Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
187 - 198
م: ارکان الحج

ش: یعنی حج وعُمرہ کے رکن
ف: رکن شے کا وہ ہے جس سے اس کے نفس ذات کا قوام ہو جیسے نماز کے لیے رکوع، سجود، قیام، قعود اور شرط خارج موقوف علیہ کو کہتے ہیں یعنی حقیقت شی میں داخل نہ ہو پرا س کے بغیر شی موجود نہ ہو جیسے نماز کے لیے وضو، نیت، استقبال، تکبیر اور کسی عمل کے فرائض وہ ہیں جن کے ترک عہ ۱ سے عمل باطل ہوجائے اور واجبات کے ترک سے باطل نہیں ہوتا، اس میں خلل آتا ا ور ناقص ہوجاتا ہے جیسے نماز میں الحمد، سورت، التحیّات وغیرہا۔
 (عہ ۱ : یہ تعریف رکن وشرط دونوں کو شامل ، تو فرض ان سے عام ہے،
وفی المسلک المتقسط الفرائض اعم من الارکان والشرائط وغیرھما کا لاخلاص فی العبادۃ ۱؎ اقول یظھر لی ان ھذا فی الفرض فی نفسہ ومنہ الاخلاص فانہ فرض بحیالہ ولیس من فرائض الصلوۃ مثلا والا لبطلت بالریاء اما الفرض فی غیرہ فلا بدان یتوقف وجودہ علیہ بمعنی انہ لایصح الا بہ فان دخل فرکن وان کان خارجا موقوفا علیہ و ھذا ھو معنی الشرط نعم قدیوخذ فی الشرط تقدمہ وجوداً والمعیۃ بقاء کشروط الصلٰوۃ  ۲؎ واسطۃ کترتیب مالا یتکرر فی رکعۃ فافھم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
مسلک متقسط میں ہے کہ فرائض،ارکان وشرائط وغیرہ سے عام ہیں جیسا کہ عبادت میں اخلاص اقول میرے ہاں ظاہر یہ ہے کہ یہ معاملہ نفس فرض کا ہے جس میں سے اخلاص بھی ہے کہ یہ مکمل فرض ہے حالانکہ یہ نماز کے فرائض میں سے نہیں ہے ورنہ نماز ریاکاری سے فاسد ہوجائے، لیکن غیر میں کوئی فرض ہو تو اس کے لیے ضرور ی ہے کہ اس فرض پر اس غیر کا وجود موقوف  ہو یعنی اس کے بغیر اس غیر کی صحت نہ ہوسکے، تو اب یہ فرض اس غیر میں داخل ہو تو رکن کہلائے گا اور اگر خارج ہو کر موقوف علیہ بنے تو شرط ہوگا، ہاں شرط میں کبھی وجود کے اعتبار سے مقدم ہونا اور بقاء کے اعتبار سے موقوف کے ساتھ رہنا بھی ملحوظ ہوتا ہے جیسا کہ نماز کی ان شرائط کی ترتیب جو ایک رکعت میں مکرر نہیں آتیں۔
 (۱؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری باب فرائض الحج دارالکتاب العربی بیروت ص۴۵)(۲؎ یہ عبارت نہیں پڑھی گئی ۱۲)
م: للحج ارکان تعد ستۃ    لابد ان تحفظھن البتۃ
ت: حج عہ ۲ کے چھ رکن ہیں ضرور ہے کہ تو انھیں یاد کرے جزماً
 ( عہ ۲ : یہ چھ کہ مصنف نے ذکر فرمائے ان میں ہمارے نزدیک تو اکثر رکن نہیں اور بعض بطور شافعیہ بھی محلِ کلام، فقیر نے ایضاح امام نووی میں کہ شافعیہ کے عمدہ مذہب واحد الشیخین میں مطالعہ کیاکہ انھوں نے ارکان حج صرف پانچ گنے ترتیب کو واجبات میں شمار کیا
ولعل ھذہ روایۃ اخری فی مذھھم
(ہوسکتا ہے کہ ان کے مذہب کی یہ دوسری روایت ہو۔ ت واللہ تعالیٰ اعلم ۲ ۱منہ )
م: فنیۃ الحج اول الصفۃ    ثم الوقوف معھم بعرفۃ
ت: پس نیت حج کی ساری ترکیب میں پہلے ہے پھر حاجیوں کے ساتھ عرفہ کے دن وقوف کرنا۔

ش: اس وقوف کے لیے جس طرح دن مقرر ہے یعنی عرفہ عہ ۱ کہ ذی الحجہ کی نویں تاریخ ہے یو نہی مکان بھی معین ہے یعنی عرفات کہ مکہ معظمہ سے پورب کو نوکوس ہے۔ تو مصنف کا فرمانا کہ حاجیوں کے ساتھ وقوف کرنا وہ اس سے تعیین مکان کی طرف اشارہ فرماتے ہیں جہاں حجاج ٹھہرتے ہیں وہاں ٹھہرنا ورنہ وقوف میں اوروں عہ ۲کے سا تھ ہونا ضرور نہیں۔
 (عہ ۱: آگے شرح میں آتا ہے کہ  وقوف کا وقت عرفہ کے دوپہر ڈھلے سے دسویں کی طلوع فجر تک ہے مگر یہ رات نویں تاریخ ہی کی رات گنی جاتی ہے، علماء نے فرمایا راتیں ہمیشہ آنے والے دن کے تابع ہوتی ہیں، مثلا جمعہ کی رات وہ ہے جس کی صبح کو جمعہ ہو، پر ایامِ حج کی راتیں گزرے دنوں کی تابع ہیں مثلاً شب عرفہ وہ رات ہے جو نویں تاریخ کے بعد آئے گی اور شبِ نحر دسویں کے بعد ۱۲ منہ

(عہ ۲: دفع دخل مقدر ۱۲ منہ)
م: ثم طواف ثم سعی بالصفا    والحلق والترتیب فیما وصفا
ت: پھر طواف زیارت پھر صفا مروہ میں دوڑتا اور سر منڈانا اور ان افعال میں ترتیب۔

ش: یعنی پہلے نیت پھر وقوف پھر طواف پھر سعی، لیکن طواف وحلق میں ترتیب ضرور نہیں، اور حلق سے مراد عام ہے سرمنڈانا یا بال کترانا، ہاں منڈانا افضل ہے۔

ف: ہمارے نزدیک رکن حج کے صرف عہ ۳ دو ہیں، سب میں بڑارکن وقوفِ عرفہ، اس کے بعد طوافِ زیارت باقی نیت شرط ہے اور فرائض میں ترتیب فرض اور سعی وحلق واجب۔
 (عہ ۳: ان کے سوا احرام میں بھی باآنکہ شرط ہے کئی مشابہتیں رکن کی ہیں
کما بینہ فی ردالمحتار اقول ولی فی اکثر ھن کلام بینتہ علٰی ھامشہ ۲ ۱منہ
 (جیسا کہ ردالمحتار میں بیان کیا ہے، میں کہتا ہوں کہ ان میں سے اکثر میں میری کلام ہے جو میں نے اس حاشیہ میں بیان کی ہے۔ ت)
م: ھٰذہ کذا للعمرۃ الارکان    سوی الوقوف ھٰکذا البیان
ت: یونہی یہ چیزیں عمرہ کی رکن ہیں سوا وقوف کے  اسی طرح بیان چاہیے ۔

 ف :ہمارے ہاں رکن عمرہ صرف طوف ہے او رنیت شرط اور سعی وحلق واجب۔

ف: یہ نیت کہ حج وعمرہ میں شرط مانی گئی اس کے دو معنی ہیں ایک تو شروع میں حج یا عمرہ کا عزم

یہ بعینہٖ احرا م ہے یعنی دل سے قصد اور اس کے ساتھ زبان سے ذکر خدا، دوسرے طوافِ رکن میں نیت طواف کہ وہ فرض ہے اور بے نیت عہ ۱ادا نہیں ہوتا تو ا س کی نیت بھی شرط ٹھہری۔
Flag Counter