حدیث ۱۰: عہ۱ جو امتی میرا قدرت رکھتاہو پھر میری زیارت نہ کرے اس کے لیے کوئی عذر نہیں ۱؎۔
عہ۱ :رواہ ابن النجار عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ۱۲ منہ (م)
اسے ابن نجار نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ تنزیہ الشریعۃ المرفوعہ بحوالہ تاریخ ابن نجار کتاب الحج فصل ثانی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۱۷۲)
حدیث ۱۱: عہ۲ جو مجھ پر سلام عرض کرتا ہے میں اسے جواب دیتا ہوں۲؎، السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔
عہ۲:رواہ الامام احمد وابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ باسناد صحیح قالہ المناوی ۱۲ منہ (م)
اسے امام احمد اور ابوداؤد نے صحیح اسناد کے ساتھ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ یہ مناوی نے کہا ۱۲ منہ (ت)
(۲؎ سنن ابوداؤد کتاب المناسک باب زیارۃ القبور آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۷۹)
حدیث ۱۲: عہ۳ جو مجھ پر میری قبر کے پاس سلام عرض کرے اللہ تعالیٰ اس پر ایک فرشتہ مقرر فرمائے عہ۴ کہ اس کا سلام مجھے پہنچائے اور اس کے دنیا وآخرت کے کاموں کی کفایت فرمائے اور روز قیامت میں اس کا شفیع یا گواہ ہوں۳؎۔
یہ حدیث ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے اسے جوہر النظم میں درج کیا گیا ہے، علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں اس کا ذکر کیاہے ۲ ۱ منہ (ت)
عہ۴:دربارشاہی کا ادب ہے کہ حاضرین کی عرض بھی عرض بیگی کے ذریعہ سے ہوتی ہے ورنہ حضور پر دلوں کے ارادے تک روشن ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
(۳؎ شعب الایمان باب فی المناسک حدیث ۴۱۵۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۴۸۹)
حدیث ۱۳: عہ۵ اللہ تعالیٰ نے دنیا میرے سامنے اٹھائی کہ وہ جو کچھ قیامت تک اس میں ہونے والا ہے سب کو ایسا دیکھ رہاہوں جیسا اپنی ہتھیلی کو۔۴
عہ۵:رواہ الطبرانی عن ابن عمر الفاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ۲ ۱منہ (م)
اسے طبرانی نے حضرت ابن عمرالفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
(۴؎ کنز العمال بحوالہ نعیم بن حماد فی الفتن حدیث ۳۱۸۱۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۳۷۸)
(کنز العمال بحوالہ طب وحل عن ابن عمر حدیث ۱۳۹۷۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۲۰)
حدیث ۱۴: عہ۱ میرا علم میری وفات کے بعد ایساہی ہے جیسا میری زندگی میں۔''۱؎
عہ۱: اخرجہ الاصبھانی وابن عدی فی الکامل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ (م)
اسے اصبہانی اور ابن عدی نے کامل میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ۲ ۱منہ (ت)
(۱؎ جذب القلوب باب چہاردہم درزیارت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نولکشور لکھنؤ ص۱۹۹)
حدیث ۱۵: عہ۲ میری حیات وممات دونوں تمھارے لیے بہتر ہیں، تمھارے اعمال میرے حضور پیش کئے جاتے ہیں میں نیکیوں پر شکرکرتا ہوں اور برائیوں پر تمھارے لیے استغفار فرماتا ہوں ۲؎۔
عہ۲:رواہ الحارث فی مسندہ وابن سعد فی طبقات والقاضی اسمٰعیل بسند صحیح عن بکر بن عبد اﷲ المزنی التابعی الثقۃ مرسلا والبزار مثلہ باسناد صحیح عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
حارث نے اپنی مسند میں اور ابن سعد نے اپنی طبقات میں اور قاضی اسمعیل نے بسندصحیح بکر بن عبداللہ المزنی التابعی الثقۃ سے مرسلا اور ایسے ہی صحیح اسناد کے ساتھ بزار نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۲؎ کنز العمال بحوالہ ابن سعد عن بکر بن عبداللہ المزنی حدیث ۳۱۹۰۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۴۰۷)
حدیث ۱۶: عہ۳ بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر پیغمبروں کا جسم کھانا حرام کیا ہے تو اللہ کا نبی زندہ ہے اور روزی دیا جاتا ہے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۱؎۔
اخرجہ الائمۃ احمد وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ و الحاکم والدارقطنی وابن خزیمۃ وابن حبان وابو نعیم وغیرہم عن اوس بن اوس رضی اﷲ تعالٰی عنہ وصححہ ابنا خزیمۃ وحبان و الدارقطنی وحسنہ عبدالغنی والمنذری وقال ابن دحیہ انہ صحیح محفوظ بنقل العدل عن العدل اھ واخرجہ الطبرانی والبھیقی عن ابی ھریرۃ وابن عدی عن انس ومع زیادۃ فبنی اﷲ حی یرزق ۴؎ رواہ ابن ماجۃ بسندصحیح عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ۱۲ منہ (م)
اس کو ائمہ کرام ابوداؤد، ابن ماجہ ، حاکم، دارقطنی، ابن خزیمہ، ابن حبان، وابو نعیم وغیرہم نے اوس بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تخریج کیا ہے اور اس کو ابن خزیمہ،ابن حبان اور دارقطنی نے صحیح کہا ہے اور عبدالغنی او رمنذری نے اس کو حسن کہا ہے اورابن دحیہ نے کہاکہ یہ صحیح محفوظ ہے اور ا س کے تمام راوی عادل ہیں، اور طبرانی اور بیہقی نے ابوھریرہ سے اور ابن عدی نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے اس اضافہ ''تو اللہ کا نبی زندہ ہے روزی دیا جاتا ہے'' کوابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ ا بودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے روایت کیا ہے ۲ ۱منہ (ت)
حدیث ۱۷: عہ۱میری اس مسجد میں نماز او ر مسجدوں کی ہزار نماز سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے ۲؎۔
عہ۱: رواہ احمد والستۃ الا اباداؤد عن ابی ھریرۃ واحمد ومسلم والنسائی و ابن ماجۃ عن ابن عمر ومسلم عن ام المومنین میمونۃ واحمد عن جبیربن مطعم وعن وسعد وعن الارقم بن ابی الارقم وکا بن ماجۃ عن جابر بن عبداﷲ وکابن حبان عن عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین ۲ ۱منہ (م)
اس حدیث کوا مام احمد اور صحاح ستہ کے ائمہ نے ماسوائے ابوداؤد کے سب نے حضرت ابوھریرہ سے روایت کیاہے، اور امام احمد ، مسلم، نسائی اور ابن ماجہ نے ابن عمر سے اور مسلم نے ام المومنین حضرت میمونہ سے اور احمد نے جبیرین مطعم اور سعد اور ارقم بن ابی الارقم سے اور ابن ماجہ کی طرح جابر بن عبداللہ سے اور ابن حبان کی طرح عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین سے روایت کیا ۲ ۱منہ (ت)
(۲؎ صحیح مسلم باب فضل الصلوٰۃ بمسجد ی مکہ والمدینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۶)
حدیث ۱۸: عہ۲جو حرمین میں سے کسی حرم میں مرے روز قیامت بے خوف اٹھے۔۳؎
عہ۲: مروی عن انس بن مالک عند البیھقی و عن بکر بن عبداﷲ وعن حاطب وعن امیرالمومنین عمر وعن غیرھم رضی اﷲ تعالٰی عنھم تتمۃ للحدیث الاول والرابع والخامس والسابع وقد مرتخاریجھا ۱۲ منہ (م)
یہ بیہقی کے ہاں انس بن مالک اوربکر بن عبداللہ، حاطب اور امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہم سے مروی ہے یہ پہلی، چوتھی، پانچویں ا ور ساتویں حدیث کا تتمہ ہے۔ اس کی تخاریج گزر چکیں ۱۲ منہ (ت)
(۳؎ شعب الایمان باب فی المناسک حدیث ۴۱۵۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۴۹۰)