| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
(۲۸) قارن ومفرد طواف قدوم میں اور متمتع بعد احرام حج کسی طواف نفل میں حج کے رمل وسعی دونوں خواہ صرف سعی کرچکے ہوں تو اس طواف میں رمل وسعی کچھ نہ کریں اور اگر اس میں رمل وسعی کچھ نہ کیا ہو یا صرف رمل کیا ہو یا جس طواف میں کئے تھے وہ عمرہ کاتھا جیسے قارن ومتمتع کا پہلا طواف یا وہ طواف بے طہارت کیا تھا توان چاروں صورتوں میں رمل وسعی دونوں اس طواف فرض میں کریں ۔ (۲۹) کمزور اور عورتیں اگر بھیڑ کے سبب دسویں کو نہ جائیں تو اس کے بعد گیارھویں کو افضل ہے اور اس دن یہ بڑا نفع ہے کہ مطاف خالی ملتا ہے، گنتی کے بیس بیس آدمی ہوتے ہیں۔ عورتوں کو بھی باطمینانِ تمام ہر پھیرے میں سنگ اسود کا بوسہ ملتا ہے۔
(۳۰) جو گیارھویں کو نہ جائے بارھویں کو کرلے۔ اس کے بعد بلا عذر تاخیر گناہ ہے۔ جرمانہ میں ایک قربانی ہوگی، ہاں مثلاً عورت کو حیض یا نفاس آگیا تو وہ ان کے ختم کے بعد کرے۔ (۳۱) بہر حال بعد طواف دو رکعت ضرور پڑھیں۔ اس طواف سے عورتیں بھی حلال ہوجائیں گی، حج پورا ہوگیا کہ اس کا دوسرا رکن یہ طواف تھا۔ (۳۲) دسویں، گیارھویں، بارھویں راتیں منیٰ ہی میں بسرکرنا سنت ہے، نہ مزدلفہ میں نہ مکہ میں نہ راہ میں۔ تو جو دس یا گیارہ کو طواف کے لیے گیا واپس آکر رات منیٰ ہی میں گزارے۔
(۳۳) گیارھویں تاریخ بعد نماز ظہر امام کا خطبہ سن کر پھر رمی کو چلو، ان ایام میں رمی جمرۃ اولیٰ سے شروع کرو جو مسجد خیف سے قریب مزدلفہ کی طرف ہے اس کی رمی کو راہ مکہ کی طرف سے آکر چڑھو کہ یہ جگہ بہ نسبت جمرۃ العقبہ کے بلند ہے، یہاں رو بہ کعبہ سات کنکریاں بطور مذکور مار کر جمرہ سے کچھ آگے بڑھ جاؤ اور دعا میں ہاتھ یوں اٹھاؤ کہ ہتھیلیاں قبلہ کو رہیں، حضور قلب سے حمد و درود ودعا واستغفار میں کم سے کم بیس آیتیں پڑھنے کی قدر مشغول ہو ورنہ پون پارہ یا سورہ بقر پڑھنے کی مقدار تک۔
(۳۴) پھر جمرہ وسطی پر جاکر ایسا ہی کرو۔ (۳۵) پھر جمرہ عقبے پر مگر یہاں رمی کرکے نہ ٹھہرو، معاً پلٹ آؤ۔ پلٹنے میں دعا کرو۔ (۳۶) بعینہٖ اسی طرح بارھویں تاریح تینوں جمرے بعد زوال رمی کرو۔ بعض لوگ آج دوپہر سے پہلے رمی کرکے مکہ معظمہ کو چل دیتے ہیں، یہ ہمارے اصل مذہب کے خلاف اور ایک ضعیف روایت ہے۔ (۳۷) بارھویں کی رمی کرکے غروب آفتاب سے پہلے اختیار ہے کہ مکہ معظمہ روانہ ہوجاؤ۔ مگر بعدغروب چلا جانا معیوب ہے۔ اب ایک دن اور ٹھہرنا اور تیرھویں کو بدستور دوپہر ڈھلے رمی کرکے مکہ جانا ہوگا او ریہی افضل ہے مگر عام لوگ بارھویں کو چلے جاتے ہیں توایک رات دن یہاں قیام میں قلیل جماعت کو دقت ہے۔ (۳۸) حلق رمی سے پہلے جائز نہیں۔ (۳۹) گیارھویں بارھویں کی رمی دوپہر سے پہلے اصلاً صحیح نہیں۔
(۴۰) رمی میں یہ امور مکروہ ہیں:
دسویں کی رمی دوپہر بعدکرنا، تیرھویں کی رمی دوپہر سے پہلے کرنا، رمی میں بڑا پتھر مارنا، توڑ کر بڑے پتھر کی کنکریاں مارنا، جمرہ کے نیچے جو کنکریاں پڑی ہیں اٹھا کر مارنا کہ یہ مردود کنکریاں ہیں جو قبول ہوتی ہیں۔ قیامت کے دن نیکیوں کے پلے میں رکھنے کو اٹھائی جاتی ہیں ورنہ جمروں کے گرد پہاڑ جمع ہوجاتے، ناپاک کنکریاں مارنا، سات سے زیادہ مارنا۔ رمی کے لیے جو جہت مذکور ہوئی اس کا خلاف کرنا، جمرہ سے پانچ ہاتھ سے کم فاصلہ پر کھڑا ہونا، زیادہ کا مضائقہ نہیں، جمروں میں خلافِ ترتیب کرنا، مارنے کے بدلے کنکری جمرے کے پاس ڈال دینا۔
(۴۱) اخیر دن یعنی بارھویں خواہ تیرھویں کو جب منیٰ سے رخصت ہوکر مکہ معظمہ چلو تو وادی محصب عہ۱میں کہ جنۃ المعلیٰ کے قریب ہے سواری سے اترلو بے اترے کچھ دیر ٹھہرکر مشغول دعا ہو، اور افضل یہ ہے کہ عشاء تک نمازیں پڑھو ایک نیند لے کر داخل مکہ معظمہ ہو۔
عہ۱ :جنت المعلیٰ کہ مکہ کا قبرستان ہے اس کے پاس ایک پہاڑ ہے اوروہ دوسرے پہاڑ کے سامنے مکہ کو جاتے ہوئے داہنے ہاتھ پر نالے کے پیٹ سے جدا ہے۔ ان دونوں پہاڑوں کے بیچ کا نالہ وادی محصب ہے، جنت المعلیٰ محصب میں داخل نہیں۔ (م)
(۴۲) اب تیرھویں کے بعد جب تک مکہ میں ٹھہرو اپنے پیر استاد، ماں باپ خصوصا حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور ان کے اصحاب وعترت اور حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی طرف سے جتنے ہوسکیں عمرے کرتے رہو، تنعیم کو جو مکہ معظمہ سے شمال یعنی مدینہ طیبہ کی طرف تین میل کے فاصلے پر ہے جاؤ وہاں سے عمرہ کا احرام جس طرح اوپر بیان ہوا باندھ کر آؤ اور طواف وسعی حسبِ دستور کرکے حلق یا تقصیر کرلو عمرہ ہوگیا، جو حلق کر چکا اور مثلا اسی دن دوسرا عمرہ کیا وہ سر پرا سترا پھر وا لے کافی ہے۔ یوں ہی وہ جس کے سر پر قدرتی بال نہ ہوں۔
(۴۳) مکہ معظمہ میں کم از کم ایک بار ختم قرآن مجید سے محروم نہ رہے۔ (۴۴) جنۃ المعلیٰ حاضرہو کر ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ ودیگر مدفونین کی زیارت کرے۔ (۴۵) مکانِ ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بھی زیارت سے مشرف ہو۔ (۴۶) حضرت عبدالمطلب کی زیارت کریں اور ابو طالب کی قبرپر نہ جاؤ، یونہی جدہ میں جو لوگوں نے حضرت حوا رضی اللہ عنہا کا مزار کئی سوہاتھ کا بنا رکھا ہے وہاں بھی نہ جاؤ کہ بے اصل ہے۔
(۴۷) علماء کی خدمت سے شرف لو خصوصاً اکابر جیسے آج کل حضرت مولانا عبدالحق صاحب مہاجر الٰہ آبادی کہ حمید یہ محل کے قریب تشریف فرما اور مسلمانانِ ہند کے لیے رحمتِ مجسم ہیں اور حضرت شیخ العلماء مولانہ محمد سعید بابصیل اور حضرت شیخ الائمہ مولانا احمد ابوالخیر مروا وقریب صفا اور حضرت عماد السنۃ مولانا شیخ صالح کمال قریب باب الاسلام اور حضرت مولانا سعید اسمٰعیل آفندی حافظ کتب الحرم حرم شریف کے کتب خانے میں وغیر ہم حفظہم عہ۲اللہ تعالٰی۔
عہ۲ :یہ سب حضرات رخصت ہوچکے ہیں۔ (م)
(۴۸) کعبہ معظمہ کی داخلی کمال سعادت ہے اگر جائز طور پر نصیب ہو، حرم عام میں داخلی ہوتی ہے مگر سخت کش مکش کمزور مر دکا کام ہی نہیں، نہ عورتوں کو ایسے ہجوم میں جرأت کی اجازت، زبردست مرد اگر آپ ایذا سے بچ بھی گیا تو اوروں کو دھکے دے کر ایذا دے گا۔ اور یہ جائز نہیں۔ نہ یوں حاضری میں کچھ ذوق ملے اور خاص داخلی بے لین دین اور اس پر لینا بھی حرام اور دینا بھی۔ حرام کے ذریعہ ایک مستحب ملا بھی تو وہ بھی حرام ہوگیا، ان مفاسد سے نجات نہ ملے تو حطیم شریف کی حاضری غنیمت جانے اوپر گزرا کہ وہ بھی کعبہ ہی کی زمین ہے اور اگر شاید بن پڑے یوں کہ خدام کعبہ سے ٹھہر جائے کہ داخلی کے عوض میں کچھ نہ دیں گے۔ اس کے بعد یا قبل چاہے ہزاروں روپے دے دو تو کمال آداب ظاہر وباطن کی رعایت سے آنکھیں نیچے کئے، گردن جھکائے گناہوں پر شرماتے۔ جلال رب البیت سے لرزتے کانپتے بسم اللہ کہہ کر پہلے سیدھاپاؤں بڑھا کر داخل ہو او رسامنے کی دیوار تک اتنا پڑھو کہ تین ہاتھ کا فاصلہ رہے۔ وہاں دو رکعت نفل غیر وقت مکرو ہ میں پڑھو کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مصلی ہے۔ پھر دیوار پر رخسار اور منہ رکھ کر حمد ودرود اور دعا میں کوشش کرو۔یوں ہی نگاہیں نیچے کئے چار گوشو ں پر جاؤ او ردعاکرو اور ستونوں سے چمٹوا ور پھر اس دولت کا ملنا اور حج وزیارت کا قبول مانگو اور یونہی آنکھیں نیچے کئے واپس آؤ اوپر ادھر ادھر ہر گز نہ دیکھو۔ اور بڑے فضل کی امید کرو کہ وہ فرماتا ہے جو اس گھرمیں داخل ہوا وہ امان میں ۔ والحمد للہ
(۴۹) بچی ہوئی بتی وغیرہ جو یہاں یا مدینہ طیبہ میں خدام دیتے ہیں ہر گز نہ لو بلکہ اپنے پاس سے بتی وہاں روشن کرکے باقی اٹھالو۔ (۵۰) جب عزمِ رخصت ہو طوافِ وداع بے رمل وسعی واضطباع بجا لاؤکہ باہر والوں پرواجب ہے۔ ہاں وقت رخصت عورت حیض ونفاس میں ہو تو اس پر نہیں۔ پھر دو رکعت مقامِ ابراہیم میں پڑھو۔ (۵۱) پھر زمزم پر آکر اسی طرح پانی پیو۔ بدن پر ڈالو۔ (۵۲) پھر دروازہ کعبہ پر کھڑے ہوکر آستانہ پاک کو بوسہ دو اور قبول وبار بار حاضری کی دعامانگو اور وہی دعا ئے جامع پڑھو۔ (۵۳) پھر ملتزم پر آکر غلافِ کعبہ تھام کر اُسی طرح چمٹو ذکر ودرود اور دعا کی کثرت کرو۔ (۵۴) پھر حجر اسود کو بوسہ دو اور جو آنسو رکھتے ہو گراؤ۔ (۵۵) پھر الٹے پاؤں رخ بہ کعبہ یا سیدھے چلنے میں باربار پھر کر کعبہ کو حسرت سے دیکھئے۔ ا س کی جدائی پر روتے یا رونے کا منہ بناتے مسجد کریم کے دروازے سے بایاں پاؤں پہلے بڑھا کر نکلو اور دعائے مذکور پڑھو اور اس کے لیے بہتر باب الحزورہ ہے۔ (۵۶) حیض ونفاس والی دروازے پر کھڑے ہوکر کعبہ کو بہ نگاہ حسرت دیکھے اور دعاکرتی پلٹے۔ (۵۷) پھر بقدر قدرت فقرائے مکہ معظمہ پر تصدق کرکے متوجہ سرکار اعظم مدینہ طیبہ ہو، وباللہ التوفیق۔