Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
188 - 198
حج کے فرض
ف: یہ فصل جنابِ مصنف نے نہ لکھی، ہمارے نزدیک رکن کے سوا اور بھی فرض ہیں اور واجبات الگ، لہذا اپنے طور پر بیان کرتے ہیں، حج میں دس فرض ہیں: (۱)احرام، (۲)وقوف، (۳)طواف کے چارعہ ۲ پھیرے، (۴)ان میں طواف کی نیت،   (۵) وقوف کا عرفات میں ہونا، (۶)اپنے وقت میں ہونا کہ زوال عہ ۳عرفہ سے فجر نحر تک ہے۔ (۷)طواف کا مسجد الحرام میں ہونا، (۸)اپنے وقت میں ہونا کہ فجر نحر سے آکر عمر تک ہے۔ (۹)فرضوں میں ترتیب کہ پہلے احرام عہ ۴ہو پھر وقوف پھر طواف، (۱۰) وقوف سے پہلے جماع عہ ۵ سے بچنا، ان دس (۱۰) میں سے ایک بھی رہ جائے تو حج نہ ہو والعیاذ باللہ۔
 (عہ۱:  یہ اس لیے کہ دیا کہ  وقوف عرفہ بھی فرض بلکہ رکن اعظم ہے پر وہ بے نیت بھی ادا ہوجاتا ہے توا س کی نیت شرط نہیں ہوسکتی ۲ ۱منہ)

(عہ ۲:ہر طواف میں سات پھیرے ہوتے ہیں یونہی اس طوافِ فرض میں بھی، مگر ان سے فرض فقط چار ہیں، انہی کے اعتبار سے اسے طواف فرض کہا جاتا ہے۔ باقی تین واجب ہیں نہ کیے تو دم دے گا، حج ہوگیا۔ اور چار سے کم کیے تو حج ہی نہ ہوا ۱۲ منہ)

(عہ ۳: نویں تاریخ دوپہر ڈھلے سے دسویں پو پٹھے تک اس بیچ میں وقوف کا وقت ہے۔ اگر زوال عرفہ سے پہلے وقوف کرکے حدود عرفات سے باہر ہوگیا اور وقت میں اعادہ نہ کیا یا پہلے نہ کیا تھا صبح نحر چمکنے کے بعد کیا تو حج نہ ہوگا ۲ ۱منہ)

(عہ۴ :  اس فرض کو تین فرض کہہ سکتے ہیں احرام کا وقوف سے پہلے ہونا ایک ، طواف پر تقدم دو، وقوف کاطواف سے پیشتر ہونا تین ۱۲ منہ)

(عہ ۵: جماع سے بچنا ہمیشہ حج میں واجب ہے جب تک مطلقاً طوافِ فرض سے فارغ نہ ہوجائے پر وقوف تک احتراز فرض ہے کہ ا س سے پہلے جماع موجب  فساد ہوتا ہے پھر فساد نہیں کما مر ۱۲ منہ)
واجبات الحج

حج کے واجب
م: الرمی للجماد والاحرام    کذا بمزدلفۃ المنام
ت: جمروں پر سنگریزے مارنا اور احرام، ایسا ہی مزدلفہ میں سونا۔

ف: ہمارے نزدیک احرام فرض ہے کما سَبَقَ (جیسا کہ پیچھے گزرا۔ ت) ہاں اس کامیقات عہ ۱ سے ہونا واجب ہے۔

(عہ ۱: لوگ تین قسم ہیں، اہل حرم جو مکہ معظمہ یا اس کے گرد ان مقاموں میں رہتے ہیں جہاں تک شکار وغیرہ حرام ہے۔ اہل حل جو حرم سے باہ رمواقیت کے اندر ہیں، اہل آفاق جو مواقیت سے بھی باہر ہیں آفاقیوں کے لےے حج و عمرہ دونوں کی میقات انھیں مواقیت کے جیسے ہندیوں کے لےے محاذات لمیلم، اہل حل کی میقات حل ہے یعنی جب حج یا عمرہ کو جائیں حرم میں پہنچنے سے پہلے احرام باندھ لیں اور اہل حرم کے لےے میقات حج حرم سے یعنی مسجد الحرام شریف خواہ اپنے گھر ہی سے، غرض حرم کی کسی جگہ سے احرام کریں اور عمرہ کے لےے حل یعنی حرم سے باہرجاکر عمرہ کا احرام باندھیں ۔)
ش: منیٰ ایک بستی ہے مکہ معظمہ سے عرفات کی طرف تین کوس، وہاں تین جگہ ستون بنے ہیں انھیں جمارد جمرات کہتے ہیں اور ہر ایک جمرہ۔ دسویں تاریخ سے ان پر کنکریاں مارتے ہیں اورت منیٰ سے تین کوس مزدلفہ ہے نویں شام کو عرفات سے پلٹ کر یہاں رات گزارتے ہیں دسویں کو منیٰ آتے ہیں۔ شافعیہ کے نزدیک رات کا بڑا حصہ یہاں بسر کرناواجب ہے، اسی لیے عہ ۲ جنابِ مصنف سونا فرمایاورنہ حقیقۃً سونے کا حکم کچھ نہیں۔
 (عہ ۲: دفع دخل مقدر)
(ف: مکی کے لےے احرام عمرہ میں افضل تنعیم ہے کہ مدینہ طیبہ کی طرف تین کوس پرہے۔ یونہی جب حجاج حج سے فارغ ہوکر مکہ میں چند روز ٹھہریں وہیں سے عمرہ لائیں کہ نزدیک بھی ہے اور افضل بھی واللہ تعالٰی اعلم ۲ ۱منہ ۔ 

ف: ہمارے نزدیک واجب صرف اس قدر ہے کہ مغرب وعشاء یہیں پڑھے صبح کو کچھ دیر وقوف کرے، باقی رات کورہنا واجب نہیں سنت ہے۔
م: ثم المبیت بمنیٰ للرمی    ثم الطواف للوداع ینوی
ت: پھر رات کو منیرمی جمارکے  لیے رہنا بھر طواف رخصت کی نیت کرے
ف: منی  میں دسویں، گیارھویں، بارھویں دن رمی جمار واجب ہے،شب باشی ہمارے نزدیک سنت ہے اور طواف وداع کہ رخصت کے لیے کرتے ہیں آفاتی یعنی باہروالے پر واجب ہے مکی تو دس دن کا ساکن ہے نہ کہ رخصت ہونے والا۔

ف: یہاں تک ہمارے مذہب کے پانچ واجب گزرے اور ان کے سوا اور بہت ہیں مثلاً صفا مروہ میں سعی اور اس کا ایک طواف کامل عہ ۱ کے بعد صفا سے شروع اور سات پھیرے اور ہر بار پوری مسافت قطع اور بشرط قدرت پیادہ ہونا، دن میں عہ  ۲وقوفِ عرفہ کرنے والے کو غروبِ شمس کے بعد تک اتنظار کرنا، ا س کا امام عہ ۳ کے ساتھ عرفات سے کوچ کرنا یعنی امام کے چلنے سے پہلے حدود عرفہ سے باہر نہ ہونا بشرطیکہ امام وقت عہ ۴ پرکوچ کرے اور ہمراہی میں حرج نہ ہو، جمرۃ العقبیٰ کی رمی کہ دہم کو ہے حلق سے پہلے ہونا، ہر دن کی رمی اسی دن ہوجانا، حلق یا تقصیر اور ان کا ایام نحر میں خاص زمین میں ہونا، طواف فرض کا بارھویں عہ ۵ تک ہوجانا حجر اسود سے شروع ہونا، ساتھ پھیرے حطیم سے باہر باوضو ستر عورت کے ساتھ، بشرط قدرت پیادہ، اپنی دہنی طر ف سے آغاز ہونا یعنی کعبہ معظمہ بائیں ہاتھ کو رکھنا، قارن عہ ۶ ومتمتع کا شکر کی قربانی حلق سے پہلے رمی کے بعد ایام نحر میں کرنا وغیر ذالک۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (عہ ۱:طواف کامل یہ ہے کہ شرائط صحت کو جامع اور جنابت وحیض سے پاک ہو عام ازیں کہ فرض ہو جیسے طواف زیارت یاواجب جیسے طواف الوداع کما سیأتی (جیسا کہ آگے آئیگا۔ ت) یا سنت جیسے طواف القدوم یا نفل جیسے متمتع حج کی سعی طواف زیارت سے پہلے کرنی چاہئے تو ایک طواف نفل کرکے ادا کرے۔ اس کے سواکامل کے یہ معنٰی نہیں کہ ساتویں پھیروں کے بعد ہو بلکہ چار کے بعد ہونا کافی ہے۔ سعی صحیح اور واجب ادا ہوجائیگا، اگر چہ سنت یونہی ہے کہ ساتویں پھیروں کے بعد کرے، ہاں اگر چہ پھیروں سے پشتر کی توسعی ادا نہ ہوگی اور طواف کے بعد سے بعدیت متصلہ مراد نہیں اگر چہ مستحب فوراًہوتا ہے مگر پہلے طواف ہولیا تو پھر جب کبھی سعی کریگا صحیح ہوگی ۱۲ منہ )

(عہ ۲:یہ قید اس لیے لگادی کہ جونویں تاریخ وقت نہ کرسکا ہو ا ور دسویں شب کو کرے اس پر کچھ واجب نہیں ایک لمحہ کے لیے زمین عرفات میں گزر جانا کافی ہے کہ فرض اسی قدر ہے ۱۲ منہ)

(عہ ۳: اس کا اس لیے کہا جور ات کو وقوف کرے اس پر امام کے ساتھ کوچ بھی واجب نہیں کہ امام تو اس کے آنے سے پہلے جاچکا ۲ ۱منہ)

(عہ ۴: یعنی اگر امام نے ترک واجب کرکے غروب سے پہلے کو چ کردیا تو ساتھ نہ دیں یونہی اگر غروب کے بعد اس نے دیر کی یہ روانہ ہوجائیں ۱۲ منہ)

(عہ ۵: یعنی اس کے چار پھیرے جو فرض ہیں بارھویں تک ہو گئے تو واجب ادا ہولیا اگر چہ باقی تین پھر کبھی ہوں، ہاں سنت یونہی ہے کہ پورا طواف انہی دنوں میں ہولے بلکہ ساتوں پھیرے ایک ساتھ ہو ۱۲ منہ )

(عہ ۶: مفرد کو یہ قربانی مستحب ہے ۱۲ منہ غفرلہ)
Flag Counter