| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
مسئلہ ۲۹۹:پیش کردہ منشی محمد عتیق احمد صاحب ساکن پیلی بھیت بتاریخ ۱۲ رجب ۱۳۲۱ھ بحضرت اعلم العلماء افضل الفضلاء واکمل الکملاء، آفتابِ آسمان شریعت، ماہتاب درخشاں طریقت، نور بخش قلوبِ مومنین، روشن فرمائے دین و دنیا، حاکم محکمہ ایمان، ماتحت حبیب الرحمان سرور عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم، حامیِ دینِ متین، اہل سنت، ماحیِ ضلالت وکفروبدعت، صاحب حجتِ قاہرہ، مجددمائتہ حاضرہ، آیۃ من آیات اﷲ، فضیلت پناہ، حقیقت آگاہ، امام العلماء والفضلاء، حاج الحرمین الشریفین مولانا ومقتدانا، عالی جناب مولوی محمد احمد رضاخاں صاحب فاضل بریلوی دامت برکاتہم وافاضاتہم، اس بارے میں کیا ارشاد ہے کہ حجاز ریلوے جو حرمین شریفین زاد ہما اﷲشرفاوتعظیما کے سفر وزیارت وغیرہ کو مسلمانوں پر آسان کردے گی اور وہاں کے ساکنین خصوصاً حرمِ محترم مدینہ منورہ کے رہنے والوں کو ہرشئی بہ آسانی میسر آنے کا ذریعہ ہوگی ان شاء اﷲتعالیٰ قابلِ امداد واعانت اہلِ اسلام ہے یانہیں، جبکہ حضور سلطان المعظم اُس کو خاص مسلمانوں کے روپے سے تعمیر واجرا کرانے میں بہت سعی وکوشش فرمارہے ہیں اور اس اعانت کو اجر چندہ دہند گان کو ملے گا یا نہیں؟کیونکہ بعض کوگمان ہوتا ہے کہ ریل کا بننا ہی غلط بیانی ہے، بعض تردد کرتے ہیں کہ روپیہ وہاں تک پہنچتا ہی نہیں، حالانکہ یہ امر قابل اطمینان پایا گیا ہے، قسطنطنیہ سے رسیدات مہری ڈاکخانہ وغیرہ بسند کافی آئی ہیں، بعض مقاموں خاص کر پیلی بھیت میں مسلمانوں نے یہ معلوم کرکے کہ حضور والا نے چندہ دینے کو منع فرمایا ہے اس سبب سے سب مسلمان کہ مطیع حکم حضور کے رہتے ہیں جو دراصل صحیح حکم خدا اور رسول صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کا ہوتا ہے، چندہ دینے لینے سے باز رہے لیکن اس بارے میں ارشاد حضور کیا ہے؟ بینو اتوجروا
الجواب حجاز ریلوے مسلمانوں کے نفع وآرام کی چیز ہے، نیت صالحہ سے اس میں شرکت ان شاء اﷲتعالیٰ باعثِ اجروبرکت ہے۔ بعض حاجیوں کو یہ خیال کہ ریل بننا ہی غلط ہے بلکہ بیچ کے لوگوں نے یہ شعبدہ اٹھارکھا ہے روپیہ جو جاتا ہے تغلب خائنان میں آتا ہے، اس میں پہلا فقرہ محض غلط و سوئے ظن ہے وہ بھی صریح یقین کے مقابل،اورپچھلا فقرہ اگر چہ بعض مواضع پر صحیح ہونا ممکن، اور تجربہ شاہد ہے کہ ضرور کہیں صحیح ہوگا، ایسے معاملات میں بہت کاذب وخائن کھڑے ہوجاتے ہیں،مگر نہ سب یکساں ہیں نہ بعد حصول ذرائع اطمینان، اجازت سوئےگمان ہے اور بالفرض ہو بھی، تو مسلمان جس نے لوجہ اﷲتعالیٰ دیا اپنی نیت پر اجر پائے گا
فقد وقع اجرہ علی اﷲ۱؎
( تو اس کا ثواب اﷲکے ذمہ ہوگیا۔ت)
(۱؎القرآن ۴ /۱۰۰)
فقیر نے اس میں اعانت پر کبھی انکار نہ کیا، البتہ بعض جاہلان علم ادعانے یہ کہہ دیا تھا کہ اس کی اعانت فرض ہے کہ بے امنیِ راہ کے باعث فرضیتِ حج میں خلل ہے، ریل کا بننا اس خلل کا ازالہ کرے گا، اور مقدمہ فرض فرض ہوتا ہے اس کامیں نے رد کیا تھا کہ یہ محض جہالت ہے، اوّل بحمد اﷲتعالیٰ ہرگز راہ میں بے امنی نہیں، جسے حق سبحانہ نے وہ سفرِ کریم بخشا اور اس کے ساتھ ایمان کی آنکھ اور عقلِ سلیم عطا کی ہے اُس نے موازنہ کیا اور معلوم کرلیا ہے وہاں باآنکہ بارہ منزل کے اندر صرف دو ایک چوکیاں ہیں، بحمدہٖ تعالیٰ وہ امن وامان رہتی ہے کہ یہاں قدم قدم پرچوکی پہرے کی حالت میں ہو، جس قافلہ میں یہ فقیر۱۲۹۵ھ میں اپنے رب کے دربار سے اس کے حبیب کی سرکار میں حاضر ہوتا تھا جلّ جلالہ، وصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم، قافلہ بعد زوال ظہروعصر پڑھ کر وہاں ہوتا اور وقتِ مغرب خفیف قیام کرتا کہ لوگ مغرب وعشاء کے فرض و وتر پڑھ لیتے، شافعیہ اپنے مذہب پر ایسا کرتے اور حنفیہ بضرورت تقلید غیر پر عامل ہوتے کہ بحالتِ ضرورت اُن شرائط پر کہ فقہ میں مفصل ہیں ایسا روا ہے ،مگریہ فقیر بحمد اﷲاپنے امام رحمہ اﷲتعالیٰ کے مطابق مذہب، ہر نماز خاص اُ س کے وقتِ مقرر ہی میں پڑھتا جن کی تعیین اﷲ ورسول جل وعلا وصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمادی ہے، مجھے عصر وعشاء کے لیے اُترنا پڑتا، قافلہ دُور نکل جاتا ، میں جلدی کرکے مل جاتا، قضائے حاجت کے لیے بھی لوگ اس خیال سے کہ قافلہ بعید نہ ہوجائے نزدیک ہی بیٹھ جاتے ہیں، مجھے یہ پسند نہ آتا اور دور کسی پیڑیا پہاڑ کی آڑ میں جاتا اس میں بھی لوگ، قافلہ دور نکل جاتا، دن کی تنہائیوں اور رات کی اندھیریوں میں بار ہا بد وی ملے وہ مسلّح تھے اورمیں نہتّا، مگر کبھی سوا
السلام علیکم و علیکم السلام ،مساکم اﷲ بالخیر والسعادۃ صبحکم اﷲبالرضاء والنعیم
( تم پر سلام ہو اور تم پربھی سلام ہو، اﷲتعالیٰ رات خیر اور صبح مبارک کرے، اﷲاپنی خوشنودی اورانعامات سے نوازے۔ت) کے اصلاً کسی نے کوئی تعرض نہ کیا وﷲالحمد، اتفاقا کہیں کوئی واقعہ ہوجانا بدامنی نہیں کہلاتا، یہاں شہر سے اسٹیشن کو جاتے ہوئے شب میں متعدد واردات ہو چکیں اور رات کو آنولے سے بدایوں جانے میں تو کتنے ہی وقائع ہوئے، کوئی عاقل ایسے اتفاقیات پر شہر یا راہ میں بدامنی نہ مانے گا پھر وہاں اس حال پرکہ بارہ۱۲ منزل تک بیچ میں صرف ایک قلعہ رابغ ملتا ہے جگہ جگہ چوکی پہروں کا نشان نہیں، اگر اتفاقی واردات ہوجائیں تو اُس کے باعث بدامنی ماننا،فرضیت حج میں خلل جاننا، ضعفِ ایمان نہیں، توکیا ہے، لئیم الطبع لوگ جو قافلوں میں بدویوں سے دنائت وخست کا برتاؤ کرتے ہیں اور اس کے سبب وہ ان کی خدمت گزاری کہ ان پر شرعاً عرفاً کسی طرح لازم نہیں، پوری نہیں کرتے( حالانکہ مشاہدہ وہ تجربہ ہے کہ وُہ کریم الطبع بندے قلیل پر کثیر راضی ہوجاتے اور ادنٰی خدمت گار سے بڑھ کر کام دیتے ہیں، ہاں خسیس دنی الطبع کو ضرور مکروہ رکھتے ہیں) اس باعث سے اگرکوئی تکلیف ان سفہاء کو پہنچ جاتی ہے تو انہیں کی لَوم وخست کا نتیجہ ہے اسے طرح طرح کی رنگ آمیز یوں کے ساتھ یہاں آکر بیان کرتے اور محض بے اصل نئی پرانی افواہ اپنے حواشی بڑھاکر مسلمانوں کو سناتے اور انہیں حاضریِ بارگاہِ خدا ورسول سے بد دل کرتے ہیں یہ اُن کی ایمانی حالت کا خاکہ ہے
ولا حول ولاقوۃ الّا باﷲالعلی العظیم وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل
اور اگر معاذاﷲبدامنی اس حد کی فرض کی جائے، کہ مانع فرضیت حج ہو، توا ب یہ ریل اگر مورثِ امن وامان بھی لی جائے تو مقدمہ فرض نہ ہوگی کہ بسبب بے امنی حج فرض ہی نہیں، ہاں مقدمہ فرضیت ہوگی کہ یہ ہوجائے توحج فرض ہو اور مقدمہ فرضیت، فرض درکنار مستحب بھی نہیں ہوتا، مثلاً اتنا مال جمع کرنا کہ حوائج اصلیہ سے بچ کر قدر نصاب رہے اور اس پر سال گزرے، مقدمہ فرضیت زکوٰۃ ہے کہ ایسا ہوتو زکوٰۃ فرض ہو مگر وہ اصلاً مستحب نہیں، غرض ہر عاقل جانتا ہے کہ اسباب ادائے واجب کا مہیّا کرنا واجب ہوتا ہے، نہ کہ اسباب وجوب کا۔
درمختار میں ہے:
لو وھب الاب لابنہ مالا،یحج بہ لم یجب قبولہ لان شرانط الوجوب لایجب تحصیلھا۱؎۔
اگر والد نے بیٹے کو حج کے لیے مال ہبہ کیا تو اس پر قبول کرنالازم نہیں کیونکہ شرائط کا حاصل کرنا لازم نہیں۔(ت)
( ۱؎ درمختارکتاب الحج مطبع متجبائی دہلی۱ /۱۶۰)
یہ ان جاہلان عالم نما کی جہالت کا رد تھا ورنہ نفس ریل واعانتِ چندہ پرفقیر نے کبھی اعتراض نہ کیا، مسلمانوں کو اتنا ضرور ہے کہ اس ا مرِ خیر میں ہمت کریں تو ذرائع اطمینان حاصل کرلیں اور اپنے شہر کے معتمد متدین صلحا مثل جناب مولٰنا الاسد الاسد الاشد الارشد مولانا مولوی محمد وصی احمد صاحب محدّث سورتی یا مولانا مولوی حکیم محمد خلیل الرحمٰن صاحب یا مولانا قاضی حافظ خلیل الدین حسن صاحب یا مکر منامنشی محمد عتیق احمدصاحب سلمہم کو متوسط کریں،
وبا ﷲالتوفیق ، واﷲتعالٰی اعلم۔