Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
189 - 198
م: بعض سُنن الحج

ت: حج کی بعض سنتیں
م: قد سنّ للمرء الطواف ان قدم    والحجر الاسود فیہ یستلم
ت: باہر سے آنے والے کو ایک طواف سنت ہے ، طواف میں سنگ اسود کا بوسہ لے
ش: یہ پہلا طواف ہے جو مفرد حاضرعہ ۱ ہوتے ہی کرتا ہے اور قارن عمرہ کے بعد ، اسے طواف قدوم کہتے ہیں گویا حاضری دربارا عظم کا مجرا۔
 (عہ ۱:مفرد، قارن، متمتع کے معنیٰ عنقریب تکملہ میں آتے ہیں ان شاء اللہ تعالیٰ۱۲ منہ)
ف:یہ طواف متمتع عہ ۲ کے لیے نہیں نہ اہل مکہ کو کہ وہ ہر وقت حاضر بارگاہ میں اورسنگ اسود کا بوسہ نہ اسی طواف بلکہ ہر طواف میں سنت ہے، طواف اسی سے شروع اور اسی پر ختم ہوتا ہے۔
 (عہ ۲: اس لیے کہ وہ آتے وقت عمرہ لایا اور عمرہ میں طواف قدوم نہیں۔ جب عمرہ کرلیا مکی ہوگیا اور مکی کو یہ طوا ف نہیں ۱۲ منہ)
م: والا ضطباع ثم رمل قداتّٰی        ورکعتان للطواف یافنٰی
ت: سنتوں کے شمار میں اضطباع پھر رمل آیا اور وہ رکعتیں طواف کی اے جوان!
ش: اضطباع یہ کہ چادر دہنے بغل کے نیچے سے نکال کر یہ آنچل بائیں شانے پر ڈالےلے جس میں دہنا کندھا کُھلا رہے۔ اور رمل یہ کہ طواف میں جلد جلد چھوٹے قدم رکھتا شانوں کو جنبش دیتا چلے۔

ف: یہ دونوں سنتیں خاص مردوں کے لیے ہیں وہ بھی صرف اس طواف میں جس کے بعد صفا مروہ میں سعی ہوتی ہے یعنی طواف عمرہ اور حج میں طواف قدوم کہ اکثر بخیال عہ ۳ زحمت وکمی فرصت اسی کے بعدسعی کرلتے ہیں، ہاں جس سے رہ گئی وہ طواف زیارت عہ۴ کے بعد کرے گا تو اس طواف میں رمل کرے مگر اضطباع ساقط ہوگیا۔
 (عہ ۳ : آگے آتاہے کہ مفرد کو طواف زیارت کے بعد کی افضل ہے پر اس دن بہت ہجوم ہوتا ہے اور کئی کام اس لیے طواف قدوم پرکرلیتے ہیں اور قارن کے لیے افضل  ہی یہ ہے ۱۲ منہ)

(عہ ۴ :جس نے طواف زیارت کے بعد بھی سعی نہ کی وہ طواف الوداع کے بعد کرلے کہ سعی کا کوئی وقت معین نہیں ہے اور اب اس طواف میں رمل بھی بجالائے۔
لا ن الرمل بعد طواف یعقبہ سعی افادہ العلامۃ الخیر الرمل قال ولم ارہ صریحا و ان علم فی اطلاقھم ۱؎ اھ ردالمحتار

اقول لا کلام فی جوازہ قد صرحوا  ان لاتوقیت و انما الکلافی انہ یومر بایقاع السعی بعد طواف الْصدور ولوند باولعل الوجہ فیہ ان یقع سعیہ متصلا بالطواف کما ھوا لمستحب لکن یعارضہ مستحب اٰخر وھوان لایکون بین طوافہ للصدر ونفرہ من مکہ حائل کما نصوا علیہ وقد اوجب ذالک الامام الشافعی ویوافقہ روایۃ عن ابی یوسف والحسن بن زیاد رحمھم اﷲ تعالٰی فتا کدالاستحباب خروجا عن الخلاف فافھم واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۱۲ منہ
کیونکہ رمل ایسے طواف کے بعد ہوتاہے جس کے بعد سعی ہو اس کا افادہ علامہ خیر الدین رملی نے کیا اور فرمایا اور میں نے صراحۃً یہ دیکھا کہ نہیں اگر چہ فقہاء کے اطلاقات سے معلوم ہوسکتا ہے اھ ردالمحتاراقول اس کے جوا ز میں کوئی کلام نہیں ہے جبکہ وہ تصریح کرچکے ہیں کہ اس میں وقت مقرر نہیں۔ اس میں ضرور کلام ہے کہ کیا طواف وداع کے بعد سعی کا استحباباً بھی حکم ہے۔ہوسکتا ہے کہ وجہ یہ ہو کہ طواف کے بعد متصل سعی ہوجائے تو مستحب ہے لیکن یہاں ایک دوسرا مستحب اڑے آرہاہے وہ یہ کہ طواف وداع اور کوچ کرنے میں کوئی چیز درمیان میں حائل نہ ہو جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے جبکہ امام شافعی اس کو واجب قرار دیتے ہیں اور اس کی موافقت ابو یوسف اور حسن بن زیاد کی روایت بھی کرتی ہے تو فوراً بعد میں روانہ ہونے کا استحباب واضح ہوگیا، ا س کو سمجھو، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۱۲ منہ (ت)
 (۱؂ ردالمحتارمطلب فی طواف الزیارۃمصطفٰے البابی مصر۲ /۱۹۸)
ف: اضطباع طواف میں ہوتا ہے اور رمل صرف اگلے تین پھیروں عہ ۱ میں، باقی چار میں اپنی چال، اور ہجوم کے سبب رمل میں اپنی یا اور کی ایذا ہوتو رک رہے۔ جب غول نکل جائے پھر رمل کرتاچلے۔
 (عہ۱:  یہاں تک کہ اگر اول پھیروں میں بھول گیا تو بھی ان چار میں اور اگر پہلے پھیرے میں یاد نہ رہا تو دو ہی میں کرے اور دو میں بھولا تو ایک ہی میں ۱۲ منہ )
ف: ہر طواف کے بعد دو رکعتیں ہمارے نزدیک سنت نہیں بلکہ واجب ہیں۔
م: و رکعتا الاحرام ثم الغسل    لہ وفی جھر الملبّی فضل
ت: او را حرام کی دورکعتیں پھر اس کے لیے نہانا اور لبیک کے بآواز کہنے میں فضیلت ہے۔

ش: یہ مسائل ہم اوپر لکھ چکے اور یہ بھی کہ عورت لبیک آہستہ کہے۔ غسل نماز احرام کلام مصنف میں ذکراً مؤخر ہے وقوعاً مقدم۔
م: وفی منی المبیت لیل عرفۃ    من سنۃ فافھم اخی بمعرفۃ
ت: اور منیٰ میں نویں رات شب باشی سنت ہے پس اے برادر! اسے پہچان کر سمجھ لے۔
م: والجمع بین اللیل والنھار    بعرفاتِ جاء فی الاٰثار
ت: اور عرفات میں شب وروز کا جمع کرنا حدیثوں میں آیا ہے۔
ش: یعنی نویں تاریخ جو وقت سے عرفات میں وقوف کرتے ہیں اسے دن میں ختم کریں بلکہ اتنا ٹھہریں کہ سورج وہیں ڈوبے اور ایک لطیف عہ ۱ حصہ رات کا آجائے۔ اس کے بعد مزدلفہ چلیں۔
 (عہ ۱: اس سے یہ مراد کہ آفتاب کا غروب یقینی ہوجائے اس کے بعد ہی فوراً کو چ کردیں کہ پھر توقف مکروہ ہے اور  ظاہر کہ بعد غروب ایک آن بھی گزریہ تو رات کاایک لطیف حصہ آگیا ۲ ۱منہ)
ف: وقوف فرض توا س قدر ہے کہ عرفہ کی دوپہرڈھلے سے دسویں شب کی صبح صادق تک عرفات میں ہونا پایا جائے اگر چہ ایک عہ۲  لمحہ ۔ پھر جو رات کو وقوف کرے اگر چہ مکروہ ہے اسے کچھ دیر لگانا ضرور نہیں اور جو دن کو بعدزوال وقوف کرے کہ  سنت یہی ہے اس پر ہمارے نزدیک امور مزکورہ یعنی غروب شمس تک ٹھہرنا اور جز وقلیل شب کا لےلینا  واجب ہیں مگر بعد غروب دیر نہ کرے کہ مکروہ ہے۔
 (عہ ۲: اگر چہ بلا قصد، اگر چہ سوتا ہوا، اگر چہ بیہوش، اگر چہ بالا کراہ، اگر چہ بحالت حدث حیض یا نفاس یا حنابت ،اگر چہ جانتا بھی نہ ہو کہ یہ مقام عرفات ہے فرض ہر طرح ادا ہوجائے گا ۱۲ منہ)
م: سن الوقوف جانب الصخرات    والمشعرعہ ۳ الحرام حین یاتی
ت: سنت ہے ٹھہرنا پتھروں کی طرف اور مشعر حرام میں جب آئے۔
 (عہ ۳: قلت فی ضبط اعرابہ شعرایوافقہ زنۃ وقافیۃً ؂
انصبہ مفعولا لفعل یاتی

او جُرَّہ، عطفاً علی الصخرات ۲ ۱ منہ غفرلہ۔
میں نے المشعر الحرام کے اعراب کو ضبط  کرنے میں شعر کہا ہے جو وزن اور قافیہ میں اس شعر کے موافق ہے:

اسے ''یأتی'' فعل کے مفعول ہونے کی بنا پر نصب دے یا ''الصخرات'' پر عطف ہونے کی بنا پر جر دے۔ ۱۲ منہ (ت)
ش: عرفات میں سب سے اونچا میدان سیاہ چٹانوں کے پاس جس میں قبلہ رو کھڑے ہو تو جبل الرحمۃ دہنے ہاتھ کو رہتا ہے۔ اسے حضو رپر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مکانِ وقوف گمان کیا جاتاہے بہت افضل ہے کہ کسی کی ایذا نہ ہو تو وہاں وقوف کرے۔

ف: یہ تو مستحب ہے اور مشعرالحرام کو مزدلفہ میں ایک خاص مقام کا نام ہے بالخصوص وہاں وقوف مسنون، ورنہ مزدلفہ کا وقوف ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ ہمارے نزدیک واجب ہے۔
م:اخذ الحصاریا صاح من مزدلفۃ    من سنۃ وغسلھا ان اردفہ
ت: مزدلفہ سے کنکریاں لینا اے رفیق میرے! سنت ہے اور ان کا دھولینا اگر اس کے بعد کرے۔

ش: دسویں کی صبح کو مزدلفہ سے منیٰ جاتے ہیں تو آج وہاں ایک جمرہ پر کنکریاں ماریں گے اس کے لیے مستحب ہے کہ سات عہ ۱ سنگریزے یہاں سے اٹھالے۔ا وردھونا تو ہرطرح مستحب ہے کہیں عہ۲ سے اٹھائے۔
 (عہ۱: اور وہ جو بعض لوگ باقی دنوں کی رمی جمرات ثلاثہ کو بھی سنگریزے یہیں سے لیتے ہیں مباح ہے نہ کہ کچھ مندوب نہ کچھ معیوب ۱۲ منہ)
 (عہ۲: اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سنگریزے ہر جگہ سے لینے جائز ہیں، ہاں جمرات کے پاس سے نہ اٹھائے کہ وہ پھینکی ہوئی کنکریاں ہوتی ہیں اور حدیث میں ہے: "جس کی قبول ہوتی ہیں فرشتے اٹھالے جاتے ہیں ورنہ تمھیں پہاڑ نظر آتھے"۱؂اس سے معلوم ہو اکہ جو پڑی رہ جاتی ہے ہو معاذاللہ مردود ہوتی ہیں توا نھیں اپنے حج میں کیوں استعمال کیجیو، غور کرو تویہ بھی ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا کھلا معجزہ ہے۔ اسلام میں حج ہوتے تیرہ سو برس کے قریب گزرے۔ ہرسال لاکھوں بندگان خدا ہوتے ہیں ایک روایت میں چھ لاکھ ایک روایت میں آٹھ لاکھ حضرت حسن بصری کے اثر میں پندرہ لاکھ ان سے کم ہوتے نہیں، تو فرشتے عدد پورا کرتے ہیں اور قاعدہ ہے کہ ایسی جگہ عدد زائد ماخوذ ہوتاہے کہ کم اس کا منافی نہیں۔ فقیر جس سال حاضر ہوا یعنی ۱۲۹۵ ھ حاجیوں کی مرد م شماری اٹھارہ لاکھ سنی گئی پھر ہر شخص ۴۹ یا ۷۰ کنکریاں مارتا ہے ۴۹ ہی رکھئے تو پندرہ لاکھ میں ضرب دینے سے سات کروڑ پینتیس لاکھ (۷۳۵۰۰۰۰۰) کنکریاں جمع ہوئیں، جمع کیجئے تو ہر سال پہاڑ بنتا ہے پھر جب دیکھئے تو جمرے خالی ہوتے  ہیں منیٰ میں کچھ گنتی کنکریاں نظر آتی ہیں، یہ خدا کی شان ہے اور حقیقت اسلام کی صریح برہان
والحمد اللہ تعالیٰ رب العٰلمین ۔ )
(۱؎ کنز العمال حدیث۱۲۱۴۱ ، ۵/۸۱ والترغیب وا لترھیب ،الترغیب  فی رمی الجمار الخ۲ /۲۰۸)
 (ف: یو نہی مسجد کی کنکریاں نہ لے کہ بے ادبی اور اسی کی چیز کا اپنے تصرف میں لانا ہے اسی طر ح ناپاک کنکری بھی نہ لینی چاہئے کہ ان پر خدا کا نام لیا جاتا ہے واللہ تعالیٰ اعلم ۱۲ منہ )
م: وفی منیٰ لاتترکن الاضحیۃ    کذاصلٰوۃ العید مع الحسن النیۃ
ت:اور منیٰ میں عید کی قربانی نہ چھوڑ، یو نہی عید کی نماز نیک نیت ہے۔

ف: ہمارے نزدیک نماز عید وقربانی دونوں مقیم مالدار پر واجب ہیں اور شافعیہ سنت کہتے ہیں، لہذا مصنفِ علام نے اپنے مذہب کے موافق انھیں سنن میں گنا، مگر یہاں واجب التنبیہ یہ بات ہے کہ ہمارے علماء ذخیرہ ومحیط وغیرہما میں تصریح فرماتے ہیں کہ منیٰ میں نماز عید اصلاً نہیں کہ وہاں لوگوں کو امور حج سے فرصت نہیں ہوتی۔ علامہ ابراہیم حلبی نے فرمایا: ہاں بالاتفاق نماز عید نہ پڑھے۔ علامہ علی قاری نے فرمایا: اس پر تمام علمائے امت کا اجماع ہے
کذا فی ردالمحتار ۱؂فافھم واﷲ تعالٰی اعلم
(جیسا کہ ردالمحتار میں ہے لہذا غور کیجئے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ ت)
 (۱؎ ردالمحتارکتاب الحج مطلب فی حکم صلٰوۃ العید والجمعۃ فی منٰی مصطفٰے البابی مصر۲ /۲۰۰)
وہی قربانی وہ مذہب راجح میں مقیم پرواجب ہے جیسے اہل مکہ ومنیٰ اگر چہ احرام میں ہوں، اور مسافر سے تو اس کا مطالبہ ہی نہیں۔
م: وسنۃ فی فعلھا الثواب    لیس علی تارکھا العقاب
ت : اور سنت کے کرنے میں ثواب ہے چھوڑنے میں عذاب نہیں۔
ف: مگر سنن موکدہ کے ترک میں سخت ملامت ہوگی، اور عیاذ باللہ شفاعت سے محرومی بھی وارد۔ بلکہ محققین فرماتے ہیں ان کے ترک میں تھوڑا ساگناہ عہ۱بھی ہے اگر چہ نہ ترک واجب کے برابر ۔ ا نہی وجوہ سے سنت کو مستحب سے امتیازہے ورنہ جتنی بات متن میں گزری مستحب کو بھی شامل۔
 (عہ۱: من اراد تحقیق ذٰلک فعلیہ بالبحرا لرائق وردالمحتار وغیرھما من الاسفار ۱۲ منہ (م)
جو اس کی  تحقیق چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ بحرالرائق و ردالمحتار وغیرہ کتب کو دیکھے ۲ ۱منہ (ت)
م: وانما یؤاخذ المرء علی     اھمال فرض قد اتّٰی مفصلا
ت:یوں ہی ہے کہ آدمی پر مواخذہ فرض چھوڑنے میں ہے جو بتفصیل وارد ہوا۔
ش: یعنی جس کے ثبوت میں کوئی جمال واشکا ل نہیں توصف عہ ۲کا شفہ ہے کہ فرض سب ایسے ہوتے ہیں اور بقرینہ سباق ظاہر کہ مواخذہ سے مراد عذاب ہے ورنہ ملامت کہ ترک سنن پر ہوگی خود گرفت وموخذا ہے۔
 (عہ۲: یمکن ان یراد بہ مااتی ای سبق بیانہ مفصلا فعلی ھذایکون اشارۃ الی فروض الحج المارۃٰ فی الواجبات علی مذھب المصنف لکن الذی یعطیہ سوق الکلام ان المقصود بیان حکم السنۃ والفرض مطلقا فلذا مطلقا فلذا فسرناہ بما فسرنا ۲ ۱منہ (م)
ممکن ہے اس سے مراد و ہ ہو جو مفصلا گزراہے اس بناء پر حج کے ان فرائض کی طرف اشارہ ہوگا جو مصنف کے مذہب کے مطابق واجبات میں گزرا لیکن سوق کلام جو مستفاد ہورہا ہے وہ  یہ ہے کہ یہاں مطلق سنت اور فرض سےکا حکم بیان کرنا مقصود ہے اسی لیے ہم نے مذکورہ تفسیر کی ہے ۲ ۱منہ (ت)
ف: شافعیہ واجب وفرض میں فرق نہیں کرتے۔ ہمارے نزدیک وہ دو چیزیں جدا جدا ہیں اور دونوں کے ترک پر استحقاق عذاب اگر چہ واجب میں کم فرض میں زیادہ۔ والعیاذباللہ۔
م: ذی جملۃ من السنن الشھیرۃ    اجل من شمس لدی الظھیرۃ
ت: یہ چند مشہور سنتیں ہیں، مہر نیمروز سے جلالت میں افزوں۔
ف: ان کے سواء آٹھویں تاریخ مکہ معظمہ سے منیٰ، نویں کو بعد طلوع شمس منیٰ سے عرفات جانا، وہاں نہانا، مزدلفہ میں رات بسر کرنا، دسویں کو وہاں سے قبل طلوع شمس منی کو جانا۔ وہاں ایام رمی جمار میں راتوں کو رہنا، مکہ معظمہ کو یہاں سے جاتے وادی محصب عہ۱ میں اترنا وغیر ذلک کہ یہ سب سننِ موکدہ ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
 (عہ۱: یہ وادی مکہ معظمہ کی آبادی سے ملی ہوئی ہے۔ مقبرہ مکہ مکرمہ یعنی جنت المعلی کے متصل دو کو چے ہیں ان کے مقابل منیٰ کو جاتے ہوئے بائیں ہاتھ پر بطن وادی سے اوپر کچھ پہاڑیاں ہیں ان کوہچیوں اور پہاڑیوں کے درمیان جتنی وادی رہی وہ وادی محصب ہے جب منیٰ سے رمی جمار کرکے مکہ معظمہ جائیں یہاں ٹھہرنا ضرور اور بلا عذر اس کا ترک بُرا، افضل طریقہ اس کا تکملہ میں آئے گا اور زیادہ نہ ہوسکے تو اسی قدر کا فی کہ سواری روک کر کچھ دیر دعاء کرلیں ۱۲ منہ)
Flag Counter