Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
165 - 198
مسئلہ ۳۰۸:مسئولہ حافظ محمد ایاز صاحب از قصبہ نجیب آ باد ضلع بجنور ۲۰ صفر ۱۳۳۲ھ

کیا فر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں حضور نے پہلے استفتاء میں بابت حج بیت اللہ شریف یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جس کے پاس مال رشوت وغیرہ کا شامل ہے اس کو چاہئے قرض لے کر حج ادا کرے انتہی، اب آئندہ یہ ارشاد فرمائے کہ وہ قرضہ کہا ں سے ادا کرے؟ معترض کہتا ہے کہ اول تو جب رشوت وغیرہ کا روپیہ اس کی ملک نہیں ہے تو اس کے پاس اور کچھ نہیں اور قرض لے کر حج ادا کرنے کی ممانعت ہے،ا ور بالفرض اگر قرض لے کر حج کے واسطے رکھا اور اپنے روپے سے جو رشوت وغیرہ کا اس کے پاس ہے اس سے قرض ادا کردیا تو وہ کیا ہوا اسی اپنے روپے کی وجہ سے توا س نے قرض لیا تھا لہذا یہ روپیہ بھی بعینہٖ اپنے ہی روپے کی مثل ہوا تواس واسطے دلیل و ثبوت کافی ارشاد ہو کہ تسکین ہوجائے یہ شخص حج کے واسطے جانے کا بہت ہی مشتاق ہے۔
الجواب

روپیہ کہ قرض لیا گیا کہ ایک مال حلال ہے کہ عقد صحیح شرع سے حاصل کیا توا س میں خبث کی کوئی وجہ نہیں، عالمگیری وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ جس کا مال حرام ہے وہ اگر زید کی دعوت کرے یا اسے کچھ دے اور کہے
ورثتہ اواستقر ضتہ ۱؎
یہ مال مجھے ترکہ میں ملا ہے یا میں نے قرض لیا ہے،
 (۱؎ فتاویٰ ہندیہ        الباب الثانی عشر فے الہدایہ والضیافات    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۲)
توا س کا لینااور دعوت کھانا حلال ہے اور جب حج اس کے فرض ہوچکا تھا اور اب اس کے پاس مالِ حلال نہ رہا صرف مال حرام ہے اور مال حرام سے حج مردود ہے، تو چارہ کار سوا اس کے کیا ہے کہ کسی ذریعہ سے حلال مال حاصل کرکے حج کو جائے او رفرض ادا کرے، قرض بھی ذریعہ حلال ہے، یہرفرض تو ادا ہوگیا، ہاں ادائے قرض میں اس پر دقّت ہے کہ مال حرام کو اپنے کسی مصر ف میں صرف کرنا اسے جائز نہیں ، مگر یہ مسئلہ جدا گانہ ہے حج سے اسے تعلق نہیں، اپنی نجات چاہے تو مال حرام اس کے مالک کو یا وارثوں کو پہنچائے اور نہ ملیں تو تصدق کرے اور وجہ حلال سے مال پیدا کرکے قرض ادا کرے اگر ادا ہوگیا فبہا ورنہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ حج یاجہاد یا نکاح کے لیے قرض لے وہ قرض اللہ عزوجل کے ذمہ کرم پر ہے،۲؂
 (۲؎ مجمع الزوائد        باب فیمن نوی دینہ واھتم بہ        دارالکتاب بیروت    ۴ /۱۳۳)
اور اگر پیروی نفس کی اور مال حلال کی طرف توجہ نہ کی اسی حرام سے قرض ادا کیا اور اپنے مصارف میں صرف کرتا رہا تو یہ ایک گناہ ہے اور حج ادا نہ کرتا تو دوگناہ تھے ایک گناہ سے بچ گیا یہ کیا کم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۹: مولوی ابو المحاسن محمد سجاد بہاری صاحب مدرس اوّل و مہتمم مدرسہ انوار العلوم شہر گیا ۱۲ شوال ۱۳۳۴ھ

مولانا صاحب اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاج شریف! باعث تحریر عریضہ ہذایہ ہے کہ اس سال نظر بحالات موجودہ حج کے متعلق عام مسلمین کو کیا حکم دیاجائے، جناب عالی کی رائے صائب ہوگی کیا خبر احوال شریف مکہ وموجودہ جنگ کے واقعات مسقط وجوب ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ اگر بالفرض اس قسم کا احتمال مسقط وجوب ہو بھی تو ایسے موقع پر فتویٰ کیا دینا چاہئے، امید کہ جواب بالصواب سے سرفراز فرمائیں گے۔
الجواب

افواہ کا اعتبار اگر واقعی ثابت ہو کہ راستہ میں امن نہیں تو وجوب نہ ہوگا کہ
من استطاع الیہ سبیلا ۳؎
 (جو اس تک چل سکے۔ ت)
 (۳؎ القرآن     ۳ /۹۷)
صادق نہ آیا مگر یہ ا س کے لیے ہے جس پر اسی سال وجوب حج ہوتا اور جن پر پہلے سے واجب ہو لیا ہے اور اپنی کاہلی سے اب تک ادا نہ کیا ان پر سے وجوب ساقط نہیں ہوسکتا ، غایت یہ کہ جس سال امن نہ ہونا ثابت ہو، وجوب ادا نہ ہوگا جب باذنہ تعالیٰ امن ہوجائے واجب الادا ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۳۱۰: از قادری گنج ضلع بیرم بھوم ملک بنگالہ مرسلہ سید ظہور الحسین صاحب قادری رزاقی کرمانی ۲۳ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۶ھ

حضور سرور کائنات (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا مزار اقدس بلکہ مدینہ طیبہ عرش وکرسی وکعبہ شریف سے افضل ہے یا نہیں؟
الجواب

تُربت اطہر یعنی وہ زمین کہ جسم انور سے متصل ہے کعبہ معظمہ بلکہ عرش سے بھی افضل ہے ۱؎
صرح بہ عقیل الحنبلی وتلقاہ العلماء بالقبول
 (اس پر ابو عقیل حنبلی نے تصریح کی اور تمام علماء نے اسے قبول کیا۔ ت)
 (۱؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری    باب زیارۃ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم    دارالکتاب العربی بیروت    ص۳۳۶)
باقی مزار شریف کا بالائی حصہ اس میں داخل نہیں کعبہ معظمہ مدینہ طیبہ سے افضل ہے، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ مدینہ طیبہ سوائے موضع تربتِ اطہر اور مکہ معظمہ سوائے کعبہ مکرمہ ان دونوں میں کون افضل ہے، اکثر جانب ثانی ہیں اور اپنا مسلک اول اور  یہی مذہب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے، طبرانی کی حدیث میں تصریح ہے کہ
المدینۃ افضل من مکۃ ۲؎
 (مدینہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) مکہ سے افضل ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ المعجم الکبیر للطبرانی        حدیث ۴۴۵۰        المکتبہ الفیصلیہ بیروت    ۴ /۲۸۸)
Flag Counter