Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
160 - 198
قلت : اخرجہ احمد والترمذی وابن ماجۃ والحاکم عن انس عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل بنی اٰدم خطاء وخیر الخطائین التوابون ۲؎ اھ۔
میں کہتا ہوں اسے امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر آدم محل خطاء ہے اور بہتر خطا کار وہ ہیں جو توبہ کر لینے والے ہوتے ہیں ا ھ
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل    مروی از انس رضی اللہ عنہ    دارالفکر بیروت    ۳ /۱۹۸)
 (قال) والمعاصی تضاعف، علی ماروی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ، ان صح والا فلا شک، انھا فی حرم اﷲ افحش واغلظ فتنتھض سببالغلظ الموجب و ھوالعقاب (وساق الکلام الٰی ان قال) وکل من ھذہ الامور سبب لمقت اﷲ تعالٰی واذاکان ھذا سبحیۃ البشر فالسبیل النزوح عن ساحتہ، وقل من یطمئن الی نفسہ فی دعوٰھا البرائۃ من ھذہ الامور، الا وھو فی ذٰلک مغرور، لایری الی ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما من اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المحببین الیہ المدعولہ کیف اتخذ الطائف داراً، وقال لان اذنب خمسین ذنبا برُکْبَۃ، وھو موضع بقرب الطائف احب الٰی من ان اذنب واحدا بمکۃ ۱؎ ۔
پھر لکھا گناہوں پر سزا بھی کئی گناہ ہے جیسا کہ حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، اگریہ روایت صحیح ہے تو فبہا ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کے حرم میں گناہ نہایت ہی بدبختی اور سخت قابل گرفت جُرم ہے جو عقاب وسزا کا مستحق بنادے گا (آگے چل کر لکھا) ان میں ہر امرا للہ تعالیٰ کی ناراضگی کاسبب ہے، اور جب یہ بشری تقاضا ہے تو بچنے کی صورت فقط اس میدان سے نکل جانا ہے، اور کوئی بھی ان امور سے بچنے کا دعویٰ نہیں کرسکتا ماسوائے ان لوگوں کے جو دھوکا میں ہیں، کیا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں علم نہیں جو صحابی رسول ہیں، محبوب لوگوں میں سے ہیں، اور ان کے لیے حضور کی دعا ہے ہجرت کرکے وہ طائف چلے گئے۔

اور فرمایا: رُکْبَہ (طائف کے قریب جگہ کا نام ہے) کے مقام پر پچاس گناہ کرنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں مکہ میں ایک گناہ کروں۔
(۱؎ فتح القدیر        کتاب الحج                مسائل منثورہ    نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۹۳)
قلت یشیر بالدعاء الی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اللھم فقھہ فی الدین ۲؎، وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اللھم علمہ الکتاب ۳؎، اخرجھما الشیخان، وانما الفقیہ کما قالہ الامام الحسن البصری رحمہ اﷲ تعالٰی الزاھد فی الدنیا الراغب فی الاٰخرۃ البصیرۃ بعیوب نفسہ ومثل ھذا یتأھل للجوار لاشک واﷲ قد کان ابن عباس من اعاظم اھلہ و لکن الاکابر انفسھم یستصغرون فانظر الی الفرق، من لا یسئم یخشی السأمۃ ومن لایسلم یدعی السلامۃ۔
میں کہتا ہوں دعا سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے: ''اے اللہ! ابن عباس کو دین کی سمجھ عطا فرما۔'' اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی ہے: ''اے اللہ! ابن عباس کو کتاب کا علم عطا فرما۔''یہ دونوں دعائیں بخاری ومسلم میں ہیں، فقیہ کی تعریف امام حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے یوں کی ہے: دنیا سے اعراض کرنے والا، آخرت کا شوق رکھنے والا، اور اپنے عیوب سے آگاہ شخص فقیہ کہلاتا ہے۔ ایسے لوگ بلاشبہ مجاورت مکہ کے اہل ہیں اور اللہ کی قسم حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان اہل لوگوں میں سے بھی بڑے ہیں لیکن اکابر ہمیشہ اپنے آپ کو چھوٹا اور عاجز سمجھتے ہیں، غور تو کیجئے کتنا فرق ہے ان میں کہ جو غلطی نہیں کرتا وہ عذاب سے ڈرتا ہے اور جوگناہ سے محفوظ نہیں وہ سلامتی کا دعویٰ کرتا ہے۔
 (۲؎ صحیح بخاری        باب وضع الماء عند الخلاء            قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۲۶)

(۳؎ صحیح بخاری   باب قول البنی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللھم علمہ الکتاب  قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۱۷)
 (قال) وعن ابن مسعود رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ مامن بلدۃ یؤاخذ العبد فیہا بالھدایۃ قبل العمل الامکۃ و تلاھذہ الاٰیۃ ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم، وقال سعید بن المسیب للذی جاء من اھل المدینۃ یطلب العلم ارجع الی المدینۃ۔ فانا نسمع ان ساکن مکۃ لایموت حتی یکون الحرم عندہ بمنزلۃ الحل لما یستحل من حرمھا، وعن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ خطیئۃ اصیبھا بمکۃ اعز علی من سبعین خطیئۃ بغیرھا، نعم افراد من عباد اﷲ استخلصھم وخلصھم من مقتضیات الطباع، فاولئٰک ھم اھل الجوار الفائزون بفضیلۃ من تضاعف الحسنات والصلوات من غیر مایحبطھا من الخطیئات والسیئات ۱؎ (ثم سرد احادیث فی ذٰلک)
پھر لکھا حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ کسی شہر میں عمل سے پہلے محض برائی کے ارادے پر گرفت نہیں مگر مکہ میں، پھر یہ آیت تلاوت کی:اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے توہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے، اور حضرت بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ طیبہ سے طلب علم کے لیے مکہ آنے والے سے فرمایا: مدینہ طیبہ کی طرف واپس چلے جاؤ ہم نے سن رکھا ہے کہ ساکن مکہ نہیں فوت ہوگا حتی کہ حرم اس کے ہاں بمنزل حل کے ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اس کی حرمت کا پاس نہیں کرتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: مکہ میں کیا جانے والا گناہ دوسرے مقام کے ستر گناہوں سے بد تر ہوتا ہے، ہاں اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی طبائع کے تقاضو ں کو صاف وخاص کرلیا ہے وہی اس پڑوس ومجاورت کے اہل ہیں، وہ ہی حسنات اور عبادات کے فضیلت ودرجات پانے والے ہیں اور وہ سیئات اور گناہوں سے محفوظ رہتے ہیں، (پھر اس سلسلہ میں احادیث ذکر کیں)
 (۱؎ فتح القدیر    کتاب الحج    مسائل منثورہ        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۹۴۔ ۹۳)
ثم قال لکن الفائز بھٰذا مع السلامۃ من احباطہ اقل القلیل، فلا یبنی الفقہ باعتبارھم ولا یذکر حالھم قیدا فی جواز الجوار، لان شان النفوس الدعوی الکاذبۃ والمبادرۃ الی دعوۃ الملکۃ والقدرۃ علی مایشترط فیما تتوجہ الیہ وتطلبہ، وانھا لأ کذب مایکون اذا حلفت فکیف اذا ادعت واﷲ تعالٰی اعلم وعلٰی ھذا فیجب کون الجوار فی المدینۃ المشرفۃ کذلک فان تضاعف السیئات اوتعاظمھا وان فقد فیھا ۱؎۔
پھر کہا: لیکن گناہوں میں گرنے سے محفوظ وسلامتی کے ساتھ کا میاب ہونے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں اور قلیل لوگوں کے اعتبار سے فقہی حکم کی بنا نہیں ہوتی اور نہ ہی جواز مجاورت کے لیے ان کے حال کو بطور قید ذکر کیا جاتا ہے، کیونکہ انسانی فطرت یہ ہے کہ جھوٹے دعویٰ اور تجربہ کے اعلان میں پیش رفت کرتے ہوئے اور شرائط پر قدرت کا اظہار کرتے ہوئے مطلوب کی طرف بڑھتا ہے حالانکہ وہ اپنی قسموں میں نہایت جھوٹا ہوتا ہے تو اپنے دعووں میں وہ کیا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جاننے والا ہے، اس بنا پر یہ ضروری ہے کہ مدینہ طیبہ میں مجاورت کا بھی یہی حکم ہو اگر چہ یہاں گناہوں پر سزا میں اضافہ یا ان کی شدت مفقود ہے۔
 (۱؎ فتح القدیر    کتاب الحج    مسائل منثورہ        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۹۴)
Flag Counter