Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
151 - 198
مسئلہ ۲۸۴: ازمارہرہ مطہرہ درگاہ مقدس حضرت سید حامد حسن میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم ۱۶شوال۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک بیوہ پچپن برس کی عمر ہے دوبارہ پہلے اپنی طرف سے لوگوں کو بھیج کر حج بدل کراچکی ہے اُس سے بعض صاحبوں نے کہا کہ وہ حج نہ ہوئے خود حج کو جا اُس نے محرم نہ ہونے کی وجہ سے نکاح کیا مگر ضعیفہ مریضہ ہے اس صورت میں اس کے وہ حج بدل ادا ہوگئے یا اب خود اس پر حج لازم ہے یا کیا حکم ہے؟بینو اتوجروا
الجواب

زندگی میں جو کوئی حجِ بدل اپنی طرف سے بوجہ عجز ومجبوری کرائے اس حج کی صحت کے لیے شرط ہے کہ وُہ مجبوری آخر عمر تک مستمررہے، اگر حج کے بعد مجبوری جاتی رہی اور بذاتِ خود حج کرنے پر قدرت پائی تو اس سے پہلے جتنے حجِ بدل اپنی طرف سے کرائے ہوں سب ساقط ہوگئے حج نفل کا ثواب رہ گیا فرض ادا نہ ہوا، اب اس پر فرض ہے کہ خود حج کرے پھر اگر غفلت کی اور وقت گزر گیا اور اب دوبارہ مجبوری لاحق ہوئی تو از سرِ نوحج بدل کرانا ضرور ہے، ہاں اگر کسی کی معذوری ایسی ہوجو عادۃً اصلاً زوال پذیر نہیں اور اس نے حجِ بدل کرلیا اور اس کے بعد بمحض قدرت  الٰہی مثلاً کسی ولی کی کرامت سے وہ عذر نا قابل الزوال زائل ہوگیا مثلاً اندھے نے حجِ بدل کرایا تھا پھر رب العزۃ نے اسے آنکھیں دے دیں تو اس کا وہ حج بدل ساقط نہ ہوا وہی کافی ہے، خود اگر حج کرے سعادت ہے ورنہ فرض ادا ہوگیا، ایسا زوال عذر کہ کرامت خرق عادت ہو معتبر نہیں، مسئلہ شرعیہ تو یہ ہے اور صورتِ سوال سے ظاہر کہ عورت نے پہلے جو دو حجِ بدل کرائے یا تو وُہ حقیقۃً ایسی مجبوری نہ تھی کہ خود نہ جاسکتی یا مرض وضعف وغیرہا کی وجہ سے مجبوری تھی اور بعد کو وہ مجبوری زائل ہوگئی کہ اس نے خود حج کا قصد کیا جس پر دلیل روشن ،اسی نیت سے اس کا نکاح کرنا ہے ورنہ پچپن سالہ عورت کو نکاح کی کیا حاجت تھی، بہر حال ان دونوں صورتوں میں کوئی شکل ہو وُہ دونوں حجِ بدل یا تو سرے سے ناکافی تھے یا اب ساقط ہوگئے ، صرف ثواب نفل رہا، فرض گردن پر باقی ہے خود ادا کرے، اور مجبور وناامید ہوتو پھر حج بدل کرائے۔
وباﷲ التوفیق واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۵تا۲۸۸: از پیر بہوڑ بانکی پور از محمد عصمت اللہ  صاحب     ۲۹محرم ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک خوشحال شخص اپنی متوفی بیوی کی طرف سے (جو دولت مند تھیں اور شوقِ حج کا مصمم ارادہ رکھتی تھیں)حج بدل کرانا چاہتے ہیں لہذا ان کو امورِ ذیل میں حکمِ شرع شریف ناطق فرمایا جائے:

(۱) مستطیع شخص جواپنا فرض ادا کرچکا کسی دوسرے کی طرف سے حج بدل کرسکتا ہے یا نہیں؟

(۲) غیرمستطیع جس پر حج فرض نہیں ہے حج بدل کے واسطے مقرر ہوسکتا ہے یا نہیں؟

(۳) بہر کیف حج بدل کرنے والے کو خاص مکہ معظمہ میں وہاں کا زمانہ حج کا خرچ دے کر مقرر کرلینا کافی ہے یانہیں؟ 

(۴) حج بدل کرنے والا شخص مبدل منہ کے مقام قیام کے قریب باش لیا جائے اور آمدورفت کا تمام خرچ اس کو دیا جائے تویہ افضل ہوگا یا صرف بمبئی یا خاص مکہ معظمہ میں حج تک مقرر کرلیا جائے؟
وبینو ابحو الۃالکتاب توجرواعنداﷲالوھاب
 (کتاب کے حوالے سے بیان کیجئے اﷲ وہاب سے اجر پائیے ۔ت)
الجواب

(۱) کرسکتا ہے واﷲتعالٰی اعلم۔

(۲) اس میں اختلاف ہے اور بہتر احتراز واﷲتعالٰی اعلم۔

(۳) اس قسم کے حج بدل جو کرائے جاتے ہیں اُن سے فرض تو اُتر سکتا نہیں،حج عبادت بدنی اور مالی دونوں سے مرکب ہے، جس پر حج فرض تھا اور معاذاﷲ بے کئے مرگیا ظاہر ہے کہ بدنی حصہ سے تو عاجز ہوگیا رب عزوجل کی رحمت کہ صرف مالی حصّہ سے اس کی طرف سے حج بدل قبول فرماتا ہے جبکہ وہ وصیت کرجائے اور رحمت پر رحمت یہ کہ وارث کا حج کرانا بھی قبول فرمایاجاتا ہے اگر چہ میّت نے وصیت نہ کی، حج بدل والے کو اسی شہر سے جانا چاہئے جو شہر میت کا تھا تاکہ مالی صرف پوراہو، مکہ معظمہ سے حج کرادینا اس میں داخل نہیں، رہا ثواب اس کی امید بھی بخیر ہے، حج کرانے والے صاحب اس پر اجرت لیتے ہیں اور جب اجرت لی ثواب کہاں، اور جب انہیں کوثواب نہ ملا میت کو کیا پہنچائیں گے، خصوصاً بعض متہور یہ ظلم کرتے ہیں کہ چار چار شخصوں سے حج بدل کے روپے لے لیتے ہیں، اﷲتعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت فرمائے واﷲتعالٰی اعلم۔

(۴) اس کا جواب اوپر آچکا اورخرچ آمد ورفت دونوں دیاجائے واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۸۹: از میرٹھ ڈاک خانہ بہادر گڑھ مسئولہ محمد صادق صاحب ۲۲محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

علماءِ عظام وکرام! اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہوتا ہے کہ کوئی شخص حج بدل کو گیا اور حج کرنے والے نے چالیس روپے اس کے بال بچوں کے خرچ کے واسطے چار ماہ کے لیے دیے اور پچاس روپے اس کو خرچ کے واسطے مکہ معظمہ تک دیے اور کہا کہ باقی خرچ مکہ معظمہ جاکر دے دوں گا، اورٹکٹ جہاز کا حج کرنے والے کی طرف سے اس نے لے لیاخداوندتعالٰی کے حکم سے جہاز چھ سومیل جاکر بوجہ آگ لگنے کے واپس آگیا ، اب حج کرانے والے نے کہا کہ ٹکٹ جہاز کا مجھے واپس کردو، تو اس نے فوراً واپس کردیا اور اس حج بدل کرنے والے نے یہ کہا کہ آپ ٹکٹ واپس کیوں لیتے ہیں، اب میں دوسرے جہاز میں چلاجاؤنگا چاہے آپ جائیں یا نہ جائیں باقی اورخرچ مجھے دے دیجئے، حج کرانے والے نے کہا کہ میں خود تو جاتا ہی نہیں ہوں اب میں باپ کی طرف سے نہیں کراتا ہوں، تو حج بدل کرانے والے نے فوراً ٹکٹ واپس کردیا اور ڈیڑھ ماہ حج بدل کرنے والے نے اس پچاس روپے میں سے کھا یا اور کرایہ ریل کا ممبئی سے مراد آباد تک انہیں پچاس روپے سے خرچ ہوا ایک طرف، اب حج بدل کرنے والے یہ فرماتے ہیں کہ حساب کرکے جو روپیہ تمہارے پاس بچا ہے وُہ ہم کو دے دو، حج بدل کرنیوالے نے یہ کہا کہ میرے پاس سب خرچ ہوگیا، اب حج بدل کرنے والے کے ذمہ روپیہ دینا آتا ہے یا نہیں، اور حج بدل کرنے والے کا حرج دوماہ کا ہوااورحج بدل کرنے والے کی آمدنی ماہوار بتیس روپے کی تھی۔
الجواب

اگر وہ روپے شخص مذکور نے اُسی کام میں اٹھائے تو اُن کا تاوان اس پر نہیں اور اگر اس سے جداکسی اپنے ذاتی کام میں اٹھائے تو تاوان لازم ہے اور اس بات میں کہ اسی کام میں وہ روپے صرف ہوئے شخص مذکور کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اور حرجہ پانے کا اسے استحقاق نہیں اگر چہ اس کی ماہوار آمدنی ہزار روپے ہو۔واﷲتعالٰی اعلم۔
Flag Counter