Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
190 - 198
م: الفدیۃ

ت: جرمانہ کا بیان
م: مایفسد الحج ففیہ بُدنۃ    وفی سواہ ذبح شاۃ حُسَنۃ
ت: حج فاسد ہوجاتا ہے جماع سے بشرائط مذکورہ، اور ہم نے حنفیہ کا اختلاف بہ تفصیل بیان کردیا، بدنہ ان کے یہاں صرف اونٹ کو کہتے ہیں ہمارے عہ۲ یہاں گائے کو بھی شامل، عمدہ بکری یہ کہ ان عیبوں سے پاک ہو جو اُضحیہ میں ناجائز ہیں اور فقہ میں بہ تفصیل مذکور۔
 ( عہ۲ :تو جہاں بد نہ لازم آئے گاان کے نزدیک خاص اونٹ واجب ہوگا ہمارے نزدیک گائے بھی کفایت کر جائے گی کما نص علیہ فی الفتح ( جیسا کہ فتح القدیر میں اس پر وضاحت کی گئی ہے۔ ت) ۱۲ منہ۔)
ف: یہ دونوں قاعدے کہ جناب مصنف نے ذکر کیے ہمارے مذہب کے مطابق نہیں جماع قبل الوقوف سے ہمارے نزدیک حج فاسد اور بدنہ لازم نہیں اور بعد الوقوف قبل الحلق والطواف سے بدنہ لازم۔ حج فاسد نہیں۔
م: فی کل شعرۃ من الطعام    مُد  ویفدی الغیر بالصیّام
ت: ہر بال میں اناج سے چہارم  (عہ۱ )صاع ہے اور ماورا کا جرمانہ روزے۔
عہ۱ :مُدشافعیہ وحنفیہ دونوں کے نزدیک چہارم صاع ہے مگرصاع میں اختلاف ہے۔ ہم ۸ رطل کا کہتے ہیں تو مد ۲ رطل ہوا وہ ۵ – ۱/۳ رطل تو ۱ – ۱/۲  ہوا،اور صاع عند التحقیق دو سو ستر تولے کا ہے۔ تو ہمارے حساب پر بریلی کے سیر سے کہ سو روپیہ بھر کا ہے ، ایک صاع آدھ پاؤ کم تین سیر سے ۵ ماشے ۵ رتی زیادہ، اور نیم صاع کہ وہ گندم سے ایک آدمی کے فطر کا صدقہ اور ایک روزہ کا فدیہ اور کفارہ میں ایک مسکین کا حصہ یعنی ایک سیر سات چھٹانک دو ماشے ساڑھے چھ رتی (یہاں عبارت میں کچھ اختصار کیاگیا ہے ۱۲ شرف قادری) رامپور کے سیر سے کہ ۹۶ روپے بھرکا ہے (یعنی پورے نوے تولے کا (فتاویٰ رضویہ) حساب بہت سیدھا ہے پورے تین سیر کا صاع ہوا دہلی کے سیر سے کہ ۸۰ روپے بھر کا ہے (یعنی ۷۵ تولے ہے ۱۲ فتاویٰ رضویہ) صاع ۳ – ۵/۳ ہوا یعنی ساڑھے تین سیر سے دسواں حصہ سیر کا زائد اور نیم صاع یعنی دو سیر سے پانچواں حصہ سیر کا کم، یہ حساب یا د رکھنا چاہئے بحمد اللہ تعالٰی کمال تحقیق ہے۔ واللہ سبحانہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ
ف: بال وغیرہ کے جرمانہ میں ہمارے یہاں بہت تفصیل ہے جس کا بیان موجب تطویل ہے وقت حاجت علماء سے دریافت کرلیں۔
م: وما عدا ھٰذی التی قد ذکرت    احکامھا فیما سواھا سطرت
ت: ان مذکورات کے سوا اور چیزوں کے احکام اس رسالہ کے ماورا میں مسطور ہیں۔
اقول علاوہ بریں وہ تمام احادیث جن میں زیارت قبر شریف کی ترغیب وتاکید اور اس کے ترک پر وعید و تہدید ہمارے مدعا کی گواہ وشہید، طرفہ بات یہ ہے کہ شارع صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جس امر کی طرف تاکید بلائیں اور اس کے ترک پر وعید فرمائیں اس کا قصد ناجائز قرار پائے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انماا لاعمال بالنیات ۲ ؎۔
(تمام اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔ ت)
 (۲؎ صحیح بخاری        باب کیف کان بدئ الوحی        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲)
یہ عجب کار ثواب ہے جس کی نیت موجب عذاب ہے
لاحول ولاقوۃ الا باﷲ۔
رہی حدیث ''لا تشد الرحال'' ائمہ دین نے تصریح فرمائی ہے کہ وہاں ان تینوں مسجدوں کے سوا اور مسجد کے لیے بالقصد سفر کرنے سے ممانعت ہے ورنہ زنہار الفاظ حدیث طلب علم واصلاح مسلمین وجہاد واعداءو نشر دین وتجارت حلال وملاقات صالحین وغیرہا مقاصد کے لیے سفر سے مانع نہیں۔ اور قاطع نزاع یہ ہے کہ بعینہٖ یہی حدیث بروایت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مسند میں بسند حسن یوں روایت کی:
لا ینبغی للمطی ان تشد رحالہ الٰی مسجد تبتغی فیہ الصلٰوۃ غیر المسجد الحرام والمسجد الاقصیٰ ومسجدی ھذا ۳؎۔
ناقہ کو  سزا وار نہیں کہ اس کے کجاوے کسی مسجد کی طرف بغرض نماز کسے جائیں سوائے مسجد حرام ومسجد اقصٰی اور میری مسجد کے۔

تو خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد سے حضور کی مراد واضح ہوگئی والحمد للہ رب العٰلمین ۲ ۱منہ
 (۳؎ مسند احمد بن حنبل    مروی از ابو سعید خدری        دارالفکر بیروت    ۳ /۶۳)
م: ان زیارۃ النبی لا زبۃ    صلوا علیہ فالصلوٰ ۃ واجبۃ
ت: بے شک زیارت نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی لازم ہے درود بھیجو ان پرکہ درود فرض ہے،
Flag Counter