Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
184 - 198
م:   مقدّمۃ فی وُجوب حجّۃِ الاسلام
ت:      حجِ(عہ۲)  اسلام کے واجب ہونے میں۔
ش:     یعنی حج کب واجب ہوتا ہے اور اس کے وجوب کے لئے کیا کیا شرطیں درکار ہیں۔
م: شروطھا التکلیف والاسلام     والعقل والحریۃ والتمام
ت: شرطیں اس کے مکلّف مسلمان عاقل ہونا اور پُوری آزادی۔

ش: یعنی شرائط وجوب حج کہ جب وُہ جمع ہوں حج فرض ہوجائے اور ان میں سے ایک بھی فوت ہوتو نہیں ،

پانچ ہیں :
اول(۱)بلوغ  :  کہ بچّے پر فرض نہیں، کرے(عہ۳)گا تو نفل ہوگا اور ثواب اسی کے لئے ہے۔ باپ عہ۴ وغیرہ مربّی تعلیم وترتیب کا اجر پائیں گے۔پھر بعد بلوغ شرطیں جمع ہوں گی اس پر حج فرض ہوجائے گا، بچپن کا حج کفایت نہ کریگا۔ 



دوم(۲)اسلام  : کہ کافر پر ایمان لانے کے سوا کوئی عبادت فرض نہیں، نہ اُس کے ادا کیے ادا ہوسکیں، جب مسلمان ہوگا تو سب احکام اس کی طرف متوجہ ہونگے۔



سوم (۳) عقل  : کہ مجنون ومعتوہ پر فرض نہیں۔ معتوہ وہ جس کے ہوش وحواس درست نہ ہوں، بہکی بہکی باتیں کرے، رائے میں فساد ہو، پھر اس عہ۵  کے ساتھ مارے، گالیاں دے تو مجنون ہے۔
(عہ۱: ''ف'' وہاں آئی جہاں کوئی تازہ بات لکھی یا قولِ متن پر کچھ کلام کیا یا مذہب ِ حنفیہ کا خلاف بتایا۱۲منہ)



(عہ۲ :حجِ اسلام حجِ فرض کو کہتے ہیں یعنی پہلا حج کہ مکلف اداکرے ۱۲منہ )



(عہ۳ :قیدِ عقل خود مفادِ عبارت ہے ظاہرہے کہ اُس کا حج کرنا جبھی کہیں گے کہ اتنی سمجھ رکھتا ہواور بے سمجھ بچّے کی عبادت کچھ معتبر نہیں، نہ وُہ فرض ہو نہ نفل واﷲتعالیٰ اعلم ۱۲منہ )



(عہ۴ :  یعنی یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ بچّوں کی عبادت کا ثواب ماں باپ پاتے ہیں اُنہیں نہیں ہوتا، غلط ہے، بلکہ عبادت کا ثواب اِنہیں اور تعلیم کا اُنہیں ۱۲منہ۔)
 (عہ۵ : ھذا احسن ماقیل فی الفرق بینھما شامی عن البحر ۱۲منہ (م)
دونوں میں فرق کی بابت اقوال میں سے یہ احسن ہے، یہ شامی نے بحر سے نقل کیا ہے(ت)
چہارم   پوری آزادی  : کہ مکاتب ومدبر وام ولد عہ۱   پر فرض نہیں، جب تک کامل آزاد نہ ہوں، ہاں کرلیں تو نفل ہوگا۔ پھر بعد آزادی کامل اجتماع شرائط ہو اتو حج فرض ادا کرنا پڑے گا۔

ف: مولیٰ نے اپنے غلام سے کہا میں نے تجھے مال پر مکاتب کیا یا اتنا مال مقرر کیا کہ مال لادے تو آزاد ہو۔ اورغلام نے قبول کرلیا۔ اسے عقد کتابت کہتے ہیں اور اس غلام کو مکاتب۔ا ور جو کہا تومیرے بعد آزاد ہے تویہ مدبر ہوا ،اور جو کنیز اپنے مولیٰ کے نطفے عہ۲  سے بچہ عہ۳ جنے وہ ام ولد ہے ، ان سب کی غلامی میں ایک طرح کافرق آجاتا ہے پر حج فرض ہونے کو پوری حریت درکار ہے۔

ف:مکلف عاقل بالغ کو کہتے ہیں تو بعد ذکر تکلیف، ذکر عقل کی حاجت نہ تھی، پر جناب مصنف نے فرمایا میری مراد تکلیف سے صرف بلوغ ہے۔

ف:کافروں پر ایمان کے سوا اور عبادتیں فرض ہونے میں علماء کو اختلاف ہے۔ شافعیہ کے نزدیک فرض ہیں اور یہی مذہب علمائے عراقیین عہ۴  کا ہے اور یہی معتمد عہ۵  وراجح تر ہے،
 (عہ۱: یونہی معتق البعض ۲ ۱منہ)
 (عہ۲ : اشارۃ الٰی انہ لایشترط تحبلھا بجماع المولٰی حق لو استدخلت منیہ فی فرجھا فحبلت وولدت صارت ام ولد۱؎ کما فی الدر ۲ ۱منہ (م)
ام ولد بننے کے لیے مالک کے جماع سے حاملہ بننا شرط نہیں بلکہ کسی طرح مالک کی منی کو اپنی شرمگاہ میں ڈالنے سے حاملہ ہوجائے تو بھی ام ولد بن جائیگی جیسا کہ دُرمیں ہے ۲ ۱منہ )
 (۱؎درمختار         باب الاستیلاد         مطبع مجتبائی دہلی۱ /۲۸۷)
 (عہ۳ : عنداللہ اسی قدر سے ام ولد ہوجاتی ہے کمافی الدر ہاں قضاءً پہلی بار مولٰی کا اقرار بھی شرط ہے یعنی وہ کہے کہ یہ بچہ میرا ہے۔ جس کنیز کے لیے ایک دفعہ یہ اقرار کرلیا دوسرے بچے میں قضاءً بھی یہ اقرار شرط نہ رہا البتہ نفی سے منتفٰی ہوجائے گا اگر زمانہ دراز تک ساقط نہ رہا ہو کہ فراش متوسط ہے قوی نہیں ۱۲ منہ)

(عہ۴: مشائخ سمرقند اصلاً فرض نہیں مانتے، ائمہ بخارا فرماتے ہیں ان پر فرائض کا اعتقادفرض ہے ادا فرض نہیں۔ منار میں اسی کو صحیح کہا، ثمرہ اختلاف یہ ہے کہ سمرقندیوں کے نزدیک کافروں پر ْصرف ترک ایمان کے سبب عذاب ہوگا۔ بخاریوں کے نزدیک فرائض کے نہ ماننے پر بھی عراقیوں کے نزدیک ان کے بجا نہ لانے پر بھی ۲ ۱منہ غفرلہ۔)
 (عہ۵: علامہ ابن نجیم ومحقق علائی نے فرمایا:
وھو المعتمد لان ظاہر النصوص یشہد لھم وخلافہ تاویل۔ ۱؎ (م)
یہی معتمد علیہ ہے کیوں کہ نصوص کا ظاہر اسی پر گواہ ہے اور اس کا خلاف تاویل ہے۔ (ت)
 (۱؎ کشف الاستار حاشیہ درمختارحاشیہ نمبر۴کتاب الحج مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۶۰)
قرآ ن مجید میں صاف ارشاد ہوا:
ماسلککم فی سقرo قالوا لم نک من المصلینo ولم نک نطعم المسکینo وکنا نخوض مع الخائضینo وکنا نکذیب بیوم الدینo حتی اتانا الیقینo ۲؎ ۱۲ منہ (م)
تمھیں کس چیز نے جہنم میں پہنچایا، انھوں نے کہا ہم نمازی نہ تھے اور مسکینوں کو کھانا نہ کھلاتے اور سازشیں کرنیوالوں کے ساتھ شریک ہوکر ہم بھی حصہ لیتے اور ہم یوم جزا کا انکار کرتے یہاں تک کہ موت آگئی ۱۲ منہ (ت)
 (۲؎ القرآن۷۴ /۴۲ تا ۴۷)
فقیر کہتا ہے اس تقدیر پر اسلام کو شرط وجوب عہ۱  ٹھہرانے میں تامل ہے بلکہ شرط صحت عہ۲  ادا ہے۔ مگر یہ کہا جائے کہ وجوب سے مراد وہ  وجوب ہے  جس کے باعث دنیا میں مواخذہ ہوسکے کہ کفار پر ترک فرائض میں احتساب نہیں،
نترکھم ومایدینون فافھم
(ان کے دین کے معاملہ میں ان سے تعرض نہ کرینگے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (عہ۱ :کہ اس مذہب صحیح پر وجوب درکنار وجوب ادا ہے لہذا شرائط مرسوم یعنی صحت ادا کی طرف عدول کیا ۱۲ منہ
 (عہ۲ : اقول بل لک ان تقول لمالم یکن الکافرمن من اھل النیّۃ والنیۃ شرط الصحۃ کان الاسلام مندرجا فیھا لاشرطا بحیالہ واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (م)
میں کہتاہوں، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کافر جب نیت کرنے کا اہل نہیں جبکہ نیت صحت حج کے لیے شرط ہے تو یوں اسلام کا شرط ہونا پایا گیا، علیٰحدہ شرط نہ سہی، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
م: ثم استطاعۃ السبیل شرطھا    فلیک بالحفظ لھدی ضبطھا
ت: پھر راہ پر قدرت شرط حج ہے۔ پس چاہئے کہ انھیں حفظ کرکے خوب خیال میں رکھا جائے۔

ش: یعنی شرط پنجم استطاعت ہے کہ علاوہ مصارف ضروری کے اس قدر مال کا مالک ہو جو مکہ تک اپنی خواہ کرایہ کی سواری میں، کھانے پہننے کا متوسط، صرف کرتا جائے اور حج کرکے اسی طرح لوٹ آئے اور ضروری مصارف جیسے رہنے کا مکان، پہننے کے کپڑے، گھر کا اثاثہ، اہل وعیال کا نفقہ، قرضخواہوں کا قرض، پیشہ ور کو آلات حرفہ۔ سوداگر کو اتنی پونجی جس سے اپنی اور اپنے بال بچوں کی کفایت کے لائق کما سکے، طالب علم کے لیے ضروری  عہ۱ دینی کتابیں، اور جنھیں سواری ہتھیار کی حاجت ہو ان کے لیے یہ بھی۔
 (عہ۱ : منطق فلسفہ کی کتابیں اس میں داخل نہیں ۱۲ منہ)
ف: یہ استطاعت حج کے مہینوں میں درکار ہے یعنی شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ، اور جو دُور کے ساکن ہیں کہ پہلے سے چلتے ہیں تو جب اس شہر کے لوگ جائیں ورنہ اس سے پہلے اگر استطاعت تھی اور یہ وقت نہ آنے پا یا کہ جاتی رہی تو حج فرض عہ۲ نہ ہوگا،
 (عہ۲: یعنی جس سال استطاعت ہوئی اسی سال وقت آنے سے پہلے جاتی رہی ورنہ اگر ایک سال وقت تک باقی تھی تو حج فرض ہوچکا اب ساقط نہ ہوگا اگر چہ دوسرے برس وقت سے پہلے استطاعت زائل ہوجائے ۱۲)
ف: ہمارے امام کے نزدیک تندرستی شرط ہے یعنی بدن میں وہ آفت نہ ہو جو سفر سے معذور کردے جیسے اپاہج، مفلوج، اتنا بوڑھا کہ سواری پر نہ ٹھہر سکے، مگر صاحبین فرماتے ہیں ان پر حج بدل کرانا فرض ہے۔
Flag Counter