Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
152 - 198
مسئلہ ۲۹۰ تا ۲۹۱ : از پٹنہ عظیم آباد مرسلہ محمدعمر صاحب     ۱۳رمضان المبارک ۱۳۲۱ھ

(۱) ایک شخص عازمِ بیت اﷲشریف ہے اور اس کے ایک عارضہ یہ ہے کہ بعد اجابت قطراتِ سرخ زائد از ایک گھنٹہ برابر آیا کرتے ہیں کہ بغیر لنگوٹ نہیں رہ سکتا ہے ، بعد ایک گھنٹے کے جب قطرات موقوف ہوں تب استنجا کرکے کپڑا پہنتا ہے، تو ایسا شخص جو بغیر لنگوٹ نہیں رہ سکتا احرام کیونکر باندھے کیونکہ لنگ احرام تو روز ناپاک ہوا کرے گا اور بسبب پیری اور بیماریوں کے غسل سے بھی مجبور ہے تو صرف تیمم بعوض غسل کرلے یا کیا؟

(۲) سرما میں سوا چادراحرام کے کوئی کمبل وغیرہ اوپر سے اوڑھ سکتا ہے یا کیا؟ اور نہیں تو صدمہ سرما سے محفوظ رہنے کی کیا صورت ہے؟ بینواتوجروا
الجواب

احرام میں لنگوٹ باندھنا مطلقاً جائز  ہے سلانہ ہوکہ ممانعت لبس مخیط بروجہ معتاد سے ہے یاسر اور منہ کے چھپانے سے اور نادو ختہ لنگوٹ میں دونوں باتیں نہیں۔
فی الدرالمختار بعد الاحرام یتقی ستر الوجہ والراس بخلاف بقیۃ البدن ولبس قمیص وسراویل ای کل معمول علی قدر بدن اوبعضہ وقباء ولولم ید خل ید یہ فی کمیہ جاز الا ان یزررہ اویخللہ ویجوز ان یرتدی بقمیص وجبّۃ ویلتحف بہ فی نوم وغیرہ اتفاقا۱؎۔
درمختار میں ہے محرم چہرہ اور سرکوڈھانپنے سے پرہیز کرے  بخلاف بقیہ بدن کے، اور قمیص اور شلوار پہننے سے بچے، یعنی ہراس لباس کو پہننے سے پرہیز کرے جو انسان کے تمام قد یا بعض بدن کے موافق بنایا جاتا ہے، اور قبا پہننے سے پرہیز کرے یا اگر محرم قبا کی دونوں آستینوں میں اپنے ہاتھ نہ ڈالے تو جائز ہے مگر یہ کہ اسے گھنڈی یا کانٹے سے اٹکادے توجائز نہیں، اور باتفاق یہ جائز ہے کہ محرم قمیص وجبّہ کو بطور چادر استعمال میں لائے یا سونے وغیرہ کی حالت میں جبہ کو بطورلحاف لپیٹے(ت)
 (۱؎ درمختارکتاب الحج فصل فی الاحرام مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۶۴)
اور ایسی ضرورت شدیدہ کی حالت میں تو اگر لنگوٹ نا جائز بھی ہوتا اجازت دی جاتی
لان الضرورات تبیح المحظورات
(ضرورتیں ممنوعات کوبھی مباح کردیتی ہیں۔ت) ام المومنین رضی اﷲتعالیٰ عنہا نے سفر حج میں اپنے حاملان محمل کریم کو ایک ضرورت خاصہ کے سبب تہ بند کے نیچے تنبان یعنی جانگیا پہننے کا حکم دیا
کما فی صحیح البخاری۲؎
 (جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔ت)
(۲؎ صحیح بخاری باب مایلبس المحرم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۰۹)
کمل یا بانا ت یا اونی چادر وغیرہ بے سلے کپڑے اگر چہ دوچارہوں اوڑھنے کی اجازت ہے بلکہ سوتے وقت اُوپر روئی کا انگرکھا چُغہ لبادہ چہر ہ چھوڑ کر بدن پر ڈال لینا یا نیچے بچھالینا بھی ممنوع نہیں بلکہ بیداری میں بھی انہیں کندھوں پر ڈال سکتا ہے جبکہ آستین میں ہاتھ نہ ڈالے، نہ بند باندھے، نہ کسی اور ذریعہ سے بندش کرے
کماقد مناہ عن الدروذٰلک لانہ لیس من اللبس المعتاد
 (جیسا کہ ہم در کے حوالے سے بیان کر آئے کیونکہ یہ عادۃًپہننے کی طرح نہیں ہیں۔ت) باایں ہمہ ضعیف کمزور کو دو۲ تدبیریں اور ملحوظ رہیں تو انسب اوّلاً تمتع کرے کہ تنہا حج کرنے سے افضل بھی ہے اور احرام کی مدت بھی کم ہوگی یعنی محاذات  یلملم سے کہ سمندر میں عدن سے آگے آئیگی، صرف عمرے کا احرام باندھے، مکہ معظمہ پہنچتے ہی طواف وسعی سے عمرہ بجالاکراحرام کھولدے، اب بلاتکلف ہشتم ذی الحجہ تک بلااحرام مکہ معظمہ میں قیام کرسکتا ہے جو چاہے پہنے، اوڑھے، سرسے عمامہ باندھے، جوچاہے کرے۔ یہ احرام صرف پانچ روز رکھنا ہوگا۔ بعدہ آٹھویں کو پھر احرام حج کا باندھے منٰی کو جائے، عرفات ومزدلفہ سے پلٹ کر دسویں تاریخ جب پھر منٰی میں آئیگا اورجمرۃ العقبہ کی رمی کرکے قربانی جو اس پر بوجہ تمتع واجب تھی بجالائیگا، اس کے بعد سر مُنڈائے یا بال کتروائے، احرام کھل گیا سوا عورتوں کے(کہ بعد طوافِ زیارت حلال ہوں گی) جو کچھ احرام نے  حرام کیا تھا سب حلال ہوگیا، تو یہ احرام پورے تین دن بھی نہ رہا۔
ثانیاً یہاں بمبئی سے دالان کی شکل کی ایک چیز کھیچیوں کی بنوالے جس کی تین دیواریں ہوں ہر ایک آدھ گز یا قدرے زائد کی اور اوپر چھت پٹی ہواور دروازہ زمین بالکل خالی ہو، تینوۤں دیواراور چھت کورُوئی وغیرہ جس سے چاہیں منڈھ لیں، سوتے  وقت سرہانے اس مکان کو رکھ کر سراس کے دروازہ سے داخل کریں کہ چہرہ اس کے سائے میں رہے، باقی بدن پر کپڑا اڈال لیں، اب اس مکان کی وجہ سے سر ہوائے سردسے محفوظ ہوگیا اور رو، وسر کاچھپانا بھی لازم نہ آیا،
فی الدر المختار من فصل الاحرام، لا یتقی (ای المحرم) الاستحمام والا ستظلال ببیت ومحمل لم یصب راسہ اووجہہ فلواصاب احدھماکرہ۱؎اھ وفیہ ایضا قالوا لودخل تحت ستر الکعبۃ فاصاب راسہ اووجھہ کرہ والافلابأس بہ۲؎۔
درمختار کی فصل احرام میں ہے(محرم) کا حمام میں جانا یا ایسے گھریا کجاوہ کے سایہ میں جانا منع نہیں جواس کے سر اور چہرہ کونہ ڈھانپے ، اگر ان میں سے کسی کو ڈھانپتا ہے تو مکروہ ہے اور اس میں یہ بھی ہے فقہا نے کہا ہے کہ اگر محرم غلافِ کعبہ کے نیچے داخل ہوگیا اور اس کے سریا چہرہ کو غلاف لگا تو کراہت ہے اور اگر نہیں تو کوئی حرج نہیں۔(ت)
 (۱؎درمختارکتاب الحج فصل فی لاحرام مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۶۴)

(۲؎ درمختار کتاب الحج فصل فی لاحرام مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۶۴)
جنابت سے طہارت کے لیے تو آپ ہی تیمم کرے گا، جبکہ نہانے پر قادر نہ ہو، اور احرام کے وقت جو غسل مسنون ہے اس پر قدرت نہ ہوتو اس کے عوض تیمم مشروع نہیں کہ وہ غسل نظافت کے لیے ہے نہ طہارت کے لیے،کہ طہارت تو حاصل ہے اور تیمم سے طہارت ہوتی نہ نظافت بلکہ بدن پر غبار لگنا خلاف نظافت ہے، تو ایسا شخص اس غسل کے عوض کچھ نہ کرے صرف وضو کافی ہے ۔
فی الدرالمختار من شاء الاحرام توضأ وغسلہ احب، وھو للنظافۃ لالطہارۃ فالتیمم لہ عند العجز من الماء لیس بمشروع لانہ تلوث اھ۱؎ای فی بعض الصور حیث یصیب الغبار والافمن تیمم علی مرمر مغسول جاز ولم یکن تلوثا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے جس نے احرام کا ارادہ کیا وہ وضو کرے، غسل اس کے لیے افضل ہے اور یہ بات نظافت کے پیش نظر ہے طہارت کے لیے نہیں، اگر محرم کے پاس پانی نہیں تو وضو کی جگہ تیمم نہ کرے کیونکہ یہ تو مٹی میں ملوث ہونا ہے اھ یعنی یہ تلوث ان صورتوں میں لازم آتا ہے جہاں غبار ہو، اگر دھوئے ہوئے سنگِ مرمر پر تیمم کیا تو جائز ہوگا کیونکہ اب تلوث کا خطرہ نہیں۔ واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ درمختارکتاب الحج فصل فی الاحرام مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۶۳)
Flag Counter