| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
اب کہ مسجد الحرام میں داخل ہوا اگر جماعت قائم یا نماز فرض خواہ وتر یا سنتِ موکدہ کے فوت ہونے کا خوف نہ ہو ،تو سب کاموں سے پہلے متوجہ طواف ہو، کعبہ شمع ہے اور تو پروانہ، دیکھتا نہیں کہ پروانہ شمع کے گرد کیسے قربان ہوتا ہے تو بھی اس شمع پر قربان ہونے کے لیے مستعد ہوجا، پہلے اس مقام کریم کا نقشہ دیکھے کہ جوبات کہی جائے خوب ذہن میں آجائے
10_8.jpg
مسجد الحرام ایک گول وسیع احاطہ ہے، جس کے کنارے کنارے بہ کثرت دالان اور آنے جانے کے دروازے ہیں اور بیچ میں مطاف ایک گول دائرہ ہے جس میں سنگ مر مر بچھا ہے اس کے بیچ میں کعبہ معظمہ ہے بنی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد الحرام اسی قدر تھی، اس کی حد پر باب السلام شرقی قدیم دروازہ واقع ہے، رکن مکان کا گوشہ جہاں اس کی دو دیواریں ملتی ہیں جسے زاویہ کہتے ہیں، اس طرح ا ۔۔۔۔۔ب ح اح ، ح ب دونوں دیواریں مقام ح پر ملی ہیں۔ یہ رکن زاویہ ہے، کعبہ معظمہ کے چار رکن ہیں، رکنِ اسود جنوب مشرق کے گوشہ میں، اسی میں زمین سے اونچا سنگ اسود شریف نصب ہے، رکن عراق مشرق وشمال کے گوشہ میں، دروازہ کعبہ انہی دونوں رکنوں کے بیچ کی شرقی دیوار میں زمین سے بہت بلند ہے۔ ملتزم اسی شرقی دیوار کا وہ ٹکڑا جو رکن اسود سے دروازہ کعبہ معظمہ تک ہے، رکن شامی شمال مغرب کے گوشہ میں ، میزاب رحمت، سونے کا پرنالہ رکن شامی وعراقی کے بیچ کی شمالی دیوار پر چھت میں نصب ہے، حطیم بھی اسی شمالی دیوار کی طرف ہے،یہ زمین عہ کعبہ معظمہ ہی کی تھی،
عہ جنوباً شمالاً چھ ہاتھ کعبہ کی زمین ہے اور بعض کہتے ہیں سات ہاتھ اور بعض کا خیال ہے کہ سارا حطیم ہے۔ (م)
زمانہ جاہلیت میں جب قریش نے کعبہ از سر نو بنایا، کمی خرچ کے باعث اتنی زمین کعبہ معظمہ سے باہر چھوڑدی، اس کے گرد اگرد ایک قوسی انداز کی چھوٹی سی دیوار کھینچ دی اور دونوں طرف آمد ورفت کا دروازہ ہے۔ اور یہ مسلمانوں کی خوش نصیبی ہے اس میں داخل ہونا کعبہ معظمہ ہی میں داخل ہونا ہے جو بحمد اللہ تعالیٰ بے تکلیف نصیب ہوتاہے، رکن یمانی غروب وجنوب کے گوشہ میں مستجاب رکن عراق ویمانی کے بیچ کی غربی دیوار کاوہ ٹکڑا جو ملتزم کے مقابل ہے، مستجاب رکن یمانی اور رکن اسود کے بیچ میں جو دیوار جنوبی ہے یہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہنے کے لیے مقرر ہیں، فقیر نے اس کا نام مستجاب رکھا، مقامِ ابراہیم دروازہ کعبہ کے سامنے ایک قبہ میں وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کعبہ بنایا تھا ان کے قدم پاک کا اس پر نشان ہوگیا جواب تک موجود ہے اور جسے اللہ تعالیٰ نے آیا ت بینات اللہ تعالیٰ کی کھلی نشانیا فرمایا۔ زمزم شریف کا قبہ اس سے جنوب کو مسجد شریف میں واقع ہے، باب الصفا مسجد شریف کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس سے نکل کر سامنے کوہ صفا ہے صفا کعبہ معظمہ سے جنوب کو ایک پہاڑی تھی کہ زمین میں چھپ گئی ہے، اب وہاں قبلہ رخ ایک دالان بنادیاہے اور چڑھنے کی سیڑھیاں۔ مروہ دوسری پہاڑی صفا سے پورب کو تھی، یہاں بھی قبلہ رخ دالان بنادیا ہے اور سیڑھیاں۔ صفا سے مروہ تک جو فاصلہ ہے اب یہاں بازار ہے ۔ صفا سے چلتے ہوئے دہنے ہاتھ کو دکانیں اور بائیں ہاتھ کو احاطہ مسجد الحرام ہے۔ میلین اخضرین اس فاصلہ کے وسط میں دیوار حرم شریف میں دوسبز میل نصب ہیں، جیسے میل کے شروع میں پتھر لگا ہوتا ہے، مسعی وہ فاصلہ کہ ان دونوں میلوں کے بیچ میں ہے، یہ سب صورتیں رسالہ میں بار بار لکھ کر خوب ذہن نشین کر لیجئے کہ وہاں پہنچ کر پوچھنے کی حاجت نہ ہو، ناواقف آدمی اندھے کی طرح کا م کر تا ہے اور جو سمجھ لیا وہ انکھیارا ہے ۔اب اپنے رب عز وجل کا نا م پاک لے کر طواف کیجئے ۔
(۱) شروع طواف سے پہلے مرد اضطباع کرے یعنی چادر کی سیدھی جانب دہنی بغل کے نیچے سے نکا لے کہ سیدھا شانہ کھلا رہے اور دونوں آنچل بائیں کندھے پر ڈال لے۔ (۲) اب رو بہ کعبہ حجر اسود کی دہنی طرف رکن یمانی کی جانب سنگ اسود کے قریب یوں کھڑے ہو کہ تمام پتھر اپنے سیدھے ہاتھ کو رہے ۔پھر طواف کی نیت کرو:
اللھم (عہ۱ ) انی ارید طواف بیتک المحرم فیسرہ لی وتقبلہ منی ۔
عہ۱:اے اللہ !میں تیرے مبارک ومعزز گھر کا طواف کرنے لگا ہوں اسے میرے لیے آسان فرما اور اسے میر ی طرف سے قبول فرما ۔(ت)
(۳ ) اس نیت کے بعد کعبہ کو منہ کیے اپنی داہنی سمت چلو ،جب سنگ اسود کے مقابل ہو (اور یہ بات ادنی حرکت میں حاصل ہو جائے گی ) کانوں تک ہاتھ اس طرح اٹھاؤ کہ ہتھیلیاں حجر کی طرف رہیں اور کہو :
بسم عہ ۲ اللہ والحمد للہ واللہ اکبر ط والصلو ۃ والسلام علی رسول اللہ ۔۱
عہ۲: اللہ کے نام سے ،تمام حمد اللہ کے لیے ،اللہ سب سے بڑا ہے اور صلٰوۃ وسلام ہو اللہ کے رسول پر (ت)
(۱منسک متوسط مع ارشاد الساری فصل فی صفۃ الشروع فی الطواف دار الکتاب العربی بیروت ص ۸۹ )
(۴ ) میسر ہو سکے تو حجر اسود مطہر پر دونوں ہتھیلیاں اور ان کے بیچ میں منہ رکھ کر یوں بوسہ دو کہ آواز پیدا ہو سکے۔ تین بار ایساہی کرو ،یہ نصیب ہو تو کمال سعادت ہے،یقینا تمھا رے محبوب ومولی محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اسے بوسہ دیا اور روئے اقدس اس پر رکھا ہے زہے خوش نصیبی کہ تمھارا منہ وہاں تک پہنچے ،اور ہجوم کے سبب نہ ہو سکے تو نہ اوروں کو ایذا دو اور نہ آپ دبو کچلو ،بلکہ اس کے عوض ہا تھ سے اور ہاتھ نہ پہنچے تو لکڑی سے سنگ اسود مبارک چھو کر اسے چوم لو ،اور یہ بھی نہ بن پڑ ے تو ہاتھوں سے اس کی طرف اشارہ کر کے اسے بوسہ دے ،محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے منہ رکھنے کی جگہ پر نگاہ پڑ رہی ہے یہی کیا کم ہے !
(۵) اللھم(عہ ۳) ایمانا بک واتباعا لسنۃ نبیک محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۲
کہتے ہوئے در کعبہ تک بڑھو ،جب حجر مبارک کے سامنے سے گزر جاؤ سیدھے ہو لو خانہ کعبہ کو اپنے بائیں ہاتھ پر لے کر یوں چلو کہ کسی کو ایذا نہ دو ۔
عہ۳ :الہی تجھ پر ایمان لا کر اور تیرے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پیروی کو یہ طواف کرتا ہوں ۱۲ منہ(م)
(۲الاذکا ر امام نووی فصل فی اذکا ر الطواف دارالکتا ب العربی بیروت ص ۱۶۷ )
(۶) مرد رمل کرتا چلے یعنی جلد جلد چھوٹے قدم رکھتا شانے ہلاتا جیسے قوی و بہادر لوگ چلتے ہیں ،نہ کودتا نہ دوڑتا ،جہاں زیادہ ہجوم ہو جائے اور رمل میں اپنی یا غیر کی اٰیذا ہو اتنی دیر رمل ترک کرو ۔ (۷) طواف میں جس قدر خانہ کعبہ سے نزدیک ہو بہتر ہے ،مگر نہ اتنے کہ پشتہ دیوار پر جسم یا کپڑا لگے اور نزدیکی میں کثرت ہجوم کے سبب رمل نہ ہو سکے تو دوری بہتر ہے۔ (۸) جب ملتزم ،پھر رکن عراقی، پھر میزاب الرحمۃ ،پھر رکن شامی کے سامنے آؤ تو یہ سب دعا کے مواقع ہیں ان کے لیے خاص خاص دعائیں کہ جو جواہر البیان شریف میں مذکور ہیں سب کا یاد کرنا دشوار ہے اس سے وہ اختیار کرو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سچے وعدے سے تمام دعاؤں سے بہتر وافضل ہیں یعنی یہاں اور تمام مواقع میں اپنے لیے دعا کے بدلے اپنے حبییب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر درود بھیجو ،رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا یکفی ھمک ویغفر لک ذنبک ۱ ۔
ایسا کرے گا تو اللہ تعا لی تمھارے سب کام بنا دے گا اور تیرے گناہ معاف فرما دے گا ۔
(۱الترغیب والترھیب الترغیب فی اکثار الصلوۃ علی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مصطفٰی البابی مصر ۲ /۱۰۵)
(۹)طواف میں دعا ودرود کے لیے رکو نہیں بلکہ چلتے میں پڑھو ۔ (۱۰) دعا ودرود چلا چلا کر نہ پڑھو جس طرح مطوف پڑھاتے ہیں بلکہ آہستہ اس قدر کہ اپنے کان تک آواز آئے ۔ (۱۱) جب رکن یمانی کے پاس آؤ تو اسے دونوں ہاتھ یا دہنے ہاتھ سے تبرکا چھوؤ ،نہ صرف بائیں ہاتھ سے ،اور چاہو تو اسے بوسہ بھی دو ،اور نہ ہو سکے تو لکڑی سے چھونا یا اشارہ کر کے ہاتھ چومنا نہیں ۔ (۱۲) جب اس سے بڑھو تو یہ مستجاب جہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہیں گے وہی دعائے جامع پڑھئے یا اپنے اور سب احباب ومسلمین اور ا س حقیر و ذلیل کی نیت سے صرف درود شریف کافی ہے ۔ (۱۳) اب جو دوبارہ حجر تک آئے یہ ایک پھیرا ہوا ،یونہی سات پھیرے کرو ،مگر باقی پھیروں میں وہ نیت کرنانہیں کہ نیت تو ابتداء میں ہو چکی ، اور رمل صرف اگلے تین پھیروں میں ہے ،اور باقی چار میں آہستہ بے جنبش شانہ معمولی چال سے چلو۔