Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
191 - 198
م: وانما ذی جملۃ لیسھلا    لمن اتی لحفظہ مؤملا
ت: اوریہ تو چند باتیں تاکہ آسانی ہو اس کے لیے جو اسے یاد کرنے کی امید میں آئے۔ واللہ تعالٰی اعلم
م: الزّیارۃ

ت: زیارت سراپا طہارت سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا بیان
م: واقصداذا حججت للزیارۃ               لقبر طہ فلک البشارۃ
ت: اور جب حج کر چکے تو زیارت قبر طٰہٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا قصد کرکہ تیرے لیے خوشخبری ہے۔
ف: علماء مختلف ہیں کہ پہلے حج کرے یا زیارت، لباب میں ہے: حج نقل میں مختار ہے، اور فرض  ہو تو پہلے حج ،مگر مدینہ طیبہ راہ میں آئے تو تقدیم زیارت لازم ۱؎انتہی'' یعنی بے زیارت گزر جانا گستاخی، اور فقیر کہ علامہ سبکی کا یہ ارشاد بہت بھایا پہلے حج کرے تاکہ پاک کی زیارت پاک ہو کر ملے ؎
پاک شوا اول وپس دیدہ براں پاک انداز
 (پہلے پا ک ہو اور پھر اس پاک ہستی پر نظر ڈال)
(۱؎ لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری باب زیارۃ سیدالمرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص۳۵۔ ۳۳۴)
ف: جناب مصنف کے کلام میں صاف اشارہ ہے کہ سفر مدینہ طیبہ خاص بقصد زیارت شریفہ ہو اور بیشک یہ امر شرعاً محمود اور زیارت اقدس اعظم  مقصود اور حدیث میں لفظ (عہ۱)لا تعملہ (ف) الا زیارتی۲؎موجود یعنی اسے کوئی کام نہ ہو میری زیارت کے سوا۔ امام ابن الہمام فرماتے ہیں میرے نزدیک افضل یہ ہے کہ سفر خاص بقصد زیارت والاکرے یہاں تک کہ اس کے ساتھ مسجد شریف کا بھی ارادہ نہ ہو کہ اس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم زیادہ ہے جب حاضر ہو گا حاضری مسجد خود ہوجا ئے گی یاا س کی نیت دوسرے سفر پر رکھے۔
 (۲؂معجم کبیر،مروی از عبداللہ ابن عمرحدیث ۱۳۱۴۹مکتبہ فیصیلہ بیروت۱۲ /۲۹۱)

(کنز العمال حدیث ۳۴۹۲۸موسسۃ الرسالہ بیروت۱۲ /۲۵۶)
ف: یہ لفظ معجم میں یوں ہے: لا یعملہ حاجۃ الازیارتی الخ۔ اور کنز العمال میں یوں ہے: لا یعمدہ حاجۃ الا زیارتی الخ۔ نذیر احمد سعیدی
عہ۱:  فائدہ جلیلہ : یہ حدیث صحیح ہے
رواہ الطبرانی الکبیر والدارقطنی فی الامالی وابوبکر المقری فی المعجم والحافظ السلفی وابن عساکر وا بونعیم و الحافظ ابو علی وسعید بن السکن البغدادی فی کتاب السنن الصحاح عن عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما
اس کو طبرانی نے کبیر اور دارقطنی نے امالی میں ، ابوبکر مقری نے معجم میں، حافظ سلفی، ابن عساکر،ا بو نعیم، حافظ ابو علی اور سعید بن سکن بغدادی نے سنن اور صحاح میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ (ت)

امام ابن سکن اشارہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی صحت پر ائمہ حدیث کا اجماع ہے۔

دوسری حدیث میں ہے:
زارنی متعمدا ۳؎۔ رواہ العقیلی والبھیقی و ابن عساکر۔
بالقصد میری زیارت کرے، اس کو عقیلی، بیہقی ا ور ابن عساکر نے روایت کیا۔ ت)
 (۳؎ شعب الایمان،حدیث ۴۱۵۲باب المناسک دارالکتاب العلمیۃ بیروت۳ /۴۸۸)
تیسری حدیث میں ہے:
زارنی بالمدینۃ محتسبا ۴؎۔ اخرجہ ابن ابی الدنیا والبیھقی وابن الجوزی عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ثواب کی نیت سے میری زیارت کے لیے مدینے میں حاضر ہو (اس کی ابن ابی الدنیا، بہیقی اور ابن جوزی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تخریج کی۔ ت)
 (۴؎ شعب الایمان،حدیث ۴۱۵۷باب المناسک،دارالکتاب العلمیۃ بیروت۳ /۴۹۰)
چوتھی حدیث میں ہے:
قصدنی فی مسجدی ۱؎۔ اوردہ فی جذب القلوب۔
میرا قصد کرکے میری مسجد میں آئے (اسکو جذب القلوب میں ذکر کیا گیا ہے۔ ت)
 (۱؎ جذب القلوب    باب ہارم دہم    درفضائل زیارۃ سید المرسلین     مطبوعہ نولکشور لکھنؤ    ص۱۹۶)
ش: علماء فرماتے ہیں زیارت نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اعظم قربات وافضل طاعات سے ہے۔ بہت برآرندہ مقاصد وحاجات، قریب بدرجہ موکدہ واجبات، بلکہ بعض نے وجوبعه۱کی تصریح فرمائی ۔
عہ۱: یعنی الوجوب المصطلح عندالحنفیۃ لاکما تقول القدماء الظاھریۃ ان الزیارۃ الکریمۃ واجبۃ ولایفرقون بین الواجب والفرض اما احداثھم الھنود فقد اٰمنوا بابن تیمیۃ وتفوھو بمالا تعسطہ الدیمۃ الدومیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ ۱۲ منہ (م)
یعنی احناف کی اصطلاح کا وجوب قدماء ظاہری مذہب والوں کا وجوب مراد نہیں کہ زیارت کریمہ واجب بمعنٰی فرض ہو کیونکہ وہ فرض اور واجب میں فرق نہیں کرتے۔ لیکن ہندوستانی نئے ظاہری لو گ تو ابن تیمیہ پر ایمان رکھتے ہوئے وہ بکواس کرتے ہیں جن  کو چاٹنے والی دیمک بھی نہ چاٹ سکے۔ لا حول ولا قوۃ الاباﷲ ۲ ۱منہ )(ت)
فقیر کہتا ہے دلیل اسی کو مقتضی،
وھو الذی نودّ ان نقول بہ
(ہم یہی کہنا چاہتے ہیں۔ ت) اسی طرح حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود عُمر میں ایک بار تو بالاجماع فرض قطعی ہے اور امام شافعی ہر نماز میں فرض اور ہر بار کہ ذکر شریف آئے علماء کو وجوب واستحباب میں اختلاف ، وامام طحطاوی کا مذہب ہر مرتبہ وجوب ہے ذاکرو سامع پر،باقلانی وحلبی وصاحب بحرالرائق وتنویرا لابصار وغیرہم اکابر علماء نے اسی کو صحیح و راجح ومختار ومعتمد فرمایا اور دلیل اسی کو مقتضی
وھوالذی ندب اللّٰہ بہ
(یہی اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے۔ ت) البتہ درصورت اتحاد مجلس دفعا للحرج تداخل مسلم عہ۲۔ واللہ اعلم
عہ۲: المعتمد عندنا الوجوب والتد اخل افادہ فی المرقاۃ ۲ ۱منہ (م)
ہمارے نزدیک قابل اعتماد و جوب اور تداخل ہے اس کا افادہ مرقات میں ہے ۲ ۱منہ (ت)
اسے ابوداؤد طیاسی، بیہقی،ابو نعیم اورابن عساکر نے امیر المومنیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
 (۲؎ مسند ابوداؤد الطیاسی    حدیث من زار قبری            دارالمعرفۃ بیروت    ص۱۲ و ۱۳)
Flag Counter