| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
مسئلہ ۳۰۳: از پیلی بھیت محلہ بشیر خاں مرسلہ محمد عبداللطیف خاں صاحب رئیس ۸ شوال ۱۳۲۲ھ جناب مولوی صاحب مخدوم بندہ سلامت، بعد سلام نیاز کے عرض یہ ہے میری بھاوج بیوہ فی الحال ارادہ حج بیت اللہ شریف کے جانے کا رکھتی ہیں بلکہ بھاوج صاحبہ کا قصد حال میں روانگی کا ہے مگرہمراہ ان کے کوئی شخص محرم نہیں ہے، جو شخص کہ ان کے ہمراہ جاتا ہے وہ ان کے دور کے رشتہ کا بھائی ہے اور عرصہ سے بھاوج صاحبہ کے پاس ملازم ہے مگر شخص مذکور محتاط نہیں ہے یہاں کے علماء نامحرم شخص کے ہمراہ جانے سے منع فرماتے ہیں اور بھاوج صاحبہ کے حقیقی بھائی مکہ شریف سال گزشتہ میں گئے ہوئے ہیں واپس میں وہ ان کے ہمراہ آئیں گے، جناب بموجب شرع شریف یہ ارقام فرمائے کہ بھاوج صاحبہ کا ایسے شخص کے ہمراہ جانا جائز ہے یا ناجائز؟ جواب سے جلد مطلع فرمائے۔
الجواب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا یحل لا مرأۃ تؤمن باﷲ والیوم الاٰخر ان تسافر مسیرۃ یوم ولیلۃ الامع ذی رحم محرم یقوم علیھا ۱؎۔
حلال نہیں اس عورت کو کہ ایمان رکھتی ہو اللہ اور قیامت پر کہ ایک منزل کا بھی سفرکرے مگر محرم کے ساتھ جوا س کی حفاظت کرے۔
(۱؎ صحیح بخاری باب فی کم یقصر الصلوٰۃ وسمہ النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یوماً ولیلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۸ ۔۱۴۷) (صحیح مسلم باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۔ ۴۳۳) (سنن ابوداؤد کتاب المناسک باب المرأۃ تحج بغیر محرم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۴۱)(الترغیب و الترھیب ترھیب المرأۃ ان تسافرا لخ مصطفی البابی مصر ۴ /۷۲)
یعنی بچہ یامجنون یا مجوسی یا بے غیرت فاسق نہ ہوا یسا اگر محرم ہو تو اس کے ساتھ بھی سفر حرام ہے کہ اس سے حفاظت نہ ہوسکے گی یا ناحفاظتی کا اندیشہ ہوگا، حج کا جانا ثواب کے لیے ہے اور بے محرم جا نے میں ثواب کے بدلے ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا، میں خاص اس موقع کے لیے نہیں کہتا بلکہ عام مسئلہ بتا تا ہوں کہ جو عورت حج کو جانا چاہے اور محرم نہ پائے اور شوہر نہ رکھتی ہو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی کفو سے نکاح کرکے اسے ساتھ لے جائے پھر اگر نکاح کو باقی رکھنا نہ چاہے اور اندیشہ ہوکہ دوسرے کی پابند ہوجائیگی تو اس کی تدبیر یہ ہے کہ (فلاں) کفو کے ساتھ نکاح کرنے کا اس شرط پر کہ جب میں سفرحج سے اپنے مکان پر واپس آؤں مکان میں قدم رکھتے ہی فوراً مجھ پر ایک طلاق بائن ہو، پھر وکیل کرے یہ وکیل یونہی نکاح کرے یعنی ان سے کہے میں نے فلانہ بنت فلاں بن فلان اپنی موکلہ کو اتنے مہر کے عوض اس شرط پر تیرے نکاح میں دیاکہ جب وہ عورت بعد حج اپنے گھر واپس آئے مکان میں داخل ہو فوراً اس پر ایک طلاق بائن ہو، شوہر کہے میں نے اسے اس شرط پر قبول کیا، اب بعد واپسی گھر میں آتے ہی فوراً اس کے نکاح سے نکل جائے گی جسے وہ کسی طرح نہیں روک سکتا، اور جسے مکہ معظمہ سے واپسی پر محرم ملنے کا یقین ہو یوں شرط کرے کہ مکہ معظمہ پہنچتے ہی مجھ پرطلاق بائن ہو مکہ معظمہ پہنچتے ہی طلاق بائن واقع ہوجائے گی ، مگراگر بیچ میں خلوت واقع ہو وے تو تا انقضائے ایام عدت وہاں (مکہ معظمہ )قیام لازم ہوگا اور خلوت نہ ہو تو یہ دقت بھی نہ ہوگی اور ہر حال میں جو عورت ولی رکھتی ہو اس کے لیے یہ ضرور ہوگا کہ نکاح مذکور ایسے شخص سے کرے جو قوم یا مذہب یا پیشے یا چال چلن میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح اس کے ولی کے لیے باعث ننگ وعار ہو، یا اگر ایسا شخص ہے تو ولی اس کے اس حال پر مطلع ہو کر پیش از نکاح صریح اجازت دے دے ورنہ نکاح نہ ہوگا، واللہ سبحٰنہ و تعالیٰ اعلم ۔
مسئلہ ۳۰۴: عبدالجبار خاں صاحب از محلہ جسولی بریلی ۸ شوال ۱۳۲۴ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس بارے میں کہ ایک بیوہ عورت مالدار جس کو مقدور حج بیت اللہ شریف کے جانے کا ہو، جس کی عمر تخمیناً چالیس یا پنتالیس سال کی ہے اور اس کو بیوہ ہوئے عرصہ ۲۳ یا ۲۴ سال کا ہوا اور اس کے منہ میں دو ایک دانت داڑھ باقی ہیں اور سر کھچڑی ہے، وہ بیوہ سفر حج بیت اللہ شریف بوساطت یابہمراہ اپنے رشتہ کے ماموں جن کے سامنے روز پیدائش سے اس وقت تک بے پردہ مثل اپنے والدہ کے آتی ہے اور نیز اس کی اور ہمشیرگان ووالدہ وغیرہ ان کے سامنے بے پردہ آتی ہوں، اور ماموں کی عمر تخمیناً ۷۰ یا ۸۰ برس کی ہے اور وہ ماموں مع اپنی بی بی اور بچہ اور نیز ایک غلام خاوند زاد ودیگر عورات ملازمہ کے حج بیت اللہ شریف جاتے ہیں، اگر وہ بیوہ مذکور اپنے ایسے ماموں رشتہ دار جن کی تعریف اوپر ہو چکی ہے جس کو حقیقی ماموں سے کم خیال نہیں کیا جاسکتا ہے ان کے ہمراہ اپنے خرچ سے سفر بیت اللہ شریف کو جائے اور حج وزیارت سے مشرف ہو کر اپنے وطن کو واپس آجائے تو اس کی صورت دیکھنا اور اس سے ملنا اس کے رشتہ داروں کو حرام ہے یا حلال؟ یا جائز ہے یا ناجائز؟ یا ثواب پائے گی یا عذاب؟ یا کچھ نہیں؟
الجواب لا تبدیل لحکم اﷲ،
اللہ کے حکم کو کوئی بدلنے والانہیں۔ رسول اللہ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا یحل لا مرأہ تؤمن باﷲ والیوم الاٰخران تسافر ثلثۃ ایام، وفی روایۃ یوما ولیلۃ الاومعھا زوجھا اوذورحم محرم منھا ۱؎ اوکما لفظہ وھذا معناہ۔
حلال نہیں کسی عورت کو جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ ایک منزل بھی سفر کو جائے جب تک ساتھ میں شوہر یا وہ رشتہ دار نہ ہو جس سے ہمیشہ ہمیشہ کو نکاح حرام ہے۔
(۱؎ صحیح بخاری باب فی کم یقصر الصلوٰۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۸۔ ۱۴۷) (صحیح مسلم باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۔ ۴۳۳) (سنن ابوداؤد باب المرأۃ تحج بغیر محرم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۴۲)(ا لترغیب والترھیب ترھیب المرأۃ ان تسافر وحد ہا بغیر محرم مصطفی البابی مصر ۴ /۷۲)
جانا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ اپنے کسی محرم کو ساتھ لے یا حج سے واپسی تک کے لیےنکاح کرلے اگر چہ ستر اسی برس کی عمر والے سے جو اس کے ساتھ جائے آئے کہ مقصود صرف یہ ہے کہ بے محرم یا شوہر کے جانا صادق نہ ہو، باقی مقاصد زوجیت ہونے نہ ہونے سے بحث نہیں، اور اگر اندیشہ ہو کہ وہ بعد واپسی کے طلاق نہ دے گا تو نکاح یوں کیاجائے کہ عورت کہے میں نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ جب تو مجھے حج کو لے جائے اور واپس آئے تو واپس اپنے مکان پر پہنچتے ہی مجھ پر طلاق بائن ہو یا اگرتو اس سال اس قافلہ کے ساتھ حج کو میرے ہمراہ نہ جائے تو مجھ پر طلاق بائن ہو مرد کہے میں نے یہ قبول کیا اس شرط پر کہ جب میں تجھے حج کو لے جاؤں( الی آخرہ) یوں اگر وہ ساتھ نہ جائے تو طلاق ہوجائے گی، اور ساتھ جائے تو واپس پہنچتے ہی طلاق ہوجائے گی بغیر اس کے جوقدم رکھے گی گناہ لکھا جائے گا، ان گناہان کثیرہ کے باعث اگر رشتہ دار اس سے نہ ملیں تو بے جا نہیں۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔