Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
154 - 198
مسئلہ ۲۹۳:ازشہر بریلی مسئولہ حضرت ستنا بی بی صاحبہ مدظلہا 

حج میں ایک اونٹ آٹھ آدمیوں نے شریک ہوکر قربانی کی تو حج ہوایا نہیں اور قربانی دوبارہ کرے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب: حج ہوگیا پھر احرام باندھتے وقت تنہا حج کی نیت باندھی تھی تو قربانی اصلاً ضرور نہ تھی نہ اب اس کے بدلے کسی چیز کی حاجت ہے، ہاں اگر احرام میں حج اور عمرہ دونوں کی نیت ایک ساتھ باندھی تھی یا احرام میں فقط عمرہ کی نیت کرکے ادا کرکے پھر حج کا احرام مکّہ معظمہ میں باندھا تھا توالبتہ قربانی واجب تھی اور ایک اونٹ میں سات۷سے زیادہ شریک نہ ہوسکتے تھے تو وہ قربانی نہ ہوئی ، اس صورت میں البتہ دو۲ قربانیاں لازم ہیں ایک اصل اور ایک جرمانہ کی، ان کی قیمت بھیج کر حرم شریف میں کرائی جائیں۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ۲۹۴تا۲۹۵: (۱) ایک حاجی نے دم شکریہ کے عوض اس کی قیمت خیرات کی  ، اب یہ دم شکریہ اس کی جانب سے ادا ہوا یا نہیں؟ دوسرے صاحب نے دم تقصیر کی قیمت خیرات کی، اس کی ذمہ سے دم ادا ہوا یا نہیں؟

(۲) اگر وہ صاحب جنہوں نے دم شکریہ اور دم تقصیر منٰی میں نہ ذبح کیا وہ یہاں آکر ایک گائے خرید کر مثل قربانی کے شریک ہوکر اور اس کوذبح کرکے خیرات یہاں کردیں تو وہ فعل ہند میں درست ہوگا یانہیں ؟بینواتوجروا
الجواب

(۱) نہ،کہ یہاں خود ذبح مقصود ہے اوراﷲ عزوجل کے لیے جان دینا، تو قیمت اس کے بدلے میں کافی نہیں،لباب میں ہے:
لاتجوزالقیمۃ فی ھدی النذر کما لاتجوز فی غیرہ من الھدایا۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
نذر کے ہدی کی قیمت ادا کرنا جائز نہیں جیسا کہ دیگر ہدیوں  میں جائز نہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ لباب المناسک مع ارشاد الساری فصل فی ایجاب الہدی دارالکتاب العربی بیروت ص۳۱۵)
اگر ہندوستان میں ہزار گائیں یا اونٹ ذبح کردیں ادانہ ہوگا کہ اس کے لیےحرم شرط ہے۔
درمختار میں ہے:
یتعین الحرم المنٰی اھ۲؎ ای لدم شکروجبر قال الشامی لما تقدم انہ اسم لما یھدی من النعم الی الحرم الخ قلت وقد قال تعالٰی ھدیا بالغ الکعبۃ ۳؎۔ واﷲتعالٰی اعلم
حرم متعین ہے منٰی کچھ خاص نہیں اھ یعنی دم شکر اور اس دم کے لیے جو نقصان کے ازالہ کے لیے ہو، امام شامی نے کہا کہ پہلے گزرا کہ یہ ان ہدایاکا نام ہے جو جانور حرم کی طرف لے جائے جاتے ہیں الخ، میں کہتا ہوں اﷲتعالیٰ کافرمان مبارک یوں ہے وہ ہدی جو کعبہ کو پہنچنے والی ہے، واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ درمختارکتاب الحج مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۸۳)

(۳؎ ردالمحتارمصطفٰی البابی مصر۲ /۲۷۲)
مسئلہ ۲۹۶: ازپیلی بھیت مرسلہ حضرت مولانا وصی احمد صاحب محدث سُورتی رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ ۱۳رمضان ۱۳۲۵ھ

جو شخص دُور دراز سفر کرکے حج نفل کرے اور زیارتِ سرورِ کائنات علیہ التحیۃ والصلٰوۃ نہ کرے تو وہ مصداق ا س حدیث کا ہوسکتا ہے کہ ''جو شخص حج کرے اور میری زیارت نہ کرے تو اس نے مجھ پر ظلم کیا''۔ جو لوگ کہ ساکن مکہ معظمہ کے ہیں اور نفل حج کے بعد روضہ اقدس کی زیارت نہ کریں تو اس حدیث کے مصداق ہیں یا نہیں ؟
الجواب

من حجّ(جس نے بھی حج کیا۔ت) یقینا عام ہے مکّی وآفاقی سب کو شامل اور تکرارِ سبب تکرارِ حکم کو مستلزم، اور لم یزرنی(میری زیارت نہ کی۔ت) کے صدق کو ترک کلی کی طرف مشیر ماننا خلاف اصل متبادر، نظرِ ایمانی میں بلاشبہ ہربار زیارت لازم، اور اسی پر مسلمین کا عمل لاجرم، فاکہی مکی متوفی۹۸۲ھ کتاب حسن التوسّل فی زیارۃ افضل الرسل صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں:
الما موربہ اذاکان مرتبا علی سبب یتکرر طلبہ من المکلف بتکرر السبب، فمن ذٰلک اجابۃ المؤذن فتطلب الاجابۃ، علی ماقالہ جمع کلما وجد الاذان ویتکرر،ومنہ فیما یظھر الزیارۃ للمستطیع کلماحج، بناء علی مقتضی ھذاالخبر ونحوہ فیتأ کد علٰی نحوالمکی اکثر من تاکدہ علٰی غیرہ ان لایفوت الزیارۃ بعد حجہ لاسیما فی عام حجہ فان قرب الدار یصیر القریب کالجار والجار التارک للمزار قد جار ،سیما اذاکان یر تکب الدیون فی تحصیل شھوتہ، وعدم قطع عادتہ ولا یرتکبھا فیما ھو اشرف عباداتہ اھ۱؎ قلت وانما جعل التاکد علی المکی اکثر لان عذرہ اقل کما اشارہ الیہ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
جب مامور بہ کسی ایسے سبب پر مترتب ہو جس میں تکرار ہے تو سبب کے تکرار پر مکلّف سے ماموربہ کے مطالبہ کا بھی تکرار ہوگا، مؤذن کی دعوتِ نماز کو قبول کرنا بھی اسی قبیل سے ہے، تو جب بھی اذان کاتکرار ہوگا اجابت کا مطالبہ ہوگا جیسا کہ ایک جماعت کا قول ہے اس سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ صاحبِ استطاعت جب بھی حج کرے اس اور دیگر فرمان نبوی کی بنا پر، دربار نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں حاضری دے، غیر مکی لوگوں کی نسبت مکی لوگوں کو اس کی زیادہ تاکید ہے کہ حج کے بعد خصوصاً حج کی ادائیگی کے سال، زیارت کیلئے حاضری کو فوت نہ کرے کیونکہ قربِ دار، قریبی کو پڑوسی بنادیتا ہے اور پڑوسی ہوکر زیارت کا تارک ہوتو گویا اس نے ظلم کیا، خصوصاً جب اپنے شوق اور عادت کو پُورا کرنے میں تو قرض تک کا ارتکاب کرتا ہو اور ان اعمال میں خرچ نہیں کرتا جو عبادات میں افضل ہیں اھ میں کہتا ہوں مکی لوگوں پریہ تاکید اکثر ہوگی کیونکہ ان کا عذر اقل ہے جیسا کہ انہوں نے اس طرف اشارہ فرمایا۔واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
(۱؎ حسن التوسل فی زیارہ افضل الرسل صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم )
مسئلہ ۲۹۷تا۲۹۸: حافظ محمد ایاز صاحب از نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان پورہ محرم ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسائل ذیل میں بموجب حکم شرع شریف ارشاد فرمائیے اﷲتعالٰی اجرِ عظیم عطا فرمائے۔

(۱)اگر ماہِ شعبان میں کوئی شخص مکہ معظمہ پہنچ جائے اور رمضان شریف میں وہاں قیام کرے اور نہایت اطمینان سے طواف وسنگِ اسود شریف کا بوسہ وغیرہ ادا کرے تو جیساثواب ایامِ حج میں ہوتا ہے ویسا ہی ہوگا یا اس میں اور اس میں کچھ فرق ہوگا اور وہی ثواب ایک نماز کا ملے گا جیسا کہ ایک لاکھ کا اور صدقات وغیرہ میں بھی اسی کے مثل ہوگا یا نہیں، حالانکہ شخص مذکورایامِ حج میں بھی ارکانِ حج ضرور ادا کرے گا۔

(۲) اگر ماہِ شعبان میں کوئی شخص مدینہ پہنچ جائے اور وہاں رمضان المبارک میں قیام کرے اور روضہ مطہرہ کی زیارت کرتا رہے اور ہمراہ قافلہ مدینہ منورہ کے مکہ معظمہ پہنچ کر حج کے ارکان ادا کرے یا ماہِ شوال میں اول مدینہ منورہ جائے اور وہاں زیارتِ حضوراقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے اطمینان کے ساتھ فراغت پاکر مکہ معظمہ جائے اور وہاں حج کے ارکان ادا کرکے اپنے مکان کو چلاآئے، تو ان صورتوں میں شخص مذکورہ کو ثواب اسی درجہ ملے گا جیساکہ حجِ بیت اﷲشریف کے بعد مدینہ طیبہ جانے کا ہوتا ہے یا کچھ کم ہوگا؟ حاصلِ کلام یہ کہ اول مدینہ منورہ جانا اور وہاں سے قافلہ کے ساتھ بیت اﷲشریف آنا اور ارکانِ حج ادا کرکے مکان کو واپس آجانا درست ہے یانہیں اور اس کا ثواب مثل بعد مدینہ شریف جانے کے ہے یانہیں؟ عند اﷲجواب سے مشرف فرمائیے، اس کے اُوپر یہاں بہت جھگڑا ہورہا ہے، اﷲتعالیٰ ثواب دارین عطا فرمائے۔
الجواب 

(۱)حرم محترم کے اعمال کا ثواب اُس زمین پاک کے اعتبارسے ہے، نہ زمانِ حج کی خصوصیت سے،ایک نیکی پر لاکھ کا ثواب جیسے زمانہ حج میں ہوگا ویسے ہی دیگر اوقات میں، اور طوافِ کعبہ معظمہ جو حج میں کیا جائے گا اگر وُہ طواف فرض ہے جب تو ظاہر ہے کہ فرض کے ثواب کو دوسری چیز نہیں پہنچ سکتی اور  اگر وہ طوافِ عمرہ ہے تو رمضان مبارک میں اس کا طواف ذی الحجہ سے بہت زیادہ ہوگا
لاختلاف العلماء فی نفس جواز العمرۃ شھر الحج
 (کیونکہ علماء کا حج کے مہینے میں جوازِ عمرہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ت) حدیث  میں ہے حضور سیّد عالم صلی ا ﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
عمرۃ فی رمضان تعدل حجۃ معی۔۱؎ واﷲتعالٰی اعلم۔
رمضان مبارک میں ایک عمرہ میرے ساتھ حج کے برابر۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۱؎ صحیح مسلم باب فضل العمرۃ فی رمضان قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۴۰۹)
علمائے کرام نے دونوں صورتیں لکھی ہیں چاہے پہلے سرکارِ اعظم میں حاضر ہو اُس کے بعد حج کرے یہ ایسا ہوگا جیسے صبح کے فرضوں سے سنتیں مقدم ہیں اورحاضری بارگاہِ مقدس اس کے لیے قبول حج کا سامان فرمادے گی ان شاء اﷲالکریم ثم رسولہ الرؤف الرحیم علیہ وعلیٰ آلہ  اکرم الصّلوٰۃ والتسلیم،اور چاہے تو حج کے بعد حاضر ہو یہ ایسا ہوگا جیسے مغرب کے فرضوں کے بعد سنّتیں۔ حج اگر مبرورہے اُسے گناہوں سے پاک کرکے اس قابل کردے گا کہ زیارت قبرِ انور کرے ع
پاک شواول وپس دیدہ برآں پاک انداز
 (پہلے پاک ہو جاؤ پھر مبارک ادا والوں کی زیارت کا شرف پاؤ۔ت)

یہ سب اس صورت میں ہے کہ مکہ معظمہ کو جاتے میں مدینہ طیبہ راستہ میں نہ پڑے اور اگر ایسا ہے جیسا شام سے آنے والوں کے لیے تو پہلے حاضری دربارِا نور ضروری ہے،خلافِ ادب ہے کہ بے حاضر ہوئے حج کو چلا جائے۔ واﷲتعالٰی اعلم
Flag Counter