Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
175 - 198
فصل چہارم منیٰ کی روانگی اور عرفہ کا وقوف
 (۱) ساتویں تاریخ مسجد حرام میں بعد نماز ظہر امام خطبہ پڑھے گا اسے سنو۔

(۲) یوم الترویہ کہ آٹھ تاریخ کا نام ہے جس نے احرام نہ باندھا ہو یا باندھ لے اور ایک نفل طواف میں رمل و سعی جیسا کہ اوپر گزرا۔

(۳) جب آفتاب نکل آئے منیٰ کو چلو اور ہوسکے تو پیادہ کہ جب تک مکہ معظمہ پلٹ کر آؤ گے ہر قدم پر سات سو نیکیاں لکھی جائیں گی، سو ہزار کا لاکھ، سو لاکھ کا کروڑ، سوکروڑ کا ارب، سوارب کا کھرب، یہ نیکیاں تخمیناً ۷۸ کھرب ۴۰ ارب ہوتی ہیں، اور اللہ کا فضل اس نبی کے صدقہ میں اس امت پر بے شمار ہے
جل وعلا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، والحمد للہ رب العالمین۔
 (۴) راستے بھر لیبک ودعا اور درود و ثنا کی کثرت کرو۔

(۵) جب منیٰ نظر آئے کہو:
اللّٰھُمَّ  عہ۱ ھٰذِہٖ مِنٰی فَامْنُنْ عَلَیَّ بِمَامَنَنْتَ بِہٖ عَلٰی اَوْلِیَائِکَ ۱؎۔
عہ۱ :الہٰی! یہ منیٰ ہے تو مجھ پر وہ احسان کر جو تونے اپنے دوستوں پر کئے ۱۲ منہ (م)
 (۱؎ کتاب ادعیۃ الحج والعمرۃ    ملحق ارشاد الساری    فصل فاذاکان الیوم الثانی الخ    دارالکتاب العربی بیروت    ص۱۷)
(۶) یہاں رات کو ٹھہرو، آج ظہر سے نویں کی صبح تک پانچ نمازیں مسجد خیف میں پڑھو، آج کل بعض مطوفوں نے یہ نکالی ہے کہ آٹھویں کو منیٰ نہیں ٹھہرتے سیدھے عرفات پہنچتے ہیں، ان کی نہ مانے اور اس سنتِ عظیمہ کو ہر گز نہ چھوڑے، قافلہ کے اصرار سے ان کو بھی مجبور ہونا پڑے گا،

(۷) شب عرفہ منیٰ میں ذکر وعبادت سے جاگ کر صبح کرو، سونے کے بہت دن پڑے ہیں، اور نہ ہو تو کم از کم عشاء وصبح تو جماعت اولیٰ سے پڑھو کہ شب بیداری  کا ثواب ملے گا، اور باوضو سوؤ کہ روح عرش تک بلند ہوگی۔

(۸) صبح تک مستحب وقت نماز پڑھ کر لبیک وذکر ودرود میں مشغول رہو یہاں تک کہ آفتاب کوہ ثبیر پر کہ مسجد خیف شریف کے سامنے ہے چمکے، اب عرفات کو چلو، دل کو خیال غیر سے پاک کرنے میں کوشش کرو کہ آج وہ دن ہے کہ کچھ کا حج قبول کریں گے اور کچھ ان کے صدقے بخش دیں گے، محروم ہو جو آج محروم رہا، وسوسے آئیں تو ان سے لڑائی نہ باندھو کہ یوں بھی دشمن کا مطلب حاصل ہے وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اور خیال میں لگ جاؤ، لڑائی باندھی جائے جب بھی توا ور خیال پڑے، بلکہ ان کی طرف دھیان ہی نہ کرو، یہ سمجھ لو کہ کوئی اور وجود ہے جو ایسے خیالات لارہا ہے مجھے اپنے رب سے کام ہے یوں ان شاء اللہ وہ مردود وناکام واپس جائے گا۔

(۹) راستے بھر ذکر و درود میں بسر کرو، بے ضرورت کچھ بات نہ کرو، لبیک کی بار بار کثرت کرتے چلو، 

(۱۰) جب نگاہ جبل رحمت پر پڑے ان امور میں اور زیادہ کوشش کرو کہ ان شاء اللہ تعالیٰ وقت قبول ہے۔

(۱۱) عرفات میں اس کوہ مبارک کے پاس یا جہاں جگہ ملے شارع عام سے بچ کر اترو۔

(۱۲) آج کے ہجوم میں کہ لاکھوں آدمی ،ہزاروں ڈیرے خیمے ہوتے ہیں، اپنے ڈیرے سے جا کر واپسی میں اس کا ملنا دشوار ہوتا ہے اس لیے پہچان کا نشان قائم کر کہ دور سے نظر آئے۔

(۱۳) مستورات ساتھ ہوں توا ن کے برقعہ پر کوئی خاص کپڑا علامت چمکتے رنگ کا لگا دو کہ دور سے دیکھ کر تمیز کرسکو اور دل میں تشویش نہ رہے۔
 (۱۴) دوپہر تک زیادہ وقت اللہ کے حضور زاری اور باخلاص نیت حسب استطاعت تصدق وخیرات وذکر ولبیک ودرود و دعا واستغفار وکلمہ توحید میں مشغول رہو، حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سب سے بہتر وہ چیز جو آج کے دن میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے کہی یہ ہے:
لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲ وَحْدَہ لَاشَرِیْکَ لَہ عہ لَہُ الْمْلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ط وَ ھُوَحَیّ لَّا یَمُوْتُ ط بِیَدِہِ الْخَیْرِ ط وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر۱؎۔
عہ:  اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ ایک اکیلا، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے سب خوبیاں، وہی جلائے وہ مارے، اور وہ زندہ ہے کہ کبھی نہ مرے گا، سب بھلائیاں اسی کے قبضہ میں ہیں اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے ۲ ۱(م)
 (۱؎ کتاب ادعیۃ الحج والعمرۃ    ملحق ارشاد الساری    فصل فی التوجہ ا لی العرفات    دارالکتاب العربی بیروت    ص۱۷)
 (۱۵) دوپہر سے پہلے کھانے پینے وغیرہ ضروریات سے فارغ ہولو کہ دل کسی طرف لگانہ رہے، آج کے دن جیسے حاجی کو روزہ مناسب نہیں کہ دعا میں ضعف ہوگا، یونہی پیٹ بھر کر کھانا سخت ضرر اور غفلت وکسل کا باعث ہے، تین روٹی کی بھوک والا ایک ہی کھائے۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تو ہمیشہ کے لیے یہی حکم دیا ہے، اور خود دنیا سے تشریف لے گئے اور جو کی روٹی کبھی پیٹ بھر کر نہ کھائی حالانکہ اللہ کے حکم سے تمام جہان اختیار میں تھا اور ہے، اور اگر انوار وبرکات لینا چاہو تو صرف آج بلکہ حرمین شریفین میں جب تک حاضرہو تہائی پیٹ سے زیادہ ہر گز نہ کھاؤ، مانوگے تو اس کا فائدہ، نہ مانو گے تواس کا نقصان آنکھوں سے دیکھ لوگے، ہفتہ بھر اس پر عمل کرکے تودیکھو، اگلی حالت سے فرق نہ پاؤ جبھی کہنا جی بچے تو کھانے پینے کے بہت دن ہیں، یہاں تو نور وذوق کے لیے جگہ خالی رکھو ؎

بھراتن دوبارہ کیا بھرے گا
 (۱۶) جب دوپہر قریب آئے نہاؤ کہ سنتِ موکدہ ہے اور نہ ہوسکے تو صرف وضو۔

(۱۷) دوپہر ڈھلتے ہی بلکہ اس سے پہلے کہ امام کے بقریب جگہ ملے مسجد نمرہ جاؤ سنتیں پڑھ کر خطبہ سن کر امام کے ساتھ ظہر پڑھو، بیچ میں سلام وقیام توکیا معنی سنتیں بھی نہ پڑھو، اور بعد عصر بھی نفل نہیں، یہ ظہر و عصر ملا کر پڑھنا جبھی جائز ہے کہ نماز یا تو سلطان خود پڑھائے یا وہ جو حج میں اس کا نائب ہو کر آتا ہے، جس نے ظہر اکیلے یا اپنی خاص جماعت سے پڑھی اسے وقت سے پہلے عصر پڑھنا حلال نہ ہوگا، اور جس حکمت کے لیے شرع نے یہاں ظہر کے ساتھ عصر ملا نے کا حکم فرمایا ہے یعنی غروب آفتاب تک دعا کے لیے وقت خالی ملتا ہے وہ جاتی رہے گی،

(۱۸) خیال کرو جب شرع کو یہ وقت دعا کے لیے فارغ کرنے کا اس قدر اہتمام ہے توا س وقت اور کام میں مشغولی کس قدر بیہودہ ہے، بعض احمقوں کو دیکھا ہے کہ امام تو نماز میں ہے یا نماز پڑھ کر موقف عہ۱  کو گیااور وہ کھانے پینے حقے چائے اڑانے میں مصروف ہیں خبردار ایسا نہ کرو، امام کے ساتھ نما ز پڑھتے ہی فوراً موقف کو روانہ ہوجاؤ، او رممکن ہو تو اونٹ پر کہ سنت بھی ہے او رہجوم میں دبنے کچلنے سے محافظت بھی۔
عہ۱ :وہ جگہ کہ نماز کے بعد سے غروب آفتاب تک وہاں کھڑے ہوکر ذکر و دعاکا حکم ہے۔ (م)
Flag Counter