ت: اور زیارت کرنے والا مستحق شفاعت ہے ا س حدیث کی رو سے جسے ثقہ جماعت نے روایت کیا۔
ش: حدیث ۱: حدیث (عہ۱)صحیح میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔۱؎
(۱؎ سنن الدار قطنی کتا ب الحج باب المواقیت نشر السنۃ ملتان ۲ /۲۷۸)
عہ۱: رواہ ابن خزیمۃ فی صحیحیہ وابن ابی الدنیا والطبرانی فی المحاملی والبزار والعقیلی و ابن عدی والدارقطنی والبیھقی وابوالشیخ وابن عساکر وابوطاھر السلفی وعبدالحق فی الاحکامین والذھبی وابن الجوزی کلھم عن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما وصححہ عبدالحق وحسنہ الذھبی اقول بعد الحسن فلا شک فی صحتہ لکثرۃ الطرق ففی لباب عن بکر بن عبداﷲ رواہ ابو الحسن یحیٰ بن الحسن فی اخبار المدینۃ وعن الفاروق وعن ابن عباس وعن انس بن مالک وعن ابی ھریرۃ رحمہم اﷲ تعالٰی عنہم کماسیأتی ۱۲ منہ
اسے ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں اور ابن ابی الدنیا ، طبرانی، محاملی، بزار، عقیلی، ابن عدی، ابوطاہر سلفی، اور عبدالحق نے احکامین میں اور ذہبی اور ابن جوزی سب نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ، اور عبدالحق نے اسے صحیح کہا اور ذہبی نے اس کی تحسین کی اقول تحسین کے بعدا س کی صحت میں کثرت طرق کی بنا پر شک نہ رہا اس باب میں بکر بن عبداللہ سے روایت ہے اسے ابوالحسن یحییٰ بن الحسن نے اخبار مدینہ میں ذکر کیا اور عمر فاروق سے ابن عباس سے انس بن مالک اور ابو ھریرہ رحم اللہ تعالیٰ عنہم سے روایات مروی ہیں جیسا کہ آگے آرہا ہے ۲ ۱ منہ (ت)
حدیث ۲: عہ۲ جو میری زیارت کو آیا کہ اسے سوا زیارت کے کچھ کام نہ تھا مجھ پر حق ہو گیا کہ روز قیامت اس کاشفیع ہوں۔ ۲؎
(۲؎ معجم الکبیر مروی از عبداللہ بن عمر حدیث ۱۳۱۴۹ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۲ /۲۹۱)
(کنز العمال حدیث ۳۴۹۲۸ مؤسسۃ رسالہ بیروت ۱۲ /۲۵۶)
عہ۲: یہ حدیث بھی صحیح ہے جس کی تخریج شروع فصل کے حواشی میں گزری۔
عجیب لطیفہ: امام اجل خاتمۃ الحفاظ والمحدثین امام زین الدین عراقی استاذ امام جبل الحفظ، اسناد المحدثین امام ابن حجر عسقلانی رحمہما اللہ تعالیٰ زیارت مزار پُر انوار حضرت سید ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جاتے تھے بعض حنبلی حضرت کے ہمراہ رکاب تھے حنبلی نے باتباع ابن تیمیہ کہ مدعی حنبلیت تھا یوں کہا کہ میں نے مسجد خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام میں نماز پڑھنے کی نیت کی امام نے فرمایا میں نے زیارت قبر سیدنا خلیل اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نیت کی، پھر حنبلی سے فرمایا تم نے رسول اللہ صلی اللہ تعلیٰ علیہ وسلم کی مخالفت کی کہ حضور نے مساجد ثلاثہ کے سواء چوتھی مسجد میں نمازپڑھنے کے لیے سفر سے ممانعت کی اور میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اتباع کیا کہ حضور نے فرمایا: قبور کی زیارت کرو۔ کیا اس کے ساتھ کہیں یہ بھی فرمادیا ہے کہ قبور انبیاء کی زیارت نہ کرو، حنبلی کو سوا حیرت کے کچھ بن نہ آیا ۲؎ ۔
نقلہ العلامۃ القسطلانی فی المواھب عن الشیخ ولی الدین عراقی عن ابیہ الامام زین الدین العراقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم اجمعین۔ (م)
اسے علامہ قسطلانی نے مواہب میں شیخ ولی الدین عراقی سے (انھوں نے اپنے والد امام زین الدین عراقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین سے) نقل فرمایا۔ (ت)
دیکھئے خدا کی شان جس حدیث سے یہ لوگ زعم میں مزارات کی طرف سفرکی ممانعت نکالتے تھے خدا تعالٰی نے اسی حدیث سے ان پر الزام قائم فرمایا وللہ الحجۃ السامیۃ ۱۲ منہ
حدیث ۳: عہ۱جو مدینہ میں بہ نیت ثواب میری زیارت کرنے آئے میں اس کا شفیع وگواہ ہوں۔۱؎
(۱؎ شعب الایمان باب المناسک حدیث ۴۱۵۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۴۵۷)
عہ۱ : رواہ ابن ابی الدنیا والبیھقی وابو الفرج ابن الجوزی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۲ ۱منہ (م)
اسے ابن ابی الدنیا، بیہقی اور ابو الفرج ابن جوزی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
حدیث ۴: عہ۲ جو میرے انتقال کے بعد میری زیارت کرے گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی اور میں روز قیامت اپنے زائر کا گواہ یا شفیع ہوں گا۔ ۱؎
عہ۲ : رواہ العقیلی وابن عساکر عن ابن عباس والیعقوبی فی جزئہ الحدیثی عن ابی ھریرۃ، و ابن النجار فی الدرۃ الـثمینۃ عن انس بن مالک وصدرالحدیث مروی عن ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، رواہ سعید بن منصور والمحاملی والطبرانی وابویعلٰی وابن عدی والدار قطنی والبیھقی وابن عساکر وابن الجوزی وابن النجار وعن حاطب رواہ الدارقطنی والمحاملی والبیہقی وابن عساکر و عن علی کر م اﷲ وجہہ رواہ یحیٰ بن جعفر الحسینی فی اخبار المدینۃ، واوردہ ابو سعیدفی شرف المصطفی ۱۲ منہ (م)
عقیلی اور ابن عساکر نے ابن عباس سے ، اور یعقوبی نے جزء الحدیثی میں ابوھریرہ سے اور ابن النجار نے الدرۃ الثمینہ میں انس بن مالک سے روایت کیا ہے اور صدر حدیث ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے۔ اسے سعید بن منصور، محاملی، طبرانی، ابویعلٰی،ابن عدی، دارقطنی، بیہقی، ابن عساکر، ابن نجار نے روایت کیا ، اور حاطب سے مروی ہے، اسے دارقطنی، محاملی، بیہقی اور ابن عساکر نے روایت کیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے اسے یحییٰ بن جعفر الحسینی نے اخبار المدینہ میں روایت کیا، اور ابو سعید نے اسے شرف المصطفی میں بیان کیا ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ کتاب الضعفاء الکبیر ترجمہ ۱۵۱۳ فضالۃ بن سعید دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۴۵۷)
حدیث ۵:عہ۱ جو میری قبر کی، یا فرمایا میری زیارت کرے میں اس کا شافع و شا ہد ہوں ۲؎۔ غرض یہ مضمون بہت حدیثوں میں وارد ۔
عہ۱ : رواہ ابوداؤد الطیاسی والبیھقی وابونعیم وابن عساکر عن امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ (م)
حدیث ۶: عہ۲ جو مکہ جاکر حج کرے پھر میرے قصد سے میری مسجد حاضر ہوا اس کے لیے دو حج مبرور لکھے جائیں۳؎ ۔ اور فرماتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم : حج مبرور عہ۳ کی جزا سوا جنت کے کچھ نہیں ۴؎۔
عہ۲:مرفی صدر الفصل ۱۲ منہ (م)
فصل کے شروع میں گزرا ۱۲ منہ (ت)
(۳؎ جذب القلوب باب چہارم درفضائل زیارۃ سید المر سلین نولکشور لکھنؤ ص۱۹۶)
عہ۳:رواہ مالک واحمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ والاصبہانی والبیہقی عن ابی ھریرۃ وا حمد عن عامر بن ربیعۃ وعن جابر بن عبداﷲ والطبرانی فی المعجم الکبیر عن ابن عباس واحمد والترمذی والنسائی وابن خزیمۃ وابن حبان فی صحیحھما عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنھم، قال الترمذی حسن صحیح، قلت وقد روی من غیر وجہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اسے امام مالک، احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، اصبہانی اور بیہقی نے حضرت ابوھریرہ سے اور احمد نے عامر بن ربیعہ سے اور جابر بن عبداللہ سے، اور طبرانی نے معجم الکبیر میں ابن عباس سے، اور احمد، ترمذی، نسائی، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا، میں کہتا ہوں یہ متعدد وجوہ سے مروی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حدیث ۷: عہ۱ جو بالقصد میری زیارت کوحاضر ہو روز قیامت میرے سایہ دامان میں ہو۔۱؎
عہ۱ : سبق ذکرہ فی صدر الفصل ۱۲ منہ (م)
فصل کے شروع میں پیچھے اس کا ذکر ہوچکا ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ شعب الایمان حدیث ۴۱۵۷ باب المناسک دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۴۹۰)
حدیث ۸: عہ۲ جو حجۃ الاسلام بجالائے اور میری قبر کی زیارت سے مشرف ہو اور ایک جہاد کرے اور بیت المقدس میں نماز پڑھے اللہ تعالیٰ اس سے فرائض کا حساب نہ لے۔۲؎
عہ۲:رواہ ا بوالفتح الازدی بطریق سفیان الثوری عن منصور عن ابراھیم عن علقمۃ عن ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ (م)
اسے ابوالفتح ازدی نے بطریق سفیان ثوری منصور سے ابراہیم سے علقمہ سے ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
(۲؎ تنزیہ الشریعۃ المرفوعہ بحوالہ (فت) کتاب الحج فصل ثالث ۲ /۱۷۵)
حدیث ۹: عہ۳ جس نے حج کیا اور میری زیارت کو نہ آیا اس نے مجھ پر جفا کی۔۳؎
عہ۳ :رواہ ابن حبان والدارقطنی وابن عدی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما وفی اللباب عن سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ ۱۲ منہ (م)
اسے ابن حبان، دارقطنی، ابن عدی نے ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت کیا ہے اور اس باب میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے ۱۲ منہ (ت)
(۳؎ الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ نعمان بن شبل دارالفکر بیروت ۷ /۲۴۸۰)