اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّ (۱۲۹۵ھ)
مع حاشیۃ
اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
متن
از عالم اجل مولانا سید حسین بن صالح جمل اللیل فاطمی حسینی امام وخطیب شافعیہ مکہ مکرمہ رحمہ اللہ (متوفی ۱۳۹۱ھ)
شرح وحاشیۃ
از اعلٰیحضرت امام اہلسنت مولانا شاہ احمدر ضاخاں قادری بریلوی قدس سرہ العزیز
حج، عمرہ اور زیارت سراپا طہارت کے آداب ومسائل
بسم اللہ الرحمن الرحیم ط
الحمد ﷲ الذی حمدہ من بحار القدس جوھرۃ مضیۃ والصلٰوۃ والسلام علٰی من الصلٰوۃ علیہ فی سماء النور نیرۃ وضیۃ وعلٰی اٰلہٖ صحبہ الذی السلام علیھم علٰی تلک الصلوٰۃ رضیّۃ واشھدان لاالٰہ الّااﷲ وحدہ، لاشریک لہ واشھد ان محمداًعبدہ،ورسولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ الٰی یوم القیٰمۃ اٰمین!
امّابعد
فقیر عبد المصطفی احمد رضا غفرلہ واصلح عملہ نے زمانہ تالیف
'' النیرۃ الوضیۃ شرح الجوھرۃ المضیۃ''
میں اس پر بعض منیہات'تقییداتِ لطیفہ پر مشتمل' بغرض اظہارِ مرام یا اتمامِ کلام یا از ہاقِ اوہام لکھے تھے۔ اب دیگر حواشی مفیدہ توضیح مسائل یا تخریجِ احادیث یا زیادتِ فوائد کو متضمن اور اضافہ کیے، مقصود اس تعلیق مختصر مسمّٰی بہ
الطرۃ الرضیۃ علی النیرۃ الوضیۃ
سے صرف برادر ان دینی کے لیے کم از کم پانسو ورق کی کتاب درکار۔
اسأل اﷲ ان ینفع بھما وبسائر تصانیفی المسلمین ویجعلھا جمیعا حجۃ لی لاعلیّ یوم الدین وصلی اﷲتعالٰی علی سیدنا ومولانا محمد واٰلہٖ وصحبہ اجمعین ۔
شرح میں کہ کمال اختصار منظور تھا خطبۂ متن کا ترجمہ بھی نہ لکھا مگراس میں متن ناقص رہتا ہے، لہٰذا یہاں تحریر ہوتا ہے۔
قال المصنف رحمہ اﷲتعالیٰ بسم اﷲالرحمٰن الرحیم۔
م:حمدالمن انزل فرض الحج ودلّنا علی سوی النھج
ت:سب خوبیاں اسے جس نے حج کا فرض اتارا اور ہمیں سب راہوں میں سیدھی راہ بتائی۔
م: ثم صلٰوۃ اﷲ والسلام علٰی نبیٍّ دینہ الاسلام
ت:پھر خدا کے درودوسلام اس نبی پر جن کا دین اسلام ہے۔
م: محمد واٰلہٖ الکرام وصحبہ الافاضل الاعلام
ت: یعنی محمد صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اور ان کی کرم والی آل اور بڑی فضیلت وشہرت والے یاروں پر۔
م:وبعدذا یقول ذاالفقیر بجمال اللیل ھو الشہیر
ت:اس کے بعد کہتا ہے یہ فقیر کہ جمال اللیل کے لقب سے مشہور ہے۔
م: حسین نجل صالح اخی الہدی للشافعیۃ امام مقتدٰی
ت: حسین پسر صالح کہ صاحبِ رہنمائی تھے شافعیہ کے امام پیشوا۔
م: ھذی اتت ارجوزۃ للناسک تنفع فی معرفۃ المناسک
ت:یہ ایک رجز ہے حاجی کے لیے کہ نفع دے گی مسائل حج پہچاننے میں۔
ش: ناسک کے اصل معنی عابدوں قربانی کندہ، یہاں حاجی مراد ہے کہ حج عمدہ عبادات سے ہے اور وجوباً یا استحباباًقربانی پر مشتمل ، اور رجز ایک قسم نظم یا نثر مسجّح کی ہے
علی اختلاف العروضیین فیہ۔
م: سمّیتھا الجورھۃ المضیّۃ تضحٰی بھا نفس الفتی وضیّۃ
ت:میں نے اس کا جوہرہ مضیہ نام رکھا، مردانِ راہِ علم کی جان اس سے روشنی پائے گی۔
م: مؤمّلامن ربی القبولا بہ انال الفوزوالمامولا
ت: اپنے رب سے قبول کی تمنا کرتا ہوا میں اسی سے پاؤں گا فلح ومراد۔
م: من عندہ التوفیق للصواب ونحواہ المرجع فی الماٰب
ت:اسی کے پاس ہے راستی کے سامان درست فرمانا اور اسی کی طرف ہے انتہا میں پلٹ جانا۔
م: مقدمۃ فی وجوب الخ
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم ط
الحمد اﷲالذی فرض الحجۃ، واوضح المحججۃ عہ۱، والصّلوٰۃ والسلام علٰی نبیّہ الذی اقام الحجۃ، فقوّم اقواماً معوّجۃعہ۲، وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ الذین اظہر وازقاق عہ۳ الدین وفجّۃ عہ۴ حتی وقعت بالسمٰوٰت من لجّۃ عہ۵ مدائحھم رَجّۃ عہ۶ واشھدان لاالٰہ الااﷲ واشھد ان محمداً عبدہ، ورسولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ماتدلاطم الامواج فی لجّۃ عہ۷۔
(عہ۱:راہِ راست۱۲) ( عہ ۲:من الاعو جاج کج واناراست۱۲)
(عہ ۳ : بالضم کوچہ وراہِ تنگ) (عہ۴ : بفتح راہ کشادہ وفراخ والمرادبھما ظواھرالدین ودقائقہ ۱۲)
(عہ۵: شوروغوغا وآواز ۱۲) ( عہ۶ : لرزہ۱۲)
(عہ۷: میان دریاوقعر، دریا ودریائے ژرف والمراد احد الطرفین۱۲منہ غفرلہ)
بعدحمد وصلوٰۃ کے واضح ہوکہ جب توفیق وعنایت الٰہی واعانت حضرت رسالت پناہی علیہ الصلٰوۃ والسلام الغیر المتناہی نے دستگیری فرمائی اور ۱۲۹۵ھ میں فقیر سراپا تقصیر عبد المصطفٰی احمد رضا حنفی قادری بر کاتی بریلوی غفرلہ ماجنی کو بہ ہمراہی رکاب، سعادت انتساب، حضرت افضل المحققین، امثل المقدققین، حامی السنۃ السنیّۃ، ماحی الفتن الدنیّہ، خدمت والدم، قبلہ اعظم حضرت مولانا مولوی محمد نقی علی خاں صاحب قادری برکاتی مدظلہم العالٰی مدی تعاقب الایام واللیالی، خلف حضرت قد وۃالعارفین، زبدۃ الفاضلین، حجۃ اﷲفی الارضین ، معجزہ من معجزات سیّد المرسلین علیہ الصّلوٰۃ والتسلیم حضرت مولونا محمد رضا علی خاں صاحب قادری قدس شرہ العلی ، نعمت حاضری بلدہ معظمہ مکہ مکرمہ زادہا اﷲتعالیٰ شرفاً وتکریماً ہاتھ آئی، حُسنِ اتفاق سے ایک روز جناب مولانا سیّدی حسین بن صالح جمل اللیل علوی فاطمی قادری مکی امام وخطیب شافعیہ سے مقامِ ابراہیم علیہ الصّلوٰۃ والتسلیم کے
قریب کہ فقیر رکعات ِ طواف اوروُہ جناب امامتِ نمازِ مغرب سے فارغ ہوئے تھے ملازمت حاصل ہوئی۔ سبحان اﷲ! عجب بزرگ خوش اوقات وبابرکات ہیں، اکثر عرب وجاد ہ وداغستان وغیرہا بلاد نزدیک و دور کے ہزاروں آدمی ان کے بلکہ ان کے مریدوں کے مرید اور شرفِ بیعت و سلسلۂ تلمذ سے مستفیض ہیں، اوّل نماز میں حد عہ۱ سے زیادہ تلطف فرمایا،
(عہ۱:حالانکہ اس وقت کوئی تعارف نہ تھا وہ توفقیر کو کیا جانتے، فقیر نے بھی اس سے پہلے انہیں نہ دیکھا تھا پھر جو کچھ کلمات انہوں نے فرمائے فقیر دنیا و آخرت میں ان کی برکات کی امید رکھتا ہے۱۲ منۃ غفرلہ)
فقیر کا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لیے دولت خانہ تک کہ نزدیک باب صفا واقع ہے لے گئے اور تاقیام مکہ معظمہ حاضری کا تقاضا فرمایا، فقیر حسب وعدہ حاضر ہوا، مسائل حج میں ایک اُرجوزہ اپنا مسمّیٰ بالجوہرۃ المضیۃ فقیر کو سنایا، پھر فرمایا کہ اکثر اہل اس سے مستفیض نہیں ہوسکتے ، ایک تو زبان عربی ' دوسرے مذہب شافعی اور ہندی اکثر حنفی ہیں، مَیں چاہتا ہوں تُو اس کی بزبانِ اردو تشریح اور اس میں مذاہب حنفیہ کی توضیح کردے۔ فقیر نے باعث اجر جزیل اور ثواب جمیل سمجھ قبول کیا اگر چہ وہاں فرصت نہ تھی ' نہ کتابیں پاس۔ روزِ اوّل دو۲ بیت کے متعلق صرف تفصیل مسائل میں تین ورق طویل سے زائد لکھے گئے۔ جب بطور انموذج حاضر کیے جناب مولانا نے فرمایا: میرامقصود تطویل اور اس قدر تفصیل نہیں کہ عوام اس سے کم منتفع ومتمتع ہوتے ہیں صرف ہمارے کلام کا ترجمہ عہ ۲ و خلاصہ مطلب اور جہاں حنفیہ کا اختلاف ہو ان کا بیان مذہب ہوجائے۔
(عہ۲:حسب الارشادِ مصنّف بیان شافعیہ میں صرف ترجمہ و شرح متن پر قناعت کی تنقیح وترجیح سے غرض نہ رکھی اگر چہ مکہ معظمہ میں اس کا عمدہ سامان مہیّا تھا، کتب شافعیہ بکثرت ملتیں مگر اس میں ایک تو دیر ہوتی دوسرے مقصود اصلی اس شرح سے ہندیوں کا نفع تھا اُن کے اہلِ سنّت عموماً حنفی، پھر مذہب شافعیہ کی تنقیح ہونی نہ ہونی ایک سی ۱۲منہ۔)
فقیر نے امتثالِ امر لازم اوریہی امر فرصتِ حاصلہ کے ملائم دیکھ کر بتاریخ ہفتم ذی الحجہ روز جاں افروز دوشنبہ یہ مختصر جملے لکھ دئے اورا لنیرۃ الوضیۃ فی شرح الجوہرۃ المضیۃ سے ملقب کئے اگر چہ بعض عہ۳ ضروریات پر بھی مشتمل نہیں مگر حسب، استدعائے مصنّف ہے اور بیان مذہبِ حنفیہ میں اختیار راجح اور ترک عہ۴ مرجوح کے ساتھ متصف۔
(عہ۳: سفر حرمین طیبین سے معاودت کے بعد حضرت والد علام قدس سرہ، نے جواہر البیان شریف تصنیف فرمائی، فقیر نے اس کے بعض کلمات کا خلاصہ اس شرح کے آخر میں لکھ کر تکملہ کردیا جس کے باعث بحمد اﷲ اب یہ مختصر تحریر ضروریات پر مشتمل ہوگئی البتّہ ایک جرمانہ کا بیان کہ دفتر چاہتا ہے اور محرم احتیاط رکھے تو اس کی حاجت بھی نہیں پڑتی متروک رہا جسے کسی امر کی ضرورت ہو علماء سے در یافت کرسکتا ہے ۱۲منہ
(عہ۴:مگر نادراً دو قول بھی بیان میں آئے جہاں دونوں جانب قوت قویہ تھی پھر جسے اس وقت اقویٰ سمجھا بیان میں مقدم رکھا ۱۲منہ ۔)
''م'' سے مراد متن ہے اور ''ت'' ترجمہ''ش'' شرح''ف'' فائدہ عہ ۱ ۔
واﷲنسأل التوفیق، منہ الوصول الٰی سواء الطریق
(اور اﷲتعالٰی سے ہی ہم توفیق کا سوال کرتے ہیں اور اسی کے کرم سے صراط مستقیم تک رسائی ہے۔ت)