| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
مسئلہ ۳۰۵: مسئولہ حافظ محمد عبداللطیف صاحب علی گڑھی ۲۷ محرم ۱۳۳۲ھ کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت ضعیفہ ستر سال یا نوجوان عفیفہ نے تن تنہا یا غیر محرم کے ساتھ بقصد حج حرمین کا سفر کیا جب بہت کچھ مسافت طے کر چکی تو اس کو راستہ سے اسی حالت میں واپس کرالیا جائے اور اگر وہ خانہ کعبہ اور عرفات میں پہنچ گئی اور ارکان حج بتمامہ مع سنن وواجبات وفرائض ادا کئے تواس کا حج ادا ہوگا یا نہیں؟ اور سفر کی تنہائی مانع ومفسد حج ہوگی یا نہیں ؟ اور اس راستہ سے لوٹانا مناسب ہوگا یا نہیں؟
بینوا بالکتاب والسنۃ وتوجرواببیان احکام القراٰن والشریعۃ
( کتا ب وسنہ سے اس کی تفصیل بیان کیجئے، احکام قرآن وشریعت کے بیان پر اللہ تعالیٰ تمھیں اجر عطا فرمائیگا۔ ت)
الجواب عورت اگر چہ عفیفہ یاضعیفہ ہو اسے بے شوہر یامحرم سفر کو جانا حرام ہے، یہ عفیفہ ہے تو جن سے اس پر اندیشہ ہے وہ تو عفیف نہیں، او ریہ ضعیفہ ہے تو سفر خصوصاً حج میں اور زیادہ محتاج محرم ہے کہ جہاز یا اونٹ پر چڑھانے اتارنے کے لیے ضعیفہ کو دوسرے شخص کی زیادہ حاجت ہے۔ ہاں اگر چلی جائے گی گنہ گار ہوگی، ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا، مگر حج ہوجائے گا کہ معیت محرم شرط صحت حج نہیں، رہی واپسی اگر اس کا شوہر یا محرم اس کے ساتھ حج کو جاسکتا ہے تو یہی مناسب ہے۔ اس صورت میں واپسی کر نامناسب نہیں، اگر زوج یا محرم کوئی نہیں یا ہے مگر حج کو نہیں جاسکتا تو اگر ابھی مدت سفر تک نہیں گئی ہے واپسی لازم ہے، اور اگر مدت سفر تک قطع کرچکی تو شوہر یا محرم ہو تو واپس لائیں کہ اس میں ازالہ گناہ ہے اور ازالہ گناہ فرض ہے۔
قال اﷲ تعالٰی
یاایھا الذین اٰمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا ۱؎۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو آگ سے بچالو۔ (ت)
وقال صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم من راٰی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ ۲؎۔
اور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے: تم میں سے جو برائی دیکھے اسے طاقت سے روکے۔ (ت)
(۱؎ القرآن ۶۶ /۶) (۲؎ صحیح مسلم باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۱)
اور اگر شوہر ومحرم نہیں رکھتی تو اگر اتنی دور پہنچ گئی کہ مکہ معظمہ تک مدت سفر نہیں مثلا جدہ پہنچ گئی تو اب چلی جائے اور واپس نہ ہو کہ واپسی میں سفر بلا محرم ہے اور وہ حرام ہے۔
وکانت کمن ابانھا زوجھا اومات عنھا ولو فی مصر ولیس بینھا وبین مصرھا مدۃ سفر رجعت ولوبین مصرھا مدۃ وبین مقصدھا اقل مضت۔
مثلا اس عورت کو خاوند نے طلاق بائن دے دی یا وہ فوت ہوگیا اگر وہ شہر تھا اور اس عورت اورا س کے وطن کے درمیان مدت سفر نہیں تو وہ عورت لوٹ آئے اور اگر اس کے وطن کے لیے مدت سفر ہو او رمقصد کے لیے مدت سفر کم ہوتو سفرجاری رکھے۔ (ت)
پھر بعد حج مکہ معظمہ میں اقامت کرے بلا محرم گھر کو واپس آنا بلکہ مدینہ طیبہ کی حاضری ناممکن ہے، یہ وہ عورت ہے جس نے خود اپنے آپ کو بلا میں ڈالا، اس کے لیے چارہ کار نہیں مگر یہ کہ اس کا کوئی محرم جا کر اسے لائے، یوں کہ اس سال وہ جانا چاہتا تھا اس سال گیا یا یوں کہ اس سال تک اس کا کوئی محرم نابالغ تھا اب بالغ ہوا اور لاسکتا ہے، اور یہ بھی نہ ہو تو چارہ کار نکاح ہے نکاح کرے پھر شوہر کے ساتھ چاہے واپس آئے یا وہیں مقیم رہے، اور اگر دونوں طرف مدت سفر ہے توبلا سخت تر ہے اور جانا یا آنا کوئی بھی بے گناہ نہیں ہوسکتا، مگربہ حصول محرم یا تحصیل شوہر، شوہر کے قبضے میں اگر ہمیشہ رہنا نہ چاہے تو اس کا یہ علاج ہے کہ اس شرط پر نکاح کرے کہ میرا کام میرے ہاتھ میں رہے گا جب چاہوں اپنے آپ کو طلاق بائن دے لوں، او راگر یہ بھی ناممکن ہو تو سب طرف سے دروازے بند ہیں پوری مضطرہ ہیے، اگر ثقہ معتمدہ عورتیں واپسی کے لیے ملیں تو مذہب امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر عمل کرکے ساتھ واپس آئے، اور جانے کے لیے ملیں تو انکے ساتھ جائے انھیں کے ساتھ واپس آئے کہ تقلید غیر عندا لضرروۃ بلاشبہہ جائز ہے
کما فی الدرالمختار وغیرہ
(جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) اس لیے ارشاد ہوا کہ
اختلاف اصحابی لکم رحمۃ ۱؎
(میرے صحابہ کا اختلا ف تمھارے لیے رحمت ہے۔ ت)
(۱؎ تہذیب تاریخ دمشق ترجمہ سلیمان بن کثیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ /۲۸۵)(کنزالعمال حدیث ۱۰۰۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۱۹۹)
ھذا ما ظھر لی والعلم بالحق عند ربی فلیحر ر ولیراجع
(یہ مجھ پر واضح ہوا اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۰۶و ۳۰۷: مرسلہ حافظ محمدا ۤیاز صاحب از قصبہ نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان پور ۲۴ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں موافق حکم شرع شریف بموجب قرآن وحدیث عقائد اہل سنت ارشاد فر مائے اللہ تعالیٰ اجر عظم عطافرمائے: (۱) جس کے پاس روپیہ تنخواہ ورشوت وغیرہ کا شامل ہوا ور اس کے خرچ خانگی وغیرہ سے فاضل ہو تو اس شخص پر حج بیت اللہ شریف فرض ہے یا نہیں؟ اگر فرض ہے تو اس روپے سے حج ادا ہوگا یا نہیں؟ اگر نہیں ادا ہوگا توا س کے واسطے کیا صورت ہونی چاہئے کہ جس سے حج بھی ادا ہوجائے اور ثواب کا بھی مستحق ہو؟ (۲) جس شخص کے پاس روپیہ واسطے خرچ حج بیت اللہ شریف موجود ہے لیکن وہ شخص بوجہ پوری تندرستی نہ ہونے کے خود جانے سے معذور ہے تو اس پر حج فرض ہے یانہیں؟ اگر ہے تو وہ کس صورت سے حج ادا ہو سکتا ہے کہ جس سے یہ شخص سبکدوش ہو؟ بینوا توجروا۔
الجواب (۱) اگر اس کے پاس مال حلال کبھی اتنا نہ ہوا جس سے حج کر سکے اگر چہ رشوت کے ہزار ہا روپے ہوئے تو اس پر حج فرض ہی نہ ہوا کہ مالِ رشوت مثل مغصوب ہے وہ اس کا مالک ہی نہیں ، اور اگر مال حلال ا س قدراس کے پاس ہے یا کسی موسم میں ہوا تھا توا س پر حج فرض ہے مگر رشوت وغیرہ حرام مال کا اس میں صرف کرنا حرام ہے اور وہ حج قابل قبول نہ ہوگا اگر چہ فرض ساقط ہوجائے گا، حدیث میں ارشاد ہوا جو مالِ حرام لے کر حج کو جاتا ہے جب وہ لبیک کہتا ہے فرشتہ جواب دیتا ہے:
لا لبیک ولا سعدیک حتی تردما فی یدیک وحجک مردود علیک ۱؎۔
نہ تیری حاضری قبول نہ تیری خدمت قبول، اورتیرا حج تیرے منہ پر مردود، جب تک تو یہ حرام مال جو تیرے ہاتھ میں ہے واپس نہ دے۔
(۱؎ ارشاد الساری الیٰ مناسک لملا علی قاری باب المتفرقات دارالکتاب العربی بیروت ص۳۲۳)
اس کے لیے چارہ کار یہ ہے کہ قرض لے کر فرض ادا کرے۔ (۲) عذر اگر ایسا ہو کہ مانع سفر ہے مثلاً آنکھیں یا پاؤں نہیں اور اس عذر کے زوال کی کوئی امید نہیں تو اپنی طرف سے حج بدل کرادے، اور اگر عذر مانع سفر نہیں تو خود جائے، اور اگر مانع سفر ہے مثلاً زوال کی امید ہے جیسے تپِ شدید یا درد وغیرہ تو حج بدل نہیں کراسکتا بلکہ زوال کا انتظار کرے، جب شفاء ہوجائے خود جائے، اور اگر قبل شفا وقت آجائے تو حج بدل کی وصیت کرجائے، اگر اپنی طرف سے کوئی تقصیرنہ کی تھی یعنی جب سے حج فرض ہوا تھا نہ مانع سفر لاحق تھا اور قبل زوال وقت آگیا اس پر مواخذہ نہ ہوگا، اورا گر ایک سال بھی ایسا گزرگیا تھا کہ جاسکتا تھا اور نہ گیا تو گنہ گار ہوا، استغفار واجب ہے۔ اور حج بدل کرانا فرض ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔