| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
(قلت : وذٰلک لان الرحمۃ فی المدینۃ اکثر واللطف اوفر والکرم اوسع و العفوا سرع کما ھو شاہد مجرب والحمد ﷲ رب العٰالمین ومع ذٰلک) فمخافۃ السامۃ وقلت الادب المفضی الی الاخلال بواجب التوقیر والاجلال، قائم وھو ایضا مانع،الا للافراد ذوی الملکات ۲؎ اھ مختصرا موضحا
میں کہتا ہوں، کیونکہ مدینہ طیبہ میں رحمت اکثر لطف وافر، کرم سب سے وسیع اور عفو سب سے جلدی ہوتا ہے جیسا کہ شاہد مجرب ہے والحمد ﷲ رب العالمین، اس کے بوجود) اکتا نے کا ڈر اور وہاں کے احترام وتوقیر میں قلت ادب کا خوف تو موجود ہے او ریہ بھی تو مجاورت سے مانع ہے، ہاں وہ افراد جو فرشتہ صفت ہوں تو ان کا وہاں ٹھہرنا اور فوت ہونا سعادتِ کاملہ ہے اھ اختصاراً
(۲؎ فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۹۴)
وھو کما ترٰی من الحسن بمکان فقد افادوا جاد، اثابہ الجواد تبارک وتعالٰی، وابان ان الامر، وان کان فی الواقع علی جواز الجوار بشرط التوثیق وھو التوفیق عندالتحقیق کما نص علیہ وصححہ فی شرح اللباب وجزم بہ فی الدرالمختار الا ان اھل التوثیق لما کانوا اقل قلیل واحکام الفقہ انما تبتنی علی الغالب الکثیر دون النادر الیسیر فالوجہ ھواطلاق المنع کما ھو مذہب الامام رضی اﷲ تعالٰی عنہ و لذا اخذ الفاضلون المحشون العلامۃ الحلبی ثم الطحطاوی ثم الشامی کلھم فی حواشی الدر، فی اشتراطہ التوثیق حیث نقلوا کلام الفتح، ثم قالوا وھو وجیہ، فکان ینبغی للشارح ان ینص علی الکراھۃ ویترک التقلید بالتوثیق ۱؎ اھ زاد ابن عابدین ای اعتبار للغالب من حال الناس لا سیما اھل ھٰذا الزمان واﷲ المستعان ۲؎ ا ھ۔
آپ نے دیکھا اس جگہ محقق نے کنتی اچھی گفتگو کی یہ نہایت ہی عمدہ تفصیل ہے اللہ تعالٰی انھیں اجر عطافرمائے، انھوں نے یہ واضح فرمادیا کہ اگر چہ مجاورت کا معاملہ جائزہے مگر بشرط توثیق جو بصورت توفیق الہٰی ہی حاصل ہوسکتی ہے جیسا کہ اس پر انھوں نے تصریح کی ہے شرح اللباب میں اس کو صحیح کہا، درمختار میں اسی پر جزم کا اظہار کیا مگر چونکہ اہل توثیق بہت ہی کم ہوتے ہیں اور احکام فقہ کی بناء نادر و قلیل پر نہیں ہوتی بلکہ غالب کثیر پر ہوتی ہے تو اب مطلقاً منع کہنا ہی بہتر ہے جیساکہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب ہے، یہی وجہ ہے کہ درمختار پر حواشی لکھنے والے فاضل علماء حلبی، طحطاوی پھر شامی سب نے فتح القدیر کی عبارت نقل کرکے توثیق کی شرط لگائی اور پھر کہا یہی بہتر ہے لہذا شارح کو چاہئے تھا کہ وہ کراہت پر تصریح کرنااور توثیق کی قید ترک کردیتا اھ ابن عابدین نے یہ اضافہ کیا کہ یہ اکثر لوگوں کے حال کے اعتبار خصوصاً اس دَور کے حوالے سے ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ ہی مدد فرمانے والا ہے اھ
(۱؎ طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحج باب الہدی دارالمعرفہ بیروت ۱ /۵۶۲) (۲؎ ردالمحتار کتاب الحج مطلب فی المجاورۃ بالمدینۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۵۶)
ولقد اعجبنی قول العلامۃ علی القاری، فی مسلک المتقسط شرح المنسک المتوسط، مع تصحیحہ ما علمت حیث یقول لوکانت الائمۃ فی زمانناوتحقق لھم شاننا لصرحوا بالحرمۃ۳؎ الخ۔
مجھے علامہ ملا علی قاری کا ''مسلک متقسط شرح المنسک المتوسط'' میں یہ قول بہت پسند آیا، جیسا مجھے معلوم ہے انھوں نے مذکور گفتگو کی تصحیح کرتے ہوئے کہا اگر یہ ائمہ ہمارے دَور میں ہوتے اور ہمارے احوال سے آگاہ ہوتے تو مجاورت کے حرام ہونے کی تصریح کرتے الخ
(۳؎ مسلک متقسط مع ارشاد الساری فصل اجمعوا علی افضل البلاد الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۳۵۲)
قلت ونظیرہ ماقال فی الدرالمختار فی مسئلۃ دخول المرأۃ الحمام ان فی زماننا لا شک فی الکراھۃ لتحقق کشف العورۃ۴؎ اھ
میں کہتا ہوں اس کی نظیر درمختار میں "عورت کا حمام میں جانا"کے تحت ہے کہ ہمارے دور میں یہ مکروہ ہے کیونکہ بے پردگی ہوتی ہے اھ
(۴؎ درمختار باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۸)
وقد سبقہ الی ذٰلک المحقق علی الاطلاق فی الفتح، ونحوھا ماذکر العلائی ایضا فی الدراالمنتقی شرح الملتقی فی وجوب نفقۃ طالب العلم، ان ھذا اذاکان بہ رشد، کما فی الخلاصۃ ولذا قال صاحب المنیۃ والقنیۃ انا افتی بعدم وجوبھا فا ن قلیلا منھم حسن السیرۃ مشتغلا بالعلم الدینی واکثر ھم (کذا وکذا وذکر من مساویھم، ثم قال اعنی الحصکفی) واما م کان بخلافھم فنادر فی ھذا الزمان فلایفرد بالحکم دفعا لحرج التمییز بین المصلح والمفسد ۱؎ الخ۔
اور اس سے پہلے فتح میں محقق علی الاطلاق نے بھی یہی لکھا ہے وہ بھی اسی کی مثل ہے جو حافظ علائی نے الدر المنتقی شرح الملتقی میں طالب علم کے وجوب نفقہ کے بارے میں لکھا کہ یہ اس وقت ہے جب اس میں نیکی ہو اور بے رواہ روی نہ ہو، جیسا کہ خلاصہ میں ہے، اسی لیے صاحب منیہ وقنیہ نے کہا میں عدم وجوب کافتویٰ دیتا ہوں کیونکہ ان میں بہت کم طلبہ اچھے کردار کے حامل اور علم دین کے حاصل کرنے والے ہیں اور ان میں سے اکثر (ایسے ایسے ہیں اور پھر اپنے دور کے طلبہ کا ذکر کیا۔ پھر حصکفی نے کہا) جو ان کے خلاف ہیں وہ اس دور میں بہت کم ہیں ا ور اب مصلح اور مفسد میں فرق مشکل ہوجانے کی وجہ سے ان کے لیے الگ حکم بیان نہیں کیا جاسکتا الخ
(۱؎ الدرالمنتقی علی حاشیۃ مجمع الانہر فصل فی نفقۃ الطفل داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۰۰)
قلت ومن ھذا القبیل حکمھم بتحریم السماع المجرد عن المزامیر فانہ یھیج مکا من القلوب واکثر الناس اساری الشہوات فالوجہ المنع سدا لباب الفتنۃ وان کان نفع شی فی حق رجال تحلوا بالفضائل وتخلوا عن الرذائل وماتت شہوا تھم بل قنت ذواتھم فبقی السماع محض الاتنفاع وبہ انقطع تطویل النزاع، فمن فعلہ من الاولیاء فقد اصاب خیرہ ومن منعہ من الفقہاء فقد ازال ضیرہ فلھم الاجربما نصحوا وللقوم الاذن لما صلحوا ولکل ثواب وبشری، الصواب، والحمد ﷲ رب الارباب۔
میں کہتاہوں اسی قبیل سے سماع کا حرام ہونا ہے خواہ وہ مزامیر کے ساتھ نہ ہو، کیونکہ وہ دل کے جذبات کو ابھارتا ہے، اور اب اکثر لوگ شہوات نفسانیہ کے قیدی بن چکے ہیں۔ لہذا فتنہ کے دروازے کو بند کرنے کے لیے سماع سے منع کرنا ہی درست ہے اگر چہ یہ ایسے کچھ لوگوں کے لیے نافع بھی ہے جو فضائل سے مزین ،رذ ائل سے خالی ہو اور ان کی نفسانی خواہشات مر چکی ہوں بلکہ ان کی ذوات سراپا خشوع وخضوع ہوچکی ہو توپھر سماع واقعۃً نافع ہوتاہے۔ اس مسئلہ میں جو طویل نزاع ہے اس سے وہ بھی ختم ہوجا تا ہے اولیاء میں سے جس نے سماع سنا اس نے درست کیا اور اس کے لیے خبر بنا فقہاء میں سے جس نے منع کیا تھا تو انھوں نے اس کے نقصانات کا ازالہ کیا ان کی اس خیر خواہی پر ان کے لیے اجر ہی اجر ہے اور لوگوں کے لیے اس میں اجازت ہے جو صلاحیت رکھتے ہوں اور ہر ایک کے لیے ثواب اور بشارت ہے، درستی اور حمد رب الارباب کے لیے ہے۔
وبالجملۃ فالحکم عدم جواز الجوار اصلا فی زماننا والعاقل لایسعہ الا الاحتیاط لنفسہ والاحتراز عن سلوک مسالک تفضی غالبا الی المھالک ومن صدق نفسہ فقد صدق کذو باوسیری ذٰلک ''ولا حول ولاقوۃ الاّباﷲ العلی العظیم'' واذاکان الامر وصف ھنالک سقط منشأ ا لسوال رأسا ،اذ تبین ان لیس مایظنہ خیرا، خیرا واﷲ المسئول ان یرزق الخیر وبقی الضیر وھو سبحانہ وتعالٰی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا محمد واٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم۔
بالجملہ ہمارے دور میں مجاورت کی قطعاً اجازت نہیں۔ عقلمند اپنے لیے فقط احتیاط ہی کی راہ اپنا تا ہے اور ہر اس راستہ سے اجتناب کرتا ہے جس سے ہلاکت میں گرنے کا خدشہ ہو، جس نے اپنے نفس کو سچا سمجھا اس نے جھوٹے کی تصدیق کی اور خود اس کا مشاہدہ بھی کرے گا برائی سے بچنے اور نیکی بجا لانے کی طاقت اللہ تعالیٰ جو بلند وعظیم ہے کی توفیق کے بغیر نہیں، جب معاملہ یہ ہے جو یہاں بیان ہو اتو اب سرے سے سوال ہی ختم ہوگیا کیونکہ جس شے کو سائل نے خیر تصور کیا تھا وہ خیر ہی نہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے وہ خیر کی توفیق دے اور نقصان سے بچائے اور وہی مقدس واعلم ہے اس کا علم کامل واکمل ہے، اس کے رسول اور ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود وسلام ہو اورآپ کے آل واصحاب پر بھی ۔ (ت)