(۲۶) جس شہر میں جائے وہاں کے سُنی عالموں اور باشرع فقیروں کے پاس ادب سے حاضر ہو، مزارات کی زیارت کرے، فضول سیر تماشے میں وقت نہ کھودے۔
(۲۷) جس عالم کی خدمت میں جائے وہ مکان میں ہو تو آواز نہ دے باہر آنے کا انتظار کرے اس کے حضور بے ضرورت کلام نہ کرے، بے اجازت لیے مسئلہ نہ پوچھے، اس کی کوئی بات اپنی نظر میں خلاف شرع ہو تو اعتراض نہ کرے اور دل میں نیک گمان رکھے، مگر یہ سُنی عالم کے لیے، بد مذہب کے سامنے سے بھاگے،
(۲۸) ذکر خدا سے دل بہلائے کہ فرشتہ ساتھ رہے گا، نہ کہ شعر ولغویات سے کہ شیطان ساتھ ہوگا، رات کوزیادہ چلے کہ سفر جلد طے ہوتا ہے۔
(۲۹) منزل میں راستے سے بچ کر اترے کہ وہاں سانپ وغیرہ موذیوں کا گزرنا ہوتا ہے۔
(۳۰) راستے پر پیشاب وغیرہ باعث لعنت ہے۔
(۳۱) منزل میں متفرق ہو کر نہ اتریں ایک جگہ اُتریں۔
(۳۲) ہر سفر خصوصا سفر حج میں اپنے اور اپنے عزیزوں دوستوں کے لیے دعا سے غافل نہ رہے کہ مسافر کی دعا قبول ہے
(۳۳) جب دریا میں سوار ہو کہے:
بِسْمِ اﷲِ (عہ۱ )مَجْریْھَا وَمُرْسٰھَا اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْر رَّحِیْم o وَمَا قَدَرُوا اﷲ حَقَّ قَدْرِہٖ وَالْاَرْض جَمِیْعًا قَبْضَتُہ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَالسَّمٰوٰتِ مَطْوِیَّات بِیَمِیْنِہٖ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ o ۱؎
عہ۱ ترجمہ: اللہ کے نام سے ہے اس کشتی کا چلنا اور ٹھہرنا، بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے، کافروں نے خداہی کی قدر جیسے چاہئے تھی نہ پہچانی، حالانکہ ساری زمین قیامت کے دن بہت حقیر سی کی طرح اس کے قبضہ میں ہے اور سب آسمان اس کی قدرت سے لپٹ جائیں گے،وہ پاک وبلند ہے ان کی شرکت سے ۱۲ منہ (م)
(۱؎ کتاب عمل الیوم واللیلۃ باب مایقول اذا ارکب فی السفینۃ مجلس دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن ص۱۳۴)
جب کسی مشکل میں مدد کی حاجت ہو تین بار کہے:
یا عِبَادَاﷲِ اَعِیْنُوْنِیْ ۲؎
اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، غیب سے مدد ہوگی، یہ حکم حدیث ہے۔
(۲؎ مجمع الزوائد باب مایقول اذا انفلتت دابتہ الخ دارالکتاب العربی بیروت ۱۰ /۱۳۲)
(کنزالعمال بحوالہ طب عن عتبہ بن غزوان حدیث ۱۷۴۹۸ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۶ /۷۰۹)
(۳۴) یَاصَمَدُ (عہ۱ )۱۳۴ بار روزانہ پڑھے بھوک وپیاس سے بچے گا۔
(۳۵) اگر دشمنی یا رہزن کا ڈر ہو لِاِیْلٰف پڑھے، ہر بلا سے امان رہے۔
(۳۶) سوتے وقت آیۃ الکرسی ایک بار ہمیشہ پڑھے کہ چور اور شیطان سے امان رہے،
عہ۱ ترجمہ: اے بے نیاز۔ (م)
(۳۷) اگر کوئی چیز گم ہوجائے تو کہے:
یَاجَامِعَ النَّاسِ (عہ۲) لِیَوْمٍ لَّارَیْبَ فِیْہِ ط اِنَّ اﷲلَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ o اِجْمَعْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ ضَالَّتِیْ ۱؎۔
ان شاء اللہ تعالیٰ مل جائے گی۔
عہ۲ ترجمہ: اے یقینی دن کے لیے سب لوگوں کے جمع فرمانے والے بیشک اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا مجھے میری گمی چیز ملادے ۱۲ منہ (م)
(۱؎ درمنثور تحت آیۃ انک جامع الناس مکتبۃا ۤیۃ اللہ العظمی قم ایران ۲ /۹)
(۳۸) کرایہ کے اونٹ وغیرہ جو کچھ بارکرنا ہوا س کے مالک کو دکھائے اور اس سے زیادہ بغیر اس کی اجازت کے نہ رکھے۔
(۳۹) جانور کے ساتھ نرمی کرے، طاقت سے زیادہ کام نہ لے، بے سبب نہ مارے، نہ کبھی پونچھ پر مارے، حتی المقدور اس پر نہ سوئے کہ سونے کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے، کسی سے بات وغیرہ کرنے کو کچھ دیر ٹھہرنا ہو تو اتر لے اگر ممکن ہو ۔
(۴۰) صبح وشام اتر کر کچھ دیر پیادہ چل لینے میں دینی دنیوی بہت فائدے ہیں۔
(۴۱) بدوؤں اور سب عربوں سے بہت نرمی کے ساتھ پیش آئے، اگر وہ سختی کریں ادب سے تحمل کرے، اس پر شفاعت نصیب ہونے کا وعدہ فرمایا ہے، خصوصاً اہل حرمین خصوصاً اہل مدینہ، اہل عرب کے افعال پر اعتراض نہ کرے، نہ دل میں کدورت لائے، اس میں دونوں جہان کی سعادت ہے،
(۴۲) جمال یعنی اونٹ والوں کو یہاں کے کرایہ والے نہ سمجھے بلکہ اپنا مخدوم جانے اور کھانے پینے میں ان سے بخل نہ کرے کہ وہ ایسوں سے ناراض ہوتے ہیں اور تھوڑی بات میں بہت خوش ہوجاتے ہیں اور امید سے زیادہ کام آتے ہیں۔
(۴۳) سفر مدینہ طیبہ میں قافلہ نہ ٹھہرنے کے باعث بمجبوری ظہر وعصر ملا کر پڑھنی ہوتی ہے اس کے لیے لازم ہے
کہ ظہر کے فرضوں سے فارغ ہونے سے پہلے ارادہ کرلے کہ اسی وقت عصر پڑھوں گا، اور فرض ظہر کے بعد فوراً عصر کی نما ز پڑھے یہاں تک کہ بیچ میں ظہر کی سنتیں بھی نہ ہوں، اسی طرح مغرب کے ساتھ عشاء انہی شرطوں سے مغرب کے وقت نکلنے سے پہلے ارادہ کرلے کہ ان کو عصر وعشاء کے ساتھ پڑھوں گا۔
(۴۴) واپسی میں بھی وہی طریقہ ملحوظ رکھے جو یہاں تک بیان ہوا۔
(۴۵) مکان پر اپنے آنے کی تاریخ وقت کی اطلاع پہلے سے دے دے، بے اطلاع ہر گز نہ جائے خصوصاً رات میں۔
(۴۶) سب سے پہلے اپنی مسجد سے دو رکعت نفل کے ساتھ ملے۔
(۴۷) دو رکعت گھر میں آکر پڑھے پھر سب سے بکشادہ پیشانی ملے۔
(۴۸) دوستوں کے لیے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور لائے اور حاجی کا تحفہ تبرکات حرمین شریفین سے زیادہ کیا ہے اور دوسرا تحفہ دعا کہ مکان میں پہنچنے سے پہلے استقبال کرنے والوں اور سب مسلمانوں کے لیے کرے کہ قبول ہے۔