Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
197 - 198
حاضری در بار دُرر بار مدینہ طیبہ
اس سفر سراپاظفرمیں نیت لحاظ غیر سے خالص اور درود وذکر شریف حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نہایت کثرت کرے جب حرم مدینہ میں داخل ہو ،احسن یہ ہے کہ سواری سے اتر پڑے، روتا،سر جھکائے، آنکھیں نیچے کئے چلے۔ ہوسکے توبرہنہ پائی بہتر بلکہ ؎
جائے سراست اینکہ تو پائے می نہی        پائے نہ بینی کہ کجامی نہی
 (حرم کی زمین اور قدم رکھ کے چلنا        ارے سرکا موقع ہے او جانیوالے)
جب نگاہ قبہ سعادت وبرج کرامت پر پڑے صلوٰۃ وسلام کی کثرت کرے، جب خاص شہر اقدس تک پہنچے قبل دخول اور نہ بن پڑے تو بعد دخول ، پیش از حضور مسجد، وضو ومسواک کرے اور غسل احسن، جامہ سفید پاکیزہ پہنے۔ نیا بہتر ،سرمہ وخوشبو لگائے، مشک افضل ،جب دروازہ شہر میں داخل ہو تمام ہمت اپنی تکثیر صلوٰۃ وسلام میں مصروف کرے۔ مراقبہ جلال وجمال محبوب ذی الجلال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں ڈوب جائے، اب ان ضروریات وحوائج سے جن کا لگاؤ باعث تشویش خاطر ہو بسر عت تمام فراغ پاکر پہلا کام یہ کرے کہ آستانہ والا کی طرف بہ نہایت خشوع وخضوع متوجہ ہو۔ اگر رونا نہ آئے رونے کا منہ بنائے اور دل کو بہ زور رونے پر لائے۔ اپنی سختی دل سے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف التجا کرے۔ جب در مسجد پر حاضر ہو صلوٰۃ وسلام عرض کرکے قدرے توقف کرے گویا سرکار سے اذن حضوری طلب کرتاہے، پھر دہنا پاؤں پہلے رکھتاسر سے پاؤں تک ادب بنتا داخل ہو، اس وقت جوادب وتعظیم واجب ہے مسلمان کا قلب خود واقف ہے دل وجوارح کوخیال غیر وحرکات عبث سے باز رکھے، مسجد اقدس کی آرائش و زینت ظاہری کی طرف نگاہ نہ کرے۔ اگر کوئی ایسا سامنے آئے جس سے سلام وکلام ضروری ہو حتی الوسع اعراض کرجائے۔ نہ بن پڑے تو قدر ضرورت سے تجاوز نہ کرے۔ پھر بھی دل اسی طرف متوجہ ہو
زنہارزنہار اس مسجد مقدس میں کوئی حرف چلا کر نہ کہے۔ یقین جان کہ وہ جناب عہ۱ مراز ا عطر وانور میں بحیات ظاہری ،دنیاوی، حقیقی ویسے ہی زندہ ہیں جیسے پیش از وفات تھے۱؎۔ موت ان کی ایک امر آنی تھی، اور انتقال ان کا صرف نظر عوام سے چھپ جانا۔
 (۱؎ شرح مواہب زرقانی        المقصد العاشر    مطبعہ عامرہ مصر    ۸ /۳۴۸)
عہ۱: اس نفیس مقام پر کتاب مستطاب جواہر البیان شریف میں وہ نفحات جاں افروز ونفخاتِ دشمن سوزہیں جن کی شرح میں فقیر نے کتاب ''سلطنت المصطفی فی ملکوت کل الوریٰ'' تحریرکی، جسے ان حقائق کی تفصیل دیکھنی منظور ہو اس کی طرف رجوع کرے ان شاء اللہ تعالیٰ حق کا رنگ رچا ملے گا اور باطل کا سر لچا،
ذٰلک من فضل اﷲ علینا و علی الناس ولکن اکثر الناس لا یشکرون ۲ ۱منہ
ائمہ دین فرماتے ہیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہمارے ایک ایک قول عہ۲  وفعل بلکہ دل کے خطروں عہ۳  پر مطلع ہیں ۲؎۔
 (۲؎ المدخل   فصل فی زیارۃ القبور    دارالکتاب العربی بیروت    ۱ /۲۵۲)
عہ۲:علامہ علی قاری نے فرمایاحضور سے کچھ پوشیدہ نہیں وہ تیرے تمام افعال واحوال وکوچ ومقام سے آگاہ ہیں ۳؎ ۱۲منہ
 (۳؎ مسلک متقسط مع ارشادالساری    باب زیارۃ سید المرسلین            ص۳۳۸)
عہ۳: امام علامہ محدث شہاب الدین احمد قسطلانی شارح بخاری نے مواہب لدنیہ اور علامہ ابن الحاج مکی محمد عبدری نے مدخل میں اور ان کے ماسوا اور اکابر علماء نے اس معنیٰ کی تصریح فرمائی ۱۲ منہ غفرلہ
اب اگر جماعت قائم ہو شریک ہو جائے کہ اس میں تحیۃ المسجد بھی ادا ہوجائے گی ورنہ اگر غلبہ شوق اجازت دے تو دورکعت تحیۃ المسجد وشکرانہ حاضری صرف سورہ کافرون واخلاص سے بہت تخفیف کے ساتھ مگر بہ مراعاتِ سنن، مصلائے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں جہاں اب وسط مسجد میں محراب بنی ہے اور وہاں میسر نہ آئے تو حتی الوسع اس کے نزدیک ادا کرے۔ بعدہ سجدہ شکر میں گرے اور دعامانگے کہ الہٰی! اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ادب نصیب فرما۔
اب وہ وقت آیا کہ منہ اس کا مثل دل کے اس شباک پا ک کی طرف ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کے محبوب عظیم الشان کی آرام گاہ رفیع المکان ہے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، گردن جھکائے، آنکھیں نیچی کئے، لرزتا، کانپتا، بید کی طرح تھرتھراتا، ندامت گناہ سے عرق شرم میں ڈوبا، قدم بڑھا۔ خضوع ووقار وخشوع وانکساری کا کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کر ،سواسجدہ عبادت کے جو بات ادب واجلال میں اکمل ہو بجالا، حضور والا کے پائیں یعنی شرق کی سمت سے آ، کہ وہ جناب مزارِپر انوار میں رو بقبلہ جلوہ فرما ہیں جب تو اس سمت سے حاضر ہو گا حضور کی نگاہ بیکس پناہ تیری طرف ہوگی اور یہ امر تیرے لیے دو جہاں میں بس ہے۔
پھر زیر قندیل میخ سیمیں کے محاذی جودیوار حجرہ مقدسہ میں چہرہ انور کے مقابل مرکوز ہے پہنچ کر پشت بہ قبلہ دست بستہ مثل نماز کھڑا ہو عہ۱ کہ کتب معتمدہ ۱؂ میں اس معنی کی تصریح ہے
عہ۱: مثل اختیار شرح مختار وفتاویٰ عالمگیری ولباب وشرح لباب وغیرہا ۲ ۱منہ
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ            خاتمہ فی زیارۃ قبرالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۲۶۵)
اور زنہار جالی شریف کے بوسہ ومس سے دور رہ کہ خلاف ادب ہے، اب نہایت ہیبت و وقارکے ساتھ مجر اوتسلیم بجالا بہ آواز حزیں وصورت درد آگیں و دل شرمناک و جگر صد چاک، معتدل آوازسے نہ نہایت نرم وپست نہ بہت بلند وسخت عرض کر:
السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، السلام علیک یا رسول اﷲ، السلام علیک یا خیر خلق اﷲ، السلام علیک یا شفیع المذنبین، السلام علیک وعلٰی اٰلک واصحابک اجمعین ۲؎ ۔
 (۲؎ شرح لباب مع ارشاد الساری    باب زیارۃ سید المرسلین            دارالکتاب العربی بیروت    ص۳۳۸)
جہاں تک ممکن ہو اور زبان یاری دے اور ملال وکسل نہ ہو۔صلوٰۃ وسلام کی کثرت کر۔ حضور سے اپنے اور اپنے والدین ومشائخ واحباب تمام اہل اسلام کے لیے شفاعت مانگ۔ بار بار عرض کر:
اسئلک الشفاعۃ یا رسول اﷲ ۳؎۔
 (۳؎ شرح لباب مع ارشادالساری    باب زیارۃ سید المرسلین    دارالکتاب العربی بیروت     ص۳۳۹)
پھر کسی نے عرض سلام کی وصیت کی توبجالا ، عرض کر:
السلام علیک یا رسول اﷲ من عبدک عہ۲  وابن عبدک احمد رضا بن نقی علی یسئلک الشفاعۃ فاشفع لہ وللمسلمین۔
عہ۲: اطلاقِ عبدبمعنیٰ غلام قطعا جائز وشائع اور قرآن وحدیث میں واقع ، فقیر غفراللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب '' البارق الشارقۃ علٰی مارقۃ المشارقۃ'' میں اس کی تحقیق مشبع لکھی اور اپنے رسالہ ''مجیر معظم شرح قصیدہ اکسیر اعظم '' (۱۳۰۲ھ) میں بھی قدرے توضیح، اور گیارہ احادیث پر قناعت کی۔ یہاں اسی قدر کافی کہ رب الارباب عز جلالہ قرآن عظیم میں فرماتا ہے:
انکحواا لایامٰی منکم والصالحین منعبادکم وامائکم ۴؎۔
نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق غلاموں اور کنیزوں کا ۔ (ت)
 (۴؎ القرآن      ۲۴ /۳۲)
دیکھو اللہ تعالیٰ نے ہمارے غلاموں کو ہمارا عبد فرمایا اگر چہ ہمیں اپنے غلام کو یاعبدی نہ کہنا چاہئے، کہ تواضح کے خلاف ہے حدیث میں اس کی ممانعت آئی نہ یہ کہ غلام بھی اپنے آپ کو آقا کا عبد نہ کہے ۱۲ منہ
فقیر  اپنے مسلمان بھائیوں سے عاجزانہ درخواست کرتاہے جوصاحب اس رسالہ پر واقف ہوں اوراللہ عزجلالہ حاضری روضہ اقدس عطا فرمائے ان الفاظ کو عرض کرکے ثواب جزیل پائیں اور نالائق ننگِ خلائق کو ممنون احسان بنائیں، اللہ تعالٰی تمھیں دونوں جہان میں جزائے خیر بخشے۔ آمین!

بعدہ ایک گز شرعی اپنے دہنے ہاتھ یعنی مشرق کی جانب ہٹ کر مقابل چہرہ انور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کھڑا ہو کر عرض کر:
السلام علیک یا خلیفۃ رسول اﷲ۔ السلام علیک یا وزیر رسول اﷲ ۔ السلام علیک یا صاحب رسول اﷲ فی الغار ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، ۱؎۔
 (۱؎ شرح للباب مع ارشادالساری    باب زیارۃ سید المرسلین    دارالکتاب العربی بیروت    ص۳۳۹)
پھر اس قدر ہٹ کر روبروئے جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ قیام کرکے کہہ:
السلام علیک یا امیر المومنین۔ السلام علیک یا متمم الاربعین۔ السلام علیک یا عزالاسلام والمسلمین ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، ۲؎۔
 (۲؎ شرح للباب مع ارشادالساری    باب زیارۃ سید المرسلین    دارالکتاب العربی بیروت    ص۳۳۹)
پھر بقدر نصف گز شرعی کے پلٹ آ، او رصدیق وفاروق کے درمیان کھڑا ہو کر عرض کر:
السلام علیک یا صاحبی رسول اﷲ۔ السلام علیک یا خلیفتی رسول اﷲ۔ السلام علیک یا وزیری رسول اﷲ ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، ۳؎ ۔
 (۳؎ شرح للباب مع ارشادالساری    باب زیارۃ سید المرسلین    دارالکتاب العربی بیروت    ص۳۴۰)
ان سب حاضریوں میں بہ جہد تام دعا کرے کہ محل قبول ہے۔پھر منبر اطہر کے قریب آکر دعا کرے،

پھر روضہ منورہ میں یعنی جو جگہ منبر انور وروضہ مطہرہ کے ہے اور اسے حدیث میں جنت کی کیاری فرمایا آکر دو رکعت نفل پڑھے اور دعا کرے ۔ اسی طرح مسجد شریف کے ستونوں کے پاس نمازیں پڑھے۔ دعائیں مانگے کہ محل برکات ہیں۔ خصوصاً بعض عہ ۱ میں خصوصیات خاصہ، واللہ تعالٰی اعلم
عہ ۱: حضرت والد قدس سرہ نے جواہر البیان شریف میں سات ستونوں کی تفصیل فرمائی قال رضی اللہ تعالٰی عنہ ان میں ایک ستون وہ ہے جو محراب مکرم کے دہنی طرف مصلا ئے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی علامت ہے، ستونِ حنانہ اس کے آگے تھا۔ دوسرا ستون ام المومنین عائشہ صدیقہ کا کہ امام اگر مصلائے شریف میں نماز پڑھے تو اس کے پیچھے کی صف میں جو ستون واقع ہوں ان میں سے منبر سے جانب مشرق تیسرا ستون ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے چند روز اس کی طرف نماز پڑھی۔ اس کے پاس دعا مقبول ہوتی ہے، تیسرا اسطوانہ توبہ، اور وہ ستون عائشہ اور ستون ملاصق بہ دیوار حجرہ کے بیچ میں ہے، نبی صلی اللہ تعالیٰ تعالیٰ علیہ وسلم  نے ا س کی طرف نماز پڑھی اور وہاں اعتکاف فرمایا تھا۔ چوتھا اسطوانہ السریر کہ جالی شریف سے ملتصق ہے اسطوانہ توبہ سے مشرق کو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کے پاس اعتکاف کیا۔ پانچواں ستون علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور وہ شمال کی طرف اسطوانہ توبہ کے پیچھے ہے جناب مرتضی کر م اللہ وجہہ یہاں بیٹھتے اور نماز پڑھتے۔ چھٹا اسطوانہ الوفود کہ وہ اسی جانب اسطوانہ علی کے پیچھے ہے اس میں اور اسطوانہ توبہ میں صرف ستون علی حائل ہے، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور افاضل صحابہ یہاں رونق افروز ہوتے____ ساتواں اسطوانہ التہجد کہ بیت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے ہے ۲ ۱منہ
Flag Counter