Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
174 - 198
 (۱۴) جب ساتوں پھیرے ہوجائیں آخر میں پھر حجر کو بوسہ دو یا وہی طریقے ہاتھ یا لکڑی کے برتو، 

(۱۵) بعد طواف مقام ابراہیم میں آ کر آیہ کریمہ
وَاتَّخِذُوْا مِن مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلّٰی۱؂، عہ۱
عہ۱ : اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ۲ ۱ منہ (م)
(۱؎ القرآن       ۲ /۱۲۵)
پڑھ کر دو رکعت طواف کہ واجب ہیں قُل یَا اور قُلْ ھُوَاﷲ سے پڑھو، اگر وقت کراہت مثلا طلوع صبح سے بلندی آفتاب تک یا دوپہر یا نماز عصر کے بعد غروب تک نہ ہو ورنہ وقت نکل جانے پر بعد کو پڑھو، یہ رکعتیں پڑھ کر دعا مانگو، یہاں حدیث میں ایک دعا ارشاد ہوئی جس کے فائدوں کی عظمت اس سے کہنا ہی چاہتی ہے:
  اَللّٰھُمَ عہ۲ اِنَّکَ تَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَانِیَتِیْ فَاقْبَل مَعْذِرَتِیْ وَتَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَاعْطِنِیْ سُؤَلِیْ وَتَعْلَمُ مَافِیْ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِی ذُنُوْبِیْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ اِیْمَانًا یُبَاشِرُقَلْبِیْ وَیقِیْنًا صَادِقًا حَتّٰی اَعْلَمَ اَنَّہ، لَایُصِیْبُنِیْ اِلَّامَاکَتَبْتَ لِیْ وَارْضٰی مِنَ الْمَعِیْشَۃَ بِمَا قَسَمْتَ لِیْ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن۔ ۲؎
حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے جو یہ دعا کرے گا اس کی خطا بخش دوں گا، غم دور کروں گا، محتاجی سے نکالوں گا، ہر تاجر سے بڑھ کر اس کی تجارت رکھوں گا، دنیا ناچار ومجبور اس کے پاس آئے گی گو وہ اسے نہ چاہے۔
عہ۲: الہٰی! تو میرا چھپا اور ظاہر سب جانتا ہے، تو میرا عذر قبول فرما اور میری حاجت تجھے معلوم ہے، تو میری مراد دے اور جو میرے دل میں ہے تو جانتا ہے، تومیرے گناہ بخش دے، الہٰی۱ میں تجھ سے مانگتا ہوں وہ ایمان جو میرے دل میں پیوست ہو جائے، اور سچا یقین کہ میں جانوں کہ مجھے وہی ملے گا جو تو نے میرے لیے لکھ دیا ہے اور میں ا س معاش پر راضی ہوں تو نے مجھے نصیب کی ہے اے سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ۱۲ منہ (م)
 (۲؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری    فصل فی صفۃ الشروع فی الطواف    دارالکتاب العربی بیروت    ص۹۴)
(۱۶) پھر ملتزم پر جاؤ اور قریب حجرا س سے لپٹو اور اپنا سینہ اور پیٹ اور کبھی دہنا رخسارہ کبھی بایاں رخسارہ اس پر رکھو اور دونوں ہاتھ سر سے اونچے کرکے دیوار پر پھیلاؤ، یا داہنا ہاتھ دروازے اور بایاں سنگِ اسود کی طرف،اور یہاں کی دعا یہ ہے:
یَاوَاجِدُ (عہ۱ ) یَامَاجِدُ لَاتَزِلْ عَنِّیْ نِعْمَۃً اَنْعَمْتَ بِھَاعَلَیَّ ۱؎۔
حدیث میں فرمایا: میں جب چاہتا ہوں جبریل کودیکھتا ہوں کہ ملتزم سے لپٹے ہوئے یہ دعا کررہے ہیں ۔
عہ۱ : اے قدرت والے اے عزت والے مجھ سے زائل نہ کر جو نعمت تو نے مجھے بخشی ہے ۲ ۱منہ (م)
 (۱؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری    فصل فی صفۃ الشروع فی الطواف    دارالکتاب العربی بیروت    ص۹۴)
(۱۷) پھر زمزم پر آؤ  اور ہوسکے تو خواہ ایک ڈول کھینچو ورنہ بھرنے والوں سے لے لو اور کعبہ کو منہ کرکے تین سانسوں میں پیٹ بھر کے جتنا پیا جائے پیو، ہر بار بسم اللہ سے شروع اور الحمد اللہ پر ختم، باقی بدن پر ڈال لو اور پیتے وقت دعا کرو کہ قبول ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: زمزم جس مراد سے پیا جائے اسی کے لیے ہے، یہاں وہی دعائے جامع پڑھو اور حاضری مکہ معظمہ تک پینا تو بار بار نصیب ہوگا، قیامت کی پیاس سے بچنے لے لیے پیو، کبھی عذاب قبر سے محفوظی کو ، کبھی محبتِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو، کبھی وسعتِ رزق، کبھی شفائے امراض، کبھی حصول علم و غیرہا خاص مرادوں کے لیے پیو۔
 (۱۸) وہاں جب پیو خوب پیٹ بھر کر پیو، حدیث میں ہے: ہم میں اور منافقوں میں یہ فرق ہے کہ وہ زمزم کو کھ بھر کر نہیں پیتے۔ ۲؎
 (۲؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری    فصل فی صفۃ الشروع فی الطواف    دارالکتاب العربی بیروت    ص۹۵)
(۱۹) چاہ زمزم کے اندر بھی نظر کرو کہ بحکمِ حدیث دافع نفاق ہے۔۳؎
 (۳؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری    فصل یستحب الاکثار من شرب ماء زمزم     دارالکتاب العربی بیروت   ص۳۲۹)
(۲۰) اب اگر کوئی عذرتکان وغیرہ کا نہ ہو تو ابھی ورنہ آرام لے کر صفا مروہ میں سعی کے لیے پھر حجر اسود کے پاس آؤ اور اسی طرح تکبیر وغیرہ کہہ کر چومو، اور نہ ہو سکے تو اس کی طرف منہ کرکے فوراً باب صفا سے جانب صفا روانہ ہو، دروازے سے پہلے بایاں پاؤں نکالو اور دہنا پہلے جوتے میں ڈالو، اوریہ ادب ہر مسجد سے باہر آتے ہمیشہ ملحوظ رکھو۔

(۲۱) ذکر ودرود میں مشغول صفا کی سیڑھیوں پراتنا چڑھو کہ کعبہ معظمہ نظر آئے اور یہ بات جہاں پہلی ہی سیڑھی سے حاصل ہے پھر رخ کعبہ ہو کر دونوں ہاتھ دعا کی طرح پہلے شانوں تک اٹھاؤ اور دیر تک تسیبح وتہلیل ودرود ودعا کرو کہ محلِ اجابت ہے، یہاں بھی دعا ئے جامع پڑھو، پھر اتر کر ذکر ودرود میں مشغول مروہ کو چلو۔

(۲۲) جب پہلا میل آئے مرد دوڑنا شروع کریں( مگر نہ حد سے زائد نہ کسی کو ایذا دیتے ) یہاں تک کہ دوسرے میل سے نکل جائیں، اس درمیان میں سب دعا بہ کوشش تمام کرو۔ یہاں کی دعا یہ ہے:
رَبِّ اغْفِرْلِیْ عہ۱ وَارْحَمْ وَاَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَکْرَمُ ۱؎۔
عہ۱:اے میرے رب بخش دے اور رحم فرمانا تو ہی سب سے زیادہ عز ت والا سب سے بڑھ کر کرم والا ۱۲ (م)
 (۱؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری    باب السعی بین الصفا والمروۃ        دارالکتاب العربی بیروت    ص۱۱۷)
(۲۳) دوسرے میل سے نکل کر پھر آہستہ ہو لو یہاں تک کہ مروہ پہنچو، یہاں پہلی سیڑھی چڑھنے بلکہ اس کے قریب کھڑے ہونے سے مروہ پر صعود مل جاتا ہے،یہاں اگر چہ عمارتیں بن جانے سے کعبہ نظر نہیں آتا مگر روبہ کعبہ ہوکر جیسا صفا پر کیا تھا کرو، یہ ایک پھیرا ہوا۔

(۲۴) پھر صفا کو جاؤ پھر آؤ، یہاں تک کہ ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہو، ہر پھیرے میں اسی طرح کریں، اس کانام سعی ہے ۔ واضح ہو کہ عمرہ صرف انہی افعال طواف وسعی کا نام ہے، قِران وتمتع والے کے لیے بھی یہی عمرہ ہوگیا اور افراد والے کے لیے یہ طواف قدوم ہوا یعنی حاضری دربار کا مجرا۔
 (۲۵) قران یعنی جس نے قِران کیا ہے اس کے بعد طواف قدوم کی نیت سے ایک طواف وسعی اور بجا لائے۔

(۲۶) قارن اور مفرد جن نے افراد کیا تھا لبیک کہتے ہوئے احرام کے ساتھ مکہ میں ٹھہریں، ان کی لبیک دسویں تاریخ رمی جمرہ کے وقت ختم ہوگی، جبھی احرام سے نکلیں گے جس کا ذکر ان شاء اللہ تعالیٰ آتا ہے، مگر متمتع جس نے تمتع کیا تھا وہ اور معتمر یعنی نرا عمرہ کرنے والا شروع طواف کعبہ معظمہ سے سنگ اسود شریف کا پہلا بوسہ لیتے ہی لبیک چھوڑدیں اور طواف وسعی مذکور کے بعد حلق کریں یعنی مرد سارا سر منڈا دیں یا تقصیر یعنی مرد وعورت بال کتروائیں اور احرام عہ۲ سے باہر آئیں، پھر متمتع چاہے توآٹھویں ذی الحجہ تک بے احرام رہے، مگرا فضل یہ ہے کہ جلد حج کا احرام باندھ لے، اگریہ خیال نہ ہو کہ دن زیادہ ہیں یہ قیدیں نہ نبھیں گی۔
عہ۲ :کبھی احرام کےساتھ ہی منیٰ میں قربانی کے لیے جانور ہمراہ لیتے ہیں اسے سوق ہدی کہتے ہیں، اگر کسی متمتع نے ایسااحرام باندھا توا ب عمرہ کے بعد احرام کھولنا جائز ہوگا بلکہ قارن کی طرح احرام میں رہے اور لبیک کہہ کر یہاں تک کہ دسویں کو رمی کے ساتھ لبیک چھوڑے، پھر قربانی کے بعد حلق یا تقصیر کر کے احرام سے باہر آئے ۱۲ منہ (م)
تنبیہ: طواف قدوم میں اضطباع ورمل اور اس کے بعد صفا ومروہ میں سعی ضرور نہیں، مگر اب نہ کرے گا تو طواف الزیارت میں کہ حج کا طواف فرض ہے جس کا ذکر ان شاء اللہ آتا ہے، یہ سب کام کرنے ہوں گے، اور اس وقت ہجوم بہت ہوتا  ہے عجب نہیں کہ طواف میں رمل اور مسعی میں دوڑنا نہ ہوسکے اور اس وقت ہوچکا تو طواف میں ان کی حاجت نہ ہوگی، لہذا ہم نے ان کو مطلقاً داخل ترکیب کردیا۔

(۲۷) مفرد وقارن توحج کے رمل وسعی سے طواف قدوم میں فارغ ہو لیے مگر متمتع نے جو طواف وسعی کیے وہ عمرہ کے تھے، حج کے رمل و سعی اس سے ادا نہ ہوئے اورا س پر طواف قدوم ہے نہیں کہ قارن کی طرح اس میں یہ امور کرکے فراغت پالے، لہذا اگر وہ بھی پہلے سے فارغ ہو لینا چاہے تو جب حج کا احرام باندھے گا اس کے بعدایک نفل طواف میں رمل وسعی کرے اب اسے طواف الزیارت میں ان کی حاجت نہ ہوگی،
 (۲۸) اب یہ سب حجاج، قارن، متمتع، مفرد، کوئی ہو، کہ منیٰ جانے کے لیے مکہ معظمہ میں آٹھویں تاریخ کا انتظار کر رہے ہیں، ایام اقامت میں جس قدر ہوسکے نرا طواف بے اضطباع ورمل وسعی کرتےر ہیں، باہر والوں کے لیے یہ سب سے بہتر عبادت ہے اور ہر سات پھیروں پر مقام ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام میں دو رکعت پڑھیں۔

(۲۹) اب خواہ منیٰ سے واپسی پر جب کبھی رات میں جتنی بارکعبہ معظمہ پر نظر پڑے
لاَ اِلٰہ اِلاَّ اﷲ وَاﷲ اَکْبَرُ
تین تین بار کہیں اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پردرود بھیجیں، دعاکریں کہ یہ وقت قبول ہے،

(۳۰) طواف اگر چہ نفل ہو اس میں یہ باتیں حرام ہیں:

بے وضو طواف کرنا، کوئی عضو جوستر میں داخل ہے اس کا چہارم کھُلا ہونا مثلاً ران یاآزاد عورت کا کان، بے مجبوری سواری پر یا کسی کی گود میں یا کندھوں پر طواف کرنا، بلا عذر بیٹھ کر سرکنا یا گھٹنوں چلنا، کعبہ کو داہنے ہاتھ پر لے کر الٹا طواف کرنا، طواف میں حطیم کے اندر ہو کر گزرنا، سات پھیروں سے کم کرنا۔
 (۳۱) یہ باتیں طواف میں مکروہ ہیں:
فضول بات کرنا، بیچنا، خریدنا، حمد ونعت ومنقبت کے سوا کوئی شعر پڑھنا، ْذکر یا دعا یا تلاوت یا کوئی کلام بلند آواز سے کرنا۔ ناپاک کپڑے میں طواف کرنا، رمل یا اضطباع یا بوسہ سنگِ اسود جہاں جہاں ان کا حکم ہے ترک کرنا، طواف کے پھیروں میں زیادہ فاصلہ دینا یعنی کچھ پھیرے کر لیے پھر دیر تک ٹھہر گئے یا اور کسی کام میں لگ گئے، باقی پھیرے بعد کو کیے مگر وضو جاتارہا تو کر آئے یا جماعت قائم ہوئی اور اس نے نماز ابھی نہ پڑھی ہو تو شریک ہوجائے بلکہ جنازہ کی جماعت میں بھی طواف چھوڑ کر مل سکتا ہے، باقی جہاں سے چھوڑا تھا آکر پورا کرے، یونہی پیشاب پاخانہ کی ضرورت ہو تو چلا جائے وضو کر کے باقی پورا کرے، ایک طواف کے بعد جب تک اس کی رکعتیں نہ پڑھ لیں دوسرا طواف شروع کردینا مگر کراہت نما زکا وقت ہو جیسے صبح صادق سے طلوع آفتاب یا نماز عصر پڑھنے کے بعدسے غروب آفتاب تک کہ اس میں متعدد طواف بے فصل نماز جائز ہیں، وقت کراہت نکل جائے تو ہر طواف کے لیے دو رکعت ادا کرے، خطبہ امام کے وقت طواف کرنا، ہاں اگر خود پہلی جماعت میں پڑھ چکا تو باقی جماعتوں کے وقت طواف کرنے میں حرج نہیں اور نمازیوں کے سامنے سے گزر سکتا ہے کہ طواف بھی مثل نماز ہی ہے، طواف میں کچھ کھانا، پیشاب یا پاخانہ یا ریح کے تقاضے میں طواف کرنا،
 (۳۲) یہ باتیں طواف وسعی دونوں میں مباح ہیں:
سلام کرنا، جواب دینا، پانی پینا، حمد ونعت ومنقبت کے اشعار آہستہ پڑھنا، اور سعی میں کھانا کھا سکتا ہے۔حاجت کے لیے کلام کرنا، فتویٰ پوچھنا، فتویٰ دینا۔

(۳۳) طواف کی طرح سعی بھی بلا ضرورت سوار ہوکر یا بیٹھ کر ناجائز وگناہ ہے۔

(۳۴) سعی میں دو باتیں مکروہ ہیں:

بے حاجت اس کے پھیروں میں زیادہ فصل دینا مگر جماعت قائم ہوتو چلا جائے،یونہی شرکتِ جنازہ یا قضائے حاجت یا تجدید وضو کواگر چہ سعی میں ضرور نہیں، خرید وفروخت، فضول کلام، صفا یا مروہ پر نہ چڑھنا، مرد کا مسعی میں بلا عذر نہ دوڑنا، طواف کے بعد بہت تاخیر کرکے سعی کرنا، ستر عورت نہ ہونا، پریشان نظری یعنی ادھر اُدھر فضول دیکھنا سعی میں بھی مکروہ ہے اور طواف میں اور زیادہ مکروہ ۔
مسئلہ:بے وضو بھی سعی میں کوئی حرج نہیں، ہاں باوضو مستحب ہے،

(۳۵) طواف وسعی کے سب مسائل مذکورہ میں عورتیں بھی شامل ہیں مگرا ضطباع، رمل، سعی میں دوڑنا ان کے لیے نہیں، مزاحمت کے ساتھ بوسہ سنگ اسود یا مس رکنِ یمانی یا قرب کعبہ یا زمزم کے اندر نظر یا خود پانی بھرنے کی کوشش نہ کریں، یہ باتیں یوں مل سکیں کہ نامحرم سے بدن نہ چھوئے تو خیرورنہ الگ تھلگ رہنا اس کے لیے سب سے بہتر ہے۔
Flag Counter