| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
قلت : وکان ھذا والناس انما ھم صحابۃ اوتابعون وھم ماھم من غایۃ الادب ونھایۃ الاجلال، فما بال اھل الزمان اھل کیت وذیت، واﷲ المستعان لاصلاح الاحوال، وقد سئل امام دار الھجرۃ، عالم المدینۃ مالک بن انس رحمہ اﷲ تعالٰی ایما احب الیک المجاورۃ اوالقفول فاجاب ان السنۃ الحج ثم القفول ۳؎ کما نقلہ العلامۃ محمد العبدری فی مدخلہ۔
میں کہتا ہوں یہ اس دور کی بات ہے جب صحابہ یا تابعین تھے جو نہایت مؤدب اور نہایت ہی احترام واکرام کرنے والے تھے، ہمارے اس دور کا کیا حال ہوگا، اللہ تعالیٰ ہی اصلاح و احوال کی توفیق دے، امام دارالہجرت، عالم مدینہ حضرت امام مالک بن انس رحمہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا گیا کہ آپ کو مجاورت محبوب ہے یا لوٹنا؟ فرمایا: سنت یہ ہے کہ حج کیا جائے پھر واپس ہو، جیسا کہ علامہ محمد عبدری نے مدخل میں ذکر کیا ہے۔
( ۳؎ المدخل فصل فی ذکر بعض مایعتور الحاج فی حجہ دارالکتاب العربی بیروت ۴ /۲۵۳)
قلت : وانما اراد سنۃ الصحابۃ ما عدا المھاجرین اما المھاجرون فقد کانوا عن الاقامۃ محجورین، فلا یدل قفولھم علٰی استنانہ کما لا یخفی، ثم ان العبدری نقل من بعض اکابر الاولیاء قدست اسرارہم، ان جاور بمکۃ اربعین سنۃ ولم یبل فی الحرم ولم یضطجع، قال فمثل ھذا تستحب لہ المجاورۃ اویو مربھا والموضع موضع ربح لا موضع خسارۃ، فیحرم نفسہ الربح لقلۃ الادب الذی یصدر منہ وقلۃ الاحترام ''قال'' وقد حکی لی السید الجلیل ابو عبداﷲ القاضی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ انہ احتاج الٰی قضاء حاجۃ الانسان وھو فی المدینۃ فخرج الٰی موضع من تلک المواضع وعزم ان یقضی حاجتہ فیہ ،فسمع ھاتفا ینھاہ عن ذٰلک فقال الحجاج یعملون ھذا، فاجابہ الھاتف، بان قال واین الحجاج واین الحجاج واین الحجاج ثلث مرات، فخرج من البلد حتی قضی حاجۃ ثم رجع ۱؎ اھ۔
قلت : یہاں امام مالک نے سنت سے مراد غیر مہاجرین صحابہ کی سنت لی ہے، رہے مہاجرین صحابہ، تو ان کے لیے مکہ میں اقامت ممنوع تھی، لہذا ان کا لوٹنا سنت پر دال نہیں جیسا کہ واضح ہے۔ پھر شیخ عبدری نے بعض اکابر اولیاء قدست اسرارہم کے بارے میں یہ بھی نقل کیا کہ وہ چالیس سال مکہ میں رہے مگر حرم کعبہ میں پیشاب نہ کرتے اور نہ ہی وہاں لیٹتے تھے، پھر فرمایا ایسے لوگوں کے لیے مجاورت مستحب ہے، یا انھیں کو اجازت دی جاسکتی ہے اور یہ مقام سراپا نفع ہے خسارہ نہیں تو قلتِ ادب اور قلت احترام کی بنا پر انسان خود کو نفع سے محروم نہ کرے، پھر فرمایا مجھے السید الجلیل ابو عبداللہ القاضی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں بیان کیا گیا کہ انھیں شہر مدینہ میں رفع حاجت کی ضرورت پیش آئی تو وہ شہر میں ایک مقام کی طرف گئے اور وہاں قضاءِ حاجت کا ارادہ کیا تو غیب سے آواز آئی جو اس عمل سے انھیں منع کررہی تھی تو انھوں نے کہا تمام حجاج ایسا کرتے ہیں، تو جواب میں تین دفعہ آواز آئی، کہاں کے حجاج، کہاں کے حجاج، کہاں کے حجاج۔ پھر وہ شہر سے باہر چلے گئے اور رفعِ حاجت کی اور پھر لوٹے اھ
(۱؎ المدخل فصل فی ذکر بعض مایعتور الحاج فی حجہ دارالکتاب العربی بیروت ۴ /۲۵۳)
"وقد اطال الکلام فیہ الی ان قال " ثم لو فرض ان المجاور لا یبا شر شیئا مما تقدم ذکرہ حینئذ تکون المجاورۃ مستحبۃ فی حقہ، مالم یخل بعبادۃ اخری ھی اکبر منھا ،کبر الوالدین والقیام بما وجب علیہ، من صلۃ الرحم لمن یحب ذٰلک بالحضور معہ، دون ارسال السلام بالکتابۃ وغیرہ ''قال'' والمقصودان یقدم امتثال الشرع الشریف فیقدم ماقدمہ ویؤخرما اخرہ، فالمجاورۃ مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باتباع اوامرہ واجتناب نواھیہ فی ای موضع کان ھٰذہ ھی المجاورۃ ۱؎
طویل گفتگو کے بعد لکھتے ہیں کہ بالفرض مجاورت کرنے والا کوئی ایسا عمل نہیں کرتا جو ذکر ہوا تو اس کے حق میں مجاورت مستحب ہوگی بشرطیکہ اس سے کوئی بڑی عبادت درمیان میں حائل نہ ہو مثلاً بوڑھے والدین کے ساتھ حسن سلوک وخدمت اور ان لوگوں کی خدمت جو صلہ رحمی کی بناء پر لازم ہے اور وہ اس کے موجود ہونے کا تقاضا کرتا ہو نہ کہ محض تحریری سلام وغیرہ کا ، پھر لکھا مقصود شرع شریف کے احکام کو مقدم کرناہے، لہذا جسے شریعت نے مقدم رکھا ہے اسے مقدم رکھا جائے اور جسے شریعت نے مؤخر رکھا ہے اسے مؤخر رکھا جائے، حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مجاورت آپ کے اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کی صورت میں ہے خواہ انسان کسی جگہ مقیم ہو، اور اصلا مجاورت یہی ہے،
(۱؎ المدخل فصل فی ذکر بعض مایعتور الحاج فی حجہ الخ دارلکتاب العربی بیروت ۴ /۲۵۵)
''قال'' ومن کتاب القوت (ای السیدی ابی طالب المکی رحمہ اﷲ تعالٰی) قال بعض السلف کم من رجل بارض خراسان اقرب الٰی ھذا البیت ممن یطوف بہ، وکان بعضھم یقول، لان تکون ببلدک وقلبک مشتاق متعلق بھٰذا البیت خیر لک من ان تکون فیہ وانت متبرم بمقامک وقلبک متعلق الی بلد غیرہ ۲؎ اھ ملتقطا۔
اور فرمایا کتاب القوت (للامام ابو طالب مکی رحمہ اللہ تعالیٰ) میں بعض اسلاف سے ہے بہت سے خراسان میں رہائش پذیر اس بیت اللہ کے ان لوگوں سے زیادہ قریب ہیں جو اس کا طواف کر رہے ہیں، بعض نے فرمایا بندہ اپنے شہر میں ہوا ور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے گھر سے متعلق ہو یہ اس سے بہتر ہے کہ بندہ بیت اللہ میں ہو اور دل کسی اور شہر کے ساتھ وابستہ ہو اھ اختصاراً۔
(۲؎ المدخل فصل فی ذکر بعض مایعتور الحاج فی حجہ الخ دارلکتاب العربی بیروت ۴ /۲۵۶)
انی لو شئت لطولت الکلام بتوفیق العلام فی تحقیق المرام ولکن حسبی فی ھذا المقام کلام الامام بن الھمام اذ لا عطر بعد عروس قال قدسنا اﷲ تعالٰی بسرہ الکریم ونفعنا فی الدارین بفضلہ، الفخیم فی فتح القدیر شرح الھدایۃ اختلف العلماء فی کراھۃ المجاورۃ بمکۃ وعدمھا فذکر بعض الشافعیہ ان المختار استحبابھا الا ان یغلب علی ظنہ الوقوع فی المحذور وھذا قول ابی یوسف ومحمد رحمھما اﷲ تعالٰی وذھب وابوحنیفۃ ومالک رحمھما اﷲ تعالٰی الٰی کراھتھا ۱؎۔
اگر میں چاہوں تو اس مقصد پر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اور بھی طویل گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن اس مقام پر مجھے امام ابن ہمام کی گفتگو ہی کافی ہے کیونکہ شادی کے بعد عطر کیا کرنا ہے انھوں نے (اللہ تعالیٰ ہمیں دارین میں ان کے علوم وفیوض سے بہرہ ور فرمائے) نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرمایا: مکہ مکرمہ کی مجاورت مکروہ ہے یا نہیں، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے، بعض شوافع نے کہا کہ مختار قول کے مطابق مستحب ہے لیکن جب غالب گمان ممنوعات کے ارتکاب کا ہو تو پھرمکروہ ہے، امام ا بو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ کا بھی یہی قول ہے امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجاورت مکروہ ہے۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۹۳)
قلت والمراد کراھۃ التحریم اذا ھو المحمل عندا لاطلاق وبدلیل قول المحقق فیما سیأتی ''لایذکر حالھم قیدا فی جواز الجوار'' ۲؎ اھ۔
میں کہتا ہوں یہاں کراہت سے مراد تحریمی ہے کیونکہ جب لفظ کراہت مطلقاً ہو تو اس سے یہی مراد ہوتی ہے۔ اھ محقق کا آئندہ قول بھی اسی پر دلیل ہے کہ قلیل لوگوں کے حال کو جوازِ مجاورت کے لیے بطور قید ذکر نہیں کیا جاتا اھ۔
(۲؎ فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۹۴)
(قال) وکان ابوحنیفۃ یقول انھا لیست بدار ھجرۃ وقال مالک وقد سئل عن ذٰلک، ماکان الناس یرحلون الیھا الاعلی نیۃ الحج، والرجوع وھوا عجب و ھذا احوط لما فی خلافہ من تعریض النفس علی الخطر اذطبع الانسان التبرم والملل من توارد ما یخالف ھواہ فی المعیشۃ وزیادۃ الانبساط المخل بمایحب من الاحترام لما یکثرتکررہ علیہ ومداومۃ نظرہ الیہ وایضا الانسان محل الخطاء کما قال علیہ السلام کل بنی اٰدم خطاء ۱؎۔
آگے لکھا امام ابو حنیفہ نے فرمایا مکہ مقام دارالہجرت نہیں، امام مالک سے جب اسی بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا لوگوں کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ حج ادا کرکے واپس ہوجائیں، اور یہ قول نہایت محبوب ہے اور یہی احوط ہے کیونکہ اس کے خلاف کرنے میں اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنا ہے کیونکہ انسانی طبیعت یہ ہے کہ بار بار خلاف خواہش کرنے سے اس کی زندگی میں ملال و پریشانی پید اہوتی ہے، اسی طرح کثرت کے ساتھ ادب کے منافی ہے بے تکلفی اور بار بار دیکھنے سے ادب و احترام میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور یہ بھی کہ انسان خطاء کا محل ہے، حضور علیہ الصلٰوۃ السلام کا مبارک ارشاد ہے: ہر آدمی محل خطاء ہے۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۹۳)