Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
162 - 198
شرائط حج
مسئلہ ۳۰۱: از پٹنہ عظیم آباد بخشی محلہ مسئولہ منشی علی حسین صاحب ۲۵ شعبان ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید معمر قریب ہفتادسال مریض رعشہ کہ تنہا سفرکے قابل نہیں کبھی اپنے زمانہ صحت وشباب میں اتنے مال کا مالک نہ ہوا کہ اس پر حج فرض ہوتا، اب کہ حالت یہ ہے اس نے اپنا مال وغیرہ بیچا اور پانچسو روپے اس کے پاس ہوگئے کہ یہی کُل سرمایہ اس کا ہے۔ بوجہ ضعف وامراض دوسرے شہر میں جہاں اس کے اعزہ ہیں سکونت کرنا اور وہاں مکان خریدنا چاہتا ہے، اس صورت میں اس پر خود حج کو جانا یاروپیہ دے کر حج بدل کرانا واجب ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب

صورت مستفسرہ میں زید پر حج اصلاً واجب نہیں۔ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب مصحح ظاہر الروایۃ میں تو ایسی تندرستی جو اس سفر مبارک کے قابل ہو شرط وجوب ہے کہ بغیر اس پر حج سرے سے واجب ہی نہ ہوتا، نہ خود جاتا نہ دوسرے کو بھیجتا، اور صاحبین رحمہما اللہ تعالیٰ کے مذہب مصحح میں اگرچہ تندرستی مذکور شرط وجوب نہیں، شرط وجوب ادا ہے کہ وہ نہ ہو تو خود جانا لازم نہیں مگر اپنے عوض اپنے روپے سے اپنی حیات میں یا بعد موت حج کرانا واجب ہے مگر مال جملہ حاجات سے فاضل ،جانے آنے کے قابل باتفاق فقہائے کرام شرط وجوب ہے کہ بے اس کے حج واجب ہی نہیں ہوتا، اور مکان حاجات اصلیہ سے ہے اس کی خریداری یا بنانے کے بعد اس زمانے میں کہ اب مصارف حج بہت قریب گزرے ہوئے زمانے سے تقریباً دو چند ہوگئے اتنا بچنا کہ اس سے حج کے لیے جانے آنے رہنے کے بھی تمام مصارف ہوں او رزید کے لیے اس حالت میں کہ نہ اور مال نہ کسب پر قدرت، کچھ ذریعہ معاش بچ بھی رہے معقول نہیں لہذا بالاتفاق ورنہ علی التنزیل صاحب مذہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب صحیح مرجح پر تو بلا شبہہ زید پر حج کرانا بھی نہیں اور خود حج کو جانا تو بالا جماع اصلا صورت وجوب نہیں رکھتا
لا یکلف اﷲ نفسا الا وسعھا۱؎
 (اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔ ت)
 (۱؎ القرآن    ۲ /۲۸۶)
تنویر الابصار ودرمختار وردالمحتار میں ہے:
الحج فرض علی مسلم حرمکلف صحیح البدن ۲؎ (ای سالم عن الاٰفات المانعۃ عن القیام بما لا بد منہ فی السفر فلا یجب علی مقعد ومفلوج وشیخ کبیر لا یثبت علی الراحلۃ بنفسہ واعمی وان وجد قائدا لا بانفسھم ولا بالنیابۃ فی ظاھر المذھب عن الامام وھو روایۃ عنھما وظاھر الروایۃ عنھما وجوب الاحجاج علیھم، وظاھر التحفۃ اختیار قولھما وکذا الاسبیجابی وقواہ فی الفتح، وحکی فی اللباب اختلاف التصحیح وفی شرح انہ مشی علی الاول فی النھایۃ وقال فی البحر العمیق، انہ المذھب الصحیح وان الثانی صححہ قاضیخان فی شرح الجامع واختارہ کثیر من المشائخ ۳؎ اھ ش)
حج ہرمسلم آزاد بالغ صحت مند پر لازم ہے (یعنی ہر اس آفت سے محفوظ ہو جس کے باوجود سفر نہیں کیا جاسکتا، پس لولے، فالج زدہ اور ایسے بڑے بوڑھے پرحج فرض نہیں جو سواری پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح نابینا پر بھی فرض نہیں اگرچہ کوئی اس کا معاون ہو، امام صاحب کے ظاہر مذہب کے مطابق نہ ان کی ذوات پر لازم اور نہ ان پر نائب بنانا لازم ہے، اور ایک روایت صاحبین سے یہی ہے۔ ظاہر الروایۃ صاحبین سے یہ ہے کہ ان پر حج بدل کروانا لازم ہے، تحفہ سے ظاہراً یہی معلوم ہوتا ہے کہ صاحبین کا قول مختار ہے، اسبیجابی میں اسی طرح ہے فتح میں ا س کو قوی کہا۔ اللباب میں تصحیح اقوال میں اختلاف منقول ہے، اسی کی شرح میں ہے کہ نہایہ میں پہلے قول کو لیا گیا ہے، بحرا لعمیق میں ہے کہ یہی مذہب صحیح ہے، قاضیخان نے شرح الجامع میں دوسرے قول کو صحیح کہا ہے، اور اسے کثیر المشائخ نے اختیارکیا اھ ش)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الحج    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۶۰۔ ۱۵۹)

(۳؎ ردالمحتار         کتاب الحج      مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۵۴)
بصیر ذی زادو راحلۃفضلا عما لابد منہ ومنہ المسکین ومرمتہ ولوکان عندہ ما لواشتری بہ مسکنا و خادما لا یبقی بعدہ مایکفی للحج لایلزمہ خلاصۃ، وحرر فی النھرانہ یشترط بقاء راس مال لحرفتہ ان احتاجت لذٰلک و الا لا۱؎ (وراس المال یختلف باختلاف الناس بحر، والمراد مایمکنہ الا کتساب بہ قدر کفایتہ وکفایۃ عیالہ ۲؎ اھ ملتقطات واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
ایسے زادراہ اور سواری پر قادر ہو جو اس کی ضرویات سے زائد ہو، ان میں اس کی رہائش اور اس کی مرمت بھی ہے، اگر اس کے پاس مال ہے کہ وہ رہائش اور خادم خریدتا ہے اور باقی اتنا مال نہیں بچتا جو حج کے لیے کافی ہو اس پر حج فرض نہیں ہوگا، خلاصہ۔ اور نھر میں ہے اگر وہ کسی کاروبار کا محتاج ہے تواس کے لیے سرمایہ کا باقی رہنا بھی شرط ہے اور اگر محتاج نہیں تو پھر یہ شرط نہ ہوگی، مختلف لوگوں کے اعتبار سے سرمایہ مختلف ہوسکتا ہے، بحر۔ اور کاروبار سے مراد اتنا ہے جس سے اپنی اور اپنے عیال کے لیے بقدر کفایت روزی حاصل ہوسکے اھ اختصار۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الحج    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۶۰)

(۲؎ ردالمحتار         کتاب الحج      مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۵۶)
مسئلہ ۳۰۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ادائے حج ہندہ پر مدت سے فرض تھا اب جانے کا قصد کیا تو محارم اس کے بجہت موانع نہیں جاسکتے، ایک محرم کو کہ ارتکاب مناہی سے بیباک ہے اور انصرام سفر کے کاموں کا اس سے متوقع نہیں ۔ لے جانا ممکن ہے اور ایک عورت متقیہ اور ایک بھتیجا شوہر ہندہ کا کہ بچپن سے اس کے سامنے ہوتی دیندار وہو شیار ہے جاتے ہیں ان کے ساتھ نہ جائے گی تو پھر جانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، فرض رہ جائے گا، اس صورت میں ہندہ کو جانا چاہئے یا نہیں؟ا ور جائے تو کس کے ساتھ جائے؟ بینوا توجروا۔
الجواب

عورت کو بغیر محرم کے حج خواہ کسی اور کام کے واسطے سفر کرنا نا جائز ہے اور بھتیجا شوہر کا محرم نہیں، اور محرم فاسق بیکار ہے اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اور معیت زنِ متقیہ کی امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کافی نہیں لیکن اگر بغیر محرم کے چلی گئی اور حج کر لیا تو فرض ساقط اور حج مع الکراہۃ ادا، اس فعل ناجائز کی معصیت جُدا، پس جب ہندہ پر بسبب اجتماع شرائط کے حج فرض ہوگیا تھا اور اب معیت محرم کی نہیں ملتی تو چارہ کار یہی ہے کہ نکاح کرے، اگر یہ خوف ہو کہ شاید اس نے نکاح کرلیا اور پھر نہ گیا تو یہ پھنس گئی اور حج بھی نہ ہوا، یا اندیشہ ہو کہ شوہر موافق مزاج نہ نکلے چاہئے تو تھا چند روز کے لیے اور پابند ہوگئی عمر بھر کی، یا سرے سے اسے پابند شوہر رہنا منظور ہی نہ ہو، صرف اس ضرورت کی رفع تک کہ نکاح چاہئے، تو اقول (میں کہتا ہوں۔ ت) اس کی تدبیر یہ ہے کہ اس شرط پر نکاح کرے کہ اگر تواس سال میرے ساتھ حج کو نہ جائے تو مجھ پر ایک طلاق بائن ہوا ور جب بعد حج میں واپس آؤں اور اپنے مکان میں قدم رکھوں تو فوراً مجھ پر طلاق بائن ہو، یوں اگر وہ نہ گیا تو طلاق ہوجائے گی اور اگر گیا تو واپسی پر عورت جس وقت اپنے مکان میں قدم رکھے گی نکاح سے نکل جائے گی، اور بہتر اورآسان تر یہ ہے کہ اس شرط پر نکاح کرے کہ مجھے ہر وقت اپنے نفس کا اختیار ہو کہ جب کبھی چاہوں اپنے آپ کو ایک طلاق بائن دے لُوں، یوں اس کے نہ جانے یا واپس آنے پر اور اس کے بعد بھی ہر وقت عورت کو اختیار رہے گا مرضی ہو اس کی زوجیت میں رہے نہ مرضی ہو اپنے آپ کو ایک طلاق بائن دے کر جُدا ہوجائے، درمختار میں ہے:
مع زوج او محرم بالغ عاقل غیر مجوسی ولا فاسق لامرأۃولو عجو زا وھل یلزمھا التزوج قولان ولوحجت بلامحرم جازمع الکراھۃ ۱؎۔
عورت خواہ بوڑھی ہو اس کے لیے خاوند یا محرم بالغ کاہونا ضروری ہے بشرطیکہ وہ محرم فاسق اور مجوسی نہ ہو کیا عورت پر حج کے لیے نکاح ضروری ہے، اس بارے میں دو قول ہیں، اگرعورت نے بغیر محرم حج کرلیا تو جائز مع الکراہت ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الحج    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۶۱۔ ۱۶۰)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ قولان ھما مبنیان علی ان وجود الزوج اوالمحرم شرط وجوب ام شرط وجوب الاداء والذی اختارہ فی الفتح انہ مع الصحۃ وأمن الطریق شرط وجوب الاداء فیجب الایصاء ان منع المرض وخوف الطریق اولم یوجد زوج ولامحرم ویجب علیھا التزوج عند فقد المحرم وعلی الاول لا یجب شیئ من ذٰلک کما فی البحر ح وفی النھر وصحح الاول فی البدائع ورجح الثانی فی النھایۃ تبعا لقاضی خاں واختارہ فی الفتح اھ
قولہ قولان ، یہ دونوں اس بنا پر ہیں کہ خاوند یا محرم کا ہونا نفس وجوب کے لیے شرط ہے یا وجوب ادا کے لیے، فتح میں جو مختار ہے وہ یہ ہے کہ صحت اورراہ پر امن ہو تو وجوب ادا کے لیے شرط ہے، اگر مرض یا راستہ کا خوف مانع ہے تو حج کے بارے میں وصیت لازم ہوگی یا خاوند اورمحرم نہیں تو محرم کی عدم موجودگی میں نکاح کرنا ضروری ہوگا، اور پہلے قول پر ان میں سے کوئی چیز بھی واجب نہیں جیسا کہ بحر اور نہر میں ہے، بدائع نے اول کو صحیح بتایا اور نہایہ نے قاضی خاں کی اتباع میں دوسرے کو ترجیح دی ہے، اور فتح میں بھی اسی کو اختیار کیاہے اھ
قلت : لکن جزم فی اللباب بانہ لایجب علیھاا لتزوج مع انہ مشی علی جعل المحرم اوالزوج شرط اداء، ورجح ھذا فی الجوھرۃ وابن امیر حاج فی المناسک کما قالہ المصنف فی منحہ قال ووجھہ انہ لا یحصل غرضھا بالتزوج لان الزوج لہ ان یمتنع من الخروج معھما بعد ان یملکھا ولا تقدر علی الخلاص منہ وربما لا یوا فقھا فتتضرر منہ بخلاف المحرم فانہ ان وفقھا انفقت علیہ وان امتنع امسکت نفقتھا  وترکت الحج اھ فافھم ۱؎ اھ مافی ش اقول نعم المخلص من ھذہ کلھا ماذکرت من ان تتزوج بشرط ان تملک طلقۃ بائنۃ تطلق بھا نفسھا متی شاءت فان لم یخرج معھا اولم یوافقھا اولم تردہ تخلص نفسھا ولاحرج علیھا واﷲ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں اللباب میں اس پر جزم ہے کہ اس عورت پر نکاح کرنا لازم نہیں باوجود یکہ انھوں نے بھی یہ کہا کہ محرم یا خاوند وجوب ادا کے لیے شرط ہے اسے جوہرہ میں اور ابن امیر حاج نے المناسک میں اسی کو ترجیح دی، جیسا کہ مصنف نے اپنی منح میں کہا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نکاح سے اس عورت کی غرض کا پورا ہونا ضروری نہیں ممکن ہے خاوند نکاح کے بعد اجازت نہ دے اور وہ عورت اس سے خلاصی پر قادر بھی نہ ہو، بہت دفعہ خاوند بیوی میں موافقت نہیں رہتی لہذا نکاح سے نقصان ہوگا بخلاف محرم کے، اگر وہ عورت کی موافقت کرے گا تو اس پر خرچ کرے گی اور اگر وہ رک جاتا ہے تووہ خرچ بھی روک کر حج چھوڑدے گی اھ فافہم ما فی ش اقو ل (میں کہتاہوں۔ ت) ان تمام صورتوں میں بچت اس میں ہے جو ہم نے ذکر کیا، عورت اس شرط پر نکاح کرے کہ عورت طلاق بائنہ کی مالک ہوگی اور جب چاہے اپنے آپ کو دے سکے گی اب اگر خاوند اس کے ساتھ نہیں جاتا یا موافقت نہیں کرتا یا جواب نہیں دیتا تو اس سے خلاصی پائے اوراس پرکوئی تنگی نہیں، واللہ تعالیٰ اعلم (ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الحج    مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۵۸)
Flag Counter