| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین(۱۳۰۵ھ) (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
مسئلہ۳۰۰: ازگورکھ پورمحلہ گھوسی پورہ مسئولہ مولانا مولوی حکیم عبداﷲ صاحب ۲۲جمادی الاولیٰ۱۳۰۵ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی فی رجل مکلف لہ ابوان وبنتان صغیرتان لایفتقرون الیہ فی المعاش ولہ زاد و راحلۃ یریدان یھاجر وحدہ الی الحرمین الشریفین زادھما اﷲ شرفاوتعظیما وذٰلک لانہ لایجد مالا، یسع زادھم جمیعا ویظن انہ لواستجازھم فی الھجرۃ لایجیزوہ اصلا ،فع ھل تجوزلہ الھجرۃ بحکم الشرع ام لا، بینوابسند الکتاب والعبارۃ توجرو ایوم الحساب بالبشارۃ۔
اے علماء کرام (اﷲ تم پر رحمت فرمائے) اس مکلف کے بارے میں تمہاری کیارائے ہے جس کے ایسے والدین اور دوبیٹیاں ہیں جو معاشی اعتبارسے اس شخص کی محتاج نہیں، اس شخص کے لیے زادراہ اور سواری وغیرہ بھی ہو، اور وہ چاہتاہے کہ وہ تنہا حرمین شریفن (اﷲ تعالیٰ ان کے شرف وعظمت میں اوراضافہ فرمائے) ہجرت کرجائے کیونکہ وہ تمام کے خرچہ کی طاقت نہیں رکھتا اور یہ بھی گمان رکھتاہے کہ اگران مذکورہ افراد سے ہجرت کی اجازت چاہئے گا تو وہ اجازت نہیں دیں گے ایسی صورت میں اس کے لیے شرعا ہجرت جائز ہے یا نہیں؟ کتاب وسنت کی روشنی میں واضح فرمادیں، اللہ تعالیٰ تمھیں یوم قیامت اجر عطافرمائے گا۔ (ت)
الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب الحمد اﷲ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ وعلی اٰلہ وصحبہ المکرمین عندہ
اے اللہ حق وصواب کی توفیق عطافرمائیں، حمد ہے اللہ کے لیے جو ذات صفات میں لا شریک ہے، صلوٰۃ وسلام ہو اس ذات پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور مکرم ومحترم آل واصحاب پر۔
برالو الدین من اعظم الواجبات واھم القربات حتی قرن المولٰی سبحانہ وتعالٰی شکرھا بشکرہ، اذ امر عز من اٰمر،ان اشکر لی ولوالدیک ، وقد فضلہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی الجھاد فی سبیل اﷲ (اخرج) احمد والشیخان وابوداؤد والنسائی عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ، قال سألت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ای العمل احب الی اﷲ قال الصلٰوۃ علی وقتھا، قلت ثم ای، قال ابوالوالدین، قلت ثم ای، قال الجھاد فی سبیل اﷲ ۱؎
والدین کے ساتھ حسن سلوک اعظم واجبات او راہم عبادات میں سے ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کی شکر گزاری کو اپنے شکریہ کے ساتھ متصل فرماتے ہوئے یہ حکم دیا ''میرے شکر گزار بنو او راپنے والدین کے'' اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے والدین کے ساتھ نیکی کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد سے افضل قرار دیا ہے۔ امام احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کے ہاں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا: وقت پر نماز، میں نے عرض کیا: اس کے بعد کون سا عمل ہے؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک۔ عرض کیا: اس کے بعد ؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد،
(۱؎ صحیح بخاری کتاب الادب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۸۲)
قلت، ولیس البران لاتعصیھما اذا صرحا بشی وتخا لفھما فی ماسوی ذٰلک ولکن البران لاتاتی مایکرھانہ وان لم یخاطباک فیہ بشی فانہ الطاعۃ والارضاء کلاھما واجبان والمعصیۃ والاسخاط جمیعا محرمان وھٰذا ن اعنی السخط والرضا لایختصان بما تقدما فیہ بصریح البیان کما لایخفی۔
میں کہتا ہوں نیکی ان کے ساتھ یہ نہیں کہ ان کے حکم کی صریح کی تو نافرمانی نہ کی جائے اورا س کے علاوہ میں ان کی مخالفت کی جائے، ہا ں نیکی یہ ہے کہ کسی معاملہ میں بھی انھیں پریشان نہ کیا جائے اگر چہ وہ اولاد کوکسی معاملہ کا حکم نہ دیں، کیونکہ طاعت اور راضی کرنا دونوں واجب ہیں اور نافرمانی اور ناراض کرنا دونوں حرام ہیں اور یہ ناراض اور راضی کر نا ان کے صریح حکم کے ساتھ ہی مخصوص نہیں، جیسا کہ مخفی نہیں۔
وحسبک ما اخرج الترمذی وابن حبان والحاکم وصححہ والطبرانی عن عبداﷲ بن عمرو، والبزار عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم انہ صلی اﷲ تعالٰی عیہ وسلم قال رضی الرب فی رضی الوالد وسخط الرب فی سخط الوالد ۱؎ ، ولفظ البزار الوالدین فی الموضعین ۲؎ وقد اشار النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من اراد الجھاد والھجرۃ الیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان یرجع فیخدم ابویہ ولیس فی الحدیث انھما کانا مفتقرین الیہ،
اس پر دلیل یہ روایت ہی کافی ہے کہ امام ترمذی، ابن حبان، حاکم (انھوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور طبرانی نے حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور بزار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ رحمۃ العٰلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے، مسند بزار میں دونوں مقامات پر والد کی جگہ والدین کا لفظ ہے، کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس رہنے کی اجازت چاہی آپ نے انھیں والدین کی خدمت کا حکم دیا، ان احادیث میں یہ کہیں تصریح نہیں کہ والدین ان کی خدمت کے محتاج تھے،
(۱؎ جامع الترمذی باب ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین امین کمپنی دہلی ۲ /۱۲) (۲؎ الترغیب والترھیب بحوالہ البزار کتاب البروالصلۃ مصطفی البابی مصر ۳ /۳۲۲)
اخرج احمد والستۃ الا ابن ماجۃعن عبداﷲ بن عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہم، ومسلم وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ، قال جاء رجل الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاستاذنہ فی الجھاد فقال احی والداک، قال نعم، قال ففیھما فجاھد ۱؎۔
امام احمد، ا بن ماجہ کے علاوہ ائمہ ستہ نے حضرت عبداللہ بن عمر وبن عاص ر ضی اللہ تعالیٰ عنہما سے، اور مسلم اور دیگر محدثین نے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر جہاد پر جانے کی اجازت چاہی، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ عرض کی: ہاں۔ فرمایا: جاؤ ان کی خدمت میں محنت کرو،
(۱؎ صحیح مسلم باب برالوالدین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۳)