Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
172 - 198
 (۱۲) ان مسائل میں مرد وعورت برابر ہیں مگر عورت کو چند باتیں جائز ہیں: سر چھپانا، بلکہ نامحرم کے سامنے اور نماز میں فرض ہے توسر پر بستر بقچہ اٹھانا، بدرجہ اولیٰ، گوند وغیرہ سے بال جمانا، سر وغیرہ پر پٹی خواہ بازو یا گلے پر تعویز باندھنا اگر چہ سی کر، غلافِ کعبہ کے اندر یوں داخل ہونا کہ سر پر رہے منہ پر نہ آئے، دستانے موزے سلے کپڑے پہننا، عورت اتنی آواز سے لبیک نہ کہے کہ نامحرم سنے، ہاں اتنی آواز ہر پڑھنے میں ہمیشہ سب کو ضرور ہے کہ اپنے کان تک آواز آئے،
تنبیہ: احرام میں منہ چھپانا عورت کو بھی حرام ہے، نامحرم کے آگے کوئی پنکھا وغیرہ منہ سے بچا ہوا سامنے رکھے۔

(۱۳) جو باتیں احرام میں ناجائز ہیں وہ اگر کسی عذر سے یا بھول کر ہوں تو گناہ نہیں، مگر ان پر جو جرمانہ مقرر ہے ہر طرح دینا آئے گا اگر چہ بے قصد ہوں سہواً یا جبراً یا سوتے میں۔

(۱۴) وقت احرام سے رمی  جمرہ تک (جس کا ذکر آئے گا) اکثر اوقات لبیک کی بے شمار کثرت رکھے خصوصاً چڑھائی پر چڑھتے اترتے، دو قافلوں کے ملتے، صبح وشام، پچھلی رات، پانچویں نمازوں کے بعد مرد بآواز کہیں مگر اتنی بلند کہ اپنے آپ یا دوسرے کو تکلیف نہ ہو،

(۱۵) جب حرم کے متصل پہنچے سر جھکائے، آنکھیں شرم گناہ سے نیچی کیے خشوع وخضوع سے داخل ہو، اور ہو سکے تو پیادہ ننگے پاؤں اور لبیک و دعا کی کثرت رکھے، اور بہتر یہ کہ دن کو داخل ہو نہاکر، 

(۱۶) مکہ مکرمہ کے گرد اگرد کئی کوس کا جنگل ہے، ہر طرف اس کی حدیں بنی ہوئی  ہیں ان حدوں کے اندر ترگھاس اکھاڑنا، خود رو پیڑ کا کاٹنا، وہاں عہ کے و حشی جانوروں کو تکلیف دینا حرام ہے۔
عہ : چیل، کوا، چوہا، چھپکلی، سانپ، بچھو، کھٹمل، مچھر، پسو وغیرہ خبیث اور موذی جانوروں کا قتل حرم میں بھی جائز ہے اور احرام میں بھی (م)
یہاں تک کہ اگر سخت دھوپ ہو اور ایک ہی پیڑ ہے اس کے سایہ میں ہرن بیٹھا ہے تو جائز نہیں کہ اپنے بیٹھنے کے لیے اسے اٹھائے، اور اگرکوئی وحشی جانور بیرونِ حرم کا اس کے ہاتھ میں تھا اسے لیے ہوئے حرم میں داخل ہوگیا، اب وہ جانور حرم کا ہوگیا، فرض ہے کہ فورا اسے آزاد کرے، مکہ معظمہ میں جنگلی کبوتر بکثرت ہیں ہر مکان میں رہتے ہیں خبردار ہر گز انھیں نہ اڑائے نہ ڈرائے نہ کوئی ایذا پہنچائے، بعض ادھر اُدھر کے لوگ جو مکے میں بسے کبوتروں کا ادب نہیں کرتے، ان کی ریس نہ کرے، مگر برا انھیں بھی نہ کہے، جب وہاں کے جانوروں کا ادب ہے تو مسلمانوں انسان کا کیا کہنا،

(۱۷) جب رب العالمین جل جلالہ، کا شہر نظر پڑے ٹھہر کر دعا مانگے اور درود شریف کی کثرت کرے اور افضل یہ ہے کہ نہا دھو کر داخل ہو اور مدفونین جنت المعلیٰ کے لیے فاتحہ پڑھے،
(۱۸) جب مدعٰی  میں پہنچے جہاں کعبہ معظمہ نظر آئے اللہ اکبر یہ عظیم قبول واجابت کا وقت ہے صدق دل سے اپنے اور تمام عزیزون دوستوں مسلمانو ں کے لیے مغفرت وعافیت مانگے، اور فقیر دعائے جامع عرض کرتا ہے درود شریف کی کثرت کرے اور اسے کم از کم تین بار پڑھیں،
  اَللّٰھُمَّ (عہ۱) ھٰذَا بَیْتُکَ وَاَنَاعَبْدُکَ اَسْأَلَکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ لَیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلَلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَلِعَبْدِکَ اَحْمَدْرَضَا اِبْنِ نقی عَلِی اَللّٰھُمَّ اغْفِرْھُمَا وَارْحَمْھُمَا وَانْصُرْہُ نَّصْرًا عَزِیْزًا
پھر درود شریف پڑھیں۔
عہ۱:  ترجمہ: الہٰی! یہ تیرا گھر ہے او میں تیرا بندہ ، الہٰی! میں تجھ سے پناہ مانگتاہوں، گناہوں کی معافی اور دین و دینا وآخرت میں ہر بلا سے محفوْظی اپنے لیے اور اپنے ماں باپ اور سب مردوں  عورتوں اور تیرے حقیر بندے احمد رضا خاں علی کے لیے، الٰہی! اس کی زبردست امداد فرما، آمین!
 (۱۹) یو نہی ذکر خدا ورسول اور اپنے تمام مسلمانوں کے لیے دعائے فلاح دارین کر تاہوا باب السلام تک پہنچے اور اس آستانہ پاک کو بوسہ دے کر داہنا پاؤں پہلے رکھ کر داخل ہو اور کہے:
بِسْمِ اﷲِ  (عہ۲ ) وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِی اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
عہ۲ :اللہ کے نام سے اور سب خوبیاں خدا کو اور رسول اللہ پر سلام، الہٰی درود بھیج ہمارے آقا محمد اور ان کی آل اور ان کی بیبیوں پر، الہٰی! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔(م)
 (۲۰) یہ دعا خوب یاد رکھے جب کبھی مسجد الحرام شریف خواہ مسجد میں داخل ہو اسی طرح جائے اور یہ دعا پڑھے، اور جب کسی مسجد سے باہر آئے  پہلے بایاں پاؤں  باہر رکھے اور یہی دعا پڑھے مگر اخیر میں رَحْمَتِکَ کی جگہ فَضْلِکَ کہے اور یہ لفظ اور بڑھائے:
وَسَھِّلْ عہ۱ اَبْوَابَ رِزْقِکَ۔
اس کی برکات دین ودنیا میں بے شمار ہیں۔ والحمد اللہ۔
عہ۱  اپنے رزق کے دروازوں میں آسانی فرما۔ (ت)
Flag Counter