عہ۱: رواہ الطبرانی فی الکبیر والدارقطنی فی الافراد عن رافع بن خدیج رضی اللہ تعالٰی عنہ ۲ ۱منہ (م)
(۱؎ المعجم الکبیر مروی از رافع بن خدیج المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۴ /۲۸۸)
حدیث ۲۰: عہ۲ جس سے مدینہ میں مرنا ہو سکے تو اسی میں مرے کہ جو مدینہ میں مرے گا میں اس کی شفاعت فرماؤں گا ۲؎۔
اللھم ارزقنا علی الایمان والسنۃ بجاھہ عندک باعظم المنۃ اٰمین اٰمین اٰمین وصلی اﷲ تعالیٰ علی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین۔
عہ۲: رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ وابن حبان عن ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما وصححہ التر مذی ۱۲ منہ (م)
اس کو احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ۱۲ منہ (ت)
(۲؎ جامع الترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل المدینۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۲۳۱)
م: ھنالکم یا معشر الحجاج اذ جئتم من ابعد الفجاج
ت: اے گروہ حاجیاں! تمھیں مژدہ جب آئے تم دور دراز راہوں سے۔
م: لبیّتم واﷲ خیر داع فمنکم تقبل المساعی
ت: تم نے لبیک کہی اور اللہ تعالیٰ بہتر بلا نے والا ہے اپنی عبادت کی طرف تو تمھاری کوششیں مقبول ہوں۔
ت: وقد حویتم عظیم المنۃ والحج مبروراً جزاہ الجنۃ
ت: اور بیشک تم نے بڑا احسان جمع کیا او راچھے حج کا بدلہ بہشت ہے۔
م: خصکم الرحمٰن بالغفران وعمکم بالفضل والاحسان
ت: رحمان نے تمھاری خاص مغفرت کی اور تم سب پر فضل واحسان عام کیا۔
ش: یہ اخبار بہ طور رجاہے، بنظرِ احادیث کثیرہ عہ۳ کہ اسی معنیٰ میں وارد ہوئیں یا دعا مراد ہے اورتخصیص مغفرت
کے یہ معنی نہیں کہ خاص تمھاری مغفرت ہو، بلکہ یہ کہ تمھاری خاص مغفرت عہ۱ ہو ۔
عہ۳: اس بارے میں احادیث کثیرہ وارد ہیں، فضائل حج وعمرہ میں حضرت والد قدس سرہ الماجد نے جواہر البیان شریف
میں ستر سے زائد حدیثیں ذکر فرمائیں ان میں بہت احادیث اس معنیٰ کی مفید ملیں گی، سب سے اعلٰی یہ ہے کہ صحیحین میں آیا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حج کرے اور اس میں رفث وگناہ سے بچے ایسا پاک ہو کر پلٹے جیسا جس دن ماں کے پیٹ سے نکلا تھا۔۱؎ ۱۲ منہ
(۱؎ الترغیب والترھیب کتاب الحج الترغیب فی الحج مصطفی البابی مصر ۲ /۱۶۳)
(صحیح بخاری کتاب المناسک قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۶)
ت: تو حمد وشکر الہٰی کا التزام کرلو کہ یہ نعمت اس کی بہت بڑی ہے۔
م: وعظموا النبی بالسلام علیہ فھوا لمسک للختام
ت: اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم کرو ان پر سلام بھیج کر، کیونکہ یہ مشک ہے مہر خاتمہ کے لیے۔
م: واٰلہٖ خلاصۃ الانام مع صحبہ الافاضل الکرام
ت: اوران کی ال پر کہ خلاصہ مخلوقات ہیں مع صحابہ کے کہ بہت فضیلت وکرم والے ہیں۔
ف: اس قسم کے کلمات مقام مدح میں استعمال کرتے ہیں مثلا امام ابو حنیفہ سیدالاولیاء حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما بلکہ علماء وسادات عصر کو لکھتے ہیں، افضل المحققین، اکمل المدققین، خلاصہ دودمانِ مصطفوی، نقادہ خاندان مرتضوی اور ان الفاظ سے عموم واستغراق حقیقی مراد نہیں لیتے۔ ورنہ بایں معنیٰ امام ائمہ وسیدنا الاولیاء حضور اقدس سرور دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں وبس، اور اگر امت عہ۲ میں لیجئے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔ اسی طرح خلاصہ دودمانِ مصطفوی حضرت بتول زہرا ہیں۔
عہ۲: یہ اس لیے کہہ دیا کہ اولیاء کا اطلاق کبھی بمعنیٰ اعم آتا ہے یعنی ہر محبوب خدا، توانبیاء بلکہ ملائکہ کوبھی شامل، اس معنیٰ پر قرآن عظیم میں فرمایا:
الا ان اولیاء اﷲ لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون ۲؎
(سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ غم۔ ت)
(۲؎ القرآن ۱۰ /۶۲)
بایں معنیٰ سیدالاولیاء حضور سید المحبوبین ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، اور کبھی ماورائے انبیاء ومرسلین مراد لیتے ہیں ہزاروں بار سنا ہوگا انبیاء واولیاء اور عطف مقتضیٰ مغایرت ہے اس معنی پر سید الاولیاء حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں کہ باجماع اہل سنت تمام امت سے افضل واکمل
ہیں ا ور اس لفظ کا تیسرا اطلاق اخص اور ہے جس میں صحابہ بلکہ تابعین کو بھی شامل نہیں رکھتے کہ وہ اسمائے خاصہ سے ممتاز ہیں، جیسے کہتے ہیں اس مسئلہ پر صحابہ وتابعین واولیائے امت وعلمائے ملت کا اجماع ہے اس وقت یہ لفظ اصطلاحِ مشائخ وصوفیہ کاہم عناں ہوتا ہے، اس معنیٰ پر بیشک حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدالاولیاء ہیں
لا یخص منہ نفس الاان یقوم دلیل
(اس معنٰی کہ اولیاء میں آپ بلا تخصیص سب کے سردار ہیں بغیر دلیل کسی ولی کی تخصیص نہ ہوگی) تو فرمان واجب الاذعان
''قد می ھذ اعلٰی رقبۃ کل ولی اﷲ
(میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔ ت) میں تخصیص بلا مخصص کی اصلاً حاجت نہیں،
کما حققناہ فی المجیرالمعظم
(جیسا کہ ہم نے المجیر المعظم میں اس کی تخصیص کی ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
اور اوپر سے لیجئے تو حضرت مولا مشکل کشا ء اور نقادہ خاندان مرتضوی حسن عہ۱ مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
عہ۱: ہم نے اپنی کتاب
''مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین''
کے منہیات پر متعدد حدیثوں سے ثابت کیا کہ حضرت سبطِ اکبر حضرت سبطِ اصغر سے افضل ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہما، از انجملہ حدیث طبرانی کہ حضور والا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
''حسن کے لیے میری ہیبت وسرداری ہے اور حسین کے لیے میری جرأت و بخشش۔'' ۱؎
(۱؎ مجمع الزوائد باب فیما اشترک الحسن والحسین الخ دارالکتاب العربی بیروت ۹ /۱۸۵)
دوم : حدیث احمد وابوداؤد کہ فرمایا:'' حسن میرا ہے اور حسین علی کا ۔''۲؎
(۲؎ مسند احمد بن حنبل مروی از مقدام بن معدیکرب دارالفکر بیروت ۴ /۱۳۲)
سوم حدیث ابو یعلٰی کہ فرمایا:''حسن تمام جوانانِ اہل جنت کے سردار ہیں۔''۳؎
(۳؎ مجمع الزوائد باب ماجاء فی الحسن بن علی دارالکتاب العربی بیروت ۹ /۱۷۸)
وھذا حدیث حسن،
نص صریح فما قلنا
(یہ حدیث ہمارے دعوٰی پر صریح نص ہے۔ ت) فقیر بدلیل احادیث یہی گمان کرتا تھا یہاں تک کہ تیسیر شرح جامع صغیر میں اس معنٰی کی تصریح پائی والحمد للہ ۲ ۱منہ غفرلہ۔
پس واضح ہوگیا کہ طور متعارف پر حضرات آل اطہار کو خلاصہ مخلوقات کہنا بہت صحیح ہے اور اس سے ان کی فضیلت انبیاء ومرسلین بلکہ خلفائے ثٰلثہ رضوان تعالٰی علیہم اجمعین پر لازم نہیں آتی کہ جو امور عقائد حقہ میں مستقر ہوچکے وہ خود ایضاح مراد کو بس ہیں۔
والحمد ﷲ اولا واٰخراً والصلوۃ والسلام کا ثراً وافراً علی الحبیب الجلیل باطنا وظاھرا واٰلہٖ وصحبہ سادۃ الوریٰ ماطلعت شمس وبدرسرٰی۔