| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
ان کی تفصیل موجب تطویل اوررسالہ مختصر اور وقت قلیل، اور جو طریقے بتا دئے ہیں ان پر عمل کرنا ان شاء اللہ تعالٰی جرمانے سے بچنے کا کفیل۔ لہذا یہاں صرف اجمالاً معدود مسائل کا بیان ہوتا ہے۔ تنبیہ: اس فصل میں جہاں دم کہیں گے اس سے مراد ایک بھیڑ یا بکری ہوگی، اوربدنہ اونٹ یا گائے۔ یہ سب جانور انھیں شرائط کے ہوں جوقربانی میں ہوں، اور صدقہ سے مراد انگریزی روپے سے ایک سو پچھتر (۱۷۵) روپے آٹھ آنے بھر کہ سوروپے کے سیر سے پونے دوسیر ہوئے اٹھنی بھر اوپر گندم یا اس کے دونے جو یا کجھور یاان کی قیمت۔
مسئلہ : جہاں دم کا حکم ہے وہ جرم اگر بیماری یاسخت گرمی یا شدید سردی یا زخم یا پھوڑے یا جُوؤں کے ایذا کے باعث ہوگا توا سے جرم غیر اختیاری کہتے ہیں اس میں اختیا ر ہوگا کہ دم کے بدلے چھ مسکینوں کو ایک ایک صدقہ دے دے یا تین روزے رکھ لے۔ اور اگر اس میں صدقہ کا حکم ہے اور بہ مجبوری کیا تھا اختیار ہوگا کہ صدقے کے بدلے ایک روزہ رکھ لے۔ اب احکام سنئے: (۱) سِلا کپڑا یا خوشبو کا رنگا چار پہر عہ۱ کامل یا لگاتار زیادہ دنوں پہنا تودم واجب ہے، اور چار پہر سے کم اگرچہ عہ۲ ایک لحظہ توصدقہ۔
عہ۱ :چار پہر سے مراد ایک دن یارات کی مقدار ہے۔ مثلاً طلوع سے غروب یاغروب سے طلوع یا دوپہر سے آدھی رات یا آدھی رات سے دوپہر تک ۲ ۱منہ (م) عہ۲ :یعنی لمحہ بھر پہنا اور پھر اتار ڈالنا جب بھی صدقہ ہے ۱۲ منہ (م)
(۲) اگردن کو پہنا او ررات کو گرمی کے باعث اتار ڈالا، یا رات کو سردی کے سبب پہنا دن کوا تاردیا اور باز آنے کی نیت سے اتارا دوسرے دن پھر پہنا تودوسرا جرمانہ ہوگا، اسی طرح جتنی بار کرے۔ (۳) بیماری کے سبب پہنا تو جب تک وہ بیماری رہے گی ایک جرم ہے اور اگر وہ بیماری یقینا جاتی رہی دوسری بیماری شروع ہوگئی اور اس میں بھی پہننے کی ضرورت ہے جب بھی یہ دوسرا جرم ہوگا مگر غیراختیاری۔ (۴) بیماری وغیرہ سے اگر سر سے عہ۱ پاؤں تک سب کپڑے پہننے کی ضرورت ہوئی تو ایک ہی جرم غیر اختیاری ہے اور اگر مثلاً ضرورت صرف عمامہ کی تھی اور اس نے کرتابھی پہنا تو دو جرم ہیں عمامہ کا غیر اختیاری اور کرتا کا اختیاری۔
عہ۱ مسئلہ :یونہی پوری ہتھیلی یا تلوے پر مہندی لگائے تودم ہے، عورت ہو یا مرد، اور چاروں میں ایک ہی جلسہ میں لگائی تو ایک ہی دم، ورنہ ہر جلسہ پر ایک دم، اور ہاتھ یا پاؤں کے کسی حصہ پر لگائی تو صدقہ ۱۲ منہ (م)
(۵) مرد سارا سر یا چہارم یا مرد خواہ عورت منہ کی ٹکلی ساری یا چہارم چار پہر یازیادہ لگاتار چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہرتک یا زیادہ لگا تا ر چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہر تک یا چار سے کم اگر چہ سارا سریا منہ توصدقہ ہے اور چہارم سے کم کو چار پہر سے کم تک چھپائیں تو گناہ ہے کفارہ نہیں۔
(۶) خوشبو اگر بہت سی لگائی جسے دیکھ کر بہت لوگ بتائیں اگر چہ عضو کے تھوڑے ٹکڑے پر یا کوئی بڑا عضو جیسے سر یا منہ یا ران یا پنڈلی پورا سان دیا اگر چہ تھوڑی ہی خوشبو سے،جب توا س پر دم ہے، اور اگر تھوڑی سی خوشبو تھوڑے حصے میں لگائی تو صدقہ ہے۔
مسئلہ: سنگِ اسود شریف پر خوشبو ملی جاتی ہے وہ اگر بوسہ لینے میں بحالت احرام منہ کو بہت سی لگ گئی تو دم دیناہوگا اور تھوڑی سے صدقہ۔ (۷) سر پر تیل مہندی کا خضاب کیا کہ بال نہ چھپائے تو ایک دم ہے اور اگر گاڑھی تھوپی اور چار پہر گزرے تو مرد پر دو دم عہ۲ہیں اور چار پہر سے کم توا یک صدقہ عہ۳ اور ایک دم، اور عورت عہ۴ پر بہر حال ایک دم۔
عہ۲ :ایک سارے عضو پر خوشبو کاد وسرا چار پہر سر چھپانے کا ۱۲ منہ (م) عہ۳ :خوشبو پر دم اور چار پہر سے کم سے کم سر چھپانے پر صدقہ ۱۲ منہ (م) عہ۴ :صرف خوشبو کا دم ہے اس لیے کہ سر چھپانا تو اسے روا ہے ۲ ۱منہ (م)
(۸) ایک جلسہ میں کتنے ہی بدن پر خوشبو لگائے ایک جرم اور مختلف جلسوں میں ہر بار نیا جرم۔ (۹) تھوڑی سی خوشبو بدن کے متفرق حصوں عہ۵ پر لگائی اگر جمع کرنے سے ایک بڑے عضو کامل کی مقدار ہوجائے تو دم ہے ورنہ صدقہ۔
عہ۵ :قیدت بہ لان الطیب الکثیر لایتقید بکمال العضو فتنبہ ۲ ۱ منہ (م)
یہ قید اس لیے لگائی ہے کہ کثیر خوشبو کی صورت میں کمالِ عضو کے ساتھ مقید نہیں کیا جاتا پس متوجہ رہو ۱۲منہ (ت)
(۱۰) خوشبو دار سرمہ تین بار یاز یادہ بار لگایا تو دم ہے ورنہ صدقہ۔ (۱۱) اگر خالص خوشبو کی چیز اتنی کھائی کہ اکثرمنہ عہ۱ میں لگ گئی تو دم ہے ورنہ صدقہ۔
عہ۱ :اقول لم یقل فیہ الدم کما قال کثیرون لانہ لم یلتزق باکثر فمہ، لایلزم الدم بالخالص فکیف بالمخلوط ووقع ھٰھنا فی شرح اللباب فی النقل عن الحلبی تحریف او سقط فا جتنبہ کما بیناہ علی ھامشہ ۱۲ منہ (م)
میں کہتاہوں یہ نہیں کہا اس میں دم ہے جیسا کہ کثیر حضرات نے کہا کیونکہ حجر اسو د سے کثیر چہرہ کا حصہ مس نہیں کر تا تو جب خالص خوشبو کی وجہ سے دم لازم نہیں تومخلوط کے ساتھ کیسے ہوگا یہاں شرح لباب میں حلبی سے نقل کرتے ہوئے تحریف ہوگئی ہے یا الفاظ ساقط ہوگئے ہیں جیسا کہ ہم نے وہاں حاشیہ میں بیان کردیا ہے ۲ ۱منہ (ت)
(۱۲)کھانے میں خوشبو اگر پکنے میں پڑی یا فنا ہوگئی جب تو کچھ نہیں ورنہ اگر خوشبو کے اجزاء زیادہ ہوں تو وہ خالص خوشبو کے حکم میں ہے، اور اگر کھانے کا حصہ زیادہ ہے تو عام کتابوں میں مطلق حکم دیا کہ اس میں کفارہ کچھ نہیں، ہاں خوشبو آئی تو کراہت ہے۔ (۱۳) پینے کی چیزمیں خوشبو ملائی اگر خوشبو کا حصہ غالب ہے یا تین بار یا زیادہ پیا تو دم ہے ورنہ صدقہ ۔