Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
185 - 198
م:  صفۃ الاحرام
ش: یعنی احرام کی کیفیت اور اس کے سنت وفرض کا بیان
م: تجود عن المخیط واجب        لِمُحْرِمٍ من غیر عذر لازب
ت: سِلے کپڑے اتارنے واجب ہیں احرام والے پر، اگر کوئی عذر لاحق نہ ہو  عہ۳ ۔
(عہ۳:  اللازب اللازم ولایشترط لزوم العذر بل وجودہ حین ارتکاب المحظور فلذافسرہ باللاحق ۱۲ منہ (م)
لازب، لازم کو کہتے ہیں، جبکہ عذر کا لزوم نہیں بلکہ ممنوع کے ارتکاب کے وقت اس کا وجہ شرط ہے، اسی لیے اس کی تفسیر میں لاحق کہاہے ۱۲ منہ (م)
ف: اگر کسی عذر کے سبب سلا کپڑا پہن لے گا تو گنہگار نہ ہوگا ورنہ کفارہ تو ہر حال دینا لازم آئے گا۔ ہمارے نزدیک ۱۲ منہ
م: کذالک الاحرام فی ثوبین    غیر مخیطین منظفین
ت: یونہی احرام دو کپڑوں میں ہے بے سِلے پاک ستھرے۔

ش: یعنی جب احرام چاہے سِلے کپڑے، عمامہ، ٹوپی، موزے اتارے، چادر، تہبند بے سِلی اوڑھے باندھے۔

ف: نئے سفید ہوں تو بہتر ورنہ دھُلے اُجلے اور ان میں رفویا پیوند بھی اچھا نہیں، پر جائز ہے۔ا ور ہمیانی یا تلوار کے پر تلے کا ڈر نہیں۔
م: ینوی اداء النسک بالجنان    وفضلہ فی القول باللسان
ت: نیت کرے حج یا عمرہ کی دل سے اور زیادہ خوبی زبان سے کہنے میں ہے ۔

ش: یعنی جامع احرام پہن کر اب جوکچھ ادا کیا چاہتا ہے (حج خواہ  عمرہ یادونوں ) اس کی نیت دل سے کرے اور زبان سے بھی الفاظ نیت کہنا بہتر ہے ، مثلا الہی میں حج کی نیت کرتا ہوں اسے میرے لئے آسان کر اور قبول فرما ۔
ملبیا جھرا من المیقات      	 وذاکر اﷲ فی الحالات
ت: لبیّک کہتا ہوا بآواز میقات سے اور خدا کی یاد کرتا ہوا مختلف حالوں میں۔

ش: میقات ان مقاموں کو کہتے ہیں جو شرع مطہر نے احرام کے لیے مقرر کیے ہیں کہ باہر عہ۱  سے مکہ معظمہ کا قصد کرنے والے کو بے احرام ان مقاموں سے آگے بڑھنا حرام ہے ، ہندیوں کو وہ جگہ سمندر میں آتی ہے جب کوہ یلملم کی یدھ میں پہنچتے ہیں۔
 (عہ۱:  باہر سے مکہ مکرمہ کا قصد اس لیے کہا کہ اگر آفاتی یعنی باہر والا میقات کے اندر کسی مکان مثل جدّہ یا خلیص کا قصد کرکے میقات میں داخل ہو جائے تو اب آفاتی نہ رہا میقاتی ہوگیا اسے وہاں سے مکہ معظمہ میں بے احرام جانا جائز ہے ۱۲ منہ)
ف: رکن احرام کے صرف دو ہیں، دل سے نیت اور اس کے ساتھ زبان سے وہ ذکر جس میں اللہ تعالٰی کی تعظیم ہو، خواہ لبیک یا کچھ اور مثل
سبحان اللہ یا الحمدللہ یا اللہ اکبر یا اللھم اغفرلی عہ۲  وغیرہ ذلک،
 (عہ۲: اشارۃ الی انہ لا یشترط کون الذکر خالصّا کما فی تحریمۃ الصلٰوۃ بل یکفی مطلقا ولو مشوبا بالدعاء ھوالصحیح۱؎ کما فی المسلک المتقسط ۱۲ منہ (م)۔
اس میں اشارہ ہے کہ خالص ذکر شرط نہیں ہے جیسا کہ نماز کے تحریمہ میں ہوتا ہے بلکہ دعائیہ کلمات بھی ملے ہوں تو صحیح ہے جیسا کہ مسلک متقسط میں ہے ۱۲ منہ )
 (۱؎ مسلک متقسط مع ارشادی الساری باب ا لاحرام دارالکتاب العربی بیروت ص۷۰)
جب یہ دونوں (عہ۳) باتیں پائی گئیں احرام باندھ گیا اور جو کچھ محرم پر حرام تھا حرام ہوگیا ۔
پَر لبیک کہنا سنت (عہ۱ ) اور مُحرِم کے لیے ہر ذکر سے بہتر ہے جہاں تک ہوسکے اس کی کثرت کرے۔
 (عہ۳ : احرام کبھی تقلید وسوقِ بدنہ سے ہوتا ہے مگرا س کے بیان میں طول تھا اور ہندیوں میں اس کا رواج نہیں لٰہذا اسی پر اکتفاء کیا گیا ۱۲ منہ)
 (عہ۱: وقع فی اللباب ان التلبیۃ مرۃ فرض ۱؎
لباب میں مذکور ہے کہ تلبیہ ایک مرتبہ فرض ہے،
 (۱؎ لباب المناسک مع ارشاد الساری فصل وشرط التلیبۃ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۷۰)
وفی النھر والدر انھا مرۃ شرط قال القاری ۲؎ وھو عندالشروع لاغیر ۳؎
اور نہر اور در میں ہے کہ ایک بار شرط ہے۔ ملا علی قاری نے کہا کہ یہ صرف شروع میں ہے۔
 (۲؎ درمختارفصل فی الاحرام مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۶۳)

(۳؎ مسلک متقسط مع ارشادی الساری فصل وشرط التلبیۃ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۷۰)
لکن التحقیق ان الفرض والشرط انما ھو مطلق الذکر لاخصوص التلبیۃ کما حققہ فی البحر قال وقول من قال انھا شرط مرادہ ذکر یقصد بہ التعظیم لاخصوصھا ۴؎
لیکن تحقیق یہ ہے کہ فرض اور شرط تلبیہ نہیں بلکہ مطلقاً ذکر ہے جیسا کہ بحر میں اس کی تحقیق ہے انھوں نے کہا کہ جس نے کہا تلبیہ شرط ہے اس کی مراد یہ ہے کہ تعظیم پر مشتمل ذکر نہ کہ خاص تلبیہ،
 (۴؎ بحرالرائق باب الاحرام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۲ /۳۲۲)
وتمامہ فی ردالمحتار اقول و قدنص فی اللباب قبیل ما مران کل ذکر یقصد بہ تعظیم اﷲ سبحانہ یقوم مقامہ التلبیۃ ۵؎ اھ
مکمل بحث ردالمحتار میں ہے اقول لباب میں تصریح ہے کہ جو ذکر تعظیم پرمشتمل ہو وہ تلبیہ کے قائم مقام ہوتا ہے اھ
(۵؎ لباب المناسک مع ارشاد الساری فصل وشرط التلبیۃ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۷۰)
وفیہ فی صدر باب الاحرام شرائط صحتہ الاسلام والنیۃ والذکر اوتقلید البدنۃ ۶؎ اھ
اسی میں باب الاحرام کے شروع میں ہے کہ احرام کے صحیح ہونے کی شرط اسلام، نیت، ذکر اور بُدنہ کے گلے میں قلادہ باندھنا ہے اھ
 (۶؎ لباب المناسک مع ارشاد الساری فصل وشرط التلبیہ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص ۶۲)
ثم عد من سننہ تعیین التلبیۃ قال القاری ھناک التلبیۃ اوما یقوم مقامھا من فرائض الاحرام عند اصحابنا ۷؎ اھ
پھر اس کی سنتوں میں تلبیہ کو ذکر کیا، ملا علی قاری نے کہا کہ یہاں تلبیہ یا اس کے قائم مقام احرام کے فرائض ہیں ہمارے اصحاب کے ہاں اھ
 (۷؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری باب الاحرام دارالکتاب العربی بیروت ص ۶۲)
وفی الدریصح الحج بمطلق النیۃ وبقلبہ لکن بشرط ومقارنتھا بذکر یقصد بہ التعظیم ۱؎ اھ فانکشف الغطاء والحمد ﷲ رب العٰلمین ۱۲ منہ (م)
در میں ہے کہ حج، مطلق خواہ صرف دل سے ہو، صحیح ہوجاتا ہے بشر طیکہ نیت کے ساتھ کوئی ایسا ذکر ہو جس سے تعظیم مقصود ہو اھ تو اس سے پردہ چھٹ گیا والحمد للہ رب العٰلمین ۲ ۱منہ (ت)
 ( ۱؎ درمختارفصل فی الاحرام مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۶۳)
 اس کے الفاظ مسنونہ یہ ہیں:
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ ط لَبَّیْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْک ط اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ عہ۱ لاَ شَرِیکَ لَکَ
میں تیرے دربار میں حاضر ہو گیا الہٰی! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوگیا، میں حاضر ہوگیا ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوگیا ہوں، بلا شبہ تعریف اور نعمت اور ملک تیرے ہی لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔ (ت)

صبح وشام کے وقت اور ہر نماز کے بعد اور بلندی پر چڑھتے۔ پستی میں اترتے، دوسرے قافلہ سے ملتے، ستاروں کے ڈوبتے، نکلتے کھڑے ہوتے، بیٹھتے،، چلتے، ٹھہرتے غرض ہر حالت کے بدلنے زیادہ کثرت کرے۔
 (عہ۱:قولہ الملک استحسن الوقف علیہ لئلا یتوھم ان مابعد خبرہ ۲؎ شرح اللباب ونقل بعضھم انہ مستحب عند الائمۃ الاربعۃ ۳؎ اھ ردالمحتار، اقول ولم یجب لان المعنی الوہم ایضا صحیح فی نفسہ وان لم مرادا ۱۲ منہ (م)
(۲؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری فصل ثم یصلی رکعتین دارالکتاب العربی بیروت ص۶۹)

 (۳؎ ردالمحتارفصل فی الاحرام مصطفی البابی مصر۲ /۱۷۳)
ف:احرام کا مسنون ومستحب طریقہ یہ ہے کہ غسل کرے، بدن سے مَیل اتارے، ناخن ترشوائے، خط بنوائے، موئے بغل وزیرناف دُور کرے، سرمُنڈانے کی عادت ہو تو منڈائے ورنہ کنگھی کرے، تیل ڈالے، بدن میں خوشبو لگائے، پھر جامہ احرام پہن کر دو رکعت نماز بہ نیت سنت احرام پڑھے۔ پھر وہیں قبلہ رو بیٹھا دل وزبان سے نیت کرے۔ بآوازعہ۱  تین بار لبیک کہے۔ آسانی و قبول کی دعا مانگے۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود بھیجے۔
 (عہ۱:مگر نہ حد سے زائد جس میں اذیت ہو، اور عنقریب آتا ہے کہ عورت آہستہ کہے۔
ووقع فی المنسک المتوسط انہ یستحب ان یرفع بہا صوتہ الا ان یکون فی مصر ۱؎، اھ

ولم ارہ لغیرہ ثم وجہہ القاری بخوف الریاء والسمعۃ اقول وفیہ نظر ظاھر ولذاقال القاری ان الاظھر ان یکون یتضرر فصحت علٰی بعض من حرر ۲؎ ۱۲ منہ (م)
منسک متوسط میں ہے کہ آواز بلند کرنا مستحب ہے۔ مگر شہر میں مستحب نہیں اھ،

کسی او رجگہ یہ نہیں دیکھا، پھر علامہ قاری نے اس کی وجہ بیان کرتے ہو ئے کہاشہر میں بلند کرنے میں ریا کا ری  کا خوف ہے۔ میں کہتا ہوں اس میں غور کی ضرورت ہے۔ اسی لیے ملا علی قاری نے کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ اس میں دوسروں کو ضرر ہے۔ تحریر کرنیوالے کو اشتباہ ہوگیاہے ، ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ منسک متوسط مع ارشاد الساری فصل وشرط التلبیۃدارالکتاب العربی بیروت ص۷۱ و ۷۲)
(۲؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری فصل وشرط التلبیۃدارالکتاب العربی بیروت ص۷۲)
Flag Counter