| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
مسئلہ ۳۱۱: از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ ملا یعقوب علی خاں ۴ رجب ۱۳۱۱ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص احرام میں ذرا دیر سر پر بُھولے سے کپڑا ڈال لے تو حکم ہے کہ من گیہوں دے اور جو مکہ میں نہ دے یہاں دے کیاحکم ہے؟ حج میں تو خلل نہیں کہ یہ مستحب ہے اور اگر کسی عذر کے سبب سر چھپانا پڑے تو کیا حکم ہے؟
الجواب جو مرد اپنا سارایا چوتھائی سر بحالت احرام چُھپائے جسے عادۃ سر چھپانا کہیں، جیسے ٹوپی پہننا، عمامہ سر باندھنا، سر سے چادر اوڑھنا، دُھوپ کے باعث سر پر کپڑا ڈالنا، درد کے سبب سر کسنا، زخم کی وجہ سے پٹی باندھنا ( نہ گٹھڑی یا صندوق یاخوان وغیرہ کا سر پر اٹھانا کہ یہ سر چھپانے میں داخل نہیں) اس پر مطلقاً جُرمانہ واجب ہے اگر چہ بھولے سے، اگر چہ سوتے میں، ا گر چہ بیہوشی میں اگر چہ عذر سے ،مگرصحت حج میں خلل نہیں، ہاں ایک طرح کا قصور ہے جس کی تلافی کو جُرمانہ مقرر ہوا، جیسے نماز میں سہواً ترک واجب سے سجدہ، عذر و بے عذر میں اتنا فرق ہے اگر بے عذر ایک دن کامل یا ایک رات کامل یا اس سے زائد سرچھپارہا تو خاص حرم میں ایک قربانی ہی کرنی ہوگی جب چاہے کرے، دُوسرا طریقہ کفارہ کا نہیں اور عذر مثلاً بخار یا سردی یا زخم یا درد کے سبب اتنی مدت چھپایا تو اختیار ہوگا حرم میں قربانی کرے یا جہاں چاہے جب چاہے یا تین صاع گیہوں یا مثلا چھ صاع جَو، چھ مسکینوں کو دے یا تین روزے جس طرح چاہے رکھ لے، اور اگر کامل دن یا رات کی مدت سے کم چھپا رہا اگر چہ کتنی ہی تھوڑی دیر کو توبے عذری کی صورت میں صدقہ فطر کی طرح خاص صدقہ ہی لازم ہوگا، یعنی نیم صاع گیہوں یا مثلاً ایک صاع جَو کہ جہاں چاہے دے اور بصورت عذر مختار ہو گا چاہے یہ صدقہ دے یا ایک روزہ جہاں چاہے رکھ لے۔ ایک صاع دوسو ستر تولے کا ہوتا ہے اور سکہ انگریزی روپیہ سوا گیارہ ماشے کا، تو جہاں سَو روپے بھر کا سیر ہے جیسے ہمارے شہر بریلی میں وہاں کی تول سے صاع پانچ ماشے پانچ رتی اوپر آدھ پاؤ پونے تین سیر کا ہوا، اور نصف صاع دوماشے ساڑھے چھ رتی اوپر تین چھٹانک سوا سیر کا یعنی کچھ کم ڈیڑھ سیر، اس نصف صاع کے آدھے کو عربی میں مُد اور منْ کہتے ہیں ۔ تو ذر ادیر کپڑا سر پر ڈالنے میں من بھر گیہوں کا حکم نہیں بلکہ متعمد روایت میں دومن کاہے۔
فی الدرالمختار، الواجب دم علی محرم بالغ ولونا سیا اوجا ھلا اومکرھا فیجب علی نائم غطی راسہ اوستر راسہ (ای کلہ او ربعہ) بمعتاد، اما بحمل اجانۃ او عِدل فلا شی علیہ، یوما کاملا اولیلۃ کاملۃ وفی الا قل (شمل (الا قل الساعہ الواحدۃ او مادونھا) تصدق بنصف صاع من بر، کا لفطرۃ (افادان التقیید بنصف الصاع من البر اتفاقی فیجوز اخراج الصاع من التمر اوالشعیر من القھستانی) وبعذر (ومن الاعذار الحمی والبرد والجرح والقرح والصداع والشقیقۃ والقمل) و (اما الخطاء والنسیان والاغمام والاکراہ والنوم وعدم القدرۃ علی الکفارہ فلیست باعذار) خیران شاء ذبح فی الحرم او تصدق بثلاثۃ اصوع طعام علی ستۃ مساکین این شاء اوصام ثلثۃ ایام ولو متفرقۃ (ھذا فیما یجب فیہ الدم اماما یجب فیہ الصدقۃ ان شاء تصدق بما وجب علیہ من نصف صاع اواقل علی مسکین او صام یوما کما فی اللباب) ۱؎ اھ ملتقطین وفی الشامیۃ ایضا وکذا الصوم لایتقید بالحرم فیصومہ این شاء ۲؎ اھ وفیہا ایضا الکفارات کلھا واجبۃ علی التراخی فیکون مؤدیافی ای وقت ۳؎ا ھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار اور ردالمحتار میں ہے ہر محرم بالغ پر دم واجب ہوتا ہے خواہ اس نے وہ عمل نسیاناً یا جہالۃً یا مجبوراً کیاہویا حالتِ نیند میں محرم نے اگر بطور عادت پور ادن یا پوری رات سر ڈھانپ لیا (تمام سر یا چوتھائی سر) تو دم لازم ہوگا، اگر کسی نے ٹب یا گٹھڑی اٹھائی تو کوئی شے لازم نہیں،ا ور اگر دن سے کم وقت سر ڈھانپا (لفظ اقل ایک ساعت اور اس سے کم کو بھی شامل ہے) تو گندم کا ایک صاع صدقہ کیا جائیگا جیسے فطرانہ (یہ عبارت بتارہی ہے کہ نصف صاع گندم کا تذکرہ اتفاقی ہے احترازی نہیں، تو ایک صاع کھجور یا جَو دے سکتے ہیں، قہستانی( اگر چہ عذر کی وجہ سے ہو (اعذار میں سے بخار، سردی، زخم، پھوڑا، شیققہ وسر کا درد اور جُوں کا ہونا ہے لیکن عمل خطاً، نسیاناً، اغمام، مجبوری نیند یا کفارہ پر عدمِ قدرت، یہ عذر نہیں بن سکتے) اسے اختیار ہے چاہے حرم میں دم ذبح کرے یا جہاں چاہے چھ مساکین کو تین صاع طعام دے دے یا تین روزے متفرق طور پر رکھ لے (یہ اس صورت میں ہے جہاں دم لازم ہوتا ہے اور جس صورت میں صدقہ لازم ہوگا توا گر چاہے تو نصف صاع یا اس سے کم کسی مسکین کو دے دے یا ایک دن کا روزہ رکھ لے، اللباب) اھ دونوں عبارتیں مختصر ہیں، اور فتاوی شامی میں بھی اسی طرح ہے کہ اور اسی طرح روزہ حرم کے ساتھ مخصوص نہیں جہاں چاہے رکھ سکتا ہے اھ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ تمام کفارات واجبہ کی ادائیگی فی الفور لازم نہیں لہذا وہ جس وقت بھی ادا کرے ادا ہوجائے گا اھ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الجنایات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۷۳ تا ۱۷۵) (ردالمحتار باب الجنایات مصطفی البابی مصر ۲ /۲۱۷ تا ۲۲۸) (۲؎ ردالمحتار باب الجنایات مصطفی البابی مصر ۲ /۲۲۸) (۳؎ ردالمحتار باب الجنایات مصطفی البابی مصر ۲ /۲۱۷)
مسئلہ ۳۱۲: از حافظ عبدالمجید قصبہ تحصیل سوار خاص علاقہ ریاست رامپور بروز سہ شنبہ ۱۰ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ محرم کو احرام میں جوڑ لگانا عند الشرع جائز ہے یا نہیں؟
الجواب سِلی ہوئی چیز سے بچنا چاہئے اور حالتِ ضرورت مستثنےٰ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۱۳: از بمبئی محلہ قصاباں متصل کرافٹ مارکیٹ مکان گورے بابو صاحب مسئولہ حضرت سید حامد حسین میاں صاحب قبلہ دام ظلہم ۴ ذیقعدہ ۱۳۲۹ھ معظمی مکرمی مد ظلہ العالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ چند امور دریافت طلب ہیں بہ گوارائے تکلیف بواپسی ڈاک مطلع فرمائیے بعید از شفقت بزر گانہ نہ ہوگا، اول(۱) یہ کہ مستورات منہ پر پنکھا کھجور کا لگالیتی ہیں یقینا وہ پنکھا کنپٹی اور ناک اور منہ سے لگتا ہےا ور چہرہ پوشیدہ بھی رہتا ہے احرام کی حالت میں کیا کرنا چاہئے، نماز پڑھتے وقت جبکہ پردہ کی جگہ نہ ہو پنکھا اونچا اٹھا ہو مشکل سے رکے گا، علاوہ ازیں چہرہ نامحرمان کی نظر سے مخفی رکھنا دشوار ہے اس کے متعلق صاف الفاظ میں تحریر فرمائیے جو سمجھ میں آسکے۔ دوم(۲) یہ کہ فقیر تمباکو پان کو ساتھ کھانے کا عادی ہے اگرچہ لعاب ایک قطرہ بھی حلق سے نیچے نہیں اترتا، تمباکو نہ کھانے کے سبب سخت تکلیف ہوگی، اس تمباکو میں قدرے قلیل مشک وزعفران کاہونا بھی بیان کیا جاتا ہے آپ کے ملاحظہ کے واسطے قدرے تمباکو مرسل ہے۔
الجواب بشرف ملا حظہ عالیہ حضرات بابرکت والا درجت حضرت مولانا سید شاہ حامد حسین میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم السلا م علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، بعد ادائے آداب معروض پنکھا سر پر مضبوط باندھیں کہ اٹھا رہے او ر بڑا ہو کہ اٹھا رہنے کی عادت میں چہرہ اجانب سے چھپارہے پھر بھی اگر احیاناً چہرہ پر ڈھلک آئے یا کنپٹی یا ناک یا منہ سے لگے اگر منہ کی ٹکلی کے چہارم تک نہ پہنچے تو کفارہ کچھ نہیں، نہ قربانی نہ صدقہ کہ نہ چہارم منہ چھپایا نہ چار پہر تک اسے دوام رہا، اس صورت میں کراہت ومعصیت ہوتی مگر جبکہ وہ بلا قصد ہے اور اسے قائم رکھا گیا تو مواخذہ نہیں، ہا ں اگر چہارم منہ کی ٹکلی چھپ جائے گی تو ضرور صدقہ دینا آئے گا، احکام جو شرع مطہر نے ارشاد فرمائے صدقِ دل سے ان کا اہتمام ہو تو وہی جس کے احکام ہیں مدد فرماتا او رآسان کردیتا ہے، تمباکو کہ قوام میں خوشبو ڈال کرپکائی گئی جب تو اس کاکھانا مطلقاً جائز ہے اگر چہ خوشبو دیتی ہو، ہاں خوشبو ہی کے قصد سے اسے اختیار کرنا کراہت سے خالی نہیں اور نظر جانب خوشبو نہ ہو بلکہ حسب عادت دیگر منافع تمباکو کی طرف تو کچھ حرج نہیں اور اگر بے پکائے خوشبو مشک وغیرہ اس میں شامل ہو اور خوشبو دے رہا ہو جب بھی کفارہ کچھ نہیں البتہ کراہت ضرور ہے، یہ کراہت پیک نگلنے پر موقوف نہیں کہ خوشبو کا آنچل میں باندھنا بھی ناجائز ہے، ہاں اگر مشک اتنی کم پڑی کہ خوشبو نہ دے یا مدت گزرنے سے اتر گئی کہ اب خوشبو جاتی رہی تو کراہت بھی نہیں،
لباب وشرح لباب میں ہے:
الطیب اذا اخلطہ بطعام قد طبخ فلا شی علیہ اتفاقا سواء یوجد ریحہ اولا لانہ بالخلط والطبخ یصیر مستھلکا فلا یعتبر وجودہ اصلا وان خلطہ بما یوکل بلا طبخ کا لزعفران بالملح فالعبرۃ بالغلبۃ، فان کان الغالب الملح ای اجزأہ لا طعمہ ولونہ فلا شی علیہ من الجزاء غیرانہ اذا کان رائحتہ موجودۃ کرہ اکلہ مغلوبا غیر مطبوخ وان کان الغالب الطیب ففیہ الدم فانہ حینئذ کالزعفران الخالص فیجب الجزاء وان لم تظھر رائحتہ ۱؎ اھ ملخصا محررا۔
اگر خوشبو کسی ایسے کھانے میں ملائی جسے پکایا گیا تو اب محرم پر کوئی شی لازم نہ ہوگی خواہ مہک باقی ہو یا نہ ہو کیونکہ وہ اختلاط اور پکنے سے ہلاک و ختم ہوگئی اب اس کے وجود کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا، اور اگر وہ کھانے والی چیز میں ملی لیکن اس میں پکی نہیں جیسے زعفران نمک میں مل جائے تو غلبہ کا اعتبار ہوگا، اگر نمک کے اجزاء (ذائقہ اور رنگ نہیں) زائد ہیں تو اب کوئی شی لازم نہ ہوگی ماسوائے اس کے کہ اگر مہک باقی تھی تو اس کا کھانا مکروہ ہوگا کیونکہ وہ مغلوب ہے مگر پکی ہوئی نہیں، اور اگر غالب خوشبو ہے تو اس میں دم آئیگا کیونکہ وہ خالص زعفران کی طرح ہوگا تو اب سزا لازم ہوگی خواہ مہک نہ ہوگی اھ ملخصا محررا۔ (ت)
(۱؎ لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری فصل فی ا کل الطیب وشربہ دارالکتاب العربی بیروت ص۲۱۱ تا ۲۱۳)
اسی کے محرماتِ احرام میں ہے:
التطیب واکل الطیب وشدہ بطرف ثوبہ ای ربط طیب یفوح ریحہ ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
خوشبو لگانا، خوشبو کھانا، کپڑے کے کنارے میں ایسی خوشبو باندھنا جس کی مہک پھیل رہی ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (ت)
(۲؎ لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری فی محرمات الاحرام دارالکتاب العربی بیروت ص۸۱)