Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
196 - 198
ایام اقامت میں یہ سب حجاج (عہ۳ ) جس قدر ہوسکے نرا طواف بے سعی و رمل واضطباع کرتے رہیں اور ہر سات پھیروں پر مقام ابراہیم میں دو رکعت پڑھیں۔
عہ۳: یعنی یہ چند سطریں بیچ میں خاص متمتع کے بیان میں تھیں آگے پھر عام احکام ہیں جن میں قارن، متمتع مفرد سب شریک ۲ ۱منہ
ساتویں تاریخ بعد نماز ظہر مسجد الحرام شریف میں امام کا خطبہ سنے۔ آٹھویں تاریخ جس نے عہ۴ ابھی احرام نہ باندھا ہو باندھ لے۔ اور حج کے رمل عہ۵  وسعی پیشتر کرنا چاہے تو ایک طواف نفل کے ساتھ کرلے،
عہ۴: اور وہ وہی متمتع ہوگا جو عمرہ کرکے احرام سے باہر آیا یا مکی جس نے ابھی حج کا احرام نہ کیا ۲ ۱منہ

عہ۵: مفرد قارِن نے طواف قدوم میں جو رمل وسعی کی وہ حج کی تھی اب انھیں طواف زیارت میں فراغت رہے گی پر متمتع کے لیے طواف قدوم نہیں اور وہ رمل وسعی کہ اس نے کی تھی عمرہ کی تھی اس سے حج کی رمل وسعی ادا نہ ہوئی تواسے طواف زیارت میں کرنے ہوں گے لہذا اگر بخیال زحمت وقلت فرصت یہ بھی پیشتر فارغ ہولینا چاہے تو ایک نفلی طواف کے ساتھ ادا کرے ۲ ۱منہ
جب آفتاب نکل آئے سب منیٰ کوچلیں بشرط قوت پیادہ کہ جب تک مکہ پلٹ کر آئے گا ہر قدم پر سات کروڑ عہ۱ نیکیاں لکھی جائیں گی۔
عہ۱: حدیث  میں یوں ہے کہ پیادہ جانیوالے کو ہر قدم پر سات سو نیکیاں ملتی ہیں حرم کی نیکیوں سے  ۱؂اور دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ حرم کی ہر نیکی لاکھ نیکیوں کے برابرہے  ۲؂  تو سات سو کو لاکھ میں ضرب دینے سے سات کروڑ ہوئے ۱۲ منہ۔
 (۱؎ فتح القدیر    کتاب الحج    مسائل منثورہ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۸۷)

( ۲؎ فتح القدیر    کتاب الحج    مسائل منثورہ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۸۷)
سو ہزار کا لاکھ، سولاکھ کا کروڑ، سو کروڑ کا ارب، سو ارب کا کھرب، یہ نیکیاں تخمیناً عہ۲  اٹھتر کھرب چالیس ارب آتی ہیں اور خدا کا فضل اس نبی کے صدقے میں اس امت پر بہت ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
عہ۲:عرفات مکہ معظمہ سے نو کوس گنی جاتی ہے آتے جاتے اٹھارہ کوس ہوئے ،ا ور فقیر نے تجربہ کیا کہ عرفی کوس ۱،۳/۵ ہوتا ہے تو تخمیناً ۲۸ میل سمجھو، ہر میل کے چار ہزار قدم، ۲۸ کو ۴۰۰۰ میں ضرب دینے سے ایک لاکھ بارہ ہزار قدم ہوئے انھیں سات کروڑ میں ضرب دیجیئے تو وہی ۷۸ کھرب ۴۰ ارب نیکیاں ہوتی ہیں، اور اگر عرفات کو مکہ معظمہ سے ۹ میل ہی رکھتے تو ۷۲ ہزار قدم ہوئے جن کی ۵۰ کھرب ۴۰ ارب نیکیاں یہ کیا تھوڑی ہیں، اور اللہ تعالیٰ  کا فضل بہت بڑا ہے ۱۲ غفرلہ
راہ میں لبیک و دعا ودرود وثنا کی کثرت کرے۔ منیٰ دیکھ کر دعا مانگے۔ وہاں شب باش ہوکر آج کی ظہر سے نویں کی صبح تک پانچ نمازیں پڑھے۔ یہ رات ذکر وعبادت میں جاگتا یا باطہارت سوتا گزارے۔ جب صبح ہو نماز مستحب وقت پڑھ کر لبیک وذکرمیں رہے یہاں تک کہ آفتاب ''کوہ ثبیر'' پر کہ مسجد الخیف شریف کے مقابل ہے چمکے۔ اب عرفات کو چلے قلب کو خیال غیر سے پاک کرنے میں جہد کامل کرے۔ راستہ  کثرت لبیک وذکر ودرود وتوبہ واستغفار میں کاٹے۔ جب نگاہ جبل رحمت پر پڑے ان امور میں جہد تام کرے کہ ان شاء اللہ وقت قبول ہے۔ عرفات میں اس کوہ مبارک کے پاس یا جہاں جگہ ملے شارع عام سے بچ کر اترے۔ دوپہر تک تضرع وابتہال اور باخلاص نیت حسب استطاعت تصدق وخیرات وذکر ولبیک ودرود ودعا واستغفار وکلمہ توحید عہ۳  میں مشغول رہے،
عہ۳:یعنی
لا الٰہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحیی ویمیت وھو حی لا یموت بیدہ الخیر وھو علی کل شیئ قدیر ۔
حدیث میں فرمایا: بہتر وہ کلمہ جو آج عرفہ کے دن میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے فرمایا یہ ہے ۲ ۱منہ
پھر زوال آفتاب سے کچھ پہلے نہائے کہ سنت موکدہ ہے یا وضو کرے اور قبل از زوال کھانے پینے ، وغیر ہما ضروریات سے فارغ ہولے کہ قلب کو کسی جانب تعلق نہ رہے۔ آج کے دن جیسے کہ حاجی کو روزہ مناسب نہیں کہ دعا میں ضعف نہ ہو، یوں پیٹ بھر کھانا سخت زہر ور، غفلت وکسل کا باعث ، تین روٹی بھوک والاا ٰیک ہی کھائے،عہ۱
عہ۱:حدیث میں ہمیشہ تہائی پیٹ کھانے کو فرمایا ہے۱؂  ہم حریصوں سے مدام عمل نہیں ہوتا تو کاش ایام اقامت حرمین میں تواس پر عامل رہیں ورنہ جان برادر ؎
انائے کہ پرشد دگرچوں پرد
 ( پیٹ جب پر ہوتا ہے تو دوسرے امور ہاتھ سے جاتے رہتے ہیں)

اے عزیز۱ ہفتہ بھر اس پر عمل کر دیکھ۔ پھر اگر اگلی حالت سے کچھ فرق دیکھے ماننا ورنہ اختیار ہے زندگی ہے توکھانے پینے کے بہت دن ہیں۔ حرمین کی اقامت تو نشاط سے گزرے، جان برادر! اگر اتنا صبر بھی شاق ہے تو ۸ سے ۱۳تک خاص اعمال حج کے دن ہیں اور آٹھ دس روز مدینہ طیبہ کے کہ حضور ی مبارک کے ایام ہیں ذرانفس کی باگ کڑی کرلے ورنہ یقین جان کہ ؎
بسیار خوارست بسیار خوار
 (بسیار خوری___ کثیر ذلت ہے) ۱۲منہ
 (۱؎ الترغیب والترھیب    بحوالہ ترمذی    حدیث ۲    الترھیب من الامعان فی الشبع الخ   مصطفی البابی مصر    ۳ /۱۳۶)
جب زوال ہولے بلکہ اس سے پہلے  کہ امام کے قریب جگہ ملے مسجد نمرہ جائے سنتیں پڑھ کر خطبہ سن کر امام کے ساتھ ظہر پڑھے اس کے بعد بے توقف  عصر کی تکبیر ہو گی معاً جماعت میں عصر پڑھ لے بیچ میں سلام کلام تو کیا معنیٰ۔ ظہر کی پچھلی سنتیں بھی نہ پڑھے اور بعد عصر بھی نفل نہیں۔ یہ ظہر وعصر کی جمع جبھی جائزہے کہ نماز امام اعظم یعنی سلطان یااس کے نائب ماذون کے پیچھے ہو ورنہ عصر وقت سے پہلے باطل ہوگی۔ بعدنماز فوراً فورا موقف کو جائے۔ افضل یہ ہے کہ اونٹ پر امام سے نزدیک جبل الرحمۃ کے قریب جہاں سیاہ پتھروں کا فرش ہے روبقبلہ پس پشت امام کھڑا ہو جبکہ ان فضائل کے حصول میں دقت یاکسی کی اذیت نہ ہو ورنہ جہاں عہ۲  اور جس طرح ہو سکے وقوف کرے۔ اما م کی دہنی جانب بائیں اور بائیں رو برو سے افضل ہے۔
عہ۲: یعنی بطن عُرنہ سے بچ کر وہاں وقوف محض ناجائز ہے وہ عرفات میں ایک نالہ ہے حرم محترم کے نالوں سے مسجد عرفات سے جسے مسجد نمرہ کہتے ہیں پچھال یعنی کعبہ معظمہ کی طرف ۲ ۱منہ
اب غایت خشوع وخضوع کے ساتھ لرزتا، کانپتا، ڈرتا،ا مید کرتا، آنکھیں بند کئے، گردن جھکائے، دستِ دعا آسمان کی طرف اٹھائے، تکبیر، تہلیل، تسبیح، حمد، درود، دعا ، توبہ، استغفار میں ڈوب جائے، کو شش کرے کہ ایک قطرہ آنسوؤں کا ٹپکے کہ دلیل اجابت وکمال سعادت ہے ورنہ رونے والوں کا سا منہ بنائے کہ
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمِ فَھُوَمِنْھُمْ
 (جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہوگا۔ ت) اثنائے دعا وذکر میں لبیک کی بار بار تکرار کرے، آج کے دن دعائیں بہت مقبول ہیں، مگر سب میں بہتریہ ہے کہ دعا کے بدلے سارا وقت درود وذکر وتلاوت قرآن میں گزارے کہ دعا والوں عہ۱ سے زیادہ پائے گا۔
عہ۱:یہ امر حدیثوں سے ثابت ہے جسے ان کا دیکھنا ہو جواہر البیان شریف مطالعہ کرے، خلاصہ ان کا یہ کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ''اگر تو اپنی سب دعاؤں کے عوض مجھ پر درود بھیجا کرے گا تو اللہ تعالیٰ تیرے سب کام بنادے گا اور تیرے گناہ معاف فرمائے گا۱؎۔''
 (۱؎ مشکوٰۃ المصابیح  باب الصلٰوۃ علی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  فصل ثانی  مطبع مجتبائی دہلی     ص۸۶)
بیہقی کی حدیث میں ہے: ''رب العزت جل جلالہ فرماتا ہے جو میرے ذکر کے سبب دعا کی فرصت نہ پائے اسے سب مانگنے والوں سے زیادہ دوں۲؎۔''
 (۲؎ شعب ا لایمان     حدیث ۵۷۳  بیروت  ۱ /۴۱۳)
ترمذی کی حدیث میں ہے: ''مولا تعالیٰ فرماتا ہے جسے تلاوت قرآن ،ذکر ودعا کی مہلت نہ دے اسے سب سائلوں سے افضل عطاکروں ۳؎ ۱۲ منہ
 (۳؎ جامع الترمذی  ابواب فضائل القرآن امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲ /۱۱۶)
غرض اسی حالت تضرع وزاری پرر ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے اور ایک جز ولطیف عہ۲ رات کا آجائے، اس سے پہلے کوچ منع ہے اور ایک ادب واجب الحفظ اس روز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سچے وعدوں پر بھروسا کرکے یقین جانے کہ آج میں گناہوں سے ایسا پاک ہوگیا جیسا جس دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہواتھا۔ اب کوشش کروں گا کہ آئندہ گناہ نہ ہو، او رجو داغ اللہ تعالیٰ نے بہ محض رحمت میری پیشانی سے دھویاہے پھر نہ لگے۔بعد تیقن غروب فوراً سکینہ ووقار کے ساتھ ہمراہ امام عہ۳ ، لبیک وتکبیر وذکر و درود میں مشغول مزدلفہ جائیں۔
عہ۲: اس کے معنی ہم اوپر لکھ چکے کہ غروب آفتاب کا یقینی ہوجانا مرادہے پھردیر نہ کرے ۲ ۱منہ

عہ۳:اوپر گزرا کہ ہمراہی امام سنت ہے اور اگر وہ وقت مسنون پر کوچ کرے اور معیت میں ا پنی یا غیر کی اذیت نہ ہو۱۲ منہ
راہ میں وسعت ملے او رکسی کی ایذا نہ ہو تو سیر میں شتابی کریں۔ نما زمغرب وعشاء عرفات خواہ راہ میں نہ پڑھیں، جب مزدلفہ نظرآئے بشرط قدرت پیادہ ہوجائے اور نہاسکے تو بہتر ، یہاں جبل قزح کے قریب راہ سے بچ کر اتریں، اسباب اتارنے، اونٹ کھولنے سے پہلے وقت عشاء میں بعد اذان واقامت نما زمغرب بہ نیت ادا اور اس کے بعد بے تکبیر یا تکبیر کہہ کر بے فصل سنت ونفل معا عشاء پڑھ لیں، اس جمع میں جماعت شرط نہیں۔ صبح تک بقدر قدرت یاد خدا ودرود ودعامیں رہیں، جب صبح ہو نماز صبح اول وقت خوب تاریکی میں پڑھ کر مشعر الحرام میں آئیں، امام کے پیچھے رو بقبلہ ذکر ولبیک و درود ودعا میں جہد رکھیں۔ اللہ جل جلالہ سے بتضرع تمام حقوق العباد سے خلاصی مانگیں، یہاں سے سات کنکریاں اٹھا کر دھو کر رکھ لیں۔ جب خوب روشنی ہوجائے اور آفتاب قریب طلوع آئے ہمراہ امام لبیک وذکر میں مشغول منٰی کو چلیں، جب وادی محسر عہ۴  پہنچیں بقدر پانسو پنیتالیس گزشرعی کے سیر میں بے ایذا ئے احد ے تیزی کریں اور اس عرصہ میں غضب وعذاب الہٰی سے پناہ مانگیں،
عہ۴: یہ منیٰ ومزدلفہ کے بیچ میں ایک نالہ ہے دونوں کی حدود سے خارج مزدلفہ سے منیٰ کو جاتے ہوئے بائیں ہاتھ کو جو پہاڑ پڑتا ہے اس کی چوٹی سے شروع ہو ا ہے ۵۴۵ گزطول رکھتا ہے یہاں آکر اصحاب الفیل ٹھہرے اور ان پر عذاب ابابیل اترا تھا اس لیے اس سے جلد گزرنا اور عذاب الہٰی سے پناہ مانگنا چاہئے ۲ ۱منہ
جب منیٰ پہنچیں سب کاموں سے پہلے جمرہ العقبہ کوکہ ادھر سے پچھلا جمرہ ہے اور مکہ معظمہ سے پہلا، جائیں اور بطن وادی میں سواری پر جمرہ سے پانچ گز شرعی چھوڑ کر کھڑے ہوں کہ منیٰ دہنے ہاتھ پر رہے اور کعبہ بائیں پر۔ پس رخ بجمرہ سات کنکریاں جدا جدا سیدھا ہاتھ خوب اٹھا کر کہ سپیدی بغل ظاہر ہو، ہر ایک پر
''بسم اﷲ اﷲ اکبر''
کہہ کر ماریں۔ بہتر یہ ہے کہ کنکریاں جمرہ تک پہنچیں ورنہ تین گز شرعی کے فاصلہ تک گریں، اس سے زیادہ میں وہ کنکری شمارمیں نہ آئے گی، پہلی کنکری سے لبیک موقوف کریں، جب سات پوری ہوجائیں فوراً ذکر ودعا کرتے پلٹ آئیں، اب قربانی عہ۱  میں کہ متمتع وقارن پر واجب او رمفرد کو مستحب ہے مشغول ہو، اگر ذبح کرنا  آئے خود ذبح کریں ورنہ ذبح میں حاضر ہوں، دنوں ہاتھ اور ایک پاؤں اس کا باندھ کر روبقبلہ لٹائیں او رتکبیر کہہ کر نہایت تیز چھری بسر عت تمام پھیردیں، بعدہ ہاتھ پاؤں کھول دیں، اونٹ ہو تو اسے کھڑا کرکے سینہ میں منتہائے گلو پر نیز ماریں کہ سنت یونہی ہے اور اس کا ذبح مکروہ، اگر چہ حلت میں کافی ہے۔
عہ۱: یہ قربانی عیدکی قربانی سے جدا ہے وہ مسافر پر اصلاً نہیں اور مقیم مالدارپر واجب ہے اگر چہ حاجی ہو ۲ ۱منہ
بعدفراغ اپنے اور تمام مسلمانوں کے لیے قبول حج وقربانی کی دعا کریں، جب تک سرد نہ ہو کھال نہ کھینچیں کہ ایذا ہے، بعدہ رو بقبلہ بیٹھ کر مرد سارا سر منڈائیں کہ افضل ہے یابال کتروائیں کہ رخصت ہے، ابتداء دہنی جانب سے کریں، وقت حلق
اﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد
کہتے جائیں، بعد فراغ بھی کہیں، سب مسلمانوں کی مغفرت مانگیں، بال دفن کردیں، حلق سے پہلے ناخن نہ کتروائیں، خط نہ بنوائیں، عورتوں کو حلق روانہیں ایک پور برابر بال کتروادیں، اب جماع ودواعی جماع کے سوا جو کچھ احرام نے حرام کیا تھا سب حلا ل ہوگیا۔ افضل یہ ہے کہ آج دسویں ہی تاریخ طواف فرض کے لیے جسے ''طواف زیارۃ'' کہتے ہیں، مکہ معظمہ جائیں بدستور مذکور پیادہ پا باطہارت وستر عورت بے اضطباع عہ۲  کریں،
عہ۲: ہم اوپر لکھ چکے کہ اس طواف میں اضطباع اصلاً نہیں ا گر چہ پیشترنہ کیا ہو ۲ ۱منہ
اسی طرح عہ۳  جو مفرد متمتع مثل قارن رمل وسعی حج دونوں خواہ صرف سعی حج، سے کسی طواف عہ۴ کا مل باطہارت میں فارغ ہوچکا ہے و ہ رمل وسعی کرے ورنہ اب دونوں بجا لائے۔ بعد طواف دورکعت مقام ابراہیم میں پڑھیں اس سے عورتیں بھی حلال ہوگئیں، بارھویں تک اس کی تاخیر روا۔ اس کے بعد بلا عذر مکروہ تحریمی موجب دم ۔
عہ۳:تو ضیح مسئلہ یہ ہے کہ قارنِ کو طواف قدوم میں رمل وسعی کرلینی افضل ہے وھذہ معنی قولہ مثل قارن (اس کے قول ''مثل قارن'' کا یہی معنیٰ ہے۔ ت) او رمفرد کو بھی بخیال زحمت وقلت فرصت اجازت اور متمتع کے لیے اگرچہ طواف قدوم نہیں کما بینامن قبل (جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیاہے ۔ت) مگرا سےہم اوپر لکھ آئے کہ پہلے کرلینا چاہئے تو ایک نفل کے ساتھ کرلے اب یہ لوگ اگر پیشتر ان کاموں سے فارغ ہولئے تھے فبہا، آج حاجت  نہ پڑے گی مگر جس نے نہ کئے خواہ قارن ہو یا مفرد  یامتمتع، اسے اب کرنے چاہئیں، پر رمل اسی طواف میں مشروع ہے جس کے بعد سعی ہو تو جس نے ہنوز دونوں نہ کئے ہوں ہو توظاہر ہے کہ اس طواف کے ساتھ دونوں کرے گا اور جس نے سعی نہ کی اور رمل کرلیا وہ بھی اب دونوں کرے۔ سعی تویوں کہ باقی تھی اور رمل یوں کہ پہلا رمل جو طواف بے سعی میں واقع ہوا نامشروع تھا، اب بروجہ مشروع بجالائے اور جس نے سعی کرلی تھی رمل نہ کیا تھاوہ اب کچھ نہ کرے۔ سعی تو یوں کرچکا ہے اور رمل یو ں کہ کرتا ہے تو بے سعی واقع ہوگا اورسعی دوبارہ نہیں ہوسکتی ۲ ۱منہ

عہ۴:طواف کا مل کے معنیٰ فصل واجبات میں گزرے ۲ ۱ منہ
اب دسویں تاریخ نماز ظہر مکہ معظمہ میں پڑھ کر پھر منیٰ عہ۱ جائے، گیارھویں شب وہیں بسر کرے، نہ مکہ میں نہ راہ میں مکروہ ہے،
عہ۱: قدرت الہیٰ کا ایک عجیب تماشا ہر کس وناکس نے منیٰ میں ان آنکھوں سے دیکھا ہے جس سے بحمد اللہ حقانیت اسلام ومعجزہ باہر ہ حضور سید الانام علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام ظاہر ہو۔ منیٰ چند پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹی سی جگہ کا نام ہے جس کا عرض تو بہت ہی قلیل ہے اور طول دومیل، سارا رقبہ ایک مربع میل سے بھی کم سمجھئے، یہاں چار پانچ روز تمام حجاج کا ہجوم رہتا ہے پھر یوں نہیں جیسے نماز کی صفیں یا مجلس کی گنجائش بلکہ جس طرح شہروں میں بستے ہیں ہزار ہا خیمے، ڈیرے، قناتیں، پردے، ہر ایک اپنی اپنی جدا منزل میں،پھر اصل آبادی کی عمارتیں علاوہ۔ اور ہم اوپر لکھ آئے کہ کسی سال پندرہ لاکھ سے کم نہیں ہوتے، فقیر جس سال حاضرتھا اٹھارہ لاکھ کی مردم شماری سننے میں آئی۔ پھر کبھی نہ دیکھئے گا کہ منیٰ بھر گئی یا کسی وقت حاضرین سے تنگ ہوگئی۔ سب اہلے گہلے بہ فراغت پھیلتے، چلتے پھرتے، سوتے، بستے، کام کاج کرتے ہیں، یہ بحمد اللہ صریح تصدیق ہے اس حدیث کی کہ ارشاد ہوا : ''منیٰ حاجیوں کے لیے ایسی پھیلتی ہے کہ جیسے ماں کا پیٹ بچہ کے لیے کہ جتنا بچہ بڑھتا جاتا ہے ماں کا پیٹ جگہ دیتاہے۱؎۔''
اشھدان الا سلام حق والکفر باطل والحمدﷲ رب العالمین ۲ ۱منہ غفرلہ۔
 (۱؎ کنز العمال        بحوالہ طس     عن ابی الدرداء    حدیث ۳۴۷۹۹    موسسۃ الرسالۃ بیروت        ۱۲ /۲۳۰)

(درمنثور         واذکرواﷲ فی ایام معدودات کے تحت مذکور ہے        منشورات آیۃ اللہ العظمی قم ایران    ۱ /۲۳۵)
روز یازدہم بعد نماز  ظہر امام کا خطبہ سن کر متوجہ رمی ہو، ان ایام میں رمی جمرہ اولیٰ سے شروع کرے جو مزدلفہ کی طرف مسجد خیف سے قریب ہے، راہ مکہ کی طرف سے آکر چڑھائی پر چڑھے کہ یہ جگہ نسبت جمرۃ العقبہ کے بلندہے رو بہ کعبہ بطور مذکور سات کنکریاں مار کرجمرہ سے قدرے آگے بڑھے، مستقبل قبلہ ہاتھ دعامیں یوں اٹھا کر ہتھلیاں رو بہ قبلہ رہیں حضور قلب سے حمد و درود ودعا واستغفار میں بقدر قراء ت یا سورہ بقرہ یا کم سے کم بمقدار بست آیت مشغول رہے۔
آگے جمرہ وسطی ہے وہاں بھی ایساہی کرے پھر جمرہ عقبہ ہے  یہاں رمی کرکے نہ ٹھہرے معاً پلٹ آئے، پلٹتے میں دعا کرے، شب دواز دہم یہیں اپنی فرودگاہ پر گزارے۔ بارھویں تاریخ جمرات ثلاثہ کو بعد زوال اسی طریقے سے رمی کرے___ اب تابہ غروب آفتاب مختار ہے کہ جانب مکہ روانہ ہوا ور ایک دن اور ٹھہرے تو افضل ہے مگر بعد غروب چلاجانا معیوب ۔ پس اگر تیرھویں کو بھی ٹھہرا تو اسی طرح رمی جمرات کرکے متوجہ مکہ معظمہ ہو۔ جب وادی محصب  میں کہ  جنت المعلی کے قریب ہے، پہنچے ،سواری اترلے یا بے اترے کچھ دیر ٹھہر کر مشغول دعاہو، بہتر تویہ ہے کہ عشاء تک نمازیں یہیں پڑھے، نیند لے کر داخل مکہ معظمہ ہو۔ اب اپنے اور اپنے والدین ومشائخ واولیائے نعمت خصوصاً حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب وعترت علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والتحیۃ کی طرف سے جتنے ہوسکیں عمرے کرتا رہے، جب عزم سفر ہو طواف وداع بے رمل وسعی واضطباع کرے، دو رکعت مطلوبہ پڑھے۔ پھر زمزم عہ۱ پر آئے، پانی بہ طریق مذکور پئے، بدن پر ڈالے۔
عہ۱ : قدرت ربانی کا صریح نمونہ اس مبارک کنویں میں ہے، چھوٹا ساکنواں ذرا سادَور، اور لاکھوں کا ہجوم، آٹھ پہر میں ایک دم کو پانی تھمنے نہیں پاتا۔ ہزاروں پیتے ہیں، ہزاروں وضو کرتے ہیں، ہزاروں نہار ہے ہیں، ہزاروں مشکیں شہر میں جا ری ہیں ایک غول سرکا دوسرا آیا  ہٹنے نہ پایا کہ تیسرا آیا، پھر کوئی بتادے کہ فلاں  وقت کنویں کا پانی کچھ کم کرگیا۔، واللہ برکت واے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی برکت ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا، گہرے سے گہرا کنواں فرض کیجئے اورایک دن میں پندرہ لاکھ،اٹھارہ لاکھ کا ہجوم اس پر آنے دیجئے، دم کے دم میں سن لیجئے گا کہ تلی میں خاک بھی نہ رہی، ایک بار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے زمانہ میں زمزم شریف میں ایک زنگی گر کر مرگیا، سب پانی کھینچنا تھا، تھک تھک گئے۔ شل ہوگئے بہزار مشکل قدرے گھٹا کہ دفعۃ حجرا سود کی طرف سے ایک موسلادھار پرنالہ اسی جوش سے گرا کہ آن کی آن میں پھر ویساہی کردیا۔ اللہ تعالیٰ کی بے شمار درودیں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اورا ن کی آل پر ۱۲ منہ غفرلہ۔
پھر روبروئے دراقدس کھڑا ہو۔ آستانہ پاک کو بوسہ دے۔ فلاح دارین، قبول حج، مغفرت ذنوب، توفیق حسنِ عود بار ہا کی دعا کرے، ملتزم پر آکر بہ نہج مذکور غلافِ کعبہ تھام کر چمٹے، تضرع، خشوع ، دعا ،بکاء، ذکر، درود کی جو تکثیر ہوسکے بجالائے۔ حجر مطہر کو بوسہ دے کر الٹے پاؤں رخ بہ کعبہ یا سیدھے چلنے میں بار بار پھر کر کعبہ کوبہ نگاہ حسرت دیکھتا اور فراق بیت پر روتا یا رونے کی صورت بناتا مسجد مقدس کے دروازہ مسمیٰ بہ''باب الخرورہ'' سے نکلے پھر بقدر استطاعت فقرائے حرم پر تصدق کرکے متوجہ مدینہ طیبہ ہو۔
Flag Counter