Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
177 - 198
فصل پنجم منیٰ ومزدلفہ وباقی افعال حج
 (۱) جب غروب آفتاب کا یقین ہوجائے فوراً مزدلفہ کو چلو، اور امام کا ساتھ افضل ہے مگر وہ دیر کرے تو اس کا انتظار نہ کرو۔

(۲) راستے بھر ذکر، درود ودعا لبیک وزاری وبکا میں مصروف رہو۔

(۳) راستہ میں جہاں گنجائش پاؤ اور اپنی یا دوسرے کی ایذا کا احتمال نہ ہو تو اتنی دیر اتنی دور تیز چلو، پیادہ ہو خواہ سوار۔

(۴) جب مزدلفہ نظر آئے بشرط قدرت پیادہ ہولینا بہتر ہے اور نہا کر داخل ہونا افضل ہے۔

(۵) وہاں پہنچ کر حتی الامکان جبل قزح کے پاس راستے سے بچ کر اترو ورنہ جہاں جگہ ملے۔
 (۶) غالباً وہاں پہنچتے پہنچتے شفق ڈوب جائے گی، مغرب کاوقت نکل جائے گا، اونٹ کھولنے ،اسباب اتارنے سے پہلے امام کے ساتھ مغرب وعشاء پڑھو، او راگر وقت باقی رہے جب بھی ابھی مغرب ہر گز نہ پڑھو نہ راہ میں کہ اس دن یہاں نماز مغرب وقت مغرب میں پڑھنا گناہ ہے اگر پڑھ لوگے عشاء کے وقت پھر پڑھنی ہوگی، غرض یہاں پہنچ کر مغرب وعشاء میں بہ نیت ادانہ کہ بہ نیت قضاء حتی الامکان امام کے ساتھ پڑھو، اس کا سلام ہوتے ہی معا عشاء کی جماعت ہوگی، عشاء کے فرض پڑھو، اس کے بعد مغرب و عشا کی سنتیں ا ور وتر پڑھو،اگر امام کے ساتھ نماز مل سکے تواپنی جماعت کرلواور نہ ہوسکے تو تنہا پڑھو۔
 (۷) باقی رات ذکر لبیک ودرود ودعا میں گزار رو کہ یہ بہت افضل جگہ ہے اور بہت افضل رات ہے زندگی ہو تو اور سونے کو بہت سی راتیں ملیں گی اور یہاں یہ رات خدا جانے دوبارہ کیسے ملے اور نہ ہوسکے تو خیر باطہارت سورہو کہ فضول باتوں سے سونا بہتر ہے اور اتنے پہلے اٹھ کر صبح چمکنے سے پہلے ضروریات و طہارت سے فارغ ہولو، آج نماز صبح بہت اندھیرے سے پڑھی جائے گی، کوشش کرو کہ جماعت امام بلکہ پہلی تکبیر فوت نہ ہو کہ عشاء وصبح جماعت سے پڑھنے والا پوری شب بیداری کا ثواب پاتا ہے۔
(۸) اب دربارہ اعظم کی دوسری حاضری کا وقت آیا۔ ہاں ہاں کرم کے دروازے کھولے گئے ہیں کل عرفات میں حقوق اللہ معاف، یہاں حقوق العباد معاف فرمانے کا وعدہ ہے۔ مشعر الحرام میں یعنی خاص پہاڑی پر اور جگہ نہ ملے تواس کے دامن میں، اور نہ ہوسکے تو وادیِ محسر کے سواجہاں گنجائش پاؤ وقوف کرو اور تمام باتیں کہ وقوف عرفات میں مذکور ہوئیں ملحوظ رکھو۔

(۹) جب طلوع آفتاب میں دورکعت پڑھنے کا وقت رہ جائے امام کے ساتھ منیٰ کو چلو اور یہاں سے ساتھ چھوٹی چھوٹی کنکریاں دانہ خرما کے برا بر پاک جگہ سے اٹھا کر تین بار دھولو کسی پتھر کو توڑ کر کنکریاں نہ بناؤ۔

(۱۰) راستے بھر بدستور ذکر ودعاو درود وبکثرت لبیک میں مشغول رہو۔
 (۱۱) جب وادی محسر عہ۱ پہنچو  پانچ سو پنتالیس ہاتھ بہت جلدی تیزی کے ساتھ چل کر نکل جاؤ مگر نہ وہ تیزی جس سے کسی کو ایذا ہوا ور اس عرصہ میں یہ دعا کرتے جاؤ:
اَللّٰھُمَّ عہ۲  لَاتَقْتُلْنَا بِغَضْبِکَ وَلَاتُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَافِنَاقَبْل ذٰلِکَ۱؎۔
عہ۱ :یہ منی مزدلفہ کے بیچ میں ایک نالہ دونوں کی حدود سے خارج مزدلفہ سے منی کو جاتے بائیں ہاتھ کو جو پہاڑ پڑتا ہے اس کی چوٹی سے شروع ہو کر ۵۴۵ ہاتھ تک ہے یہاں اصحاب الفیل آکر ٹہہرے تھے اور ان پر عذاب ابابیل اترا تھا اس سے جلد گزرنا اور عذاب الہی سے پناہ مانگنا چاہئے ۱۲ منہ (م)

عہ۲:الہی ! اپنے  غضب سے ہمیں قتل نہ کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کر اور اس سے پہلے ہمیں عافیت دے ۔ ۱۲ منہ (م)
 (۱؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری         فصل فی آداب التوجہ الیٰ منیٰ    دارالکتاب العربی بیروت    ص۱۴۸)
 (۱۲) جب منیٰ نظر آئے وہی دعا۲؎ پڑھو جو مکہ سے آتے منیٰ کو دیکھ کر پڑھی تھی۔
 (۲؎ کتاب ادعیہ الحج والعمرۃ ملحق ارشاد الساری    فصل فاذا کان یوم الثانی الخ  دارالکتاب العربی بیروت    ص۱۷)
 (۱۳) جب منیٰ پہنچو سب کاموں سے پہلے جمرۃ العقبہ عہ۱  کو جاؤ جو ادھر سے پچھلا جمرہ ہے اور مکہ معظمہ سے پہلے نالے کے وسط میں، سواری پر جمرے سے پانچ ہاتھ ہٹے ہوئے یوں کھڑے ہو کہ منیٰ داہنے ہاتھ پر اور کعبہ بائیں کو اور جمرہ کی طرف منہ ہو، سات کنکریاں جدا جدا سیدھا ہاتھ اٹھا کر کہ سپیدی بغل ظاہر ہو ہر ایک پر
بسم اللہ اللہ اکبر
کہہ کر مارو۔ بہتر یہ ہے کہ کنکریاں جمرہ تک پہنچیں ورنہ تین ہاتھ کے فاصلے پرگریں۔ اس سے زیادہ فاصلے پر گری تو وہ کنکری شمار میں نہ آئے گی۔ پہلی کنکری سے لبیک موقوف کرو۔
عہ ۱:منیٰ اور مکہ کے بیچ میں تین ستون بنے ہوئے ہیں ان کو جمرہ کہتے ہیں، پہلا جو منیٰ سے قریب ہے جمرہ اولیٰ کہلاتا ہے اور بیچ کا جمرہ وسطی اور اخیر کا مکہ معظمہ سے قریب ہے جمرۃ العقبٰی ۱۲ منہ (م)
 (۱۴ ) جب سات پوری ہوجائیں وہاں نہ ٹھہرو، فوراً ذکر کرو، دعاکرتے پلٹ آؤ۔

(۱۵) اب قربانی میں مشغول ہو، یہ وہ قربانی نہیں جو عید میں ہوتی ہے کہ وہ تو مسافر پر اصلاً نہیں اور مقیم مالدار پر واجب ہے اگر چہ حج میں ہو بلکہ یہ حج کا شکرانہ ہے ۔ قارن ومتمتع پر واجب اگر چہ فقیر ہو۔ اور مفرد کے لیے مستحب اگر چہ غنی ہو، جانور کی عمر و اعضاء میں وہی شرطیں ہیں جو عید کی قربانی میں۔
عہ ۲:مسئلہ: محتاج محض جس کی ملک میں نہ قربانی کے لائق کوئی جانور  ہونہ اتنا نقد یا اسباب کہ اسے بیچ کر لے سکے وہ اگر قران یا تمتع کی نیت کرے گا تو اس پر قربانی کے بدلے دس روزے واجب ہوں گے تین تو حج کے مہینوں میں یعنی یکم شوال سے نویں ذی الحج تک احرام باندھنے کے بعداس بیچ میں جب چاہے رکھ لے ایک ساتھ خواہ جدا جدا۔ اور بہتر ہے ۷، ۸اور ۹ کو ہوں اور باقی سات تیرھویں کے بعد جب چاہے رکھے، اور بہتر یہ ہے کہ گھر پہنچ کر ہوں۔ (م)
 (۱۶) ذبح کرنا آتا ہو تو آپ ذبح کرو کہ سنت ہے ورنہ وقت ذبح حاضر رہو۔

(۱۷) روبقبلہ لٹا کر خود بھی رو بقبلہ رہو اور تکبیر کہتے ہوئے نہایت تیز چھری سے بہت جلد اتنی پھیرو کہ چاروں رگیں کٹ جائیں، زیادہ ہاتھ نہ بڑھاؤکہ بے سبب کی تکلیف ہے۔

 (۱۸) بہتریہ ہے کہ وقت ذبح قربانی والے جانور کے دونوں ہاتھ اور ایک پاؤں باندھ لو، ذبح کر کے کھول دو۔

(۱۹) اونٹ ہو تو اسے کھڑا کر کے سینہ میں گلے کے انتہا پر تکبیر کہہ کر نیزہ مارو کہ سنت یو نہی ہے اور اس کا ذبح کرنا مکروہ۔ مگر حلال ذبح سے بھی ہوجائے گا اورگلے پر ایک جگہ سے ذبح کرے۔ جاہلوں میں جو مشہور ہے کہ اونٹ تین جگہ سے ذبح ہوتا ہے غلط وخلافِ سنت اور مفت کی اذیت ومکروہ ہے۔

(۲۰) کسی ذبیحہ کو جب تک سرد نہ ہو کھال نہ کھینچو، اعضاء نہ کاٹو کہ ایذا ہے۔

(۲۱) یہ قربانی کرکے اپنے اور تمام مسلمانوں کے حج وقربانی قبول ہوجانے کی دعا کرو۔

(۲۲) بعد قربانی رو بقبلہ بیٹھ کر مرد حلق کریں یعنی سارا سر منڈائیں کہ افضل ہے یابال کتروائیں کہ رخصت ہے۔ اور عورتوں کوحلق حرام ہے ایک پور برابر بال کتروادیں۔
 (۲۳) حلق ہو یا تقصیر دہنی طرف سے ابتداء کرو اور اس وقت
اَﷲ اَکْبَرُ ط اَﷲ اَکْبَرُ ط لَا الٰہَ اِلَّا اﷲ ط وَ اﷲ اَکْبَرُ ط اَﷲ اَکْبَرُ ط وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ ط
بعد فراغت بھی کہو، سب مسلمانوں کی بخشش مانگو۔ ۱؎
 (۱؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری    فصل فی الحلق والتقصیر    دارالکتاب العربی بیروت    ص۱۵۲)
(۲۴) بال دفن کرو اور ہمیشہ بدن سے جو چیز بال ، ناخن، کھال جدا ہو دفن کرو۔

(۲۵) یہاں حلق یا تقصیر سے پہلے ناخن نہ کتراؤ، خط نہ بنواؤ۔

(۲۶) اب عورت سے صبحت کرنے، شہوت سے ہاتھ لگانے، گلے لگانے، بوسہ لینے، دیکھنے کے سوا جو کچھ احرام نے حرام کیا تھا سب حلال ہوگیا۔

(۲۷) افضل یہ ہے کہ آج دسویں ہی تاریخ فرض طواف کے لیے جسے طواف الزیارۃ کہتے ہیں مکہ معظمہ جاؤ بدستور مذکورہ پیادہ باطہارت وستر عورت طواف کرو مگر اس طواف میں اضطباع نہیں۔
Flag Counter