Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
180 - 198
مسئلہ: خمیرہ تمباکو نہ پینا بہتر مگر منع یا کفارہ نہیں عہ۲۔
عہ۲ :کما حققناہ فیما علی ردالمحتار ۱۲ منہ (م)
جیسا کہ ہم نے تفصیل حاشیہ ردالمحتار میں دی ہے۔ (ت)
 (۱۴) اگر چہارم سر یا داڑھی کے بال زیادہ کسی طرح دور کئے تو دم ہے اور کم میں صدقہ۔

(۱۵) اگر چند لا ہے یا داڑھی بہت ہلکی چھدری تویہ دیکھیں کہ اتنے بال اس جگہ کی چہارم مقدار تک پہنچتے ہیں یا نہیں؟

(۱۶) یونہی چند جگہ سے دور کئے تو ملا کر چہارم کی مقدار دیکھیں گے۔

(۱۷) اگر سارے بدن کے بال ایک جلسہ میں دور کئے توایک ہی جرم ہے اور مختلف جلسے تو ہربار نیا جرم۔

(۱۸) مونچھیں اگر چہ پوری ہوں صرف صدقہ ہے۔
 (۱۹) گردن یا ایک بغل پوری  ہو تو دم ہے اور کم میں اگر چہ نصف یا زائد ہو صدقہ۔ یونہی موئے زیر ناف چہارم کو سب کے برابر ٹھہرانا صرف سر اور داڑھی میں ہے۔ 

(۲۰) دونوں بغلیں پوری منڈائے جب بھی ایک ہی دم ہے۔

(۲۱) سرا ور داڑھی اور زیر ناف اور بغل کے سوا باقی اعضاء کے منڈنے میں صرف صدقہ ہے۔

(۲۲) مونڈنا، کترنا، موچنہ سے لینا، نورہ لگانا سب کا ایک حکم ہے۔

(۲۳) عورت اگر سارے یا چہارم سرکے بال ایک پورہ برابر کترے تو دم ہے اور کم میں صدقہ۔

(۲۴) وضو عہ۱ کرنے یا کھجا نے یا کنگھی کرنے میں جو بال گرے اس پر بھی پورا صدقہ ہے۔ اور بعض نے کہا دوتین بال تک ہر بال کے لیے ایک مٹھی اناج یا ایک روٹی کا ٹکڑا یا ایک چھوہارا۔
عہ۱ : یہاں بھی جلسہ کا اعتبارچاہے ایک جلسہ میں ایک بال یا کل ٹوٹیں توا یک صدقہ اور متعدد جلسوں میں تو متعدد ۲ ۱منہ (م)
 (۲۵) بال آپ گرجائے بے اس کا ہاتھ لگائے یا بیماری سے تمام بال گرپڑیں توکچھ نہیں۔

(۲۶) ایک ہاتھ ایک پاؤں کے پانچوں ناخن کترے یا بیسوں ایک ساتھ تو ایک دم ہے۔ اور اگر کسی ہاتھ پاؤں کے پورے پورے پانچ نہ کترے تو ہر ناخن پر ایک صدقہ، یہاں تک کہ چاروں ہاتھ پاؤں کے چار چار کترے تو سولہ صدقے دے مگر یہ کہ صدقوں کی قیمت ایک دم کے برابر ہوجا ئے تو کچھ کم کر لے۔

(۲۷) اگر ایک جلسہ میں ایک ہاتھ یا پاؤں کے کترے، دوسرے میں دوسرے کے، تودو دم دے، یونہی چار جلسوں میں چاروں کے تو چار دم۔

(۲۸) کوئی ناخن ٹوٹ گیا کہ اب اگنے کے قابل نہ رہا اس کا بقیہ اس نے کاٹ لیا تو کچھ نہیں۔

(۲۹) شہوت کے ساتھ بوس وکنار ومساس میں د م عہ۲ہے اگرچہ انزال نہ ہو اور بلا شہوت میں کچھ نہیں۔
عہ۲ :مسئلہ: مرد کے ان افعال سے عورت کو لذت آئے تو بھی دم ہے ۲ ۱منہ (م)
 (۳۰) اندام نہانی پرنگاہ کرنے سے کچھ نہیں اگرچہ انزال ہوجائے۔ مکروہ ضرورہے۔

(۳۱) جلق  سے انزال ہوجائے تو دم ہے ورنہ مکروہ ہے۔

(۳۲) طواف فرض کلی یا اکثر جنابت میں یا حیض ونفاس میں کیا تو بد نہ ہے، اور بے وضو تودم ہے اور پہلی صورت میں طہارت کے ساتھ ا س کا اعادہ واجب، دوسری میں مستحب ۔

(۳۳) نصف سے کم پھیرے بے طہارت کے کئے تو ہر پھیرے کے لیے ایک صدقہ۔

(۳۴) طواف فرض کل یا اکثر بلاعذر اپنے پاؤں چل کرنہ کیا بلکہ سواری یا گودمیں یا بیٹھے بیٹھے۔

 (۳۵) یا بے ستر عورت کیا مثلاً عورت کی چہارم کلائی یا چہارم سر کے بال کھلے تھے۔

(۳۶) یاکعبہ کودہنے ہاتھ پر لے کے الٹا کیا۔

(۳۷) یا اس میں حطیم کے اندر ہو کر گزرا۔

(۳۸) یا بارھویں کے بعد کیا توان پانچوں صورتوں میں دم دے۔

(۳۹) اس کے چار سے کم پھیرے بالکل نہ کئے تو دم دے دے اور بارھویں کے بعد کئے تو ہر پھیرے پر صدقہ ہے۔

(۴۰) طواف فرض کے سوا اور کوئی طواف ناپاکی میں کیا تودم ہے، اور بے وضو توصدقہ۔

(۴۱) فرض وغیرہ کوئی طواف ہو جیسے ناقص طورپر کیا کہ کفارہ لازم ہوا، جب کامل اعادہ کرلیا کفارہ اترگیا مگر بارھویں کے بعد ہونے سے جو نقصان طواف فرض کے سوا کسی پھیرے میں آیا اس کا اعادہ ناممکن بارھویں تو گزرگئی۔

(۴۲) نجس کپڑوں سے طواف مکروہ ہے کفارہ نہیں۔
 (۴۳) سعی کے چار پھیرے یازیادہ بلاعذر اصلاً نہ کئے، یا سواری پر کئے تو دم ہے اورحج گیا اور چار سے کم میں ہر پھیرے پرصدقہ دے۔

(۴۴) طواف سے پہلے سعی کرلی پھر کرے، نہ کرے گا تودم لازم۔

(۴۵) دسویں کی صبح بلا عذر مزدلفہ میں وقوف نہ کیا تودم دے۔ ہاں کمزور یاعورت بخوفِ زحمت ترک کرے تو جرمانہ نہیں۔

 (۴۶) حلق حرم میں نہ کیا حدودِ حرم سے باہر کیا یا بارھویں کے بعد کیا تو دم ہے۔

(۴۷) رمی سے پہلے حلق کرلیا دم دے۔

(۴۸) قارن یا متمتع رمی سے پہلے قربانی یا قربانی سے پہلے حلق کریں تو دم دیں۔

 (۴۹) اگر رمی کسی دن اصلاً نہ کی۔
(۵۰) یا کسی ایک دن کی بالکل یا اکثر ترک کردی مثلاً دسویں کو تین کنکریوں تک ماریں یا گیارھویں کو دس کنکریوں تک۔

(۵۱) یا کسی ایک دن کی بالکل یا اکثر اس کے بعد دوسرے دن کی، تو ان صورتوں میں دم دے، اورا گر کسی دن کی رمی اس کے بعد آنے والی رات کرلی توکفارہ نہیں۔

(۵۲) اگر کسی دن کے نصف سے کم رمی مثلاً دسویں کی تین کنکریاں اور دن کی دس بالکل چھوڑدیں یا دوسرے دن کیں، توہر کنکری پرا یک صدقہ دے۔ ان صدقوں کی قیمت دم کے برابر ہوجائے تو کچھ کم کرلے۔
 (۵۳) احرام والے نے کسی دوسرے کے بال مونڈے یا ناخن کترے اگر وہ بھی احرام میں ہے تو یہ صدقہ دے اور وہ صدقہ یا دم اسی تفصیل پر کہ اوپر گزری۔ اور اگر وہ احرام میں نہیں تو کچھ خیرات کردے اگر چہ ایک مٹھی، اور وہ کچھ نہیں۔

(۵۴) اور اگر اس کو سلے کپڑے پہنائے یا خوشبو اس طرح لگائی کہ اپنے نہ لگی توا س پرکفارہ نہیں، ہاں گناہ ہوگا، اگر وہ بھی احرام میں تھا۔ا ور وہ حسب تفصیل مذکور دم یا صدقہ دے گا۔
 (۵۵) وقوف عرفہ سے پہلے جماع کیا تو حج نہ ہوا اسے حج ہی کی طرف پورا کرکے دم دے اور پھر فوراً ہی سال آئندہ اس کی قضا کرلے۔ عورت بھی احرام حج میں تھی توا س پرلازم ہے اور مناسب ہے کہ حج کے احرام سے ختم تک دونوں اس طرح جدا رہیں کہ ایک دوسرے کو نہ دیکھے، اگر خوف ہو کہ پھر اس بلا میں پڑجائیں گے اور وقوف کے بعد صحبت کرنے سے حج تو نہ جائے گا مگر اگر حلق وطواف سے پہلے کیا تو بُدنہ دے اور دونوں کے بیچ میں کیا تو دم، او ربہتر عہ اب بھی بدنہ ہے او دونوں کے بعد کچھ نہیں۔
عہ: ذکرتہ خروجاً عن خلاف قوی ۲ ۱منہ (م)
میں نے اس کو اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ قوی اختلاف سے خروج ہوجائے۔ (ت)
 (۵۶) عمرہ میں طواف کے چارپھیروں سے پہلے جماع کیا تو عمرہ جاتارہا دم دے او رعمرہ پھر کرے او رچار کے بعد دم دے عمرہ صحیح ہے۔

(۵۷) اپنی جوں اپنے بدن یا کپڑوں میں ماری یاپھینک دی تو ایک میں روٹی کا ٹکڑا دے۔ او ردو ہوں تو مٹھی بھر اناج اور زیادہ میں صدقہ دے۔

 (۵۸) جوئیں مارنے کو سر یا کپڑا دھویا یا دھوپ میں ڈالا جب بھی یہی کفارے جو خود قتل میں تھے۔

(۵۹) یونہی دوسرے نے اس کے کہنے یا اشارہ کرنے سے اس کی جوں  کومارا جب بھی اس پرکفارہ ہے اگرچہ وہ دوسرا احرام میں نہ ہو۔

(۶۰) زمین وغیر ہ پر گری ہوئی جوں یا دوسرے کے بدن یا کپڑوں کی مارنے میں اس پر کچھ نہیں اگر چہ وہ دوسرا بھی احرام میں ہو۔
مسئلہ: جہاں ایک دم یا صدقہ ہے قارن پردو ہیں۔

مسئلہ: کفارہ کی قربانی یا قارن ومتمتع کے شکرانہ کی غیر حرم میں نہیں ہوسکتی مگر شکرانہ کی قربانی سے آپ کھائے، غنی کو کھلائے، اور کفارہ کی صرف محتاجوں کا حق ہے۔

نصیحت: کفارے اس لیے ہیں کہ بھول چوک سے یا سونے میں یا مجبوری سے جرم ہوں تو کفارہ سے پاک ہوجائیں ، نہ اس لیے کہ جان بوجھ کر بلاعذر جرم کرو اور کہو کفارہ دے دیں گے، دینا تو جب بھی آئیگا، مگر قصداً حکمِ الٰہی کی مخالفت سخت ہے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ حق سبحانہ توفیق طاعت عطافرماکر مدینہ کی زیارت کرائے۔ آمین!
Flag Counter