| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
بالجملہ : قول وجوب من حیث الدلیل اظہر اور نظر ایمانی میں اَحب وازہر ہے اور قریب وجوب کہ علمائے مذاہب اربعہ بلکہ خود امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منصوص اس کے قریب اور حکماً مقارب، اور قول سنت اس کے منافی نہیں فقہاء واجب کو بھی ''کہ سنت یعنی جو حدیث سے ثابت ہو'' سنت بولتے ہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے نماز عید کو کہ حنفیہ کے نزدیک واجب، ہے سنت کہا بلکہ اطلاق اعم میں مستحب ومندوب بھی واجبات کو شامل، اور فرض وواجب جبکہ حکم عمل واثم تارک میں مشارک، اور شافعیہ کے یہاں فرق اصطلاح نہیں تو ان کے نزدیک واجب پر اطلا ع فرض اور حج سے تمثیل بعید نہیں، اس تقریر پر سب افعال متفق ہوجائیں گے اور بہ تصریح علماء مثل علامہ شامی وغیرہ اہدائے وفاق ابقائے خلاف، سے اولیٰ اور بیشک وجوب وقرب وجوب کہ جمہورائمہ مذاہب جس کی تصریح کرتے ہیں، تارک کے اثم پر یک زبان، بہرحال جزم کیاجاتا ہے کہ باجود قدرت تارک زیارت قطعاً محروم وملوم وبد بخت ومشوم وآثم وگنہگار و ظالم و جفا کار ہے، والعیاذ باللہ ممالا یرضاہ، لاجرم سلفاً وخلفاً علماء دین وائمہ معتمدین تارکِ زیارت پر طعن شدید وتشنیع مدید کرتے آئے کہ ترک مستحب ہر گز نہیں ہوسکتی، علامہ رحمت اللہ علیہ رحمۃ اللہ تلمیذ امام ابن ہمام نے لباب میں فرمایا:''ترک زیارت بڑی غفلت اور سخت بے ادبی ہے۔''۱؎
(۱؎ لباب المناسک مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص۳۳۴)
اور امام ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی نے توجوہر منظم میں تارک زیارت پر قیامت کبرٰی قائم فرمائی، فرماتے ہیں رحمہ اللہ تعالٰی: ''خبردار ہو حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تجھے ترک زیارت سے حد درجہ ڈرایا اور اس کی آفتوں سے وہ کچھ بیان فرمایا کہ اگرتو اسے غور سے سمجھے تو اپنے اوپر ہلاکت وبدانجامی کا خوف کرے، حضور نے صاف فرمادیا کہ ترک زیارت جفا ہے۔
اور یونہی صحیح حدیث میں آیا کہ ''میرا ذکر سن کر مجھ پر درود نہ پڑھنا جفا ہے۔'' اس سے ثابت ہوا کہ باوجود قدرت ترکِ زیارت اور ذکر اقدس سن کر ترک درود، دونوں یکساں ہیں کہ دونوں جفا ہیں، تو تارک زیارت پر ان سب عذابوں اور شناعتوں کا خو ف ہے جو تارک درود کے لیے حدیثوں میں آئیں کہ وہ شقی، نامراد ذلیل وخوار، مستحق نار، خدا ورسول سے دور ہے، اس پر ان سب عذابوں اور نیز مردود بارگاہ ہونے کی دعا جبریل امین وحضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمائی، وہ راہ جنت بھول گیا، حد بھر کا بخیل، ملعون، بے دین ہے، اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دیدار جمال جہاں آرا سے محروم رہے گا،
والعیاذ باللہ تبارک وتعالیٰ
ان باتوں کو یاد کرکے اسے خبر دے جس نے باوصفِ قدرت براہ سستی وکسل، زیارت شریف نہ کی، شاید یہ سن کر ان برائیوں سے توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع لائے، اپنے اس نبی پر جفا نہ کرے جو اس کا اور تمام جہاں کا اللہ عزوجل کی طرف سے وسیلہ ہیں، اور ہم نے بہت تارکانِ زیارت بحال قدرت کو دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں پر صریح محسوس تاریکی ظاہر کردی اور نیکیوں میں انھیں ایسا سست کردیا کہ عبادت چھوڑ کر دنیا میں پڑگئے اور مرتے دم تک اس حال پر رہے۱؎۔''
(ملخصا) والعیاذ باللہ سبحانہ وتعالیٰ۔
(۱؎ جوہر منظم ابن حجر مکی عربی فصل ثالث فی التحذیر من ترک زیارت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبعہ خیریہ مصر ص۲۸ تا ۳۰)
اس کے بعد امام نے وہ سخت ہولناک واقعے لکھے جنھیں سن کر مسلمان کا دل کانپ اٹھے، اللہ تعالٰی اپنی امان میں رکھے صدقہ اپنے پیارے حبیب قریب مجیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا، ا ۤمین! مسلمان غور کرے جب تارکِ زیارت کا یہ حال ، اس کے مانع یا منکر فضیلت کا کیا حال ہوگا! آفتاب سے زیادہ روشن کہ ایسا شخص گمراہ، بددین، خارق اجماع مسلمین، مستحق وعیدشدید،
نولہ ماتولیٰ ونصلہٖ جھنم وساءت مصیرا ۲؎
(ہم اسے اس کے حال پر چھوڑدیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی، ت) ہے۔
(۲؎ القرآن ۴ /۱۱۵)
امام ابن حجر افضل القریٰ میں فرماتے ہیں: ''جو اس کی خوبی میں نزاع کرے گا اس کا نزاع کرنا دنیا و آخرت میں اس کی تباہی وروسیاہی کا باعث ہوگا۳؎۔
(۳؎ افضل القریٰ)
'' امام سبکی شفاء السقام شریف میں فرماتے ہیں: '' نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت واطراف عالم سے اس کی طرف سفر اعظم قربات الٰہی سے ہے جیسا کہ مدتوں سے شرق وغرب کے مسلمانوں میں معروف ہے، آج کل بعض مردود (یعنی ابن تیمیہ اور اس کے ہوا خواہ) شیطان کے سکھائے سے اس میں شک ڈالنے لگے مگر ہیہات یہ مسلمان کے دل میں کہاں جگہ پاتی، یہ تو ایک مردود کی فتنہ پر دازی ہے جس کا وبال اسی پر پڑے گا۔۴
(۴؎ شفاء السقام الباب ا لسادس فی کون السفر الیہاقربۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۰۲)
امام احمد قسطلانی مواہب شریفہ میں فرماتے ہیں: ''قبر مبارک کی زیارت بہت بڑی قربت اور بہت بڑی امید کی اطاعت اور نہایت بلند درجوں کی طرف راہ ہے جو اس کے خلاف اعتقاد کرے اس نے رسنِ اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے نکال دیا اور خدا ورسول وجماعت مشاہیر ائمہ کا خلاف کیا۔''۵؎
(۵؎ المواہب اللدنیہ مقصد عاشر فصل ثانی الترغیب فی زیارۃ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۵۷۰)
یہاں تک کہ بعض علماء صراحۃً زیارت شریفہ کے قربت ہونے کو ضروریاتِ دین سے اور اس کے منکر کو کافر بتا تے ہیں، درہ مضیہ مولٰنا علی قاری میں ہے: ''بعض فضلاء نے مبالغہ کیا کہ فرماتے ہیں زیارت شریفہ کا قربت ہونا دین سے ضرورۃ معلوم ہےا ور اس کے منکر پر کفر کا حکم۔''۱؎
(۱؎ درہ مضیہ)
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں: ''قبر اکرم سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت اورا س کی طرف سفر کو ابن تیمیہ اور اس کے اتباع مثل ابن قیم نے منع کیا اور یہ اس کا وہ کلام شنیع ہے جس کے سبب علماء نے اس کی تکفیر کی اور امام سبکی نے اس میں مستقل کتا ب لکھی۲؎۔''
(۲؎ نسیم الریاض فصل فی حکم زیارۃ قبرہ علیہ الصلٰوۃ والسلام دارالفکر بیروت ۳ /۵۱۴)
اقول قول تکفیرکی نفیس تقریر وعمدہ توجیہ مع جواب وجیہ فقیر غفراللہ تعالیٰ نے بتوفیق اللہ تعالیٰ اصل فتویٰ میں ذکر کی، یہاں اس قدر کافی، مولیٰ تعالیٰ صدقہ اپنے حبیب کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا ان کی سچی محبت اور سچا ادب بخشے اور انہی کی محبت وتعظیم وادب وتکریم پر دنیا سے اٹھائے اور اپنے کرم عمیم و فضل عظیم سے دنیا وآخرت میں ان کی زیارت سےمشرف وبہرہ مند فرمائے
آمین آمین یاارحم الراحمین وصلی اللہ تعالٰی علی سید المرسلین محمد وآلہٖ وصحبہٖ اجمعین، واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
محمدی حنفی قادری عبدالمصطفی احمدر ضا خاں کتبہ عبدہ المذنب احمد رضاالبر یلوی عفی عنہ عند بمحمدن المصطفٰے النبی الامی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم