گزارے اگر چہ بیرون مسجد اگر چہ بیرون مدینہ جہاں سے قبہ کریمہ نظر آئے بے ٹھہرے اور صلوٰۃ وسلام عرض کئے نہ گزرے کہ ترک ادب ہے۔

مسئلہ: ترک جماعت ہر جگہ بُرا ہے مگر یہاں سخت محرومی، والعیاذ باﷲ، حدیث عہ ۳  میں ہے: جس سے چالیس نمازیں میری مسجد میں فوت نہ ہوں اس کے لیے دوزخ ونفاق وعذاب سے آزاد یاں لکھی جائیں ۱؎۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    مروی از انس بن مالک رضی اللہ عنہ    دارالفکر بیروت    ۳ /۱۵۵)
عہ ۳:رواہ الامام احمد فی مسند ہ بسند صحیح عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ والحمد ﷲ رب العٰلمین۔
اسے امام احمد نے بسندصحیح اپنی مسند میں انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے والحمد للہ رب العٰلمین (ت)
مسئلہ:دیوار حجر ہ کو مس نہ کرے نہ اس سے چمٹے بلکہ کم سے کم تین گز شرعی کا فاصلہ رکھے کہ ادب یہی ہے

مسئلہ: قبر اطہر واعطر کو ہر گز پیٹھ نہ کرے نماز میں نہ غیر نماز میں۔

مسئلہ: روضہ انور کا طواف نہ کرے، نہ زمین چومے۔ نہ پیٹھ مثل رکوع جھکائے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے۔

مسئلہ: حسب استحسان علماء زیارت بقیع واُحد وقبا ودیگبر آثار شریفہ کا قصد ہو تو ان کی تفصیل کتاب علماء سے دریافت کرے ورنہ حجرہ مطہرہ کے حضور حاضر رہنے کے برابر کون سی دولت ہے اللہ تعالٰی دنیا وآخرت میں ان کا قر ب عطافرمائے ، آمین۔
وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولانا محمد واٰلہٖ وصحبہ اجمعین۔ واٰخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین۔
تمت الطرۃ الرضیۃ علی النیرۃ الوضیۃ شرح الجوہرۃ المضیۃ والحمد ﷲ۔
Flag Counter