Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
171 - 198
فصل دوم احرام اور اس کے احکام اور داخلی حرم محترم ومکہ مکرمہ ومسجد الحرام
 (۱) ہندیوں کے لیے میقات (جہاں سے احرام باندھنے کا حکم ہے) کوہ یلملم کی محاذات ہے یہ جگہ کامران سے نکل کر سمندروں میں آتی ہے، جب جدہ دو تین میل رہ جاتا ہے جہاز والے اطلاع دیتے ہیں پہلے سے احرام کا سامان تیار کر رکھیں۔

(۲) جب و ہ جگہ قریب آئے خوب مل کر نہائیں اور نہ نہا سکیں تو صرف وضو کرلیں۔

(۳) چاہیں مرد سر منڈا لیں کہ احرام میں بالوں کی حفاظت سے نجات ملے گی ورنہ کنگھی کرکے خوشبودار تیل ڈالیں۔

(۴) ناخن کتریں، خط بنوائیں، موئے بغل وزیر ناف دور کریں۔

(۵) خوشبو لگائیں کہ سنت ہے۔

 (۶) مرد سِلے کپڑے اتاریں، ایک چادر نئی یا دُھلی اوڑھیں اورایک ایساہی تہبند باندھیں، یہ کپڑے سفید بہتر ہیں۔

(۷) جب وہ جگہ آئے دو رکعت بہ نیتِ احرام پڑھیں، پہلی میں فاتحہ کے بعد
قُلْ یَااَیُّھَاالْکَافِرُوْن،
دوسری میں
قُلْ ھُوَ اﷲ۔
 (۸) اب حج تین طرح کا ہوتا ہے۔

ایک یہ کہ نراحج کرے اسے افرادکہتے ہیں، اس میں بعد سلام یوں کہے:
  اَللّٰھُمَّ (عہ۱) اِنِّیْ اُرَیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہ، لِیْ وَتَقَبَلْہُ مَنِّیْ نَوَیْتَ الْحَجَّ مُخْلِصًالِلّٰہِ تَعَالٰی ۱؎۔
عہ۱  ترجمہ: الٰہی! میں حج کا ارادہ کرتاہوں تو اسے میرے لیے آسان کردے اور مجھ سے قبول فرما، میں نے خاص اللہ تعالٰی کے لیے حج کی نیت کی۔ (م)
 (۱؎ منسک متوسط مع ارشاد الساری    فصل یصلی رکعتین بعد اللبس    دارالکتاب العربی بیروت    ص۶۹)
دوسرا یہ کہ یہاں سے نرے عمرے کی نیت کرے، مکہ معظمہ میں حج کا احرام با ندھے اسے تمتع کہتے ہیں اس میں بعد سلام یو کہے:
اَللّٰھُمَّ اُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْ ھَالِی وَتَقَبَّلْھَا مَنِّیْ نُوَیْتُ الْعُمْرَۃَ مُخْلِصًالِلّٰہِ تَعَالٰی ۲؎۔
 (۲؎ منسک متوسط مع ارشاد الساری    فصل یصلی رکعتین بعد اللبس    دارالکتاب العربی بیروت   ص۷۰)
تیسرا یہ کہ حج وعمرہ کی یہیں سے نیت کرے اور یہ سب  سے افضل ہے اسے قِران کہتے ہیں، اس میں بعد سلام یو ں کہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْ ھُمَالِیْ وَتَقَبَّلْھُمَا مِنِّیْ نُوَیْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ تَعَالٰی ۳؎۔
 (۳؎ منسک متوسط مع ارشاد الساری    فصل یصلی رکعتین بعد اللبس    دارالکتاب العربی بیروت   ص۷۰)
اورتینوں صورتوں میں اس نیت کے بعد لبیک بآوازِ بلند  کہے، لبیک یہ ہے:
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ ط لَبَّیْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ ط اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ط لاَ شَرِیْکَ لَکَ ط ۴؎
 (۴؎ منسک متوسط مع ارشاد الساری    فصل یصلی رکعتین بعد اللبس    دارالکتاب العربی بیروت     ص۶۹)
(۹) یہ احرام تھا اس کے ہوتے ہی یہ کام حرام ہوگئے۔ 

عورت سے صحبت، بوسہ، مساس، گلے لگانا، اس کی اندام نہانی پرنگاہ، جبکہ یہ چاروں باتیں بشہوت ہوں، عورتوں کے سامنے اس کا نام لینا، فحش گناہ، ہمیشہ حرام تھے اب اورسخت حرام ہوگئے، کسی سے دینوی لڑائی جھگڑا، جنگل کا شکار، اس کی طرف شکار کرنے کو اشارہ کرنا یا کسی طرح بتانا، بندوق یا بارود یا اس کے ذبح کے لیے چھری دینا، اس کے انڈے توڑنا، پر اکھاڑنا، پاؤں یا بازو توڑنا، اس کا دودھ دوہنا، اس کا گوشت یاانڈے پکانا، بھوننا، بیچنا، خریدنا، کھانا، ناخن کترنا، سر سے پاؤں تک کہیں سے کوئی بال جداکرنا، منہ یا سر کسی کپڑے وغیرہ سے چھپانا، بستر یا کپڑے عہ۱  کی بقچی یا گٹھڑی سر پر رکھنا،
عہ ۱:  لو حمل المحرم علی راسہ شیأ یلبسہ الناس یکون لا بسا، وان کان لا یلبسہ الناس کا لا جانۃ ونحوہ فلا۱؎ اھ ش عن النھر وا لخانیۃ ۱۲ منہ (م)
اگر محرم نے کئی ایسی شئی اٹھائی جسے لوگ پہنتے ہیں تو اب لباس پہننے والا سمجھا جائیگا، اور اگر لوگ اسے نہیں پہنتے مثلا ٹب  وغیرہ تو اب لابس نہ ہوگا، اھ ش نہر اور خانیہ کے حوالے سے ہے۔ ۱۲ منہ (ت)
 (۱؂ ردالمحتار   فصل فی الاحرام     مصطفی البابی مصر          ۲/ ۱۷۶)
عمامہ باندھنا، برقع و دستانے پہننا، موزے یاجرابیں وغیرہ جو پنڈلی اور اقدام کے جوڑ کو چھپائے پہننا، سِلا کپڑا پہننا، خوشبو بالوں یا بدن یا کپڑوں میں لگانا، ملاگیری یاکسم کیسر غرض کسی خوشبو کے رنگے کپڑے پہننا جبکہ ابھی خوشبو دے رہے ہوں، خالص خوشبو مشک،عنبر، زعفران، جاوتری، لونگ، الائچی، دارچینی، زنجبیل وغیرہ کھانا، ایسی خوشبو کا آنچل میں باندھنا جس میں فی الحال مہک ہو، جیسے مشک، عنبر، زعفران، سر یا ڈاڑھی خطمی یا کسی خوشبودار ایسی چیز سے دھونا جس سے جوئیں مرجائیں، وسمہ یا مہندی کا خضاب لگانا، گوند وغیرہ سے بال جمانا،، زیتون یا تل کا تیل اگر چہ بے خوشبو ہو بدن یا بالوں میں لگانا، کسی کا سر مونڈنا اگر چہ اس کا احرام  نہ ہو، جوں مارنا پھینکنا، کسی کو اس کے مارنے کا اشارہ کرنا، کپڑا اس کے مارنے کودھونا یا دھوپ میں ڈالنا، بالوں میں پارہ وغیرہ اس کے مرنے کو لگانا، غرض جوں کے ہلاک پر کسی پر کسی طرح باعث ہونا،
 (۱۰) احرام میں یہ باتیں مکروہ ہیں:

بدن کا میل چھڑانا، بال یا بدن کھلی یا صابون وغیرہ بے خوشبو کی چیز سے دھونا، کنگھی کرنا، اس طرح کھجانا کہ بال ٹوٹے یا جوں گرے، انگر کھا، کُرتا یا چُغہ پہننے کی طرح کندھوں پر ڈالنا، خوشبوں کی دھونی دیا ہوا کپڑا کہ ابھی خوشبو دے رہا ہوں پہننا، اوڑھنا، قصداً خوشبو سونگھنا اگر چہ  خوشبودار پھل یا پتہ ہو جیسے لیموں، نارنگی، پودینہ، عطردانہ، سریامنہ پر پٹی باندھنا، غلاف کعبہ مکہ معظمہ کے اندر اس طرح داخل ہونا کہ غلاف شریف سریا منہ سے لگے، ناک وغیرہ  منہ کا کوئی حصہ کپڑے سے چھپائے، یا کوئی ایسی چیز کھانا پینا جس میں خوشبو پڑی ہو اور نہ ہو پکائی گئی ہو  نہ زائل ہوگئی ہو، بے سلا کپڑا رفو کیا یاپیوند لگا ہوا پہننا، تکیہ پر منہ رکھ کراوندھنا لیٹنا، مہکتی خوشبو ہاتھ سے چھونا جبکہ ہاتھ میں نہ لگ جائے ورنہ حرام ہے، بازو یا گلے پر تعویز باندھا اگر چہ بے سلے کپڑے میں لپیٹ کر، بلا عذر بدن عہ پر پٹی باندھنا، سنگھار کرنا، چادر اوڑھ کر اس کے آنچلوں  میں گرہ دے لینا، تہبند باندھ کمر بند سے کسنا،
عہ : یکرہ تعصیب راسہ ولو عصبہ یوما او لیلا فعلیہ صدقۃ ولا شیئ علیہ لو عصب غیرہ من بدنہ لعلۃ او لغیر علۃ لکنہ یکرہ بلا علۃ ۱؎ اھ فتح القدیر ۲ ۱منہ (م)
اگر کسی نے سر پر یا ایڑی پر پٹی باندھی اگر چہ ایک دن یا رات ہو تو اس پر صدقہ ہوگا، اور اگر سر کے علاوہ جسم کے کسی اور حصہ پرپٹی باندھی خواہ کسی تکلیف کی وجہ سے تھی یا بلاوجہ، تو کوئی شیئ لازم نہ ہوگی، ہاں بلاوجہ باندھنا مکروہ ہوگا، اھ فتح القدیر ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر    باب الاحرام    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۳۴۹)
 (۱۱) یہ باتیں احرام میں جائز ہیں:

انگرکھا، کُرتا، چغہ لپیٹ کر اوپر سے اس طرح ڈال لینا کہ سراور منہ نہ چھپے، ان چیزوں یا پاجامہ کا تہبند باندھنا، ہمیانی پا پٹی باندھنا، بے میل چڑائے حمام کرنا، کسی چیز کے سائے میں بیٹھنا ، چھتری لگانا، انگوٹھی پہننا، بے خوشبو کا سرمہ لگانا، فصد بغیر بال مونڈے، پچھنے لینا، آنکھ میں جو بال نکلے اسے جدا کرنا، سر یا بدن اس طرح کھجا نا کہ بال نہ ٹوٹے، جوں نہ گرے، احرام سے پہلے جو خوشبو لگائی اس کا لگارہنا، پالتو جانور اونٹ، گائے، بکری، مرغی کا ذبح کرنا، پکانا، کھانا، اس کا دودھ دوہنا، انڈے توڑنا، بھوننا، کھانا، کھانے کے لیے مچھلی کا شکار کرنا، کسی دریا ئی جانو کامارنا دوا یا غذا کے لیے نہ ہو، نری تفریح منظو ر ہو جس طرح لوگوں میں رائج ہے تو شکار دریا ہو یا جنگل خودہی حرام ہے، اور احرام میں سخت تر حرام، منہ اور سر کاسوا کسی اور جگہ زخم پر پٹی باندھنا ،سر یا گال کے نیچے تکیہ رکھنا ، سر یا ناک پر اپنا یا دوسرے کا ہاتھ رکھنا، کان کپڑے سے چھپانا، ٹھوڑی سے نیچے داڑھی پر کپڑا آنا، سر پر سینی اور بوری اٹھانا، جس کھانے کے پکنے میں مشک وغیرہ پڑے ہوں اگر چہ خوشبو دیں یا بے پکائے جس میں خوشبو ڈالی اور وہ بو نہیں دیتی اس کا کھانا پینا، گھی یا چربی یا کڑوا تیل یا ناریل یا بادام یا کدو یا کاہو کا تیل کہ بسایا نہ ہو بدن یا بالوں میں لگانا، خوشبو کے رنگے کپڑے پہننا جبکہ ان کی خوشبو جاتی رہی ہو مگر کسم کیسر کا رنگ مرد کو ویسے ہی حرام ہے، دین کے لیے لڑنا جھگڑنا  بلکہ حسب حاجت فرض وواجب ہے، جوتا پہننا جو پاؤں کے جوڑ کو نہ چھپائے، بے سلے کپڑے میں لپیٹ کر تعویز گلے میں ڈالنا، آئینہ دیکھنا، ایسی خوشبو کا چھونا جس میں فی الحال مہک نہیں جیسے اگر لوبان، صندل یا اس کا آنچل میں باندھنا، نکاح کرنا،
Flag Counter