Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
158 - 198
اخرج البخاری وابوداؤد والنسائی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمھاجر من ھجرما نھی اﷲ تعالٰی عنہ ۳؎۔
بخاری، ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہوا ور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
 (۳؎ صحیح بخاری    باب من سلم المسلمون من لسانہ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۶)
وماحسن ماقال اخوالعجم ؎
اور اخوالعجم نے کیا خوب کہا ہے:
گردر یمنی وبامنی پیش منی     ورپیش منی وبے منی دریمنی
اگر تو یمن میں ہے اور میرے تصور میں ہے تو میرے سامنے ہے اور اگر تو میرے سامنے ہے لیکن میرے تصور میں نہیں تو تو یمن میں ہے،
وھو معنی ما قال اٰخر: ؎
کسی اور شاعر نے بھی یہی بات یوں کہی ہے:
وکم من بعید الدار نال مرادہ		وکم من قریب الدار مات کئیبا
بہت سے دور رہنے والے مراد پالیتے ہیں اور بہت سے قریب رہنے والے محروم ونامراد مرتے ہیں۔
وکان سیّدی العارف باﷲ ابو محمد المرجانی رحمہ اﷲ تعالٰی یقول:
سیدی عارف باﷲ ابو محمد المرجانی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
کم من ھومعنا ولیس ھو معنا و کم من ھو بعید عنا، وھو معنا ۱؎ اھ۔
بہت سے لوگ ہمارے ساتھ رہتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ نہیں اور بہت سے ہم سے دور ہیں مگر ہمارے ساتھ ہوتے ہیں اھ (۱؎)
ومن اخفی وسائس الشیطان تلبس الشر بالخیر علی الانسان، فیذھب بہ علی السیئات من باب الحسنات، و لایعرف ذٰلک الاالعلماء العاملون لذا ورد ذم المتعبد بغیر فقہ وضرب لہ مثل سوء فی حدیث عند ابی نعیم فی حلیۃ الاولیاء ۲؎ عند واثلۃ بن اسقح رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ وھذا شرما اخرج الترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد ۳؎۔
جس پر شیطان کے وساوس مخفی ہوں اس انسان پر شر وخیر میں التباس ہوجاتا ہے اور شیطان اسے حسنات سے سیئات کی طرف لے جاتا ہے اور اس بات سے باعمل علماء ہی آ گاہ ہوسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے بغیر دین فہمی کے عبادت کرنے والے کی مذمت آئی ہے اور ایسے عابد کی اس حدیث میں بُری مثال بیان ہوئی جو ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے، یہ اس سے سخت ہے جسے ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ سخت ہے۔
 (۲؎ حلیۃ الاولیاء    ترجمہ ۳۱۸ خالد بن معدان        دارالکتاب العربی بیروت    ۵ /۲۱۹)

(۳؎ جامع الترمذی    باب ماجاء فی فضل الفقہ        امین کمپنی دہلی    ۲ /۹۳)
فھٰذاالذی یرید الھجرۃ لو علم مافی احزان الوالدین وادخال الغم علیھما لما ارادھا کما ورد عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال لوکان جریج الراھب فقیھا عالما لعلم ان اجابۃ دعاء امہ اولی من عبادۃ ربہ ۱؎ اخرجہ الحسن بن سفین فی مسندہ والحکیم المولی الترمذی فی نوادرہ وابن قانع فی معجمہ، والبیھقی فی شعب الایمان عن شھر بن حوشب عن حوشب بن یزید عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
ہجرت کا ارادہ کرنے والا اگر یہ جان لے کہ والدین کو پریشان کرنے میں کیا سزا ہے تو ہجرت کا ارادہ ترک کردے۔ جیساکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہے کہ جریج راہب فقیہ وعالم ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے والدہ کے بلاوے کا جواب اولیٰ ہے، حسن بن سفیٰن نے مسند میں، حکیم ترمذی نے نوادر میں، ابن قانع نے معجم میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں شہر بن حوشب سے، انھوں نے حوشب بن یزید سے، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بیان کیا ہے:
 ( ۱؎ نوادر الاصول    الاصل السابع عشر والمائۃ            دارصادر بیروت    ص۱۵۲)

(شعب الایمان    باب فی برالوالدین    حدیث ۷۸۸۰    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۶ /۱۹۵)
فھذا الحدیث وان بقیت الفقہ فقد نقل العلامۃ البحر فی البحرالرائق تفصیلاً برخصۃ ونھٰی فی مسئلۃ حج الولد بلا اذن الوالد ثم قال ھذا کلہ فی حج الفرض اما حج النفل فطاعۃ الوالدین اولی مطلقا کما صرح بہ فی الملتقط ۲؎ اھ نقلہ العلامۃ ابن عابدین فی ردالمحتار۔
یہ تو احادیث تھیں، باقی رہے فقہاء تو علامۃالبحر نے بحرا لرائق میں تفصیلاً رخصت کی تفصیل تحریر کی، اور جبکہ اجازت والد کے بغیر اولاد کو حج کرنے سے منع کیا پھر فرمایا یہ تمام بحث حج فرض میں ہے، رہا نفل حج، تو اس میں اطاعتِ والدین ہر حال میں اولیٰ ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے اھ اسے علامہ ابن عابدین نے ردالمحتار میں نقل کیاہے۔
 (۲؎ بحرالرائق        کتا ب الحج                ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۳۰۹)
قلت فاذا کان ھذا حکمھم فی الحج وانت ترید القفول، فکیف وانت عازم ان لا ترجع، وقد وضع فی الھندیۃ، ضابطۃ حسنا فی امثال ھذہ المسائل حیث قال الابن البالغ یعمل عملا لاضرر فیہ دیناً ولادُنیا بوالدیہ وھما یکرھا نہ فلا بد من الاستیذان فیہ اذاکان لہ منہ بد۱؎ اھ فقد حکم ان لا محید من الاستیذان وان لم یکن بھما ضرر اصلا فیما اراد، فھٰذاحکم المسئلۃ کما تری، و مالی التکلم فی ھذا وذاک ولکن اقول ان المجاورۃ لاتحل من اصلھا وان اذن الابوان، فکیف اذا کرھا وحزنا بھا ھذا ھوقول الامام وبقولہ قال الخائفون المحتاطون من العلماء کما فی الشامی  عن الاحیاء وبہ جزم المجمع وغیرہ۔
میں کہتا ہوں یہ انھوں نے حج کے بارے میں حکم دیا ہے جس میں تو واپس کوچ کا ارادہ رکھتا ہے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے جبکہ تو واپس نہ ہو نیکا عزم رکھتا ہے،۔ فتاویٰ ہندیہ میں ایسے مسائل کے بارے میں بہت عمدہ ضابطہ بیان کیا ہے، وہ یہ ہےکہ بالغ اولاد کوئی دینی یا دنیوی ایسا کام نہ کرے جو والدین کے لیے غیر مضر اور ناپسند ہو، اورا گر ضروری ہو تو والدین سے اجازت لینا ضروری ہوگا اھ یعنی اگر چہ نقصان دہ نہ بھی ہو تب بھی والدین کی اجازت کے بغیر چارہ نہیں، یہ تو مسئلہ کا حکم تھا لیکن مجھے اس میں کلام نہیں ہے اور جبکہ میں یہ کہتاہوں کہ مجاورت اس صورت میں بھی جائز نہیں جبکہ والدین اجازت دیں تو اس وقت کیسے جائز ہوگی جب وہ اسے پسند نہ کریں اورا س پر پریشان ہوں، اور یہی امام صاحب کا قول ہے، محتاط اور خائف اہل علم نے آپ کے اسی قول کو اختیار کیا ہے جیسا کہ شامی میں احیاء سے ہے۔ مجمع وغیرہ میں اس پر جزم کا اظہار کیا ہے۔
 (۱؎ فتاویٰ ہندیہ    کتاب الکراھیۃ    الباب السادس والعشرون    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۶۵)
قلت : و ھوا لا قوی دلیلا والاحسن تاویلا والاصلح تعویلا والاقوم قیلا ولیس لحنفی ان یجتاز من قولہ ویختار قول غیرہ کصاحبیہ مثلا الا لضعف بیّن فی دلیلہ او ضرورۃ تدعو الٰی مخالفۃ قیلہ، حتی صرح الفاضلان العلامتان مولٰنا زین بن نجیم المصری والشیخ خیر الدین الرملی، انہ لا یعمل ولایفتی الابقولہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولا یعدل عن قول الٰی قولھمااوقول احدھما الالضرورۃ وان صرح المشائخ بان الفتویٰ علی قولھما۱؎ کما فی صلٰوۃ البحر وشہادات الخیریۃ وھذا امیرالمومنین عمرالفاروق الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ، کان اذا فرغ من حجہ یدور فی الناس و یقول یا اھل الیمن یمنکم ویااھل العراق عراقکم ویا اھل الشام شامکم ۲؎ فانہ اھیب لبیت ربکم فی اعینکم ، اوکما یقول رضی اﷲ تعالٰی عنہ
میں کہتا ہوں یہ قول دلیل کے اعتبار سے قوی تاویل کے لحاظ سے احسن ہے، اعتماد کے لحاظ سے اصلح اور قیل وقال کے لحاظ سے معتدل ہے۔ اور کسی حنفی کے لیے یہ اجازت نہیں کہ وہ آپ کے قول کو ترک کرکے کسی دوسرے مثلاً صاحبین کے قول پر عمل کرے، ہا ں اس صورت میں جائز ہوتاہے جب آپ کے قول کی دلیل واضح طورپر کمزور ہو یا آپ کے قول کی مخالفت کی اشد ضرورت درپیش ہو، حتی کہ دو عظیم فاضل اہل علم مولاناا بن نجیم مصری اور شیخ خیر الدین رملی نے تصریح کی ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول پر عمل اور فتویٰ دیا جائے گا، اس سے صاحبین یا کسی اور کےقول کی طرف اعراض کی اجازت نہیں البتہ اس صورت میں جو مذکور ہے اگر چہ کچھ مشائخ نے تصریح کی ہے کہ فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے جیسا کہ بحر کے باب الصلوٰۃ میں اور فتاویٰ خیریہ کے باب الشہادات میں ہے حالانکہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھئے وہ جب حج سے فارغ ہوتے تو لوگوں میں دورہ کرتے اور فرماتے: اے اہل یمن! یمن چلے جاؤ، اے اہل عراق! عراق چلے جاؤ، اے اہل شام! اپنے وطن شام لوٹ جاؤ تا کہ تمھارے ذہنوں میں تمھارے رب کی گھر کی ہیبت خوب قائم رہے۔
 (۱؎ فتاویٰ خیریہ    کتاب الشہادات        دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۳۳)

(بحرالرائق    کتاب الصلوٰۃ        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۴۶)

(۲؎ المدخل    فصل فی ذکر بعض مایعتور الحاج فی حجہ    دارالکتاب العربی بیروت    ۴ /۲۵۳)
Flag Counter