وصل ہفتم حاضری سرکار اعظم مدینہ طیبہ حضور حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
(۱) زیارت اقدس قریب بواجب ہے بہت لوگ دوست بن کر طرح طرح ڈراتے ہیں، راہ میں خطرہ ہے وہاں بیماری ہے، خبردار! کسی کی نہ سنو، اور ہر گز محرومی کا داغ لے کر نہ پلٹو، جان ایک دن جانی ضرور ہے اس سے کیا بہتر ہے کہ ان کی راہ میں جائے۔ اورتجربہ ہے کہ جو ان کا دامن تھام لیتا ہے اسے اپنے سایہ میں بآرام لے جاتے ہیں کیل کا کھٹکا نہیں ہوتا۔ والحمد للہ۔
(۲) حاضری میں خاص زیارت اقدس کی نیت کرو یہاں تک کہ امام ابن الہمام فرماتے ہیں اس بار مسجد شریف کی بھی نیت نہ کرے۔
(۳) راستہ بھر درود وذکر شریف میں ڈ وب جاؤ۔
(۴) جب حرم مدینہ نظر آئے بہتر یہ ہے کہ پیادہ ہو لو،روتے، سرجھکاتے، آنکھیں نیچی کئے، اور ہوسکے تو ننگے پاؤں چلو بلکہ ؎
جائے سراست اینکہ تو پامی نہی پائے نہ بینی کہ کجا می نہی
حر م کی زمین اور قدم رکھ کے چلنا ارے سر کا موقعہ ہے او جانے والے
(۵) جب قبہ انور پر نگاہ پڑے درود وسلام کی کثرت کرو۔
(۶) جب شہر اقدس تک پہنچو جلال وجمال محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تصور میں غرق ہوجاؤ۔
(۷) حاضری مسجد سے پہلے تمام ضروریات جن کا لگاؤ دل بٹنے کا باعث ہو نہایت جلد فارغ ہو، ان کے سوا کسی بیکار بات میں مشغول نہ ہو۔ معاً وضو او رمسواک کر واور غسل بہتر ، سفید وپاکیزہ کپڑے پہنو اور نئے بہتر، سرمہ اور خوشبو لگاؤ اور مشک افضل ہے۔
(۸) اب فوراً آستانہ اقدس کی طرف نہایت خشوع وخضوع سے متوجہ ہو، رونا نہ آئے تو رونے کامنہ بناؤ، اور دل کو بزور رونے پر لاؤا ور اپنی سنگدلی سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف متوجہ کرو۔
(۹) جب درمسجد پر حاضر ہو صلوٰۃ وسلا م عرض کرکے تھوڑا ٹھہرو جیسے سرکار سے حاضری کی اجازت مانگتے ہو، بسم اللہ کہہ کر سیدھا پاؤں پہلے رکھ کہ ہمہ تن ادب ہوکر داخل ہو۔
(۱۰) اس وقت جو ادب وتعظیم فرض ہے ہر مسلمان کا دل جانتاہے کہ آنکھوں کان، زبان، ہاتھ، پاؤں، دل سب خیال غیر سے پاک کرو۔ مسجد اقدس کے نقش ونگار نہ دیکھو۔
(۱۱) اگر کوئی ایسا سامنے آجائے جس سے سلام کلام ضرور ہو تو جہاں تک بنے کتراجاؤ، ورنہ ضرورت سے زیادہ نہ بڑھو، پھر بھی دل سرکار ہی کی طرف ہو۔
(۱۲)ہر گز ہرگز مسجد اقدس میں کوئی حرف چلاکر نہ نکلے۔
(۱۳) یقین جانو کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سچی حقیقی دنیاوی جسمانی حیات سے ویسے ہی زندہ ہیں جیسے وفات شریف سے پہلے تھے۔ ان کی اور تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی موت صرف وعدہ خدا کی تصدیق کو ایک آن کے لیے تھی۔ ان کا انتقال صرف نظر عوام سے چھپ جانا ہے۔
امام محمد ابن الحاج مکی مدخل اور امام احمد قسطلانی مواہب اللدنیہ میں اور ائمہ دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین فرماتے ہیں:
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیات وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں اور ان کی نیتوں، ان کے ارادوں ، ان کے دلوں کے خیالوں کو پہچانتے ہیں، اوریہ سب حضور پر ایساروشن ہے جس مں اصلاً کوئی پوشیدگی نہیں۔
(۱؎ المدخل لابن الحاج فصل فی زیارۃ القبور دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۲۵۲)
(شرح مواہب زرقانی المقصدالعاشر مطبعہ عامرہ مصر ۸ /۳۴۸)
امام رحمہ اللہ تلمیذ امام محقق ابن ا لہمام منسک متوسط اور علی قاری مکی اس کی شرح مسلک متقسط میں فرماتے ہیں:
بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تیری حاضری اور تیرے کھڑے ہونے اور تیرے سلام بلکہ تیرے تمام افعال واحوال وکوچ ومقام سے آگاہ ہیں۔
(۲؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری باب زیارۃ سیدالمرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص۳۳۸)
(۱۴) اب اگر جماعت قائم ہو شریک ہوجاؤ کہ اس میں تحیۃ المسجد بھی ادا ہوجائیگی ورنہ اگر غلبہ شوق مہلت دے اور اس وقت کراہت نہ ہو تو دو رکعت تحیۃ المسجدو شکرانہ حاضری دربارہ اقدس صرف قُل یَا اور قُل سے بہت ہلکی مگر رعایت سنت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ جہاں ا ب وسط کریم میں محراب بنی ہے اور وہاں نہ ملے تو جہاں تک ہوسکے اس کے نزدیک اداکرو، پھر سجدہ شکر میں دعا کرو کہ الہٰی! اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ادب اور ان کا اور اپنا قبول نصیب کر۔ آمین!
(۱۵) اب کمال ادب میں ڈوبے ہوئے گردن جھکائے آنکھیں نیچی کیے، لرزتے، کانپتے، گناہوں کی ندامت سے پسینہ پسینہ ہوتے حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عفو وکرم کی امید رکھتے حضور والا کی پائیں یعنی مشرق کی طرف سے مواجہہ عالیہ میں حاضر ہو کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مزار انور میں روبقبلہ جلوہ فرما ہیں اس سمت سے حاضر ہو کہ حضور کی نگاہ بیکس پناہ تمھاری طرف ہوگی اور یہ بات تمھارے لیے دونوں جہان میں کافی ہے۔ والحمد للہ ۔
(۱۶) اب کمال ادب وہیبت وخوف وامید کے ساتھ زیر قندیل اس چاندی کی کیل کے جو حجرہ مطہرہ کی جنوبی دیوار میں چہرہ انور کے مقابل لگی ہے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلہ سے قبلہ کو پیٹھ اور مزار انور کو منہ کرکے نماز کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے ہو، لباب وشرح لباب واخیتار شرح مختار، فتاوائے عالمگیری وغیرہمامعتمد کتابوں میں اس کی تصریح فرمائی کہ
یقف کمافی الصلٰوۃ،۱
حضور کے سامنے ایسا کھڑا ہو جیسا نماز میں کھڑاہو تاہے، یہ عبارت عالمگیری واختیار کی ہے،
(۱؎ فتاویٰ ہندیہ خاتمہ فی زیارۃ قبر النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۲۶۵)
اور لباب میں فرمایا:
وَاضِعًا یَمِیْنِہ، عَلٰی شِمَالِہٖ ۲؎
دست بستہ دہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پررکھ کر کھڑا ہو،
(۲؎ شرح لباب مع ارشاد الساری باب فی زیارت سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص۳۳۷)
(۱۷) خبردار جالی شریف کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچو کہ خلاف ادب ہے بلکہ چار ہاتھ فاصلہ سے زیادہ قریب نہ جاؤ یہ ان کی رحمت کیا کم ہے کہ تم کوا پنے حضور بلایا اور اپنے مواجہہ اقدس میں جگہ بخشی، ان کی نگاہ کریم اگر چہ تمھاری طرف تھی اب خصوصیت اور اس درجہ قرب کے ساتھ ہے والحمد للہ۔
(۱۸) الحمد للہ اب کہ دل کی طرح تمھارا منہ بھی اس پاک جالی کی طرف ہے جو اللہ عزوجل کے محبوب عظیم الشان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آرام گاہ ہے نہایت ادب و وقار کے ساتھ بآواز حزیں و صورت دردآگیں، و دل شرمناک وجگر چاک چاک، معتدل آواز سے نہ بلند وسخت ( کہ ان کے حضور آواز بلند کرنے سے عمل اکارت ہوجاتے ہیں) نہ نہایت نرم وپست (کہ سنت کے خلاف ہے اگر چہ وہ تمھارے دلوں کے خطروں تک سے اگاہ ہیں جیسا کہ ابھی تصریحات ائمہ سے گزرا) مجراوتسلیم بجا لاؤ اور عرض کرو:
( اے پیارے نبی! آپ پر سلام ہو او راللہ کی رحمت وبرکات ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو۔ اے مخلوق خدا میں سب سے بہتر آپ پر سلام ہو۔ اے گنہ گاروں کی شفاعت فرمانے والے آپ پر سلام ہو۔ آپ پر۔ اور آپ کے آل واصحاب پر اور تمام امت پر سلام ہو۔ ت)
(۱؎ شرح لباب مع ارشاد الساری باب فی زیارت سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص۳۳۸)