م: مُحرمات الاحرام
ت : وہ باتیں جن کا احرام میں کرنا حرام ہے
م: لبس مخیط الثیاب حرما من غیر علۃ علٰی من احرما
ت: سِلا کپڑا پہننا حرام ہے بے کسی بیماری کے احرام والے پر۔
ف: واضح ہوکہ جو باتیں احرام میں حرام ہیں وہ اگر کسی عذر سے کیں یا بھول کر ہوئیں تو گناہ نہیں پر ان کا جوجرمانہ مقرر ہے وہ ہر طرح دینا ہوگا اگر چہ بے قصد واقع ہوں یا سہو سے یا مجبوری کو یا کسی کے جبر سے یا سوتے میں یا کسی طرح اور، سِلا کپڑا حرام جب ہے کہ بطور معتاد استعمال میں آئے ورنہ جُبّہ یا کرتے کا تہ بند باندھا انگر کھا یا پاجامہ بدن پر ڈال کر سویا تو حرام نہیں اگر چہ چاہئے نہ تھا۔
م: ویحرم الطیب کمثل الاٰس ودھن شعر لحیۃ وراس
ت: اور حرام ہے خوشبو جیسے آس عہ۲ اور تیل لگانا داڑھی یا سر کے بالوں میں۔
(عہ۲: بفارسی درخت موردنا مند بروزن دوست ۱۲
فارسی میں دوست کے وزن پر، مورد ایک درخت کا نام ہے ۱۲ (ت)
ف: بدن یا کپڑوں عہ۳ میں خوشبولگانا حرام ہے اور سونگھنا مکروہ، اور خوشبو کا تیل اور روغن زیتون اور تل کا تیل عہ۱ اگر چہ خالص ہوں بالوں میں یابدن میں لگانا جائز نہیں، اور گھی یا چربی جائز ہے۔
(عہ۳ : احرام سے پہلے جو خوشبولگائی وہ لگی رہی تو مضائقہ نہیں بعد احرام کے لگانا حرام ہے ۱۲ منہ)
(عہ۱: ان دو تیلوں میں اگر چہ خوشبو نہیں ناجائز ہیں، ان کے سوا اور بے خوشبو کے تیل جیسے روغن بادام وغیرہ، درمختار سے ان کا جواز نکلتا ہے اور شرح لباب میں مطلقاً ناجائز کہا، واللہ تعالیٰ اعلم ۱۲ منہ)
م: حلق شعر ثم قلم ظفر عقد النکاح ثم صیدالبر
ت: اور بال مُونڈ نا، ناخن کترنا، عقد نکاح، جنگلی شکار۔
ش: یعنی سر سے پاؤں تک کسی جگہ کے بال مونڈکر، کترکر، نورہ سے، موچینہ سے، آپ یا دوسرے کے ہاتھ سے دورکرنا اصلا جائز نہیں، مگر جو بال آنکھ میں نکلے، اور نکاح کرنا حنفیہ کے نزدیک اور دریا کا شکار عہ۲ بالاتفاق جائز ہے۔
(عہ۲: یعنی جبکہ خاص کھانے یا دوا کی غرض سے ہو، یا مذہب راجح پر بطور پیشہ وحرفت بھی، ورنہ تفریحاً شکار جیسا کہ آجکل عوام میں رائج، دریا کا ہو یاجنگل کا، احرام میں ہو یا غیر احرام میں، ہر طرح حرام ہے کما فی الدرالمختار وغیرہ (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت ۱۲ منہ)
ف: اس کے سوا منہ عہ۳ یا سر کو ڈھانکنا اگر چہ سوتے میں، یا کسی سے ناحق لڑنا، یا جماع کرنا، یا شہوت سے بوسہ لینا عہ۴ ، یا مساس کرنا، یا عورتوں کے آگے جماع کا تذکرہ لانا، کسی کا سر مونڈنا اگر چہ اس کا احرام نہ ہو،
(عہ۳ : یعنی کل منہ یا بعض، یہاں تک کہ تکیہ پر منہ رکھ کر اوندھے لیٹنا جائز نہیں، ہاں چت یا کروٹ سے رواہے اگر چہ اس میں رخسارے یاسر کے ایک ٹکڑے کا ڈھانکنا ہوا کہ شرع میں خاص اس کی اجازت ہے اور اس میں مرد وزن کا ایک حکم ہے یہاں تک کہ اسے منہ چھپانے کے لیے روانہیں کہ پنکھا وغیرہ منہ پر رکھ لے بلکہ سر پر منہ سے الگ یوں رکھے کہ آڑ ہوجائے۔ ہاں سرکا ڈھانکنا عورت کو احرام میں بھی ضرور ہے ۱۲ منہ غفرلہ)
(عہ۴: یعنی اپنی عورت یا کنیز شرعی کے ساتھ بھی یہ باتیں بشہوت ناروا ہیں پھر غیر کے ساتھ دو ہراگناہ، ایک تو فعل آپ ہی ناجائز دوسرے احرام کا محظور ۱۲ منہ)
جنگلی شکار عہ۵ کے ہلاک میں کسی طرح شریک ہونا مثلا شکاری کو بتانا، اشارہ کرنا، بندوق یا بارود دینا، ذبح کے لیے چُھری دینا، اس کے انڈے توڑنا، پَر اُکھاڑنا، پاؤں یا بازو توڑنا، اس کا دودھ دوہنا، اس کا گوشت یا یا انڈے پکانا، بیچنا، خریدنا، کھانا، جُوں کے ہلاک پر کسی طور باعث ہونا مثلاً مارنا، پھینکنا، کسی کو اس کے مارنے کا اشارہ کرنا، کپڑا اس کے مرجانے کے لیے دھونا یا دھوپ میں ڈالنا،
(عہ۵: پالتو جانور جیسے اونٹ، گائے، بکری، مرغی کے ذبح کرنے ،کھانے پکانے میں حرج نہیں ۱۲ منہ غفرلہ)
وسمہ عہ۱ یا مہندی کا خضاب لگانا، بال خطمی سے دھونا، گوند وغیرہ سے جمانا سب ناجائز ہے۔ اسی طرح تمام چھوٹے بڑے گناہ کو ہمیشہ بُرے ہیں اور احرام میں بہت زیادہ بُرے۔
(عہ۱: مہندی دو وجہ سے حرام ہوئی: ایک تو خوشبو ہے، دوسرے اس کے لگانے سے بال چھپ جاتے ہیں توسر یا منہ کا ڈھانکنا ہوا، اور وسمہ اگر چہ خوشبو نہیں بال چھپائے گا، پھر سیاہ خضاب ہمیشہ ناجائز ہے مگر جہاد میں ، تو محرم کو بدرجہ اولیٰ ناجائز ہوا۔ حدیث میں ہے:
''جو سیاہی خضاب کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا منہ کالا کرے۱؎۔''
(۱؎ کنز العمال محظورات الخضاب حدیث ۱۷۳۳۳موسسۃ الرسالہ بیروت۶ /۶۷۱)
دوسری حدیث میں ہے:''وہ جنت یک بو نہ سونگھیں گے۲؎۔''
(۲؎ کنز العمال محظورات الخضاب حدیث۱۷۳۳۲موسسۃ الرسالہ بیروت۶ /۶۷۱)
ہاں اگر کوئی رقیق تیل بے خوشبو جس سے بال کالے نہ ہوں لگایا جائے تو وہ اس اختلاف قاری وعلائی پر ہوگا جو اوپر گزرا، واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ)
ت: اور اسی طرح عورت کا حکم ہے لیکن اس کا احرام صرف چہرے میں ہے تو لازم ہو اکہ منہ چھپائے اور سِلے کپڑوں میں رہے۔ سرڈھکے۔
ش: یعنی اوپر جو باتیں گزریں ان میں عورت مثل مرد کے ہے مگر اسے سِلے کپڑے پہننا، سرڈھکنا روا ہے صرف چہرے پر کپڑا نہ عہ۲ آنے دے۔
(عہ۲: کپڑے سے مراد ہر چھپانے والی چیز ہے، پنکھے کا مسئلہ اس پر دلیل ہے ۱۲ منہ)
ف: پردہ نشین عورت کوئی پنکھا وغیرہ منہ سے بچاہوا سامنے رکھے اور عورتیں لبیک بآواز عہ۳ نہ کہیں،
(عہ۳: بآواز کے یہ معنیٰ نہیں کہ چلا کر نہ ہو بلکہ یہ مراد ہے کہ آپ ہی سنے کسی اجنبی مرد کے کان تک نہ جائے کہ
اس میں فتنہ ہے اور اپنا سننا ہر گز ذکر وقرأت وکلام میں ضرور ہے اس کے بغیر فقط زبان ہلانے کا کچھ اعتبار نہیں یہاں تک کہ نماز میں قرأت ایسی پڑھی کہ اپنے کان تک نہ آئے وہ قرأت نہ ٹھہرے گی اور اصح مذہب پر نماز نہ ہوگی، بہت لوگ اس مسئلہ سے ناواقف ہیں ۲ ۱منہ )
م: والحج بالجماع بتّا یفسد قضاؤہ فی قابل یؤکد
مالم یکن ذاجا ھلاً اوناسیاّ فما علیہ ان یکون فادیاّ
ت:اور حج جماع سے بے شبہ فاسد ہوجاتا ہے قضا اس کی سال عہ۱ آئندہ میں ضروری ہوتی ہے، جب تک یہ شخص ناواقف یا بھولا ہوا نہ ہو کہ اس پر فدیہ دینا لازم نہیں۔
(عہ۱: یعنی اس میں یہ نہیں کہ اب فاسد تو ہو گیا ہے جب چاہیں گے قضاء کر لیں گے ،بلکہ فوراً سال آئندہ ہی قضاء کر لیں ۱۲ منہ غفرلہ )
م: ولا فدا لیع التی فداکرھت وطأ ولافساد فیما قدقضت
ت: اور نہ اس عورت پر فدیہ جس سے زبردستی جماع ہوا اور نہ اس کا وہ عمل فاسد جو کر چکی۔
ش:خلاصہ یہ کہ اگر حج میں قبل تحلل اول عہ ۲ کہ دسویں تاریخ منیٰ میں ہوتا ہے یا عمرہ میں قبل اس سے فراغ کلی کے باختیار خود قصداً جماع کیا ا ور اس کی حرمت سے اگاہ بھی تھا تو وہ حج یا عمرہ فاسد ہوجائے گا اور اس پر فرض ہے کہ اسے پورا کرکے پھر اعادہ کرے اور جرمانہ میں بُدنہ یعنی ایک اونٹ دے، او رجو بعد اس کے کیا یا حرمت نہ جانتا تھا یا بھولے سے کر بیٹھا یا کسی کا جبر تھا تو مذہب اصح پر نہ حج وعمرہ فاسد ہو نہ فدیہ آئے۔
(عہ ۲: دسویں کو جو رمی جمار کرتے ہیں سب کچھ حلال ہوجاتا ہے مگر عورتیں، یہ پہلا تحلل ہوا، پھر جب طوافِ زیارت کیا عورتیں بھی حلال ہوگئیں، یہ تحلل آخر وتحلل تام ہوا، یہ مذہب امام شافعی کا ہے۔ ہمارے نزدیک پہلا تحلل حلق سے ہوتا ہے جب تک حلق نہ کیا کوئی چیز حلال نہیں اگر چہ رمی کرچکے ۱۲منہ
ف: یہ سب تفصیل مذہب شافعیہ کی تھی اور حنفیہ کے نزدیک اگر حج میں وقوف عرفہ سے پہلے جماع کیا تو حج فاسد، اور اسے بدستور پورا کرکے ذبح شاۃ (بکری) واعادہ لازم، او ر وقوف کے بعد کئے سے حج اصلاً فاسد نہیں ہوتا، پھر اگر حلق وطواف فرض سے بھی فارغ ہوکر کیا تو کچھ جرمانہ بھی نہیں، اور ان دونون سے پہلے کیا تو بد نہ لازم آئیگا یعنی اونٹ یا گائے، اور دونوں کے بیچ میں واقع ہوا یعنی طوافِ زیارت کے بعد حلق سے پہلے یا بالعکس توبکری دینی آئے گی مگر بہت علماء صورتِ عکس عہ ۱میں بد نہ کہتے ہیں، اور عمرہ میں چار طواف سے پہلے فساد ہے اور اتمام وزبح شاۃ واعادہ ضرور، اور چار کے بعد صرف ذبح ہے فساد نہیں، اور ان احکام میں برابر ہے قصداً یا بھولے سے، باخیتار خود یا جبرسے ، دانستہ یا نادانستہ، واللہ تعالٰی اعلم
( عہ ۱: یعنی جبکہ جماع حتی کے بعد طواف سے پہلے ہو ففی الھدایۃ والکافی والمجمع واللباب والتنویر والدروغیرھا ان فیہ شاۃ۱؎ قال فی ردالمحتار ھو ما علیہ المتون ومشی فی المبسوط والبدائع والاسبیجابی علی وجوب البدنۃ وفی الفتح انہ الاوجہ لاطلاق ظاھر الروایۃ وناقشہ فی البحر والنھر ۲؎ا ھ وکذا حکاہ فی اللباب وعلی الاول مشی القدوری وشراحہ وبالجملۃ فالموضع نزاع والاول ارفق وھذا احوط واﷲ تعالٰی اعلم ۲ ۱منہ (م)
تو ہدایہ، کافی، مجمع، لباب، تنویر اور در وغیرہ میں ہے کہ اس میں بکری لازم ہے۔ ردالمحتار میں کہا کہ ا س پر متون وارد ہیں۔ اور مبسوط ، بدائع ، الاستیجابی اس پر بد نہ کے وجوب کے قائل ہیں، اور فتح میں ہے کہ یہی ظاہر الروایت کے اطلاق سے موافق ہے۔ اور بحرا ور نہر میں اس پر مناقشہ بیان کیا ہے اھ اور یوں ہی لباب میں حکایت کیا گیا ہے،ا ور پہلے قول پر قدوری اور اس کے شارحین نے رجحان ظاہر کیا ہے، غرضیکہ یہ مقامِ نزاع ہے، پہلا قول آسان ہے اور دوسرا احتیاط پر مبنی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۲ منہ (ت)