انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ (۱۳۲۹ھ)
( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
الحمد اﷲ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علی رسولہٖ محمد واٰلہٖ واصحابہ اجمعین۔
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ط
اما بعد، یہ چند حروف ہدایت حجاج کے لیے ہیں، ان میں اکثر کتاب مستطاب جواہر البیان شریف تصنیف لطیف اقدس حضرت خاتم المحققین سیدنا ومولٰنا مولوی محمد نقی علی خاں صاحب قادری برکاتی قدس سرہ الشریف سے التقاط (عہ) کئے ہیں، ۳ شوال ۱۳۲۹ ھ کو والا جناب حضرت سید محمدا حسن صاحب بریلوی نے فقیر احمد رضا خاں قادری غفرلہ سے فرمایا کہ ۱۰ شوال کو میرا ارادہ حج ہے بہت لوگ جاتے ہیں حج کا طریقہ اورا ۤداب
لکھ کر چھاپ دے، حضرت سید صاحب کے حکم سے بکمال استعجابی یہ چند سطور تحریر ہوئیں، امید کہ بہ برکت سادات کرام، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور مسلمان بھائیوں کو نفع پہنچائے، آمیں!
(عہ) اور صدہا مسائل اپنے رسائل اور منسک متوسط وغیرہ سے اضافہ کیے ۱۲ منہ (م)
فصل اوّل آداب سفر ومقدماتِ حج میں
(۱) جس کا قرض آتا ہو یا امانت پاس ہو ادا کرے، جن کے مال ناحق لیے ہوں واپس دے یا معاف کرائے، پتا نہ چلے تو مال فقیروں کو دے دے۔
(۲) نماز ، روزہ، زکوٰۃ جتنی عبادات ذمہ پر ہوں ادا کرے اور تائب ہو۔
(۳) جس کی بے اجازت سفر مکروہ ہے جیسے ماں، باپ، شوہر، اسے رضامند کرے جس کااس پر قرض آتا ہے، اس وقت نہ دے سکے توا س سے بھی اجازت لے، پھر بھی حج کسی کی اجازت نہ دینے سے رک نہیں سکتا، اجازت میں کوشش کرے نہ ملے جب بھی چلا جائے،
(۴) اس سفر سے مقصود صرف اللہ ورسول ہوں۔
(۵) عورت کے ساتھ جب تک شوہر یا محرم بالغ قابل اطمینان نہ ہو جس سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے سفر حرام ہے، اگر کرے گی حج ہوجائے گا مگر ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔
(۶) توشہ مال حلال سے ہو ورنہ قبول حج کی امید نہیں اگر چہ فرض اترجائے گا۔
(۷) حاجت سے زیادہ توشہ لے کر رفیقوں کی مدد اور فقیروں پر صدقہ کرتا چلے، یہ حج مبرور کی نشانی ہے۔
(۸) عام کتب فقہ بقدر کفایت ساتھ لے ورنہ کسی عالم کے ساتھ چلا جائے، یہ بھی نہ ملے تو کم از کم یہ رسالہ ہمراہ ہو۔
(۹) آئینہ، سُرمہ، کنگھا، مسواک ساتھ رکھے کہ سنت ہے،
(۱۰) اکیلا سفر نہ کرے منع ہے، رفیق دیندار ہو کہ بددین کی ہمراہی سے اکیلابہتر ہے۔
(۱۱) حدیث میں ہے: جب تین آدمی سفر کو جائیں اپنے میں ایک کو سردار بنالیں ۱؎۔ اس میں کاموں کا انتظام رہتا ہے، سردار اسے بنائیں جو خوش خلق، عاقل دیندار ہو، سردار کو چاہئے رفیقوں کے آرام کو اپنی آسائش پر مقدم رکھے۔
(۱؎ مشکوٰۃ المصابیح کتاب الجہاد باب آداب السفر مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳۹)
چلتے وقت اپنے دوستوں عزیزوں سے ملے اور اپنے قصور معاف کرائے، اور ان پر لازم ہے کہ دل سے معاف کردیں، حدیث میں ہے کہ جس کے پاس اس کا مسلمان بھائی معذرت لائے واجب ہےکہ قبول کرلے ورنہ حوضِ کوثر پرآنا نہ ملے گا۔۱؎
(۱؎ الترغیب والترھیب الترھیب ان یعتذرالی المرء اخوہ الخ مصطفی البابی مصر ۳ /۴۹۱)
(۱۳) وقت رخصت سب سے دعا لے کہ برکت پائے گا۔
(۱۴) ان سب کے دین، جان، اولاد، مال، تندرستی، عافیت خدا کو سونپے،
(۱۵) لباس سفر پہن کر گھر میں چار رکعت نفل، الحمد وقل سے پڑھ کر باہر نکلے، وہ رکعتیں واپس آنے تک اس کے اہل ومال کی نگہبانی کریں گی،
(۱۶) جدھر سفر کو جائے جمعرات یا ہفتہ یا پیر کادن ہو، اور صبح کا وقت مبارک ہے، اور اہل جمعہ کو روز جمعہ قبل جمعہ سفر اچھا نہیں۔
عہ۱ ترجمہ: اللہ کے نام سے اور اللہ کی مدد سے، اور میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، اور نہ گناہوں سے پھر نا نہ طاعت کی طاقت مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے، الہٰی! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس سے کہ خود لغزش کریں یا دوسرا ہمیں لغزش دے یا خود بہکیں یا دوسرا بہکائے یا ظلم کریں یا ہم پر ظلم ہو یا جہل کریں یا ہم پر کوئی جہل کرے۔ (ت)
(۲؎ کتاب ادعیۃ الحج والعمرۃ ملحق ارشاد الساری فصل فی الوداع دارالکتاب العربی بیروت ص۲)
(۱۸) سب سے رخصت کے بعداپنی مسجد سے رخصت ہو، وقتِ کراہت نہ ہو تو اس میں دو رکعت نفل پڑھے۔
(۱۹) چلتے وقت کہے: واپسی تک مال اور اہل وعیال محفوظ رہیں گے،