Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
176 - 198
(۱۹) بعض مطوف اس مجمع میں جانے سے منع کرتے ہیں اور طرح طرح سے ڈراتے ہیں ان کی نہ سنو کہ وہ خاص نزول رحمت عام کی جگہ ہے، ہاں عورات اور کمزور مرد یہیں کھڑے ہوئے دعا میں شامل ہوں کہ بطن عرنہ عہ۲کے سوا یہ سارا میدان موقف ہے اور یہ لوگ بھی تصور یہی کریں کہ ہم اس مجمع میں حاضر ہیں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ نہ سمجھیں، اس مجمع میں یقینا بکثرت اولیاء بلکہ الیاس وخضر علیہ الصلوٰۃ والسلام نبی اللہ موجود ہیں، یہ تصور کریں کہ انوار وبرکات جو اس مجمع میں ان پر اتر رہے ہیں ان کا صدقہ ہم بھکاریوں کو بھی پہنچتا ہے، یوں الگ ہو کر بھی شامل رہیں گے، اور جس سے ہوسکے تو وہاں کی حاضری چھوڑنے کی چیز نہیں۔
عہ۲ : بطن عرنہ عرفات میں حرم کے نالوں میں سے ایک نالہ ہے مسجدنمرہ کے مغرب یعنی مکہ معظمہ کی طرف وہاں موقف محض ناجائز ہے۔(م)
 (۲۰) افضل یہ ہے کہ امام سے نزدیک جبل رحمت کے قریب جہاں سیاہ پتھر کا فرش ہے رو بقبلہ پس پشت امام کھڑا ہو جبکہ ان فضائل کے حصول میں دقت یا کسی کی اذیت نہ ہو ورنہ جہاں اور جس طرح ہوسکے وقوف عہ۳ کرو۔ امام کی دہنی جانب اور بائیں رو برو سے افضل ہے، یہ وقوف ہی حج کی جان اور اس کابڑا رکن ہے۔
عہ۳ : وہا ں ذکر ودعا کے لیے کھڑا ہونا۔ (م)
 (۲۱) بعض جاہل یہ حرکت کرتے ہیں کہ پہاڑ پر چڑھ جاتے ہیں اور وہاں کھڑے رومال ہلاتے رہتے ہیں اس سے بچو اور ان کی طرف بھی برا خیال نہ کرو، یہ وقت اوروں کے عیب دیکھنے کا نہیں اپنے عیبوں پر شرمساری اور گریہ وزاری کا ہے۔

(۲۲) اب وہ کہ یہاں ہیں اور کہ ڈیروں میں ہیں سب ہمہ تن صدق دل سے اپنے کریم مہربان رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور میدان قیامت میں حساب اعمال کے لیے اس کے حضور حاضری کا تصور کرو، نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ لرزتے ، کانپتے، ڈرتے، امید کرتے، آنکھیں بند کیے، گردن جھکائے، دستِ دعا آسمان کی طرف سر سے اونچے پھیلاؤ، تکبیر، تہلیل، تسبیح، لیبک، حمد، ذکر، دعا، توبہ، استغفار میں ڈوب جاؤ، کوشش کرو کہ ایک قطرہ آنسوؤں کا ٹپکے کہ دلیل اجابت وسعادت ہے ورنہ رونے کا سامنہ بناؤ کہ اچھوں کی صورت بھی اچھی ، اثنائے دعا وذکر میں لبیک کی بار بار تکرار کرو۔ آج کے دن کی دعائیں بہت منقول ہیں، اور دعائے جامع کہ اوپر گزری کافی ہے، چند بار اسے کہہ لو، اور سب سے بہتر یہ ہے کہ سارا وقت درود، ذکر، تلاوت قرآن میں گزارو کہ بوعدہ حدیث دعا والوں سے زیادہ پاؤگے، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا دامن  پکڑو، غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے توسل کرو، اپنے گناہ اور اس کی قہاری یاد کرو بید کی طرح لرزو  اور یقین جانو کہ اس کی مار سے اسی کے پاس پناہ ہے۔ اس سے بھاگ کر کہیں جانہیں سکتے، اس کے در کے سوا کہیں ٹھکانا نہیں، لہذا ان شفیعوں کا دامن لیے اس کے عذاب سے اسی کی پناہ مانگو اور اسی حالت میں رہو کہ کبھی اس کی رحمتِ عام کی امید سے مرجھا یادل نہال ہوا جاتا ہے اور یونہی تضرع وزاری میں رہو یہاں تک کہ آفتاب ڈوب جائے اور رات کا لطیف جز آجائے اس سے پہلے کوچ منع ہے، بعض جلد باز دن ہی سے چل دیتے ہیں ان کا ساتھ نہ دو۔ غروب تک ٹھہرنے کی ضرورت نہ ہوتی تو عصر ظہر سے ملا کر پڑھنے کا حکم کیوں ہوتا، اور کیا معلوم کہ رحمت الہٰی کس وقت توجہ فرمائے، اگر تمھارے چل دینے کے بعد اتری تو معاذاللہ کیسا خسارہ ہے، اورا گر غروب سے پہلے حدود عرفات سے نکل گئے جب تو پورا جرم ہے اور جرمانے میں قربانی دینی آئے گی، بعض مطوّف یوں ڈراتے ہیں کہ رات میں خطرہ ہے یہ دو ایک کے لیے ٹھیک ہے اور جب قافلہ کا قافلہ ٹھہرے گا توان شاء اللہ کچھ اندیشہ نہیں۔
 (۲۳) ایک ادب واجب الحفظ اس روز کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سچے وعدوں پر بھروسا کرکے یقین کرے کہ آج میں گناہوں سے ایسا پاک ہوگیا جیسا جس دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہواتھا،اب کوشش کروں کہ آئندہ گناہ نہ ہوں اور جو داغ اللہ تعالٰی نے بمحض رحمت میری پیشانی سے دھویا ہے پھر نہ لگے، 

(۲۴) یہاں یہ باتیں مکروہ ہیں۔ غروب آفتاب سے پہلے وقوف چھوڑ کر روانگی جب کہ غروب تک حدود عرفات سے باہر نہ ہوجائے ورنہ حرام ہے۔ نماز ظہر و عصر ملانے کے بعد موقف کو جانے میں دیر اس وقت سے غروب تک کھانے پینے یا توجہ بخدا کسی کام میں مشغول ہونا، کوئی دنیوی بات کرنا، غروب پر یقین ہوجانے کے بعد روانگی میں تاخیر کرنا، مغرب یا عشاء عرفات میں پڑھنا،۔

تنبیہ: موقوف میں چھتری لگانے یاکسی طرح سایہ چاہنے سے حتی المقدور بچو، ہاں جو مجبور ہے معذور ہے،
تنبیہ ضروری، اشد ضروری
بدنگاہی ہمیشہ حرام ہے نہ کہ احرام میں نہ کہ موقف میں، یا مسجد الحرام میں نہ کہ کعبہ معظمہ کے سامنے نہ کہ طواف، بیت الحرام میں، یہ تمھارے بہت امتحان کا موقعہ ہے۔ عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ یہاں منہ نہ چھپاؤ اور تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ ان کی طرف نگاہ نہ کرو، یقین جانو کہ یہ بڑے عزت والے بادشاہ کی باندیاں ہیں اور اس وقت تم اور وہ سب خاص دربار میں حاضر ہوکر بلاتشبیہہ شیر کا بچہ اس کی بغل میں ہو اس وقت کون اس کی طرف نگاہ اٹھا سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ واحد قہار کی کنیزیں کہ اس کے خاص دربار میں حاضر ہیں ان پر بد نگاہی کس قدر سخت ہوگی
وَ لِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی
 (اور اللہ تعالیٰ ہی کی شان سب سے بلند ہے) ہاں ہاں ہوشیار، ایمان بچائے ہوئے، قلب ونگاہ سنبھالے ہوئے، حرم وہ جگہ ہے جہاں گناہ کے ارادے پر پکڑاجاتا ہے اور ایک گناہ لاکھ گناہ کے برابر ٹھہرتا ہے، الہٰی! خیر کی توفیق دے۔ آمین!
Flag Counter