Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
195 - 198
تکملہ

حج وعمرہ کی ترکیب او ر اول سے آخرتک ان کے افعال کی ترتیب  اور آدابِ زیارت قبر حبیب علیہ صلٰوۃ القریب المجیب میں
یہ شرح کہ حسب فرمائش حضرت مصنف نہایت مختصر لکھی گئی اگر چہ بحمد اللہ کارآمد مسائل پر مشتمل اور اختیار راجح وترک مرجوع میں تام وکامل، جسے نہ جانے گا مگر وہ کہ کتب کثیرہ فقہیہ جمع کرکے نظرِ تدقیق وفکر عمیق سے  کام لے سکے اور اس کے ساتھ وقت اختلاف ترجیح یا عدم تصریح بافتاء وتصحیح رسمِ افتاء وآداب مفتی کے مسالک بعیدہ ومعارک عدیدہ میں مہارت رکھے بایں ہمہ بحمد اللہ جابجا ارشادات لطیفہ وتنقیدات شریفہ ہیں جن پر اطلاع ذہن ثاقب کا کام،
والحمدﷲ ولی الانعام، قُلتہ شکرا لابطرا وفخرا والعیاذ باﷲ مما لا یرضاہ،
مگر ازاں جا کہ اول تاآخرترکیب اعمال وترتیب افعال بیان نہ ہوئی جس کی طرف حجاج کو عموماً اور عوام کو خصوصاً حاجت اوراس کے نہ جاننے سے اکثر اوقات کم علم مسلمانوں کو دقت ہوتی ہے۔ لہذا فقیر غفراللہ تعالیٰ لہ نے چاہا کہ امورِ مذکورہ سے شرح کی تکمیل اور آخر میں قدرے آدابِ زیارت سراپا طہارت کی مختصر تفصیل کروں کہ عام مومنین کو ان شاء اللہ تعالیٰ خود بصیرت ملے اور مطوفوں، مزیروں کی حاجت نہ رہے۔ سفر مبارک حرمین طیبین سے معاودت فرما کر حضرت تاج العلماء سراج الکملاء، سید الفقہاء، سندالفضلاء حضرت والد قدس سرہ الماجد نے کتاب مستطاب
''جواہر البیان فی اسرار الارکان''
میں اس جلیل کا م کو نہایت تک پہنچایا اور طہارت و صلوٰۃ وصوم وزکوٰۃ کے اسراردقیقہ ولطائف انیقہ ارشاد فرماکر حج و زیارت کا بیان بے مثیل وعدیل تحریر فرمایا۔
جزاہ اللہ تعالیٰ خیر جزاء واعلیٰ درجاتہ فی داراللقاء اٰمین!
اس جمیل کتاب جلیل مستطاب کی لطافت وخوبی ودلکشی ؎
ذوق این مے نشناسی بخدا تانہ چشی
 (بخدا چکھے بغیر اس شراب کا ذائقہ معلوم نہ ہوسکے گا)

اس مبارک کتا ب کے نصف سے زائد میں یہی بیان جانفزا ہے۔ فقیر اس کی دو فصلوں سے چند حروف تلخیص عہ۱کرتا ہے وباﷲ التوفیق وھدایۃ الطریق۔
عہ۱: غالباً اسی کا خلاصہ ہے اگرچہ کہیں کہیں کچھ حرف زائد کیے گئے ۱۲ منہ
حج وعمرہ کی ترکیب
احرام کی ترکیب تو ہم  اوپر لکھ چکے ہیں یہاں اتنا جانئے کہ حاجیوں عہ۲ کاا حرام تین طرح کاہوتا ہے، تنہا حج کی نیت عہ۳ سے افراد کہتے ہیں، اور ایسے حاجی کو مفرِد ، یا یہ کہ میقات عہ۴ پر صرف عمرہ عہ۵ کا ارادہ کرے
عہ۲ :چوتھا احرام تنہا عمرہ کا ہے جو تمتع وقرِان سے جدا ہو اسے افراد بالعمرہ کہتے ہیں، وہ حاجی کا احرام نہیں ۱۲ منہ

عہ۳: یعنی جس کے وقوف عرفہ کوہوجانے تک احرام عمرہ نہ ہو و رنہ نیت حج نیت عمرہ مجتمع ہوکر قران کی شکل آجائیگی۔ کما فصلناہ علٰی ھامش ردالمحتار (جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں اس کی وضاحت کی ہے۔ ت) ۱۲ منہ
عہ۴: قید بالمیقات لبیان الطریق للشروع للمتعۃ فان غیر الافاقی لا یجوز لہ التمتع والآفاقی لایجوزلہ التجاوز بغیر احرام والافان تمتع المکی اوتجاوز الآفاقی ثم تمتع کان متعۃ بلاشک وان اثما خلافا لما یوھمہ بعض العبارات والراویات من ارتاب فعلیہ بشرح اللباب ۱۲ منہ (م)
میقات کی قید تمتع کے مشروع طریقہ کو بیان کرنے کے لیے ہے کیونکہ تمتع آفاقی یعنی میقات کے باہر والوں کے لیے جائز ہے غیرآفاقی کے لیے جائز نہیں، جبکہ آفاقی کو میقات سے آگے احرام کے بغیر گزرنا منع ہے ورنہ اگر مکی نے تمتع کرلیا اور آفاقی نے بغیر احرام میقات سے گزر کر تمتع کرلیا تو دونوں کے تمتع ہوجائیں گے۔ اگر چہ ان کو گناہ ہوگا، اس کے خلاف بعض عبارات وروایات سے وہم ہوتا ہے جس سے بعض حضرات کو وہم ہوا ہے  ایسے حضرات کو چاہئے کہ وہ شرح لباب کی طرف رجوع کریں ۱۲ منہ (ت)
عہ۵: میقات سے نہ کہا کہ میقات سے ابتدائے احرام ضرور نہیں میقات پر محرم ہونا درکار ہے خاص وہیں سے باندھے یا پہلے سے باندھا ہو تا کہ تجاوز بے احرام نہ ہو
بل الافضل ھو التقدیم علی المیقات الکافی بشرطہ کما نصوا علیہ
(بلکہ میقات مکانی پر مقدم ہونا افضل ہے کہ وہ شرط ہے جیسا کہ اس پر نص ہے ۲ ۱منہ (ت)
مکہ معظمہ پہنچ کر اشہر الحج عہ۱ میں عمرہ عہ۲ کرکے وہیں عہ۳حج کا احرام باندھے اسے تمتع کہتے ہیں اور اس حاجی کو متمتع، یا یہ کہ حج وعمرہ دونوں کی نیت جمع عہ۴ کرے اسے قِران عہ۵ کہتے ہیں اور حاجی کو قارِن اور زیادہ ثواب اسی میں ہے۔
عہ۱: اشہر حج یکم شوال سے دہم ذی الحجہ تک ہیں ۱۲ منہ

عہ۲: تمتع کے لیے اکثر طواف عمرہ یعنی چار پھیروں کا ان مہینوں میں واقع ہونا ضرور ہے اگر چہ پورا عمرہ ان میں نہ ہو مثلاً تین پھیرے رمضان میں کرلیے چار شوال میں کیے ہوں، یوں بھی تمتع ہوسکتا ہے کہ اکثر کے لیے حکم کل کا ہے تو جن دنوں میں اکثر طواف واقع ہو گاا نہی میں عمرہ  ہونا ٹھہرے گا ۱۲ منہ

عہ۳: وہیں اس لیے کہہ دیا کہ عمرہ کے احرام سے نکل کر اپنے وطن کو واپس جائے اس کے بعد آکر حج کا احرام باندھے تو تمتع نہ ہوگا، عمرہ الگ رہا حج الگ رہا، اگر چہ اسی سال کرے، دوسرا فائدہ اس قید کا یہ ہے کہ حج کا احرام وہیں یعنی حرم سے باندھے کہ اس کا حکم مثل مکی کے ہے اور مکی کے لیے حج کا میقات حرم ہے اگر حل سے باندھے دم دے گا۔ ہاں غیر مکی کا تمتع یوں بھی صحیح ہے پر یہاں جائز ومسنون شکل کا بیان ہے ۲ ۱منہ

عہ۴: جمع کرنے کے ظاہر متبادر معنیٰ یہ ہیں کہ ایک ہی وقت میں دونوں کی نیت کرے یہ شکل خاص سنت ہے، اور اگر پہلے عمرہ کا احرام باندھا اور ہنوز اس کے چار پھیرے نہ کئے تھے کہ حج کا احرام کرلیا جب بھی تو قران ہوگیا، یونہی اگرپہلے فقط حج کا احرام کیاتھا اور وقوفِ عرفہ سے پہلے عمرہ کا احرام کرلیا تو بھی قارن ہو امگر خلافِ سنت کیا خصوصاً جبکہ احرام عمرہ بعض افعال حج میں شروع کے بعد ہو کہ زیادہ بُرا ہے ۲ ۱منہ قدس سرہ العزیز۔

عہ۵: تنبیہ: احرام کی بارہ صورتیں ہیں جن میں ایک تمتع ہے اور باقی گیارہ میں بعض ائمہ کے طور پر پانچ افراد ہیں اور چھ قران، اور بعض محققین کی تحقیق پر آٹھ افراد ہیں تین قران۔ اس کی نفیس وجلیل توضیح وتفصیل ہم نے ہوامش ردالمحتار پر کی کہ غالباً دوسری جگہ نہ ملے گی، وہاں سے ان تین قسموں کی پوری پوری جامع مانع تعریف ظاہر ہوتی ہے یہاں صرف صاف صاف عام فہم بات لکھ دی ہے ۱۲ منہ۔
جب حرم مکہ کے متصل پہنچے بادب وخشوع پیادہ پاداخل ہو اور برہنہ پاؤں بہتر ہے، جب مکہ معظمہ تک آئے نہا کر جانا مستحب ہے جب کعبہ معظمہ پر نظر پڑے دعا مانگے کہ محل اجابت ہے، باب السلام پر جاکر آستانہ پاک کو بوسہ دے، دہنا پاؤں پہلے رکھ کر بسم اللہ کہہ کر داخل ہو بعدہ اگر جماعت قائم یا نماز فرض خواہ وتر یا سنت مؤکدہ کے فوت کاخوف نہ ہو تو سب کاموں سے پہلے متوجہ  طواف ہو مرد اضطباع عہ۶ کرکے اور عورت بے اضطباع حجر اسود کی دہنی طرف رکن یمانی کی جانب سنگ مکرم کے قریب یوں کھڑا ہو کہ تمام پتھراپنے اپنے دستِ راست کی طرف رہے پھرطواف کی نیت کرکے کعبہ کو منہ کئے اپنی دہنی سمت چلے،
عہ۶: تنبیہ: طواف قدوم میں رمل واضطباع وسعی کرنے نہ کرنے کااختیار ہے، اگر کرے گا توطوافِ زیارت میں جس کا بیان آگے آتا ہے ان امور کی حاجت نہ ہوگی ورنہ وہاں کرنے ہوں گے اور اس دن ہجوم بہت ہوتا ہے اور کام بھی زیادہ۔ لٰہذا ہم نے بنظر آسانی مطلقاً ان امور کو داخل ترتیب کردیا اور قارن کو تو خود افضل ہی یہ ہے کہ یہ باتیں اسی طواف میں بجا لائے ۲ ۱منہ
جب سنگ اسود کے مقابل ہوا ور یہ بات ادنیٰ حرکت سے حاصل ہوجائے گی، کانوں تک ہاتھ اس طرح اٹھا کر کہ ہتھیلیاں جانب حجر رہیں،
بسم اللہ والحمد للہ واللہ اکبر والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ
کہے اور پھر حجر مطہر پر دونوں کف دست اور ان کے بیچ میں منہ رکھ کر یوں بوسہ لے کہ آواز عہ۱  نہ پیدا ہو۔ تین بار ایسا ہی کرے، اگر بے ایذا وکشمکش میسر آئے ورنہ ہاتھ یالکڑی سے مس کرکے انھیں چوم لے، او ریہ بھی نہ ہوسکے تو ہاتھوں سے اس کی طر ف اشارہ کرکے انھیں بوسہ دے لے، پھر درکعبہ کی طرف بڑھے، جب محاذات حجرسے گزر جائے سیدھا ہولے اور خانہ کعبہ کو اپنی طرف کرکے بے ایذا ومزاحمت مرد رمل کرتا (اور عورت بے رمل) چلے۔
عہ۱: یہ ادب ہر بوسہ تعظیم مثلاٍ اولیاء وعلماء کے دست وپا چومنے میں بھی ملحوظ رکھے ۲ ۱منہ۔
طواف میں کعبہ سے جتنا پاس ہو بہتر ۔ مگر اتنا نہ کہ پشتہ دیوار پر جسم یا کپڑا لگے اور نزدیکی میں از دحام سے رمل نہ کر سکے تو دوری افضل ہے جب رکن یمانی پر آئے اسے دونوں ہاتھوں یا دہنے سے تبرکا چھوئے، نہ صرف بائیں سے اور چاہے تو بوسہ بھی دے او رنہ ہوسکے تو کچھ نہیں عہ۲، یہاں تک کہ حجر اسود تک آجائے۔ یہ ایک پھیرا ہوا، یوں ہی سات پھیرے کرے، مگر رمل تین پھیروں کے بعد نہیں، ختم طواف میں بھی حجر اسود پر بوسہ دے،
عہ۲: یعنی بوسہ ومس نہ ملے تو یہاں یہ نہیں کہ لکڑی سے چھو کر اسے چومے یا ہاتھوںسے اشارہ کرکے بوسہ دے یہ باتیں صرف حجراسود میں تھیں ۲ ۱منہ
پھر مقام ابراہیم میں آکر جہاں تک مر مر بچھا ہے دو رکعت طواف پڑھے بشرطیکہ وقت مکروہ نہ ہو ورنہ تاخیر کرے، اس کے بعد دعا مانگے۔ پھر ملتزم میں آئے کہ اس پارہ دیور کانام ہے جو درمیان حجرا سود ودرکعبہ کے ہے، یہاں قریب حجرملتزم سے لپٹے اور اپنا سینہ، پیٹ، دہنا ر خسارہ کبھی بایاں کبھی تمام منہ اس پر رکھے۔ دونوں ہاتھ سرسے بلند کرکے دیوار پر پھیلائے یا دہنا دروازے اور بایاں حجر کی طرف او ردعا کرے۔ پھر زمزم پر آئے۔ ہو سکے تو خود ایک ڈول کھینچے ورنہ کسی سے لے کر آبِ مطہر رو بکعبہ تین سانسوں میں ہر بار بسم اللہ سے شروع، الحمد پر ختم کرتا خوب پیٹ بھر کر پیے۔ باقی بدن پر ڈال لے۔ پیتے وقت دعا کرے کہ قبول ہے۔ کنویں کے اندر بھی نظر کرے کہ دافع نفاق ہے، اب اگر کوئی عذر مثل استراحت وغیرہ نہ ہو تو صفا مروہ میں سعی کے لیے پھر حجر اسود کو بطور مذکور چومے۔ او رنہ ہوسکے تو فقط اس کی طرف منہ کرکے فوراً باب صفا سے جانب صفا روانہ ہو، دروازے سے بایاں پاؤں پہلے نکالے اور داہنا پہلے جوتے میں ڈالے پھر صفا کی سیڑھی پر چڑھے کہ کعبہ نظر آئے، روبکعبہ ہو کر دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلے شانوں تک اٹھائے جیسے دعا میں کرتے ہیں۔ دیر تک تکبیر ،تہلیل ،درود و دعا میں رہے کہ محل اجابت ہے پھر اترکر ذکر ودرود میں مشغول مروہ کو چلے۔ ان دونوں کے بیچ میں بائیں ہاتھ کو دیوار مسجد الحرام میں دو جگہ سبز علامتیں بنی ہیں جنھیں میلین ا خضرین کہتے ہیں، مرد پہلے میل سے دوڑنا شروع کریں مگر نہ حد سے زائد کسی کو ایذا دیتے۔ یہاں تک کہ دوسرے میل سے نکل جائیں۔ اتنے راستے کو ''مسعیٰ'' کہتے ہیں، عورتیں نہ دوڑیں۔ اس مابین میں دعا بجہد کرے میل دوم سے پھر آہستہ ہو لے یہاں تک کہ مروہ پر پہنچے یہاں گو کعبہ نظر نہیں آتا مگر استقبال کرکے جیسے صفا پر کیا تھا کرے۔ یہ ایک پھیرا ہوا۔
پھر صفا پر جائے اور مسعٰی میں دوڑے یہاں تک کہ ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہو۔ واضح ہو کہ عمرہ صرف انہی افعال طواف وسعی کا نام ہے۔ قارِن ومتمتع کے لیے یہی عمرہ عہ۱ ہوگیا۔
عہ۱: اگر چہ انھوں نے ان افعال میں نیت عمرہ نہ کی ہو ۲ ۱منہ
اور مفرد کے لیے طواف قدوم مگر قارن اسی طرح بہ نیت طواف قدوم ایک طواف وسعی اورکرے۔ اور وہ اور مفرد دونوں احرام میں رہیں۔ لیبک گویاں مقیم مکہ ہوں بخلاف متمتع کہ تنہا عمرہ والے کی طرح شروع سے بوسہ حجر لیتے ہی لبیک چھوڑدے اور طواف وسعی مذکور کے بعد حلق یا تقصیر کرکے احرام عہ۲سے باہرآئے،
عہ۲: مگر جس متمتع نے سوق ہدی کیا ہو اسے قارن کی طرح احرام سے باہر آنا روانہیں ۱۲ منہ
پھر چاہے تو ہشتم ذی الحجہ تک بے احرام رہے، مگر افضل یہ ہے کہ جلدا حرام حج باندھ لے اگر یہ خیال نہ ہو کہ دن زیادہ ہیں احرام کی قید یں مجھ سے نہ نبھیں گی۔
Flag Counter