Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
157 - 198
قلت :  ولا اقول ان مجرد عدم الذکر ذکر العدم، حتی ترجع تقول واقعۃ حال فلا شمول، فما یدریک لعلھا کانا مفتقرین الیہ، وانما اقول ان المسائل لم یبین، والنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یستبن، فترک السؤال دلیل الارسال۔
میں کہتاہوں میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ محض عدم ذکر ذکرِ عدم ہے، حتی کہ یہ اعتراض ہو کہ یہ تو ایک مخصوص واقعہ ہے جس کا حکم عام نہیں، کیا علم کہ وہ والدین محتاج خدمت ہوں، میں تویہ کہہ رہا ہوں کہ سائل نے ان کی محتاجی بیان نہیں کی اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل پوچھی، سوال کا نہ کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ محتاج ہونا ضروری نہیں ۔
واخرج مسلم فی روایۃ لہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال اقبل رجل الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، فقال ابایعک علی الھجرۃ والجھاد ابتغی الاجر من اﷲ تعالٰی، قال فھل من والدیک احد حی، قال نعم بل کلاھما ،قال فتبتغی الاجر من اللہ تعالی ،قال نعم، قال فارجع الی والدیک فاحسن صحبتھما ۱؎۔
امام مسلم نے ایک روایت میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ایک شخص نے حضو رصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا، آقا! میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی خاطر ہجرت اور اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے آپ کے دست اقدس پر بیعت چاہتا ہوں، آپ نے پوچھا: تیرے والدین میں سے کوئی ایک

زندہ ہے؟ عرض کیا: ہاں جبکہ دونوں زندہ ہیں، فرمایا: توا للہ تعالیٰ سے ثواب واجر چاہتا ہے، عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: والدین کے پاس جاؤ اور ان کی خوب خدمت کرو۔
 (۱؎ صحیح مسلم        باب برالوالدین    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۳۱۳)
واخرج ابوداؤد عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بلفظ جاء رجل الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال جئت ابایعک علی الھجرۃ وترکت ابوی یبکیان، قال فارجع الیھما فاضحکھما کما ابکیتھما ۲؎۔
امام ابوداؤد نے اسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان الفاظ میں روایت ذکر کی ہے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں آپ کے پاس ہجرت پر بیعت کے لیے آیا ہوں اس حال میں کہ میں والدین کو روتے ہوئے چھوڑ آیا ہوں، فرمایا: ان کی خدمت میں واپس جاؤ اور  اس طرح خوش کرو جیسے تم نے انھیں رُلایا ہے۔
 (۲؎ سُنن ابوداؤد    کتاب الجہاد    آفتاب     عالم پریس لاہور    ۱ /۳۴۲)
واخرج ایضا عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان رجلا ھا جرمن الیمن الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، فقال ھل لک احد بالیمن، فقال ابوای، قال اذنالک، قال لا، قال فارجع الیھما فاستاذنھما فان اذنا لک فجاھد والافبرھما ۳؎۔
انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ بھی روایت کیا ہے کہ ایک شخص یمن سے ہجرت کرکے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا: یمن میں تیرا کوئی عزیز ہے؟عرض کیا: میرے والدین ہیں، فرمایا: انھوں نے تجھے اس بات کی اجازت دی ہے؟ عرض کیا : نہیں، فرمایا: ان کی خدمت میں جاکر اجازت طلب کرو اگر تجھے اجازت دے دیں تو جہاد پر جاؤ اور اگر اجازت نہ دیں تو والدین کی خدمت کرو۔
(۳؎ سُنن ابوداؤد    کتاب الجہاد    آفتاب     عالم پریس لاہور    ۱ /۴۳۔ ۳۴۲)
واخرج النسائی وابن ماجۃ وحاکم وقال صحیح علٰی شرط مسلم، والطبرانی باسناد جید، عن معاویۃ بن جاھمۃ ان جاھمۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ جاء الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، فقال یا رسول اﷲ! اردت ان اغزو وقد جئتک استشیرک،فقال ھل لک من ام، قال نعم، قال فالزمھا فان الجنۃ عند رجلیھا ۱؎۔
نسائی، ابن ماجہ، حاکم (اور کہایہ شرط مسلم کے مطابق صحیح ہے) اور طبرانی نے سند جید کے ساتھ حضرت معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا کہ حضرت جاہمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں آپ کی خدمت میں مشورہ کے لیے حاضر ہوا ہوں، فرمایا: تمھاری والدہ ہیں؟ عرض کیا: ہیں۔ فرمایا: پس ان کی خدمت کرو کیونکہ جنت ان کے قدموں میں ہے۔
 (۱؎ سنن نسائی        کتاب الجہاد        مکتبہ سلفیہ لاہور    ۲ /۴۸)
ولفظ الطبرانی قال اتیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استشیرہ فی الجھاد، فقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الک والدان، قلت نعم، قال الزمھما فان الجنۃ تحت ارجلھما ۲؎۔
اور طبرانی میں روایت کے الفاظ یہ ہیں حضرت جاہمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر جہادکے لیے مشورہ طلب کیا، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تمھارے والدین زندہ ہیں؟ عرض کیا: زندہ ہیں۔ فرمایا ، ان کی خدمت کو لازم جانو کیونکہ جنت ان کے قدموں میں ہے۔
(۲؎ المعجم الکبیر      حدیث ۲۲۰۲ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت    ۲ /۲۸۹)
واخرج ھذا اعنی الطبرانی عن طلحۃ بن معٰویۃ السلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ، قال اتیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، فقلت یا رسول اﷲ انی اربد الجھاد فی سبیل اﷲ، قال امک حیۃ، قلت نعم، قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الزم رجلیھا فثم الجنۃ ۱؎۔
طبرانی نے حضرت طلحہ بن معاویۃ السلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتاہوں، فرمایا: تمھاری والدہ زندہ ہیں؟ عرض کیا: ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:ا ن کے قدموں میں رہو، وہیں جنت ہے۔
 (۱؎ المعجم الکبیر    حدیث ۸۱۶۲    المکتبۃ الفیصلیہ بیروت    ۸ /۳۷۲)
فھذہ فتوی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الھجرۃ الی المدینۃ ورسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بین اظھر ھم، فکیف بجوار احدالحرمین بعد وفاۃ سید الکونین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانظر کیف امر ھم ان یرجعوا ویلزموا ارجل ابائھم وامھاتھم، وانظر کیف امر من لم یستأذن، ان یرجع فلیستاذن، وانظر کیف ھدی من اتی وترکھمایبکیان، ان یضحکھما کما ابکاھما وانت ان استاذنت، فقد علمت انھما لایأذنان ان استاذنت فقد علمت انھما لا شد حزنا و جدا، بک ان فارقت وما اذنت، فایاک ثم ایاک ان تترکھما وھما یبکیان۔
یہ مدینہ کی طرف ہجرت کے بارے میں  رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس وقت کا فتویٰ ہے جب آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم صحابہ کے درمیان ظاہری حیات کے ساتھ تشریف فرماتھے اب سید الکونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے وصال کے بعد حرمین میں سے کسی ایک میں جانے کا حال کیا ہوگا! ذرا غور کیجئے کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے لوگوں کو اپنے ابا ء اور امہات کی خد مت میں لوٹنے کا کس انداز میں حکم دیا ہے، یہ ملاحظہ بھی کیجئے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس شخص کو کیاحکم دیا جو والدین سے اجازت لیے بغیر آیاتھا کہ واپس جاؤا ور اجازت لو، اس پر یہ بھی توجہ کیجئے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس شخص کی کتنی پیاری رہنمائی فرمائی جو اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا کہ جاؤ ان کو اسی طرح ہنساؤ جس طرح انھیں رلا یا ہے، جب آپ نے یہ سب کچھ پڑھ لیا تو اب صورت مذکورہ میں اگر والدین سے اجازت مانگے وہ اجازت نہیں دے رہے تو واضح بات ہے کہ وہ تمھاری جدائی پرسخت پریشان وغمگین ہوں گے جبھی تو وہ آپ کو اجازت نہیں دے رہے، تو اب روتے ہوئے چھوڑ کر جانا ہر گز جائز نہیں۔
وھذا خیرالتابعین بشھادۃ سید العالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المرویۃ من طریق عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ، عند مسلم۱؎ فی صحیحۃ ومن حدیث علی کرم اﷲ وجہہ عند الحاکم ۲؎ بسند صحیح اعنی ولی اﷲ سیدنا اویس القرنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ منعتہ خدمۃ امہ والبربھا ان یاتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویتشرف بذاک الشرف الاھم الاعظم، ھو صحبۃ نبی ا ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، فماظنک بھٰذا الذی یسمیہ الناس ھجرۃ وماوھو بھجرۃ وانما الھجرۃ ھجران الذنوب، نسأل توفیقہ من رب القلوب۔
آئیے ایک ایسی شخصیت کا عمل پڑھتے ہیں جن کے بارے میں امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت عمر رضی اللہ 

تعالٰی عنہ سے اور حاکم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام تابعین میں افضل شخصیت ہے یعنی ولی اللہ حضرت سیدنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ انھیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آکر اعلیٰ وافضل مقام حضور نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صحبت پانے سے مانع فقط والدہ کی خدمت اور حسن سلوک ہی تھا، اب ذرا سوچئے اس عمل کا کیا مقام ہے جسے لوگوں نے ہجرت کا نام دے رکھا ہے حالانکہ یہ ہر گز ہجرت نہیں، ہجرت تو حقیقۃً گناہوں کا چھوڑنا ہے، ہم رب قلوب سے اسکی توفیق کے طلبگار ہیں۔
 (۱؎ صحیح مسلم        باب من فضائل اویس قرنی        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۳۱۱)

(۲؎ المستدرک للحاکم    مناقب اویس قرنی        دارالفکر بیروت    ۳ /۴۰۳)
Flag Counter