(۱۹) جہاں تک ممکن ہو اور زبان یاری دے اور ملال وکسل نہ ہو صلوٰۃ وسلام کی کثرت کرو۔ حضور سے اپنے لیے اور اپنے ماں باپ ۔ پیر، استاد، اولاد، عزیزوں، دوستوں ا ور سب مسلمانوں کے لیے شفاعت مانگو، بار بار عرض کرو۔
اَسْئَلُکَ الشَّفَاعَۃَ یَا رَسُوْلَ اﷲ ۲؎
(اے اللہ کے رسول! آپ سے شفاعت کا سوالی ہوں۔ ت)
(۲؎ شرح لباب مع ارشاد الساری باب فی زیارت سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص۳۳۹)
(۲۰) پھراگر کسی نے عرض سلام کی وصیت کی بجالاؤ۔ شرعا اس کا حکم ہے۔ اور یہ فقیر ذلیل ان مسلمانوں کو جواس رسالہ کو دیکھیں وصیت کرتاہے کہ جب انھیں حاضری نصیب ہو بارگارہ نصیب ہو فقیر کی زندگی میں یابعد کم از کم تین بار مواجہہ اقدس میں ضرور یہ الفاظ عرض کرکے اس نالائق ننگِ خلائق پر احسان فرمائیں، اللہ ان کودونوں جہاں میں جزا بخشے۔ آمین:
( اے اللہ کے رسول آپ پر صلوٰۃ وسلام ہو، آپ کی آل وذریت پر بھی ہرذرہ کے برابر، لاکھوں مرتبہ آپ کے غلام احمدرضابن نقی علی پر، اور وہ آپ سے شفاعت کا خواستگار ہے اس کی اور تمام مسلمانوں کی شفاعت فرمائیے۔ ت)
(۲۱) پھر اپنے دہنے ہاتھ یعنی مشرق کی طرف ہاتھ بھر ہٹ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرہ نورانی کے سامنے کھڑے ہوکر عرض کرو:
( اے امیرالمومنین آپ پر سلام۔ اے چالیس مسلمان پورے فرمانے والے! آپ پر سلام ۔ اے اسلام اور مسلمانوں کی عزت! آپ پر سلام اور رحمت وبرکاتِ الہٰی کا نزول ہو۔ ت)
(۲؎ شرح لباب مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص۳۳۹)
(۲۳) پھر بالشت بھر مغرب کی طرف پلٹو اور صدیق وفاروق کے درمیان کھڑے ہوکر عرض کرو:
( اے رسول اللہ کے دونوں خلیفو! تم پر سلام ہو، اے رسول اللہ کے دونو ں وزیرو! تم پر سلام ہو ۔ اے رسول اللہ کے پہلو میں لیٹنے والو! تم پر سلام اور اللہ کی رحمتوں و برکات کا نزول ہو، آپ دونوں سے درخواست ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیکما وبارک وسلم کی خدمت اقدس میں میرے لیے شفاعت کا وسیلہ اور سہارا بنو۔ ت)
(۳؎ شرح لباب مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص۳۴۰)
(۲۴) یہ سب حاضریاں محل اجابت ہیں دعا میں کوشش کرو، دعا ئے جامع کرو۔ درود پر قناعت بہتر ہے۔
(۲۵) پھر منبر اطہر کے قریب دعامانگو۔
(۲۶) پھر روضہ جنت میں (یعنی جو جگہ منبروحجرہ منورہ کے درمیان ہے اور اسے حدیث میں جنت کی کیاری فرمایا۱؎ آکر دورکعت نفل غیر وقت مکروہ میں پڑھ کر دعا کرو۔
(۱؎ شرح لباب مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص۳۴۱)
(۲۷) یونہی مسجد شریف کے ہر ستون کے پاس نماز پڑھو اور دعامانگو کہ محل برکات ہیں خصوصاً بعض میں خاص خصوصیت۔
(۲۸) جب تک مدینہ طیبہ کی حاضری نصیب ہر ایک سانس بیکار نہ جائے وہ ضروریات کے سوا اکثر وقت مسجد شریف میں باطہارت حاضر ہو، نماز وتلاوت ودرود میں وقت گزارو دنیا کی بات کسی مسجد میں نہیں چاہئے نہ کہ یہاں۔
(۲۹) ہمیشہ ہر مسجد میں جائے اعتکاف کی نیت کرلو۔ یہاں تمھاری یاددہانی ہی کو دروازے سے بڑھتے ہی یہ کتبہ ملے گا۔
نَوَیْتُ سُنَّۃَ الْاِعْتِکَاف ط
(میں سنت اعتکاف کی نیت کرتا ہوں۔ ت)
(۳۰) مدینہ طیبہ میں روزہ نصیب ہو خصوصاً گرمی میں تو کیا کہنا کہ اس پر وعدہ شفاعت ہے۔
(۳۱) یہاں ہر نیکی ایک کی پچاس ہزار لکھی جاتی ہے لہذا عبادت میں زیادہ کوشش کرو، کھانے پینے کی کمی ضرور کرو۔
(۳۲) قرآن مجید کا کم سے کم ایک ختم یہاں اور حطیم کعبہ معظمہ میں کرلو ۔
(۳۳) روضہ انور پر نظر بھی عبادت ہے جیسے کعبہ معظمہ یا قرآن مجید کا دیکھنا توادب کے ساتھ اس کی کثرت کرو اور درود وسلام عرض کرو۔
(۳۴) پنجگانہ یا کم از کم صبح وشام مواجہہ شریف میں عرض سلام کے لیے حاضر رہو۔
(۳۵) شہر میں یا شہر سے باہر جہاں کہیں گنبد مبارک پر نظر پڑے فوراً دست بستہ ادھر منہ کرکے صلوٰۃ وسلام عرض کرو بغیر اس کے ہر گز نہ گزرو کہ خلاف ادب ہے۔
(۳۶) ترکِ جماعت بلا عذر ہر جگہ گناہ ہے اور کئی بار ہو تو سخت حرام وگناہ کبیرہ، اور یہاں تو گناہ کے علاوہ کیسی سخت محرومی ہے والعیاذ باللہ تعالیٰ، صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جسے میری مسجد میں چالیس نمازیں فوت نہ ہوں اس کے لیے دوزخ ونفاق سے آزادیاں لکھی جائیں ۲؎۔
(۲؎ مسند احمد بن حنبل مروی از انس بن مالک دارالفکر بیروت ۳ /۱۵۵)
(۳۷) قبر کریم کو ہر گز پیٹھ نہ کرو اور حتی الامکان نماز میں بھی ایسی جگہ کھڑے ہو کہ پیٹھ کرنی نہ پڑے۔
(۳۸) روضہ انور کا طواف کرو۔ نہ سجدہ، نہ اتناجھکنا کہ رکوع کے برابر ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے۔
(۳۹) بقیع واُحد وقبا کی زیارت سنت ہے۔ مسجد قبا کی دو رکعت کا ثواب ایک عمرے کے برا بر ہے اور چا ہو تو یہیں حاضر رہو، سیدی ابن ابی جمرہ قدس سرہ، جب حضور ہوتے آٹھوں پہر برابر حضوری میں کھڑے رہتے۔ ایک دن بقیع وغیرہ کی زیارت کا خیال آیا پھر فرمایا یہ ہے اللہ کادروازہ بھیک مانگنے والوں کے لیے کھلا ہے اسے چھوڑ کر کہاں جاؤں ؎
سرایں جاسجدہ این جابندگی ایں جا قرار ایں جا
(۴۰) وقت رخصت مواجہہ انور میں حاضر ہوا ورحضور سے بار بار اس نعت کی عطا کا سوال کرو، اور تمام آداب کہ کعبہ معظمہ سے رخصت میں گزرے ملحوظ رکھو اور سچے دل سے دعاکرو کہ الہٰی! ایمان وسنت پر مدینہ طیبہ میں مرنا اور بقیع پاک میں دفن ہونا نصیب ہو۔