Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
153 - 198
مسئلہ ۲۹۲:از بمبئی محلہ قصاباں متصل کرافٹ مارکیٹ مکان گورے بابو صاحب مسئولہ حضرت سید حامد حسین میاں صاحب دام ظلہم ۴ذیقعدہ۱۳۲۹ھ

معظمی مکرمی مدظلہ العالی السلام علیکم ورحمۃاﷲوبرکاتہ،، حجاج قطعی معلم وبدویان کے قبضہ میں ہوتے ہیں اکثر، ۷ ذی الحجہ کو روانہ ہوکر منٰی میں قیام کرتے ہیں اور شب ِنہم منی شریف سے روانہ ہوکر صبح پہنچتے ہیں اور مزدلفہ سے بھی پچھلی شب میں روانہ ہوجاتے ہیں، آپ حضرات بدویان کی سخت مزاجی سے خوب واقف ہیں وہ کسی کا کہا نہیں سنتے، کیا کیا جائے بجز اس کے کہ آپ دعا فرمادیں کہ بدویان انہیں اوقات میں روزانہ ہوں جن کی بابت حکم ہے، فقیر کوشش بلیغ کرے گا بشرطیکہ دیگر حجاج نے میرے کلام کی تائید کی، اگر فقیر تنہا ہوتا تو کچھ قافلہ کی ہمراہی کی پروانہ کرتا اور پورے طورپر حسب تحریر رسالہ، اوقات معینہ کی پابندی کرتا اور اب بھی ان شاء اﷲحتی المقدور پابندی کرےگا، اﷲتعالیٰ میری امداد فرمائے ، آمین ثم آمین!

دوم یہ کہ عورت معذور اور غیرمعذور کی جانب سے وکالۃً ہر سہ یوم رمی جائز ہے یا نہیں، کیونکہ علاوہ مجمع بارہویں تاریخ قبل دوپہر قافلہ روانہ ہوتا ہے میں تنہا رہ جاؤں گا، بعد زوال رمی کرکے قافلہ سے آملوں گا، والسلام
الجواب

بشرف ملاحظہ عالیہ بابرکت والا درجت حضرت مولانا سیّد حامد حسین میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم، السلام علیکم ورحمۃ اﷲوبرکاتہ۔ بعد ادائے آداب معروض ، مطوفون کو اگر اہل قافلہ مل کریا ایک ہی شخص جوان کے نزدیک ذی وجاہت ہو مجبور کریں تو ان کو ماننا پڑتا ہے ، فقیر کو اس کا تجربہ ہے اور اگر نہ مانیں اور مجبوری ہوتو نویں رات منٰی میں صبح تک ٹھہرنا اور آفتا ب چمکنے پر عرفات کو چلنا سنت ہے مجبورانہ اس کے ترک سے حج میں کوئی نقص نہ آئے گا مزدلفہ کی حدود کے اندر دسویں تاریخ کے طلوع صبح صادق سے طلوع آفتاب تک کسی طرح موجود ہونا اگر چہ ایک لحظہ ہوا دائے واجب کے لیے کافی ہے تو اگر حدود مزدلفہ سے نکل جانے سے پہلے صبح صادق ہوگئی توواجب ادا ہوگیا اگر چہ سنت ترک ہوگئی ، ہاں اگر اتنی رات سے چل دیا کہ صبح صادق نہ ہونے پائی اور مزدلفہ کی حدود سے نکل گیا تو بے شک واجب ترک ہوا، قربانی دینی آئے گی مگر بدوی ایسا نہیں کرتے اور عورتوں اور نہایت کمزور مردوں اوربیماروں کو بخوف ہجوم خود شرع بھی رات سے چل دینے کی اجازت فرماتی ہے، انہیں کوئی جرمانہ دینا نہ ہوگا، بارہویں تاریخ قبل زوال چل دینے کی ضرور اب وہاں عادت نکالی ہے، اور یہ ہمارے مذہب وظاہر الروایۃ میں گناہ ہے، فقیر نے تو جمالوں کو مجبور کیا اور بحمد اﷲ ان کو رکنا پڑا کہ میں اور میرے ساتھ کے سب مردوعورت بعد زوال رمی کرکے روانہ ہوئے جہاں وہ ہر گز نہ مانیں  اور پیچھے رہ جانے میں اندیشہ صحیح ہوتو یہ صورت مجبوری کی ہے، ضعیف روایت پر عمل کرکے قبل زوال رمی کرکے جاسکتا ہے، عورت ہونا رمی میں نیابت کے لیے عذر نہیں، ہاں ایسا بیمار ہوکہ رمی کو نہ جاسکے تو اس سے اجازت لے کر دوسر ا اس کی طرف سے رمی کرسکتا ہے یا جو غشی میں ہوتو اسکی بلااجازت اسکی طرف سے رمی ہوسکتی ہے،ل
باب وشرح لباب سنن حج میں ہے:
والخروج من مکۃ الی عرفۃ یوم الترویۃ والبیوتۃ بمنی لیلۃ عرفۃ الالحادث من الضروریات والدفع منہ الٰی عرفۃ بعد طلوع الشمس ۱؎۔
یوم ترویہ کو مکہ سے عرفات کی طرف حاجی نکلے اور عرفہ کی رات منٰی میں بسر کرے بشرطیکہ کوئی مانع اور مجبوری نہ ہو اور پھر منٰی سے طلوعِ آفتا ب کے بعد عرفات جائے۔(ت)
 (۱؎ لباب و شرح لباب مع ارشاد الساری باب سنن الحج دارالکتب العربی بیروت ص۵۱)
اسی کی فصل الرواح الیٰ منٰی میں ہے:
وان بات بغیر منی تلک اللیلۃ جاز و اساء۔
اگر منٰی کے علاوہ کسی اور جگہ حاجی نے یہ رات بسر کی توجائز مگر خلافِ ادب ہے۔(ت)
 (۲؎ لباب و شرح لباب مع ارشاد الساری فصل فی الرواح الیٰ منٰی دارالکتب العربی بیروت ص۱۲۷)
اسی کی فصل وقوف بالمزدلفہ میں ہے:
الوقوف بھا واجب واول وقتہ طلوع الفجر الثانی من یوم النحر واٰخر طلوع الشمس منہ فمن وقف بھا قبل طلوع الفجر اوبعد طلوع الشمس لایعتد بہ، وقدرالواجب منہ ساعۃ ورکنہ کینونتہ بمزدلفۃ بفعل نفسہ اوغیرہ، نواہ اولم ینو علم بھا اولم یعلم ولوترک الوقوف بھا فدفع لیلا فعلیہ دم الااذا کان لمرض اوضعف بیّنۃ من کبر اوصغر اویکون امرأۃ تخاف الزحام فلا شئی علیہ۔۱؎
مزدلفہ کا وقوف لازم ہے، ابتدااس کی یوم نحر کی طلوع فجر ثانی سے ہوتی ہے اور اس کا اخیر وقت اسی دن کا طلوع آفتاب ہے توجو طلوعِ فجر سے پہلے یاطلوع شمس کے بعد مزدلفہ میں ٹھہرا اسکے ٹھہرنے کا اعتبار نہیں(یعنی وقوف معتبر نہیں ہوگا) مقدار واجب ایک ساعت ہے اور اس کا رکن یہ ہے کہ اس مدّت میں وہاں خود موجود ہونا اپنے عمل سے یاغیر کے عمل سے ہو، نیت ہویا نہ ہو، اسے مزدلفہ کا علم ہو یا نہ ہو، اگرمزدلفہ کا وقوف ترک کرکے رات کو ہی حاجی واپس آگیا تو ایسی صورت میں دم لازم ہوگا، اگر کوئی مرض ہو یاکبروصغر کی وجہ سے واضح ہو یا کوئی خاتون ہوجواز دحام سے ڈرتی ہوتو اب کوئی شے لازم نہ ہوگی۔(ت)
 (۱؎ لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری فصل فی الوقوف بالمزدلفہ دارالکتاب العربی بیروت ص ۱۴۷)
اسی کی فصل وقت  الرمی فی الیومین میں ہے:
وقت رمی الجمار الثلث فی الیوم الثانی یجوز قبلہ فی المشہور ای عند الجمہور، وقیل یجوز وھو خلاف ظاھرالروایۃ، وفی المسألۃ روایۃ اخری مختصۃ بالیوم الثانی من ایام التشریق، لما فی المرغینانی لوارادان ینفرفی ھذاالیوم لہ ان یرمی قبل الزوال وان رمی بعدہ فھو افضل وانما لا یجوز قبل الزوال، من لایرید النفرکذاروی الحسن عن ابی حنیفۃ۱؎۔
ایامِ نحر میں دوسرے اور تیسرے دن تینوں جمرات کو رمی کا وقت زوال کے بعد ہوتا ہے مشہور روایت یعنی جمہور کے ہاں زوال سے پہلے رمی جائز نہیں بعض نے کہا جائز ہے لیکن یہ ظاہرالروایت کے خلاف ہے، اس مسئلہ میں ایک اور روایت بھی ہے جو ایام تشریق کے دوسرے دن کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ مرغینانی میں مذکور ہے: اور اگر حاجی نے اس دن لوٹنے کا ارادہ کرلیا ہے تو زوال سے پہلے رمی کرسکتا ہے، ہاں بعد از زوال کرے تو افضل ہوگی، اور زوال سے پہلے اس شخص کے لیے رمی جائز نہیں جو لوٹنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ امام حسن نے امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲتعالیٰ سے یوں ہی نقل کیا ہے۔(ت)
 ( ۱؎ لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری فصل فی وقت الرمی فی الیومین دارالکتاب العربی بیروت ص۱۶۱تا۸۵)
اسی کی فصل شرائط رمی میں ہے:
الخامس : ان یرمی بنفسہ فلا تجوزالنیابۃ عند القدرۃ تجوز عند العذر، فلورمی عن مریض لا یستطیع الرمی بامرہ اومغمٰی علیہ ولوبغیر امرہ اوصبی غیر ممیزاومجنون جاز، والا فضل ان توضع الحصی فی اکفھم فیرمونھا ای رفقاؤھم ففی الحاوی عن المنتقی عن محمد ، اذاکان المریض بحیث یصلی جالسارمی عنہ ولاشئی علیہ اھ ولعل وجہہ انہ اذاکان یصلی قائما فلہ القدرۃ علی حضور المرمی راکبا اومحمولا فلایجوز النیابہ عنہ۲؎ اھ ملخصات واﷲتعالٰی اعلم۔
پانچویں شرط یہ ہے کہ خود رمی کرے قدرت کے باوجود نائب بنانا درست نہیں ، ہاں عذر کے وقت جائز ہے ،اگر کسی نے ایسے مریض کے کہنے پر رمی کی جو طاقت نہیں رکھتا، یا حاجی پر غشی طاری تھی اگر چہ اس نے رمی کا نہ کہا ہو، یا جس بچے کو شعور نہ ہو اس کی طرف سے یادیوانے کی طرف سے رمی کردی تو جائز ہوگی ۔ افضل یہ ہے کہ سنگریزے معذوروں کے ہاتھوں میں رکھ دئے جائیں توان کے رفیق رمی کریں۔ حاوی میں المنتقی سے امام محمد سے مروی ہے جب مریض اس حال میں ہو کہ صرف بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہوتو اس کی طرف سے کسی نے رمی کردی تو اس پر کوئی شئے لازم نہ ہوگی اھ شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ جب وُہ نمازکھڑے ہوکر ادا کرسکتاہوتو اب اس کے لیے رمی کے لیے  جانے کی قدرت ہوگی خواہ سوار ہوکر جائے یا اسے اٹھاکر لے جایاجائے اب اس کی طرف سے نائب بنانا درست نہ ہوگا اھ ملخصا واﷲتعالٰی اعلم (ت)
 ( ۲؎لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری فصل فی احکام الرمی وشرائط الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۱۶۶)
Flag Counter